• 5 اگست, 2021

ہیومینٹی فرسٹ برکینا فاسو

ہیومینٹی فرسٹ برکینا فاسو کی جانب سے
مہاجرین کے لئے ضروریات زندگی کی فراہمی

برکینا فاسو میں ہیومینٹی فرسٹ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے اورگزشتہ دو دہائیوں سے بلاامتیاز رنگ و نسل اورمذہب و ملت انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں جہاں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہو ، مثلاً قحط سالی، سیلاب یا کسی بھی قسم کی ہنگامی ضرورت پیش آئے، ہیومینٹی فرسٹ خدمت کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ میڈیکل کیمپس کا انعقاد کرنا، آنکھوں کے مفت آپریشن کرنا، پینے کے پانی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا، پرانے بور ہول جو ترک کردیئے گئے تھے ان کو نئے سرے سے قابل استعمال بنانے میں مؤثر اقدام کرنا ، کرونا وبا کے دنو ں میں ماسک اور ہینڈ سینیٹائرز کی تقسیم ،یہ سب اور اس کے علاوہ خدمت خلق کے بہت سارے دیگر کام ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو کے تحت ہمہ وقت جاری رہتے ہیں۔

اندرون ملک مہاجرین کی حالت زار

عرصہ تین چار سال سے برکینا فاسو کے شمالی علاقہ جات میں امن وامان کی صورت حال مخدوش ہے۔ بےامنی کی اس لہر کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنا گھر بار، کاروبار اور دیہات چھوڑ کرشہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں ۔ تازہ اعداد وشمار کے مطابق اب تک ایک لاکھ پچپن ہزار سے زائد گھرانے متاثر ہو چکے ہیں۔ دو ہزار دو صد سے زائد سکول بند ہونے کی وجہ سے تین لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم ڈسٹرب ہوگئی ہے۔اسّی (80) کے قریب ہسپتال اور میڈیکل سنٹرز بند ہو گئے ہیں اور برکینا فاسو میں مجموعی طور پر تیرہ لاکھ افراد مہاجر ہو چکے ہیں۔

حکومت وقت اپنےو سائل کے مطابق ان مہاجرین کے لئے عارضی رہائش گاہوں کے قیام اور خوراک مہیا کئے جانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم ضرورت اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں ۔

مہاجرین کیمپ اور بنیادی ضروریات کی قلت

حکومتی اعداد وشما رکے مطابق جن ریجن میں ان مہاجرین کا زیادہ رش ہے ان میں سب سے بڑی تعداد ’کایا‘ میں ہے ا س کے بعد ’ڈوری‘ اور پھر ’وایوگیا‘ میں ہے ۔ ان تینوں مقامات پر مہاجرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے شہروں میں بھی مہاجر کیمپ لگائے گئے ہیں۔ تاہم حکومت کے لئے مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنا اور ان کی بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنا ایک بہت بڑا ہدف ہے۔ مہاجرین کو جن اشیاء کی ضرورت ہے ان میں خیمہ جات، گھریلوبرتن، کپڑے، بستر اور دیگر ضروری بنیادی اشیاء شامل ہیں ۔ان ضروریات کے علاوہ اتنی بڑی تعداد کے لئے Toilets کا مناسب انتظام نہ ہوپانا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ہیومنیٹی فرسٹ کی طرف سےمہاجرین کی امداد کا منصوبہ

ہیومنیٹی فرسٹ اور جماعت احمدیہ برکینا فاسو نے ان مہاجرین کی مدد کا منصوبہ بنایا۔ اس کے لئے مہاجرین کی تعداد کے لحاظ سے بڑے مقامات ’کایا‘ ’ڈوری‘ اور ’وایوگیا‘ کا انتخاب کیا گیا ۔ ان ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کے لئے برکینافاسو حکومت نے ایک جامع پروگرا م بنا رکھا ہے۔ مہاجر کیمپ میں مہاجرین کا اندراج کیا جاتا ہے اور مہیا آنے والی اشیاء اور سامان ان ضرورت مندوں میں برابر تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس لئے جس جماعت، ادارے یا فرد نے ان افراد کی مدد کرنا ہو وہ مدد کا سامان حکومتی نمائندگان کے سپرد کرتا ہے تاکہ ہر مہاجر خاندان تک حصہ رسدی پہنچایا جا سکے۔ اس موقع پر مہاجرین کے نمائندگان بھی مدعو کئے جاتے ہیں۔

ہیومنیٹی فرسٹ نے تین مقامات پر اس سامان کی ترسیل کو ممکن بنا کر خدمت خلق کے اس میدان میں ایک قدم آگے بڑھ کر اقدامات کرنے کی تو فیق پائی ہے۔

وایوگیا میں تقریب

جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مہاجرین کی مدد کا سارا سامان حکومت کی نگرانی میں تقسیم ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے وایوگیا شہر میں راشن تقسیم کیاگیا ہیومنیٹی فرسٹ کی طرف سے لائے گئے سامان کی تقسیم کے لئے مؤرخہ 2 جون2021ء کو گورنر ہاؤس وایوگیامیں تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔

نیشنل ہیڈ کواٹرز سے مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب امیر جماعت برکینا فاسواور مکرم جیالو عبدالرحمٰن صاحب چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ تقریب میں شرکت کے لئے وایوگیا تشریف لائے۔ ا س سے ایک روز قبل مکرم کونے داؤاداصاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ برکینافاسو ، خدام الاحمدیہ کی ایک ٹیم کے ساتھ انتظامات کی خاطر وایوگیا پہنچ چکے تھے ۔

پروگرام کے مطابق تقریب کا آغاز ساڑھے دس بجے تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جس کا فرنچ ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔پھر چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینا فاسو نے ہیومینٹی فرسٹ کے قیام کی غرض و غایت اور خدمات کا تذکرہ کیا۔ بعد ازاں محترم امیر صاحب برکینا فاسو نے خطاب کیا آپ نے توجہ دلائی کہ اصل زندگی تو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی خدمت کرےاورجذبہ ایثار کے ساتھ زندگی گزارے اپنے لئے تو سب جیتے ہیں۔ آخر پر گورنر ریجن وایوگیا کے نمائندے نے خطاب کیا۔گورنر صاحب ایک اہم میٹنگ کی وجہ سے تقریب میں شامل نہ ہو سکے۔ نمائندہ گورنر نے جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیاکہ اس مشکل وقت میں مدد فراہم کی ۔

ان تقاریر کے بعد محترم امیر صاحب اور چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ نے مہاجرین کی ضروریات کے لیے لایا گیا سامان گورنر کے نمائندہ کے سپرد کیا ۔ اس موقع پرمہاجرین کے نمائندگان بھی موجود تھے ۔

تقریب میں اتھارٹیز کی شرکت

اس پر وقار تقریب میں مختلف حکومتی اداروں کے سربراہان اور نمائندگان نے شرکت کی جن میں قابل ذکر نمائندہ کمشنر، نمائندہ میئر وایوگیا، چیف پریفکٹ وایوگیا ڈیپارٹمنٹ، ریجنل ڈائریکٹر برائے سوشل افیئرز اور دیگر شامل تھے۔ مسلمان کمیونٹی کے نمائندگان بھی تقریب میں شامل تھے پروگرام کے اختتام پر گورنر ہاؤس کے میٹنگ ہال میں ایک Reception کا انتطام کیا گیا۔نیز سب شامل ہو نے والے احباب کی تواضع کی گئی۔

ڈوری میں تقریب کا انعقاد

وایوگیا کے بعد ہیومینٹی فرسٹ کی ٹیم سامان کی نئی کھیپ کے ساتھ مؤرخہ 4 جون 2021ء کو ڈوری ریجن میں پہنچ گئی۔ ڈوری شہر میں واقع گورنر ہاؤس میں جماعتی وفد کو ریسیو کیا گیا اور تقسیم راشن کی تقریب منعقد ہوئی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد چیئرمین ہیو مینٹی فرسٹ برکینا فاسو اور مکرم امیر صاحب برکینا فاسو کے نمائندہ مکرم کونے واؤددا صاحب نے مختصر تقاریر کیں جس میں جماعت احمدیہ کی طرف سے بلا امتیاز رنگ و نسل او رمذہب و ملت خدمت خلق کی کاوشوں کا مختصر تذکرہ کیا۔ بعد ازاں ہزایکسی لینسی گورنر آف ڈوری نے خطاب کیا۔ انہوں نے جماعت احمدیہ اور ہیومینٹی فرسٹ کی خدمات کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ریجنل اتھارٹیز نے شرکت کی ۔

کایا میں تقریب کا انعقاد

وایوگیا اور ڈوری میں کامیابی سے مہاجرین کی ضروریات کا سامان مہیا کرنے کے بعد ہیومینٹی فرسٹ نے سب سے بڑے مہاجر سنٹر ’کایا‘ میں راشن تقسیم کا پروگرا م بنایا۔ مؤرخہ 8 جون 2021ء کو کایا شہر کے گورنر ہاؤس میں اس کی تقریب منعقد ہوئی۔ تلاوت اور ترجمہ کے بعد چیئرمین ہیومینٹی فرسٹ برکینافاسو اور مکرم امیر جماعت صاحب برکینا فاسو نے تقاریر کیں۔ آپ نے مختصراً جماعت احمدیہ کی بےلوث خدمات کاتذکرہ کیا اور برکینافاسو میں قیام امن کے لئے دعا کی۔ ’کایا‘ ریجن کے گورنر نے جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو امداد جماعت احمدیہ کی طرف سے لائی گئی ہے وہ حسب پروگرام ضرورت مندوں تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا ۔ وہ ریجن کی طرف سے جماعت احمدیہ کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ اس مشکل وقت میں حسب معمول وہ خدمت خلق کے میدان میں نمایاں کام کرنے کی توفیق پا رہی ہے۔ اس موقع پر ریجنل اتھارٹیز علاقے کے دیگر معززین موجود تھے۔

(رپورٹ: چوہدری نعیم احمد باجوہ ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن ۔برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021