• 19 جون, 2024

اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

ڈائری عابد خان سے ایک ورق
اے چھاؤں چھاؤں شخص! تیری عمر ہو دراز

برکات خلافت

اگلے دن میری ملاقات ایک عرب احمدی دوست سے ہوئی، جن کا نام محترم طارق البابا صاحب (بعمر 54 سال) تھا۔ ان کا تعلق بیروت سے تھا لیکن کئی سال سے ڈنمارک میں رہائش پذیر ہیں۔ محترم طارق صاحب نے 1986ء میں احمدیت قبول کی تھی۔ انہوں نے خاکسار سے ذکر کیا کہ کس طرح تسلسل کے ساتھ خوابوں نے ان کی احمدیت کی طرف رہنمائی کی اور یہ بھی کہ جب وہ ان خوابوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کا لفظ لفظ پورا ہوتا دکھائی دیتا ہے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس روز حضور انور سے اپنی ملاقات کے بارے میں محترم طارق صاحب نے بتایاکہ:
’’اگرچہ یہ سن کر آپ کوتعجب ہوگا، تاہم مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں حضور انور کو ملنے کے بعد اڑ رہا ہوں۔ میں اپنی خوشی اور مسرت کو الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ حضور انور کی ذات ایسی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو اکٹھا کرنے کے لیے بھجوایا ہےاور آج امت مسلمہ کو خلافت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج مسلمانوں سے آئے دن استہزاء کیا جاتا ہے اور دنیا میں اپنا وقار کھو چکے ہیں جس کی بحالی محض خلافت سے ممکن ہے۔‘‘

محترم طارق صاحب نے مزید کہا کہ:
’’ہم کس قدر خوش قسمت ہیں کیونکہ ہمارے خلیفہ صرف احمدیوں کے لیے نہیں ہیں بلکہ آپ کا وجود سب پر یکساں سایہ فگن ہے۔ آپ ہمارے چرواہے ہیں اور ہم آپ کی بھیڑیں۔ مجھے دوسرے مسلمانوں سے ہمدردی ہے جو اس (خلافت )کی برکات سے محروم ہیں۔‘‘

ایک ایمان افروز گفتگو

پھر میری ملاقات ایک نوجوان عرب خادم سے ہوئی جن کی عمر بیس سے بائیس سال کی ہوگی۔ جو ڈنمارک میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ ان کی گفتگو نہایت دلچسپ اور ایمان افروز تھی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ڈنمارک میں بطور احمدی پلےبڑھے ہیں لیکن بعض غیر احمدی دوستوں کے اثر کے نتیجے میں وہ گزشتہ چند سالوں سے جماعت سے لاتعلق ہو چکے تھے۔ وہ غیر احمدی دوست انہیں بار بار یہی باور کرواتے کہ احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان باتوں کا اثران کے ایمان پر ظاہر ہونا شروع ہوا اور وہ جماعت سے لاتعلق ہو گئے اور مسجد میں آنا چھوڑ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خاص طور پر دو غیر احمدی دوست ایسے تھے جنہوں نے انہیں احمدیت سے دور کیا تھا۔ ان دونوں دوستوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ:
’’وہ دونوں میرے قریبی اور پُر اعتماد دوست تھے۔تاہم ایک شام ان میں سے ایک نے مجھے نصف شب کے قریب فون کیا اور میں سن سکتا تھا کہ وہ پوری طرح نشے میں مدہوش تھا اور بے قابو ہو کر لا یعنی طور پر بات کر رہا تھا۔ اس سے مجھے بہت مایوسی ہوئی۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا کہ:
’’پھر کچھ عرصہ کے بعد میرے دوسرے قریبی دوست کا بھی میرے ساتھ کوئی رابطہ نہ رہا اور چند دنوں کے بعد میں ان کی والدہ کو ملنے کے لیے گیا تاکہ ان کے بارے میں دریافت کر سکوں۔ وہ بے حد پریشان تھیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ گھر چھوڑ کر شام یا عراق چلا گیا ہے تاکہ داعش نامی ایک دہشت گردوں کی تنظیم کا حصہ بن سکے۔ چند ہفتوں کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ وہ شاید مر چکا ہے۔‘‘

انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے دونوں دوستوں کی حالت کو دیکھنا میرے لیے ہوش رُبا ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ جو انہیں قائل کر رہے تھے کہ احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہیں وہ خود نہایت غیر اسلامی حرکتوں میں ملوث تھے۔بعد ازاں انہوں نے دوبارہ مسجد آنا شروع کر دیا اور وہ نہایت شکر گزار ہیں کہ ان کا نہایت محبت سے استقبال کیا گیا اور ماضی میں منہ پھیر لینے پر ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے تجربات نے انہیں بتایا کہ احمدی ہی حقیقی مسلمان ہیں اور یہ کہ احمدیت کے بارے میں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہ ہے بلکہ ایسی چیز ہے جس پر فخر ہونا چاہیے۔

انہوں نے خاکسار سے خلافت کے بارے میں میرے ذاتی تجربات کی بابت دریافت کیا تو خاکسار نے عرض کی کہ میں کوئی امام یا مذہبی عالم نہیں ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے اس قدر مذہبی کتابوں کا مطالعہ نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے۔ بلکہ اسلام اور احمدیت کی سچائی کے بارے میں میرا ایمان محض حضرت خلیفۃ المسیح کے فرمودات کی بناء پر ہے۔

میں نے انہیں بتایا کہ بچپن میں مجھے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف کئی مواقع پر ملا اور جوانی میں خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو کئی سالوں سے قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ان خلفاء کو دیکھنے اور جاننے کے نتیجے میں ایک بات یقینی ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایسے وجود ہوتے ہیں جن کی شخصیت سچائی پر مبنی اور نہایت پُروقار ہوتی ہے۔میں نے کہیں بھی ایسی امانت داری، سچائی اور نیکی نہیں دیکھی جیسی خلافت میں دیکھی ہے۔اس لیے میں کبھی خلافت احمدیہ کے بارے میں شک میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔

حضور انور سے ملاقات کے معاً میرے نئے دوست کہنے لگے کہ:
’’حضور انور کو دیکھتے ہی جو احساس ہوتا ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا نا ممکن ہے۔ دوران ملاقات میری نبض بہت تیز چلتی رہی اور میں اپنا بلڈ پریشر بڑھتا ہوا محسوس کر سکتا تھا۔ میرے جیسے شخص کے لیے یہ کیسا شاندار اعزاز تھا کہ قربِ خلافت نصیب ہوا، الحمدللّٰہ۔ ان لمحات نے میرے ایمان کو مزید تقویت بخشی۔ اللہ تعالیٰ ہمارے خلیفہ پر ہمیشہ اپنے افضال نازل فرماتا رہے۔‘‘

حضور انور کے ساتھ چند لمحات

فیملی ملاقاتوں کا سیشن ختم ہونے پر اس دن کے شیڈول کا اختتام ہوا تو حضور انور نے چند منٹوں کے لیے خاکسار کو اپنے دفتر میں بلایا۔ میرے دفتر میں داخل ہونے پر حضور انور نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا ’’عابد! تمہارا دورہ کیسا جا رہا ہے؟‘‘

خاکسار نے جواباً عرض کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب اچھا چل رہا ہے۔ بعد ازاں حضور انور نے استفسار فرمایا کہ خاکسار کس کس کو ملا ہے۔ خاص طور پر ڈنمارک کے نوجوانوں میں سے کس کس سے ملاقات کی ہے۔

میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ حضور انور نوجوان ممبران جماعت سے کس قدر محبت اور شفقت کا سلوک فرماتے ہیں اور آپ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ احمدی نوجوانوں کا اللہ تعالیٰ سے ایک ذاتی تعلق ہو۔ حضور انور کی توجہ ہمیشہ بہبود کی طرف مرکوز رہتی ہے، روحانی اور جسمانی اور ہر احمدی کے حوالہ سے آپ کو یہی توجہ رہتی ہے کہ کوئی بھی احمدی ضائع نہ ہو۔

جواب میں خاکسار نے حضور انور کی خدمت میں نوجوان عرب احباب سے ملاقات کا احوال عرض کیا خاص طور پر اس احمدی نوجوان کا جس نے خاکسار سے چند لمحات قبل ملاقات کی تھی اور یہ کہ کس طرح کچھ عرصہ جماعت سے دور رہنے کے بعد ان کے اپنے ذاتی تجربات انہیں واپس لے آئے۔ یہ واقعات سماعت فرمانے پر حضور انور نے فرمایا
’’یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان کو جو فطرتاً نیک ہیں سچائی کی طرف خود لے آتا ہے اور خدا ان کے ایمان کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘

(دورہ حضور انور Scandinavia مئی 2016ء از ڈائری عابد خان)

(باتعاون: مظفرہ ثروت۔ جرمنی)

(مترجم: ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

جماعت احمدیہ لٹویا کی طرف سے وقار عمل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مارچ 2023