• 3 جولائی, 2022

استجابت دعا کا مسئلہ

’’استجابت دعا کا مسئلہ درحقیقت دعا کے مسئلہ کی ایک فرع ہے۔ اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص نے اصل کو سمجھا ہوا نہیں ہوتا اس کو فرع کے سمجھنے میں پیچیدگیاں واقع ہوتی ہیں اور دھوکے لگتے ہیں …

دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے ربّ میں ایک تعلق مجاذبہ ہے۔ یعنی پہلے خداتعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خداتعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔ سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہوکر خداتعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ تب اس کی روح اُس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اُس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خداتعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تب اللہ جلّشانہٗ اس کام کے پوراکرنے کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پرڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے توبعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبعیہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور ا گر قحط کے لئے بددعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔

(برکات الدعا، روحانی خزائن جلد6 صفحہ9-10)

پچھلا پڑھیں

چوہدری رشیدالدین مرحوم

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مئی 2022