• 30 نومبر, 2021

نام لکھوا دیں۔ ضرورت پڑنے پر ہم آپ کو بلا لیں گے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجرؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب ہم اپنے وطن پہنچے تو دو ماہ کے بعد پھر قادیان آنے کی تحریک پیدا ہوئی مگر خرچ نہیں تھا مگر دل چاہتا تھا کہ پیدل ہی چلنا پڑے تو چلنا چاہئے۔ دو روپے میرے پاس تھے۔ مَیں رہتاس سے جہلم باوجود گاڑی ہونے کے پیدل آیا۔ پھر خیال آیا کہ آگے بھی پیدل ہی چلنا چاہئے۔ جہلم کے پل سے گزرنے لگا تو چار پانچ سپاہی رسالے کے جن کے پاس دو دو گھوڑے تھے۔ مَیں نے انہیں کہا کہ گھوڑا مجھے پکڑا دو۔ وہ کہنے لگے کہ تم گجرات کے ضلع کے رہنے والے ہو۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں گھوڑا لے کر بھاگ نہ جاؤ۔ خیرمَیں نے کہا کہ مَیں ضلع جہلم کا ہوں، گجرات کا نہیں ہوں۔ رہتاس سے آ رہا تھا۔ مگر انہوں نے نہ مانا مگرمَیں ان کے ساتھ رہا کیونکہ رات کا سفر بھی وہ کرتے تھے۔ جو دو سپاہی تھے وہ جب مرالے میں اترے تو مَیں نے بھی وہیں بسترا بچھا لیا۔ ایک سکھ کہنے لگا کہ میاں تم ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ (اُن میں سے ایک سکھ بھی تھا) ہمیں تمہارا ڈر ہے۔ جس وقت آدھی رات ہوئی وہ چل پڑے۔ مَیں بھی ساتھ ہو لیا۔ پھر ایک سکھ نے کہا کہ ہمیں ڈر ہے کہ تم ہمارا کوئی گھوڑا نہ لے جاؤ۔ مَیں نے کہا کہ مَیں تو جلدی جانا چاہتا ہوں۔ ساتھ کی خاطر تمہارے ہمراہ چل پڑا ہوں۔ ایک سکھ نے کہا کہ یہ بھلا مانس آدمی معلوم ہوتا ہے اُسے گھوڑا دے دو۔ چنانچہ تین میل مَیں نے گھوڑے پر سوار ہو کر سفر کیا۔ رات وزیر آباد پہنچے۔ پل پر سے گزرنے کا پیسہ بھی مجھے انہوں نے دیا اور ر ات کا کھانا بھی انہوں نے ہی کھلایا۔ (یعنی کوئی ٹول ٹیکس لگتا ہو گا، وہ بھی انہوں نے دیا، رات کا کھانا کھلایا) رات ایک بجے پھر تیار ہو گئے اور مجھے گھوڑا دے دیا۔ دوسری رات کامونکی یا مریدکے میں بسیرا کیا۔ پھر انہوں نے کھانا مجھے کھلایا۔ پھر رات چل کر صبح سات یا آٹھ بجے لاہور پہنچے۔ (یہ تقریباً کوئی سو ڈیڑھ سو میل کا سفر بنتا ہے) لاہور پہنچے۔ پھر چونکہ ان کا راستہ الگ تھا اس لئے وہ علیحدہ ہو گئے۔

گیارہ بجے لاہور سے گاڑی چلنی تھی۔ مَیں آٹھ بجے پہنچا۔ اس لئے خیال کر کے کہ کون تین گھنٹے انتظار کرے (قادیان پہنچنے کاشوق تھا۔ تین گھنٹے انتظار کیا کرنا ہے۔ کہتے ہیں) مَیں پھر پیدل چل پڑا۔ ڈیڑھ گھنٹے میں جلّو پہنچا۔ وہاں سٹیشن پر گاڑی کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پونے بارہ بجے چلے گی۔ پھر مَیں وہاں سے چل پڑا۔ اٹاری پہنچا۔ سٹیشن سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ سوا گھنٹہ گاڑی میں ہے۔ مَیں پھر چل پڑا۔ کیا انتظار کرنا ہے۔ ابھی دو میل خاصہ کا سٹیشن رہتا تھا کہ گاڑی نکل گئی۔ خاصہ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اب شام کے سات بجے گاڑی آئے گی۔ مَیں پھر پیدل چل پڑا اور کوئی شام سے قبل ہی امرتسر پہنچ گیا۔ وہاں ایک شیخ ہمارے شہر کے تھے ان کے پاس رات بسر کی۔ وہاں سے صبح گاڑی پر سوار ہوا اور چھ آنے دے کر بٹالہ پہنچ گیا۔ بٹالہ سے پھر پیدل چل کر چار پانچ بجے قادیان پہنچ گیا۔ دوسرے روز صبح حضرت صاحب سے ملاقات کی۔ چار پانچ دن آرام سے گزارے۔ پھر اجازت چاہی اور عرض کیا کہ ہم چھوٹے ہوتے یہ کہا کرتے تھے کہ یا اللہ! امام مہدی کے آنے پرہمیں سپاہی بننے کی توفیق عطا فرما۔ سفر کا تمام واقعہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایاکہ کس طرح مَیں نے اکثر وقت جو ہے سفر کا پیدل طے کیا ہے۔ تھوڑا سا عرصہ بیچ میں گھوڑے پر بھی سواری کی۔ یہ باتیں سن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پرفرمایا کہ آپ نے بڑی ہمت کی ہے اور فرمایا کہ آپ کوئی کام جانتے ہیں؟ مَیں نے کہا حضور سوائے روٹی پکانے کے اور کوئی کام نہیں جانتا اور وہ بھی معمولی طور پر۔ فرمایاکہ نام لکھوا دیں۔ ضرورت پڑنے پر ہم آپ کو بلا لیں گے۔ اُس پر مَیں نے نام لکھوا دیا۔ ’’غلام حسین، رہتاس ضلع جہلم‘‘۔

(رجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) رجسٹر نمبر10 صفحہ نمبر319تا321 روایت حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجرؓ)

یہ تمام روایات اُن لوگوں کی ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ملنے کا شوق تھا اور زیارت کا شوق تھا۔ اس کے لئے وہ تکلیفیں بھی برداشت کرتے تھے اور یہ تکلیفیں اُن کے لئے بہت معمولی ہوتی تھیں۔ اُس کے مقابلے میں جو فیض انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا اور جو ایمان میں اُن کی زیادتی ہوتی تھی۔ اللہ کرے ہم میں سے بھی ہر ایک یہ واقعات سن کر صرف واقعات کے مزے لینے والے نہ ہوں بلکہ ہر واقعہ ہمارے ایمان میں بھی زیادتی پیدا کرنے والا ہو۔

(خطبہ جمعہ 4؍ مئی 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

اعلان نکاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2021