• 5 دسمبر, 2021

الفضل کے متعلق آراء اور تبصرے

پچھلے دنوں الفضل میں خاکسار کا ایک مضمون چھپا تھا۔ جس کا عنوان تھا ’’الفضل سے میرے اور میرے خاندان کی مثالی محبت‘‘ اسے پڑھنے کے بعد قارئین کی طرف سے بیسیوں پیغامات ملے اور فون کر کے الفضل کے ساتھ ملی اپنی یادیں شیئر کیں۔ الحمدللّٰہ۔ جو پیغامات خاکسار کو ملے ان میں سے کچھ قارئین کے استفادہ کے لئے پیش خدمت ہیں۔

-1محترمہ ناصرہ پیر افتخار۔ یوکے سے لکھتی ہیں :
ابھی تمہارا الفضل سے محبت اور اس کی افادیت پہ لکھا مضمون پڑھا۔ بہت ہی پیارے سادہ خوبصورت الفاظ میں تم نے اس محبت کا اظہار کیا کہ لگا تم، ہم سب کے دل کی آواز بن گئی ہو۔ مجھے بھی عشق کی حد تک الفضل سے محبت رہی کہ اس کو جگہ نہ ہونے کی وجہ سے جب مسجد بھیجنا پڑتا تو دل گھٹتا تھا جیسے اپنی بہت ہی قیمتی نایاب چیز بادل ناخواستہ کسی کے حوالے کرنا پڑ رہی ہے۔ شایدہر اس وقت کے ہر احمدی کو ایسی ہی محبت اس اپنے اخبار سے رہی ہو ۔گھر میں پہلے ابو سے اخبار کا کافی حصہ سننے کو ملتا پھر امی ہم سے کہتیں کہ مجھے سناؤ اور ایسے ہی ہر مضمون ہر حصہ آہستہ آہستہ ان کے گوش گزار کیا جاتا ۔شادی ہوئی تو گھر الفضل تو آتا ہی تھا لیکن مجھے اپنے لئے الگ الفضل لگوانا تھا کہ الفضل کی اشاعت بڑھے اور مجھے اپنے لئے الفضل الگ سے سنبھالنے کو مل جائے۔ الفضل کا پہلا بیچ تو ہر بچے سے میں خود سنا کرتی۔ خود بچیوں کو بھی الفضل پڑھنے سے دینی کتب پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک زمانہ میں حدیقۃ الصالحین اجلاسات میں پڑھنے کیلئے منگوائی تو میری دوسری بیٹی شفق اس کو ایسے پڑھتی کہ میں کچن میں ہوتی تو مجھے کوئی نئی حدیث سنانے پہنچ جاتی ۔غرض اس نے حدیقۃ الصالحین بھی نہ نہ کرتے چلتے پھرتے سنادی ۔

یہ سب الفضل پڑھنے کےنتیجہ میں تھا کہ بچوں کو ایسے ہی مضامین اور لٹریچر سے محبت ہونے لگتی ہے جن سے بچپن میں ان کے ذہن اور کان آشنا رہے ہوں۔ میرے چھوٹے دیور دیورانی احمدی نہیں تھے لیکن ہمارا آپس میں بہت پیار کا رشتہ تھا وہ الگ گھر منتقل ہوئے تو میں نے ان کے گھر کیلئے الفضل جاری کروا دیا جو کافی دیر آتا رہا۔

ایک زمانہ تھا تینوں بچیاں اسکول جانے لگیں تھیں مجھے فارغ وقت ملا تو ایک ٹرینگ سینٹر کھولا جس میں ینگ بچیاں کٹنگ ،سیونگ، پرنٹنگ ،وڈ ورک، چائنیز کوکنگ اوربیکنگ یہ سب سیکھنے آتیں یہ اکثر میڑک کے بعد کی بچیاں ہوتیں یا ایف اے کےبعد جو بھی بچیاں ہوتیں گھریلو کام ہنر سیکھنے آجاتیں وہاں میں الفضل کا پہلا صفحہ ایک فریم میں لگا دیتی ہر آنے والی بچی ان قیمتی ارشادات کو پڑھتی اور لکھنے والے کے متعلق بھی پوچھتی۔ یوں ایک بات چیت کا سلسلہ شروع ہوجاتا اور بڑے اچھے رنگ میں احمدیت کا تعارف ہوتا ۔میرا تبلیغ کا شوق بھی پورا ہوتا اور غیر از جماعت بچیوں کے دل سے احمدیت کے متعلقہ جو غلط فہمیاں تھیں وہ بھی دور ہو جاتیں ۔یوں میں روز الفضل کا ایک نیا صفحہ اس فریم میں لگاتی اور ایک نئی بات تبلیغ کے لئے مل جاتی۔

بڑی پیاری یادیں ہیں جو تمہاری یادوں کے ساتھ تازہ ہونے لگی ہیں دل چاہا تم سے شئیر کروں۔

خیر قدسیہ !آج تم نے جانے کیا کیا وقت یاد کروا دیا ۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔آمین۔ جزاک اللّٰہ

-2محترمہ بشریٰ شکور۔ یوکے سے لکھتی ہیں:
بہت اچھا لکھا ہے ماشاللہ ۔مجھے بھی بچپن میں اپنی دادی جان کے ہاتھ میں الفضل ہی نظر آئی ۔اور اسی طرح مجھے یاد ہے میں بھی بڑے شوق سے سارے نکاح اور ولادت یا وفات کے اعلان سب پڑھتی تھی۔ جزاک اللہ بہت کچھ یاد کرانے کا۔ ہم آج بھی اسی طرح الفضل آن لائن شوق سے پڑھتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

-3محترمہ امبر قیوم۔ یوکے سے لکھتی ہیں کہ :
میری آپی بتایا کرتی ہیں کہ جب لمبا عرصہ الفضل بند ہونے کے بعد شائع ہو کے گھر آیا تو ہمارے دا دا جی شیخ عبدالقادر خادم صاحب مرحوم الفضل کو اپنی آنکھوں کے ساتھ لگاتے جاتے ساتھ روتے جاتے اور یہ کہتے جاتے کہ ’’دیکھو میرے دوستو! اخبار شائع ہوگیا۔

ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی کہ وہ پہلے پڑھے۔ اور پھر ڈسکس بھی کیا کرتے کہ فلاں چیز پڑھی یا فلاں بات پڑھی۔

اللہ اللہ کیسی محبت تھی ہمارے بزرگوں کو اس پاک اور سچے اخبار کے ساتھ جو آج کے دجل کے زمانے میں سچ پھیلا رہا ہے۔ لیکن بدقسمت اسے بند کرا کے خوش ہوتے ہیں۔ مگر اب آن لائن کی صورت میں پوری آن بان کے ساتھ روزانہ طلوع ہو کر اسلام کے سورج کی کرنیں ہر سو بکھیرتا ہے۔ الحمد للّٰہ

-4 محترمہ کنیز نجمہ بتول (نو مبائعہ) فون پر کہنے لگیں کہ مجھے بہت مشکل رہتی کہ بچوں کو کیسے کتب سلسلہ اور روحانی خزائن پڑھنے کی طرف متوجہ کروں اور انکی تربیت دینی لحاظ سے مجھے مشکل لگ رہی تھی۔ آپ کے اس مضمون نے میرے لیئے راستہ کھول دیا ہے۔ اب میں وقت نکال کے روزانہ بچوں کو خود بھی پڑھ کے سناتی ہوں اور بچوں سے بھی پڑھو اتی ہوں۔ آپ دعا بھی کریں کہ خدا میری اور میرے بچوں کی یہ قربانی قبول کرے۔ ہمیں ثابت قدم رکھے۔ اور اللہ میرے بچوں کو مہدی علیہ السلام اور خلیفہ کی محبت اور اطاعت میں رہنے کی توفیق دیتا چلا جائے۔ آمین۔

  1. محترمہ امۃ الشافی مظفر ۔یوکے سے لکھتی ہیں :
    آپ کا لکھا مضمون پڑھا۔ واقعی ایسا ہی ہے۔ ایسے ہی پڑھتے پڑھاتے تھے۔ سنتےسناتے تھے ۔بہت معلومات ملتی تھیں ۔ اُس وقت بہت مہنگا بھی پڑتا تھا۔ لیکن ضرور منگواتے تھے۔ اب تو آن لائن کی سہولت ہے بہت فائدہ ہے۔ اللہ سب کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ آمین

6. مکرم برہان احمد ناصر کہتے ہیں :
آپ کا الفضل سے محبت پے لکھا گیا مضمون بہت پُراثر اور فائدہ مند ہے۔ ہم میں سے بہت لوگوں کو پرانی یادیں یاد آگئیں۔ایسا ہی ہوتا تھا۔ اور ہم نے الفضل سے بہت کچھ سیکھا اور اپنی نسلوں کو بھی بتایا اور سکھایا ہے۔ اللہ ہماری نسلوں کو بھی توفیق دے آمین۔

اللہ ہم سب کو اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے الفضل کا روزانہ ہی مطالعہ کی توفیق دیتا رہے۔ آمین۔

(قدسیہ نور والا۔ ناروے)

پچھلا پڑھیں

خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں پُر مسرت تقریب

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ