• 25 مئی, 2020

توبہ کی پہلی شرط

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

‘‘آپ (حضرت مسیح موعودؑ) فرماتے ہیں کہ ‘‘توبہ دراصل حصولِ اخلاق کے لئے بڑی محرّک اور مؤیّد چیز ہے۔’’ (اعلیٰ اخلاق حاصل کرنے ہیں تو وہ بھی توبہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ توبہ صرف یہ نہیں کہ گناہوں سے معافی مانگ لی بلکہ اگر اعلیٰ اخلاق پہ چلنا ہے ان کو حاصل کرنا ہے تو اس کیلئے بھی توبہ بڑی ضروری ہے) اور فرمایا کہ‘‘اور انسان کو کامل بنادیتی ہے۔ یعنی جو شخص اپنے اخلاقِ سیئہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ توبہ کرے۔ یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ توبہ کے تین شرائط ہیں۔ بِدُوں ان کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہرسہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اِقْلاع کہتے ہیں۔ یعنی اُن خیالات فاسدہ کو دور کردیا جاوے جو اِن خصائل ردّیہ کے مُحرک ہیں’’ (جو رد کرنے کے لائق چیزیں ہیں، عادتیں ہیں، بیہودہ خیالات ہیں، بداخلاقیاں ہیں ان کو دُور کرنے کے لئے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ انہیں کس طرح دُور کرنا ہے) فرمایا “اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑ ابھاری اثرپڑتا ہے‘‘ (اس کی تفصیل بیان فرماتے ہیں کہ انسان جب کسی چیز کا تصور کرتا ہے تو اس کا انسان کی طبیعت پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے) کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہرایک فعل ایک تصوّری صورت رکھتا ہے” (کسی بھی کام کو کرنے کے لئے یا کوئی بھی چیز یا خیال جب عمل میں آتا ہے تو اس سے پہلے وہ ایک خیال ہوتا ہے، ایک تصور ہوتا ہے) ’’پس توبہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالاتِ فاسدہ و تصورات ِبد کو چھوڑدے۔’’

(خطبہ جمعہ 9جون 2017ء)

پچھلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ

اگلا پڑھیں

آج کی دعا