• 3 جولائی, 2020

کھیل اور ورزش کی اہمیت و افادیت

آجکل لاک ٹاؤن کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ رہنے سے کئی قسم کی بیماریوں نے جنم لیا ہے۔ ٹینشن اور چڑچڑا پن کے علاوہ پیٹ کی کئی بیماریوں نے آ گھیرا ہے۔ مٹاپا اور پیٹ بڑا ہونے کے مرض لاحق ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں خواتین اور عمر رسیدہ مرد حضرات کو ہلکی پھلکی ورزش کرنی ضروری ہے جبکہ نوجوان تو گھروں سے باہر جا کر سیر بھی کریں۔ اور ورزش بھی۔ ہمارے پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے ایک خطبہ میں اس طرف توجہ دلا چکے ہیں۔

آج اس آرٹیکل میں اسلام میں ورزش کی اہمیت اور افادیت بیان کی جا رہی ہے تا اسے اپنا کر ہم اپنی صحتوں کو برقرار رکھ سکیں۔ اگر ہماری صحتیں درست رہیں گی تو ہم عبادات کا حق بھی کماحقہ ادا کر سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔

وَ قَالَ لَہُمۡ نَبِیُّہُمۡ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ بَعَثَ لَکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِکًا ؕ قَالُوۡۤا اَنّٰی یَکُوۡنُ لَہُ الۡمُلۡکُ عَلَیۡنَا وَ نَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡکِ مِنۡہُ وَ لَمۡ یُؤۡتَ سَعَۃً مِّنَ الۡمَالِ ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰٮہُ عَلَیۡکُمۡ وَ زَادَہٗ بَسۡطَۃً فِی الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ ؕ وَ اللّٰہُ یُؤۡتِیۡ مُلۡکَہٗ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ

(البقره :248)

ترجمہ: اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ یقینًا اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پر حکومت کا حق کیسے ہوا جبکہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حقدار ہیں اور وہ تو مالی وسعت (بھی) نہیں دیا گیا اس (نبی) نے کہا یقینًا اللہ نے اسے تم پر ترجیح دی ہے اور اسے زیادہ کر دیا ہے علمی اور جسمانی فراخی کے لحاظ سے اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا ہے اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِيْهِمَا كَثِيْرٌمِّنَ النَّاسِ اَلصِّحَۃُ وَالْفَرَاغُ

صحت اور فارغ البالی دو ایسی نعمتیں ہیں جن کی بہت سے لوگ ناقدری کرتے ہیں۔

ایک موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو پانچ باتوں کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے ختم ہونے سے قبل ان سے فائدہ اٹھالو۔ ان 5باتوں میں سے دوسری بات بیماری سے پہلے صحت سے فائدہ اٹھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مادی اور روحانی نظام کو ساتھ ساتھ رکھ کر مومنوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ دونوں نظام ایک دوسرے پر منتج ہوتے ہیں اور دونوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے۔

سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کی تشریح مختلف جگہوں پر بیان فرمائی ہے جیسے فرمایا ‘‘روح کی ترقی کے لئے جسم کی نگہداشت بہت ضروری ہے۔

سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے بھی اس قر آنی فلسفہ کو مختلف جگہوں پر بیان فرمایا ہے۔ جیسے فرمایا ’’روح کی ماں جسم ہے‘‘

پھر فرماتے ہیں۔
’’اسی واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کے اغراض اور خشوع اور خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے۔ اور غور کرنے کے وقت یہی فلا سفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے‘‘

بہت سے مشہور سکالرز نے بھی اس مضمون کو سمجھا ہے اور ان کے چھوٹے چھوٹے مقولے مادی اور روحانی حالتوں کے آپس کے تعلق کی تائید کرتے ہیں۔ جیسے کسی نے کہا کہ جسم چھلکا ہے اور روح مغز (بادام کو دیکھیں ۔ مغز کے اوپر چھلکا ہو تا ہے) ایک نے کہا جسم برتن ہے اور روح اس کے اندر ڈالی جانے والی چیز ہے۔

اس مادی اور روحانی روح کو زندہ رکھنے کے لئے ہماری ذیلی تنظیمیں علمی اور ورزشی مقابلے کرواتی ہیں۔ ان کا مقصد محض یہ ہے کہ جسم کا جو حق ہے وہ بھی احسن طریق پر ادا کیا جائے کیونکہ صحت مند جسم ہو گا تو زندگی کا اصل مقصد یعنی عبادات کا بھی حق ادا ہوگا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’ہمیشہ یاد رکھیں۔ صحت مند تفریح، صحت مند جسم کے لئے ضروری ہے اور صحت مند جسم اللہ تعالیٰ کے احکامات کی بجا آوری کے لئے ضروری ہے‘‘

(مشعل راہ جلد 5 حصہ 4 ص 50)

مشہور مقولہ ہے ’’اَلْعَقْلُ السَّلِيْمُ فِي الْجِسْمِ السَّلِيْمِ‘‘

کہ ایک صحت مند انسان ہی صحیح عقل رکھ سکتا ہے ۔ کسی نے اس کی تشریح میں کہا کہ طاقتور مومن خدا تعالیٰ کے نزدیک بیکار مومن سے بہتر ہے۔

حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خانؓ نے ایک دفعہ یوکے میں مکرم ڈاکٹر جنرل محمد مسعود الحسن نوری کو تین باتوں کو طرف توجہ دلائی۔ جن میں 2 کا تعلق صحت سے تھا۔ فرمایا ۔

i۔ اپنی تعلیم پر زور دیں۔
ii- تاریخی صحت مند جگہوں کی سیر کیا کریں۔
iii۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جرمنی انصاراللہ کے 1998ء کے اجتماع پر اراکین عاملہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں فرمایا کہ انسانی جسم میں پنڈلیاں بھی دل کا حکم رکھتی ہیں جو نیچے سے خون کو اوپر بجھواتی ہیں اور سیر سے نیز ان پنڈلیوں کو مساج کے ذریعہ بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوتؑ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ علم اور جسم کے لحاظ سے قوی انسان تھے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل قوم کو جنگ کے لئے بلایا تو انہوں نے عذر پیش کیا کہ آپ مالدار نہیں اس لئے آپ جنگ کے لئے نہیں بلا سکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مالدار ہونا کوئی خوبی نہیں وہ اپنے علم اور جسم کے لحاظ سے مضبوط انسان ہیں۔

لہٰذا آج اگر ہم دنیا فتح کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خدا کی عبادات کا حق ادا کر نا چاہتے ہیں تو ہم پر اپنی صحتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے ہم روزانہ سیر کے ذریعہ، ہلکی پھلکی ورزش کے ذریعہ اور کھیل کے ذریعہ اپنے آپ کو تو انار کھیں اور ہر وقت مستعد رہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
’’اگر آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گے تو آپ جماعت کا کام بھی اچھی طرح نہیں کر سکیں گے اور آپ اچھے صحت مند ہونے کے سبب جماعت کو زیادہ وقت دے سکیں گے‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک موقع پر فرمایا کہ میں رویا میں کسی دوست کو سمجھا رہا ہوں کہ ورزش نہ کرنا بھی ایک گناہ ہے۔

پھر آپؓ فرماتے ہیں۔
’’اپنے آپ کو ایسے مقام پر کھڑا کرو جس کے بعد تمہیں یقین ہو جائے کہ تم ہر گز بزدلی نہیں دکھاؤ گے اس کے لئے تیاری کرو مگر یہ تیاری دینی طریق کے مطابق ہونی چاہئے اس کی تیاری کرنے کے دنیا میں دو ہی طریق ہیں ایک یہ کہ جسموں کو مضبوط بنایا جائے ………اور ایک تیار ی روح کی مضبوطی اور پاکیزگی کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے اس کی سب سے روشن، اعلیٰ و ارفع مثال دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس وجود میں دیکھ چکی ہے۔‘‘

اب اگر ہم اپنے بزرگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت آتی ہے اور احادیث سے یہ ثابت ہے کہ آپؐ اکثر صبح صحابہ کے ہمراہ سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔ آپ کی چال تیز ہوتی۔ خالی پیٹ ہوتے اور سورج نکلنے سے قبل واپس لوٹ آئے۔ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ بھی لگایا کرتے تھے۔

اس دور میں حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو آپ کو پیدل چلنے کی بہت عادت تھی ۔ میلوں میل پیدل چلتے اور باقاعدہ پیدل سیر بھی کیا کرتے تھے۔ ہمارے خلفاء بھی ہمارے لئے رول ماڈل ہیں۔ حضرت خليفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی Richmond Park میں روزانہ کی سیر مشہور تھی۔ آپ وہاں مرغابیوں کو غذ اڈالا کرتے تھے۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ میں روزانہ 4 میل پیدل چل کر سیر کرتا ہوں۔ ہمارے پیارے موجودہ امام حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ الله تعالیٰ بھی باقاعدہ ورزش کرتے اور کبھی کبھار کھیل وغیرہ بھی کرتے ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے ایک دفعہ خدائی نظاروں کا مشاہدہ کرنے کے لئے سیر کی تحریک فرمائی گئی ۔ کائنات میں الله تعالیٰ نے جورنگ بکھیرے ہیں ان کے مشاہدہ و معائنہ کے لئے صبح کا وقت بہت مناسب وقت ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے صف دوم کے انصار کے لئے سائیکل سواری لازمی قرار دی تھی اور سائیکل کے ذریعہ سیر و سیاحت کے علاوہ مختلف جگہوں پر جا کر دعوت الی الله و خد مت خلق کی بھی تلقین کی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے انصار کو مخاطب ہو کر فرمایاتھا کہ تمام انصار کو صحت مند اور چاک و چوبند رہنا چاہئے۔ متوازن غذا کے ساتھ ہلکی پھلکی ورزش بھی جسم کو صحت مند اور توانا رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ ہر ناصر کو روزانہ سوائے کسی اشد مجبوری کے صبح کی سیر کرنی چاہئے اور کم از کم 2 میل پیدل چلنا چاہئے۔

ایک تحقیقی جائزے نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لوگ ہر روز 2میل پیدل چلتے ہیں خواہ بہت ہی سست رفتاری سے ہو تو بھی ان کے مرنے کے امکان میں تقریبا 50 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2 میل پیدل چلنے کی نسبت نہ چلنے والوں میں 25فیصد کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ حتی کہ رپورٹ میں یہاں تک لکھا ہے کہ عمر رسیدہ لوگوں کو پیدل چلنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا ان کی صحت کو بہتر بناسکتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 20 جون 2020ء