• 26 جنوری, 2022

This week with Huzoor (17 ستمبر 2021ء)

This week with Huzoor
17ستمبر2021ء

اس ہفتے مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کی 2 مختلف مجالس North England اور Scotland کے ممبران جن کی عمریں 16 تا 19 سال کے درمیان تھیں ان کو حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ آن لائن ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس میں خدام نے پیارے امام ایدہ اللہ تعالی سے مختلف سوالات کے ذریعہ رہنمائی حاصل کی۔

*حضور !جب آپ نماز تہجد ادا کرتے ہیں تو کون کون سی دعائیں مانگتے ہیں اور ان کی ترتیب کیا ہوتی ہے؟

حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ میں اپنے لیے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے کامل صحت عطا فرمائے تا کہ میں خدا تعالی کا مزید قرب حاصل کر سکوں ۔اور پھر اپنی جماعت کے احباب کے لیے دعا کرتا ہوں۔ اپنے دوستوں اور اپنی اولاد کے لیے دعا کرتا ہوں ۔پس آپ بھی رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعودؑ کے مشن کے پوری دنیا میں پھیل جانے کے لیے ،اپنے بہن بھائیوں، اپنے والدین اور پھر دوسرے لوگوں کے لیے دعا کریں۔ یہ نارمل طریق ہے جس پر میں دعا کرتا ہوں لیکن اگر کوئی اور اہم واقعہ رونما ہو جائے تو پھر میں اُ س کام کے لیے دعا کرتا ہوں۔

*حضور! آپ غانا میں قیام کے دوران اپنی تفریح کے لیے کیا کرتے تھے؟

فرمایا: کوئی تفریح نہ تھی۔ میرا ہر لمحہ جس میں مَیں کوئی بھی کام کرتا ،مثلاَ میرا چلنا، بیٹھنا، کھڑے ہونا وغیرہ یہی میری تفریح تھی۔ اور میں نے وہاں ہر لمحہ بہت enjoy کیا۔ ہمارے پاس کوئی ٹیلی ویژن ،ریڈیو نہ تھا اور زیادہ تر وقت بجلی بھی نہ ہوتی تھی۔ اس لیے میری زیادہ سے زیادہ تفریح یہ ہوتی تھی کہ میں اپنے کام سے واپس آ کر اپنی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزار لوں یا پھر کتب کا مطالعہ کر لوں۔

*قران کریم شہداء کو زندہ کیوں کہتا ہے؟

فرمایا: کیوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دیتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ کے ہاں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور انہیں جنت میں اس کا انعام دیا جائے گا۔ اور اگر یہ شہداء خدا تعالیٰ کے دین کی وجہ سے شہید ہوں تو انہیں اس دنیا میں بھی بہت سراہا جاتا ہے اور لوگ ان کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔اس لیے آپ انہیں ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور نہ صرف ان کی فیملی بلکہ دوسرے لوگ بھی ان کو یاد رکھتے ہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور ان کو انعام ملے گا۔کیونکہ مردہ وہ ہے جس کو کوئی نہیں جانتا اور اس کی وفات کے بعد اس کے قریبی رشتہ داروں کے سوا کوئی بھی اس کا ذکر نہیں کرتا۔ لیکن شہداء کے نام کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے اور جنت میں ان کو دوسروں کی نسبت زیادہ انعام ملے گا۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو مردہ مت کہو۔ وہ مردہ نہیں ہیں ۔کیونکہ وہ اس دنیا سے تو مر گئے لیکن وہ جنت میں ایک بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور یہی آپ کی آخری منزل ہے۔

*ان شاء اللہ جب مستقبل میں احمدیت مغربی دنیا میں پھیل جائے گی تو کیا اس وقت بھی احمدیوں پر ظلم جاری رہے گا؟

فرمایا: اگر یہاں یا کسی امیر ملک میں احمدیت پھیل جاتی ہے جن سے پاکستانی حکومت یا غریب ممالک کوایڈ مل رہی ہے تویہ (غریب) ممالک اس ظلم و زیادتی کو جو یہ احمدیت کے خلاف کر رہے ہیں اس کو بند کر دیں گے۔ عیسائیوں پر بہت ظلم ڈھائے گئے لیکن جب ایک رومن بادشاہ نے عیسائیت قبول کر لی تو اس وقت سے عیسائیوں پر یہ ظلم و زیادتی رُک گئی۔ پس اسی طرح یہاں بھی ہوگا۔ ابھی بھی یہ لوگ مغربی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔ جب تک یہ لوگ ان پر انحصار کر رہے تب تک ان کو مغربی ممالک کی باتیں ماننا ہوں گی۔ پس ان کا خدا وہ واحد و یگانہ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ لوگ ایک خدا پر ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا خدا یہ مغربی ممالک ہی ہیں جن کی یہ پیروی کرتے ہیں۔

*حضور! کیا اسکاٹ لینڈ INDEPENDENT ہو جائے گا؟ اور حضور کی اسکاٹ لینڈ میں پسندیدہ جگہ کون سی ہے؟

فرمایا: میں سیاست دان نہیں ہوں۔ لیکن جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ ،انگلینڈ،ویلز،اور آئر لینڈ کی سیکورٹی اور SAFETY اس بات میں ہے کہ وہ اکٹھے ایک پرچم تلے مل کر رہیں۔ یہ ان کے لیے بہتر ہو گا لیکن اگر وہ INDEPENDENT ہونا چاہتے ہیں تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اور جہاں تک سکاٹ لینڈ میں میری پسندیدہ جگہ کی بات ہے تو وہ Port Ellen ہے ۔جب میں نے اس جگہ کا وزٹ کیا تھا تو اس وقت میں کچھ دیر کے لیے اس جگہ پر رُکا بھی تھا۔ مجھے یہ جگہ پسند ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مقامات ہیں مثلاَ Pitlochry جہاں دریا یا جھیل ہے اور boats ہیں جو کہ اوپر اور نیچے جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جب آپ اونچی جگہ کی طرف جاتے ہیں ۔ سکاٹ لینڈ ایک خوبصورت علاقہ ہے۔یہ وہ مقامات ہیں جو میں نے دیکھے ہوئے ہیں اور یہ ساری جگہیں ہی بہت خوبصورت ہیں۔

*حضور! جب آپ ہماری عمر کے تھے تو اس وقت آپ کے کیا مشاغل (Hobbies) تھے؟

فرمایا: مجھے یاد نہیں کہ میرا کوئی خاص مشغلہ تھا۔ میں اس عمر میں کرکٹ اور بیڈمنٹن کھیلا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ میں نے old stamps جمع کرنا شروع کی تھیں لیکن یہ کچھ عرصے کے لیے تھا اور اس میں بھی میں زیادہ regular نہیں تھا ۔ اس لیے کوئی باقاعدہ مشغلہ نہیں تھا۔ پھر پیارے آقا نے اس خادم سے استفسار کرتے ہوئے فرمایا۔آپ کا مشغلہ کیا ہے؟ اس پر خادم نے جواب دیا کہ حضور: مجھے exercise اور traveling پسند ہے۔ الحمد للہ جولائی میں میں وقف عارضی کے لیے گیمبیا بھی گیا تھا۔ اس پر حضور نے فرمایا میں نے بھی اس عمر میں وقف عارضی کی تھی لیکن یہ مشغلہ تو نہیں ہے۔ میں نے کبھی کوئی کھیل اس لیے نہیں کھیلا کہ اس کھیل میں بہت شاندار کھیل سکوں۔

*حضور! دنیا کی موجودہ صورت ِحال پر آپ کا کیا خیال ہے؟

فرمایا: اگر دنیا اپنے خالق کو نہیں پہچان رہی۔ اس خدا کی طرف جو ان کی زمہ داریاں ہیں ان کو ادا نہیں کر رہی اور جو خدا تعالیٰ ہمیں فرما رہا ہے وہ نہیں کر رہےتو یہ دنیا بڑی جلدی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔اس لیے یہ ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر آپ لوگ وہ نہیں کریں گے جو خدا تعالیٰ ہمیں حکم فرتا ہے اور اپنے اندر تبدیلی نہیں لائیں گے تو پھر یہ آپ کی قسمت ۔صرف وہی محفوظ رہیں گے جو خدا تعالیٰ کو یاد رکھیں گے ۔ہر طرف جو ظلم ہو رہا ہے خواہ وہ مظبوط قومیں غریب قوموں پر کر رہی ہیں یا یہ ظلم قوموں کے مابین ہو رہا ہے یا مسلم امہ کے مابیں ہو رہا ہے یا چھوٹے ملکوں میں ہو رہا ہے ۔ اس سےہر طرف بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ پس یہ ایک احمدی کی ذمہ داری ہے کہ ان (لوگوں) کو سمجھایا جائے اور یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہمارے کندھوں پر ہے۔اسی لیے میں ہر وقت لوگوں کو ، سیاست دانوں کو اور لیڈروں کو بارہا بتا تا رہتا ہوں کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں ۔ دنیا میں حقیقی انصاف کو قائم کریں ۔اپنے خالق اور بنی نوع انسان کے ساتھ ذمہ داریوں کو نبھائیں ورنہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ کیا ہونے والا ہے؟اور جو ہم دیکھ سکتے ہیں وہ اس دنیا کا بہت ہی سیاہ اور تاریک اختتام ہے ۔

دوسری ملاقات

اس ہفتے دوسری آن لائن ملاقات ناصرات الاحمدیہ کے ساتھ تھی جن کی عمریں 13 سے 15 سال تک تھیں اور یہ MIDLAND اور SOUTHWEST ENGLAND کی مجالس سے تعلق رکھتی تھیں۔ حضور انور ایدہ اللہ کے ساتھ اس نشست میں ناصرات نے جو سوال کیے وہ حسب ذیل ہیں۔

*سوال :اگر کوئی وقف نو کی تحریک میں شامل نہیں تو کیا پھر بھی وہ جماعت کے لیے SERVE یا کام کر سکتے ہیں؟ میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بن کر جماعت کی خاطر DEVELOPING COUNTRIES میں خدمت کر سکوں۔

فرمایا:بالکل کر سکتی ہیں۔جامعہ احمدیہ میں طالب علموں کی کافی تعدادجو کہ مشنری بننے والے ہیں وقف نو نہیں ہے۔ جامعہ احمدیہ پاکستان میں پڑھنے والے 50 فیصد طالب علم (تحریک)وقف نو میں شامل نہیں ہیں۔میں خود وقف نو نہیں ہوں اور میں جماعت کی خدمت کی توفیق پا رہا ہوں۔ جو لوگ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور میرے ساتھ کام کرتے ہیں یہ بھی وقف نو نہیں ہیں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ جماعتی خدمت کے لیے آپ وقف نو میں ہی ہوں۔اگر آپ ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں تو آپ اپنی تعلیم مکمل کریں اور پھر جماعت کی خدمت کے لیے اپنےآپ کو بطور وقفِ زندگی پیش کریں ۔پھر ہم ان شاء اللہ آپکے وقف کی تحریک کو قبول کریں گے۔اس میں کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔اور ہم بڑی بے چینی کے ساتھ آپکے وقف کا انتظار کر رہے ہیں۔

*ہمیں ماضی میں انبیاء اور خلفاء کی مثالیں ملتی ہیں کہ وہ مذہبی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ سیا سی اتھارٹی بھی تھے ۔کیا اگر آپ کو بھی سیاسی اتھارٹی پیش کی جائے تو آپ قبول فرمائیں گے؟

فرمایا:ماضی میں تمام انبیاء کو پولیٹیکل اتھارٹی نہیں ملی تھی۔اسلام میں حضرت محمد ﷺ مذہبی لیڈر یعنی خاتم الانبیاءتھے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد آپ ایک سٹیٹ کے حاکم بھی تھے۔لیکن جب آپ مکہ میں تھے تو اس وقت آپ پر اور آپکے ساتھیوں پر بہت ظلم و ستم ڈھایا گیا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء راشدین بھی پولیٹیکل اتھارٹی رکھتے تھے۔ لیکن حضرت مسیح موعود ؑ بطور نبی نہ تو کوئی دنیاوی حاکم تھے اور نہ ہی آپ کے خلفاء پولیٹیکل اتھارٹی رکھیں گے۔تمام ملک اپنی پولیٹیکل حکومت کے زریعے یا اپنی حکومت کے زریعہ سے ہی چلیں گےاور وقت کا خلیفہ ان ملکوں کا روحانی سربراہ ہو گا۔اسی لیے خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں لکھا ہے کہ اگر دو مسلمان ممالک یا پارٹیوں کا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو ان میں صلح کروا دو۔اگر وہ بعض آ جائیں تو بہت اچھا۔ لیکن اگر وہ اپنے ساتھی مسلمان ملک یا پارٹی کے خلاف ظلم سے بعض نہ آئیں تو طاقت کے ساتھ روکنا ہو گااورایسی صورت حال میں پھر وقت کا خلیفہ دوسری حکومت کو ایسا کرنے کے لیے فرمائے گا۔وقت کا خلیفہ صرف روحا نی لیڈر ہو گا جس کا حکومت کی سیاست سے کچھ تعلق نہ ہو گا ۔لیکن حکومتوں کے سربراہ خلیفۃالمسیح سے رہنمائی حاصل کریں گے۔

*حضور!کیا آپ اپنی مشکلات کا کوئی لمحہ بیان کر سکتے ہیں اور آپ نے اس کیسے deal کیا؟

فرمایا:مشکلات آپ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ میں اس کو کیوں بیان کروں؟ اگر میں اپنی مشکلات بیان کروں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنے وقف کی حقیقی روح کو نہیں سمجھا۔ اس لیے میں بیان نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد مسکراتے ہوئے فرمایا۔ میں نے کبھی کوئی مشکل نہیں دیکھی بلکہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو ہی دیکھا ہے۔

*میرے والد صاحب نے مجھے بتایا تھا کہ حضور خلافت سے پہلے بہت کم گو تھے لیکن اب حضور بہت سی تقاریر اور خطاب فرماتے ہیں اور دنیا کے مختلف طبقات کے لوگوں سے گفتگو کرتے ہیں۔ تو حضور یہ سب کس طرح manage کر لیتے ہیں؟

فرمایا: میں ابھی بھی کوشش کرتا ہوں کہ کم بولوں۔ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ میں اپنی مرضی سے اس مقام پر فائز نہیں کیا گیا بلکہ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے مجھے اس مقام پر فائز کیا۔ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس مقام پر فائز کیا ہے تو یہ خد اتعالیٰ کا کام ہے کہ وہ مجھے بولنے کے قابل بنائے، تقاریر کروائے، لوگوں سے بات کروائے اور لوگوں کو میرے مقابل خاموش کروائے۔ اگر میں اپنے آپ کو دیکھوں کہ میں کیا ہوں تو میں نہیں کہہ سکتا کہ میں کسی کے بھی سوال کا جواب دے سکوں۔ یہ خدا تعالیٰ ہی ہے جو مجھے ان تمام کاموں کی طاقت و ہمت دے رہا ہے۔

*غیر احمدی ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ جبکہ ہم شہادت پر ایمان رکھتے ہیں۔قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں۔

فرمایا: بہتر ہو گا کہ یہ آپ اُ ن سے پوچھیں۔ہم اسی نبی ﷺ پر اور اسی کتاب یعنی قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی کہتے ہیں۔ ہم تمام اسلامی تعلیم پر عمل بھی کرتے ہیں۔ہم صرف پریکٹس ہی نہیں کرتے بلکہ اس تعلیم کی تبلیغ بھی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہزاروں غیر مسلم احمدیت کے ذریعے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔آپ اپنی مثال ان کے سامنے پیش کر سکتی ہیں کہ آپ کس بات پر ایمان رکھتی ہیں اور آپ کس تعلیم پر عمل کرتی ہیں۔اب یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ ان کے تمام شبہات کو دور کرو۔مثال کے طور پر غانا میں ابتدائی احمدی عیسائیوں میں سے تھے۔ ان لوگوں نے اسلام کو کیوں قبول کیا۔ اس لیے کہ انہوں نے احمدیت کے ذریعے اسلام کی خوبصورتی کو پہچانا۔ تو اس طرح آپ تبلیغ کر سکتے ہیں۔ہم میں اور ان میں صرف یہ فرق ہے کہ غیر احمدی سمجھتے ہیں کہ مسیح الزمان جس کو رسول کریم ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق آنا تھا وہ ابھی تک نہیں آیالیکن احمدی اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ مسیح الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی شخصیت میں آ گئے ہیں۔صرف اس وجہ سے یہ لوگ ہمیں غیر مسلم خیال کرتے ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ خدا تعالیٰ کی طرف سے نبوت کے مقام پر فائز کیے گئے ہیں۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں آپ کو نبی کہہ کر پکارا ہے اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ 4 دفعہ نبی اللہ کہہ کر مخاطب فرمایا۔اور یہ لوگ کہتےہیں کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ہم بھی یہی ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی بھی شرعی نبی رسول کریم ﷺ کے بعد نہیں آسکتا جو نئی شریعت لائےلیکن ظلی نبی آ سکتے ہیں اور آپ کو رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے موافق ضرور آنا تھا جیسا کہ قرآن کریم سورۃالجمعہ میں بیان کیا گیا ہے۔یہ فرق ہے(ہمارے اور ان کے درمیان) اور اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم غیر مسلم ہیں۔یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آپ لوگ رسول کریم ﷺ پر ایمان لاتے ہیں لیکن آپ لوگ رسول کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہیں لاتے۔ہم کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ آخری شرعی نبی ہیں اور قرآن کریم آخری شرعی کتاب ہے۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے جس نے رسول کریم ﷺ اور باقی انبیاء کو اس دنیا میں بھیجا۔اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ محمد ﷺ ا س (خدا) کا آخری رسول ہے جو شریعت لے کر آیا۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑ ظلی نبی ہیں اور یہ ہم اپنی طرف سے خودساختہ بات نہیں کر رہے بلکہ یہ بات رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ وہ موعودشخص جس کو آنا ہے وہ نبی ہوگا۔اس لیے وہ ہمیں غیر مسلم کہتے ہیں

ایک احمدی کے لیے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف FIGHT کرنا کس قدر ضروری ہے؟

فرمایا:یہ بہت ضروری ہے۔ ہمیں SHORT DISTANCE کے لیے کار کے استعمال کو ترک کرنا چاہیے اور اس کی بجائے پیدل چلنا چاہیے یا پھر سائیکل کا استعمال کرنا چاہیے ۔سائیکلنگ آپکی صحت کے لیے بھی بہت اچھی ہے۔ہر احمدی کو ہر سال میں کم از کم 2 پودے ضرور لگانے چاہیے۔ اس طرح ہم CLIMATE CHANGE کے خلاف FIGHT کر سکتے ہیں۔ اگر آپ لوگ یو کے میں 30 ہزار کے قریب احمدی ہیں تو ہمیں ہر سال کم از کم 60 ہزار کے قریب ضرور پودے لگانے چاہیں۔ اگر یہاں ممکن نہ ہو توجو دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں وہ وہاں پودے لگا سکتے ہیں۔ اور اس طرح ہم CLIMATE CHANGE کے خلاف مدد کر سکتے ہیں۔

(ترجمہ و کمپوزنگ: ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

اعلان نکاح

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2021