• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

علم کی اہمیت ، افادیت ، معانی اور اقسام

قرآن کریم ، احادیث نبویہؐ، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء سلسلہ کے ارشادات

احادیث میں علم کی اہمیت وفضیلت

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا ( یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنْوْا مِنْکُمْ ) یعنی جو تم میں سے مومن ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے انہیں اللہ درجوں میں بلند کرتا رہتا ہے اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اُس سے خوب آگاہ ہے۔نیز اللہ عزوجل کا یہ فرمانا۔ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ۔ اے میرے ربّ! مجھے علم میں بڑھا۔

(بخاری کتاب العلم باب علم کی فضیلت)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ باب باندھنے میں جو آیت انتخاب کرتے ہیں وہ ان کا مقصد ادا کرنے کے لئے اپنے اندر پورا ذخیرہ رکھتی ہے۔آپؒ نے فضیلت ِ علم کا باب قائم کرتے ہوئے دو آیتیں چنیں ہیں۔ایک یہ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قِیْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِیْ الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰہُ لَکُمْ وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۔ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً ذٰلِکَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاَطْھَرُ۔ (المجادلۃ: 13-12) ان آیات میں دو قسم کے آدمیوں کے درجات بڑھائے جانے کا ذکر ہے ایک اہل ایمان اور دوسرے اہل علم ۔ اسی ترتیب سے امام موصوفؒ نے ایمان وعلم کے متعلق یکے بعد دیگرے احادیث بیان کی ہیں اور دونوں کو ترقی درجات کا سبب قرار دیا ہے۔ ایمان بھی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کا وارث بناتا ہے اور علم بھی ۔ایمان علم کو اور علم ایمان کو بڑھاتا چلاجاتا ہے۔ایمان اپنے اندر اسی طرح نورِ علم رکھتا ہے جیسے کفر جہالت کی ظلمت کو۔ غرض ان دونوں کا تعلق آپس میں نہایت گہرا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے حاشیہ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد5 صفحہ226تا273)چونکہ احادیث کا مطالعہ اور ان کا تذکرہ بھی ایک قسم کی مناجاتِ رسول یعنی اس سے رازونیاز کی باتیں کرنا ہے۔ اس لئے قَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً (المجادلۃ:13) کے ماتحت امام موصوف نے وہ آداب ذکر کئے ہیں جو اسلامی تعلیم کی رو سے تحصیل علم کے لئے از بس ضروری ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں ہر نیک وخالص عمل صدقہ کہلاتا ہے۔دوسری آیت رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (طٰہٰ:115)ہے۔ یہ آیت علم حاصل کرنے کے لئے اس طبعی خواہش اور استعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نہایت وسیع پیمانہ پر انسان کی فطرت میں بطور ودیعت کے رکھی گئی ہے۔ علم کی فضیلت اس سے عیاں ہے کہ وہ بے پایاں وبے کنار سمندر ہے جس میں انسان جتنا بھی آگے تیرتا چلا جائے اس کی فطرت یہی کہتی چلی جائے گی۔ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ۔ پہلا ادب اسلام نے علم کے متعلق یہ سکھلایا ہے کہ انسان جناب الٰہی میں ہمیشہ یہ دعا کرتا رہے کہ وہ اپنی شانِ ربوبیت کے طفیل اس کا علم ہمیشہ بڑھاتا رہے۔
کہنے اور کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔( فَاعْلَمْ اَنَّہُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ) پس یہ جان لو کہ اللہ کے سوائے اور کوئی معبود نہیں۔ پس علم سے ابتدا کی ۔نیز یہ کہ علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے علم کا ورثہ چھوڑا جس نے اس کو حاصل کیا اس نے بڑھ چڑھ کر بھلائی حاصل کی اور جو کسی ایسے راستے پر چلتا ہے کہ جس کے ذریعہ سے وہ علم کو تلاش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے۔ اور اللہ جل شانہٗ نے فرمایا۔ درحقیقت اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی خشیت کرتے ہیں جو اس کی معرفت رکھنے والے ہیں اور فرمایا۔ ( وَمَا یَعْقِلُھَا اِلَّا الْعَالِمُوْنَ ) یعنی ان باتوں کو تو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں اور یہ آیت ( وَ قَالُوْا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْ اَصْحَابِ السَّعِیْرِ ) یعنی انہوں نے کہا: اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے اور فرمایا۔ ( ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ) یعنی کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، برابر ہیں اور نبی ﷺ نے فرمایا۔ جس کی بہتری کا اللہ ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور علم تو سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے اورحضرت ابوذرؓ نے کہا۔اگر تم تلوار اس پر رکھ دو اور انہوں نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا پھر میں سمجھوں کہ میں کوئی بات جو نبی ﷺ سے سنی تھی پہنچا سکتا ہوں پیشتر اس کے کہ تم مجھ پر تلوار چلادو تو میں ضرور ہی اسے پہنچا دوں گا۔اور نبیﷺ کا یہ فرمانا۔ جو حاضر ہو وہ غیر حاضر کو (میری نصیحت) پہنچادے اور حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ کُوْنُوْا رَبَّانِیِّیْنَ کے معنی یہ ہیں کہ تم حلیم اور فقیہہ اور عالم بنو۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ربانی وہ ہے جو بڑے علم سکھانے سے پہلے چھوٹے علم سکھا کر لوگوں کی تربیت کرے۔
عنوان باب میں اَنَّ الْعُلَمَآءَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَآءِ وغیرہ جن احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے، اگر چہ وہ امام بخاری ؒ کی شرط کے مطابق نہیں۔ مگر ابوداؤد، ترمذی اور حاکم وغیرہ نے انہیں صحیح قرار دیا ہے۔ (فتح الباری جزء اول صفحہ211) اور قرآن مجید سے بھی ان احادیث کے مضمون کی تصدیق ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۔۔۔۔ وَمِنْھُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ۔ (فاطر:33) ترجمہ: یعنی پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جنہیں چُن لیا ، اُنہیں کتاب کا وارث بنا دیا۔۔۔۔۔اور اُن میں ایسے بھی ہیں جو نیکیوں میں اللہ کے حکم سے آگے بڑھ جانے والے ہیں۔ یہی و جہ معلوم ہوتی ہے کہ عنوان باب میں ان کو لے لیا گیا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ایک جامع باب باندھا ہے جس میں اصولی طور پر6؍امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔
پہلا امریہ کہ کہنے اور کرنے سے پہلے جاننا ضروری ہے فَاعْلَمْ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاستَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْ (محمد:20) پس جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی لغزش کی بخشش طلب کر، نیز مومنوں اور مومنات کے لیے بھی۔ اور اللہ تمہارے سفری ٹھکانوں کو بھی خوب جانتا ہے اور مستقل ٹھکانوں کوبھی۔
دوسرا امر یہ کہ انسان کی روحانی اصلاح و ترقی میں جس علم کی ضرورت ہے وہ وہ علم ہے جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے متعلق کامل عرفان ۔جس علم کے وارث علماء قرار دئیے گئے ہیں،وہ یہی علم ہے ۔ قرآن مجید اسی وراثت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔ (فاطر:33)پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جنہیں چُن لیا، اُنہیں کتاب کا وارث بنا دیا۔
تیسرا امر وہ عظیم الشان مسئلہ ہے جس کے متعلق بےوقوفوں نے خواہ مخواہ اپنی کوتاہ فہمی اور کم ہمتی سے اختلاف پیدا کرکے بہت سے لوگوں کو عرفانِ الہٰی کے آب حیات سے روک رکھا ہے ۔یعنی وہ عرفانِ نبوت جو تجلیاتِ وحی سے حاصل ہوتا ہے۔امام بخاریؒ نے اس مسئلہ کا نہایت معقول حل خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے کردیا ہے: مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَّطْلُبُ بِہٖ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہٗ طَرِیْقًا اِلٰی الْجَنَّۃِ ۔جنت سے مراد وہ جنت ِرضوان ہے جو عارف باللہ کو اس دنیا میں دمِ نقد حاصل ہوتی ہے۔

(اسلامی اصول کی فلاسفی،روحانی خزائن جلد 10صفحہ378)

چوتھا امر یہ کہ علماء سے مراد وہ لوگ نہیں جو خشیت اللہ سے خالی اور عقل کے کورے ہیں۔بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو مذکورہ بالا دو آیتوں کے مصداق ہیں۔خشیت کے معنی سہم جانا۔ یعنی وہ اللہ کی عظمت وکبریائی اور جلالی تصرفات کے متعلق اس قدر کامل عرفان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اندر دائمی خشیت کی حالت کو محسوس کرتے ہیں۔ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا اِلَّا الْعَالِمُوْنَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (العنکبوت:44-45) اور یہ تمثیلات ہیں جو ہم لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔لیکن علم والوں کے سوا اِن کوکوئی نہیں سمجھتا۔ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔یقیناً اس میں مومنوں کے لیے ایک بہت بڑا نشان ہے۔نیز ان علماء سے وہ عالِم مراد ہیں جو عقلمند ہیں اور عالَمِ مثال سے حقائق کی تہ تک پہنچتے ہیں اور ایمان کی نعمت حاصل کرتے ہیں۔یہ سارا عالَم ان کے لئے ایک آیۃ اللہ ہوتا ہے۔
پانچواں امر علم کی نشرواشاعت ہے، خواہ وہ کتنی چھوٹی سے چھوٹی بات پر مشتمل ہو۔ اس کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد پہلے گزر چکا ہے۔یہاںصحابی حضرت ابوذرؓ کا قول نقل کیا گیا ہے۔
چھٹا امر یہ کہ عالم کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں کی گئی ہے یعنی وہ ربانی ہوتا ہے ۔اصمعی نے اس سے وہ اہل اللہ مراد لئے ہیں جو عالم باعمل ہوں اور لوگوں کی تربیت میں اللہ تعالیٰ ان کا قبلہ مقصود ہو ۔ابن عربی نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔
(فتح الباری جزء اول صفحہ213) غرض اس باب میں علم کی بھی تخصیص کردی اور عالم کی بھی اور صحابہ کرام ؓ کے نیک نمونہ کی مثال بھی پیش کردی کہ وہ کلمہ حق کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرتے تھے۔

اللہ جس کی بہتری چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے

حُمَید بن عبدا لرحمٰن نے کہا۔ میں نے حضرت معاویہؓ کو تقریر کرتے سناکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ اللہ جس شخص کی بہتری چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ ہی دیتا ہے اور ہمیشہ یہ امت اللہ کے حکم پر قائم رہے گی۔اس کے مخالف اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر آجائے۔
اس میں تعلیم کی اصل غرض و غایت کی طرف اشارہ کیا کہ ایسی سمجھ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو انسان کے لئے ہر بھلائی کا موجب بنے اور وہ اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ سے نورِ عرفان حاصل ہو۔ اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ یُعْطِیْ سے یہی مراد ہے۔ لَنْ تَزَالَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اس سے یہ مراد ہے کہ ہمیشہ اس امت میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جن کو اللہ تعالیٰ خود سکھائے گا اور وہ امت کے لئے رہنما ہوں گے۔ کوئی زمانہ ایسے ربانی فقیہوں سے خالی نہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ سے نور پاکر اُمت کے اندر تجدید کرنے والے اور اس کو مخالفین کے بد اثرسے نجات دینے والے نہ ہوں گے۔جیسا کہ آیت لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ (النور:56) میں اس کا صریح وعدہ ہے۔

(تفصیل کے لئے دیکھئےتحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 123)

مسلمانوں پر علم کا حصول فرض ہے

حضرت انس ؓبن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے۔

(ابن ماجہ۔ کتاب السنّۃ باب فضل العلماء و الحثّ علیٰ طلب العلم)

نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشریف لائے تو دو گروہوں کو دیکھا جن میں سے ایک قرآن پڑھ رہا تھا اور دعائیں مانگ رہا تھا جبکہ دوسرا گروہ علم سیکھنے اور سکھانے میں مصروف تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔’’یہ سب نیکی پر ہیں۔ یہ قرآن پڑھ رہے ہیں اور اللہ سے دعائیں کررہے ہیں۔ پس وہ چاہے تو انہیں عطا کردے اور اگر چاہے تو روک دے۔ اور یہ علم سیکھ رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں اور یقینًا مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘ پھر آپ ﷺ مؤخرالذکر گروہ، جو علم سیکھنے سکھانے میں مصروف تھا، کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔‘‘

(ابن ماجہ۔ کتاب السنّۃ.باب فضل العلماء و الحثّ علیٰ طلب العلم)

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں سو رہا تھا ( اسی حالت میں ) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے (خوب اچھی طرح )پی لیا۔ حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ ) عمر بن الخطاب کو دے دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم۔

(بخاری کتاب العلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔‘‘

(ترمذی کتاب العلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”جو علم حاصل کرنے کے ارادہ سے کہیں جائے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان ( و ہموار ) کر دیتا ہے۔

(ترمذی کتاب العلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے نکلے تو وہ لوٹنے تک اللہ کی راہ میں(شمار) ہو گا۔

(ترمذی کتاب العلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔‘‘

(ترمذی کتاب العلم)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا۔اللہ اس شخص کو تروتازہ (اورخوش)رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی پھر اس نے اسے جیسا کچھ مجھ سے سنا تھا ہوبہو دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے لوگ جنہیں بات(حدیث)پہنچائی جائے پہنچانے والے سے کہیں زیادہ بات کو توجہ سے سننے اور محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں۔
ابو الدرداء رضی الله عنہ نے کہاکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔’’جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستہ پر چلے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اسے جنت کے راستہ پر لگا دیتا ہے۔ بیشک فرشتے طالب(علم)کی خوشی کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کے لیے آسمان و زمین کی ساری مخلوقات مغفرت طلب کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ پانی کے اندر کی مچھلیاں بھی۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر۔بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا۔بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لیے جس نے اس علم کو حاصل کر لیا اس نے( علم نبوی اور وراثت نبوی سے)پورا پورا حصہ لیا۔‘‘

(ترمذی کتاب العلم)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ’’حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔‘‘

(ترمذی کتاب العلم)

علم نافع کی دعا

عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ إِذَا صَلَّی الصُّبْحَ حِیْنَ یُسَلِّمُ: اللَّھُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقًا طَیِّبًا وَ عَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔ حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ دعا مانگا کرتے تھےکہ اے اللہ میں تجھ سے نفع بخش علم، طیّب رزق اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔

(سنن ابن ماجہ۔ کتاب إقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا۔ باب ما یقال بعد التسلیم۔ مسنداحمدمسند النساء حدیث ام سلمہ زوجِ النبی ﷺ)

عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ سَلُوا اللّٰہَ عِلْمًا نَافِعًا وَ تَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ ۔حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ سے نفع بخش علم کا سوال کرو اور اللہ کی پناہ مانگو اس علم سے جو نفع نہ دے۔

(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الدعا۔ باب ما تعوذ منہ رسول اللہ ﷺ)

انصررضا ۔کینیڈا

قسط 2

قسط 1 پڑھیں

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ قادیان کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 دسمبر2019