• 3 جولائی, 2020

کہیں پہ اُترا مسیح الزمان کہتے ہیں

ہوا ہے پھر سے خُدا مہربان کہتے ہیں
کہیں پہ اُترا مسیح الزمان کہتے ہیں
تھے آسمان پہ مُدّت سے ڈھونڈتے جس کو
بڑھائی اُس نے زمیں کی ہے شان کہتے ہیں
بنے تھے رہنما رہزن ہوئے تھے بے قابو
پر آئی اب ہے اُسی کی کمان کہتے ہیں
چلا گیا تھا وہ ایمان جو ثریّا پر
زمیں پہ اُس کا بنا پھر مکان کہتے ہیں
ہوا ہے تذکرہ اُس کا کئی صحیفوں میں
ہے پیش کرتا حوالہ، قرآن کہتے ہیں
زمیں پہ پھیل رہا تھا فساد مُدّت سے
زماں نے پھر سے ہے پائی امان کہتے ہیں
لُٹا رہا ہے خزانے علوم کے ہر دم
ہوا ہے فیض کا چشمہ روان کہتے ہیں
پلا رہا ہے وہ جی بھر کے جام پیاسوں کو
کہ اُس کی ذات ہے منعم منان کہتے ہیں
زمین کی گئی تنگ اُس پہ جس نے مان لیا
کہ ہوتا آیا یہی امتحان کہتے ہیں
ذرا سُنو تو سہی بات اُس نے کیا کی ہے
بہت سے لوگوں نے دی اُس پہ جان کہتے ہیں
ہیں ناصر اُس کے بڑے، طفل وزن خدا کے غلام
ہیں اُس کے ہو گئے خادم جوان کہتے ہیں
سُنو صدا، کہ مسیحا علاج کرنے کو
وہیں پہ آیا جو دارالامان کہتے ہیں

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 20 جون 2020ء