• 19 جون, 2024

اپنے جائزے لیں (قسط 15)

اپنے جائزے لیں
ازارشادات خطبات مسرور جلد 14۔ حصہ دوم
قسط 15

عاجزی کے حوالے سے عہدیداروں کو خاص طور پر اپنے جائزے لینے چاہئیں

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’عہدیداروں کو خاص طور پر اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ان میں عاجزی ہے یا نہیں۔ اور ہے تو کس حد تک ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنا زیادہ کوئی عاجزی اور خاکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اتنا ہی اسے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب البر والصلۃوالآداب باب استحباب العفو والتواضع حدیث 6487)

پس ہر عہدیدار کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خدمت کا موقع دیا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور اس احسان کی شکرگزاری اس میں مزید عاجزی اور انکساری کا پیدا ہونا ہے۔ اگر یہ عاجزی اور انکساری مزید پیدا نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے احسان کا شکر ادا نہیں ہوتا۔

بسا اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ عام حالات میں اگر ملیں تو بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ لوگوں سے بھی صحیح طریق سے مل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب کسی کا اپنے ماتحت یا عام آدمی سے اختلاف رائے ہو جائے تو فوراً ان کی افسرانہ رَگ جاگ جاتی ہے اور بڑے عہدیدار ہونے کا زعم اپنے ماتحت کے ساتھ متکبرانہ رویے کا اظہار کروا دیتا ہے۔ پس عاجزی یہ نہیں کہ جب تک کوئی جی حضوری کرتا رہے، کسی نے اختلاف نہیں کیا تو اس وقت تک عاجزی کا اظہار ہو۔ یہ بناوٹی عاجزی ہے۔ اصل حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب اختلاف رائے ہو یا ماتحت مرضی کے خلاف بات کر دے تو پھر انصاف پر قائم رہتے ہوئے اس رائے کا اچھی طرح جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے۔ پس اس عاجزی کے ساتھ بلند حوصلگی کا بھی اظہار ہو گا اور جب یہ ہو گا تو یہ عاجزی حقیقی عاجزی کہلائے گی۔

ہمیشہ عہدیدار کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم سامنے رکھنا چاہئے کہ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا (لقمان: 19) اور اپنے گال لوگوں کے سامنے غصہ سے مت پھلاؤ۔ (اپنا منہ نہ پھلاؤ غصہ سے) اور زمین میں تکبر سے مت چلو۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 15؍جولائی 2016ء صفحہ395)

نیکی میں کمی کے حوالے ہر انسان اپنا جائزہ لیتا رہے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’بعض دفعہ بعض لوگ بڑی فکر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہماری نیکی کی حالت ایک جیسی نہیں رہتی۔ بڑی فکر ہے یہ اس لحاظ سے بڑی اچھی بات ہے کہ انسان اپنا جائزہ لیتا رہے کہ یہ حالت جو مجھ میں نیکی کی کمی کی ہے یا نیکی میں جو شوق یا عبادات میں جو شوق پہلے تھا اس میں جو کمی ہے اس کا یہ جائزہ لیتا رہے کہ یہ کیوں ہوئی اور یہ فکر ہو کہ زیادہ دیر نہ رہے اور اس کے علاج کی فکر کرے۔ تو بہرحال یہ بڑی اچھی بات ہے۔ لیکن بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہ کوئی برائی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ نیکی اور کم نیکی کی جو حالت ہے وہ آتی جاتی رہتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک شخص آیا۔ آپؐ کے ایک صحابیؓ آئے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہؐ! میں تو منافق ہوں۔ میں جب آپؐ کے پاس مجلس میں بیٹھتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے اور جب آپؐ کی مجلس سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں تو میری حالت اور ہوتی ہے۔ یعنی نیکی کی اور دلی پاکیزگی کی حالت وہ نہیں رہتی جو آپؐ کی صحبت میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی تو مومن کی علامت ہے۔ تم منافق نہیں ہو۔

(ماخوذ از سنن الترمذی ابواب القیامۃ والرقائق باب منہ حدیث 2514)

تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا جو اثر ہے ظاہر ہے آپ کی قوت قدسی اور آپ کی صحبت نے وہ اثر تو ڈالنا تھا اور ڈالا کہ آپ کے پاس بیٹھنے والے جو پاک دل ہو کر آ کر بیٹھتے تھے، کچھ سیکھنے کے لئے بیٹھتے تھے، اللہ تعالیٰ سے تعلق کے درجے بلند کرنے کے لئے بیٹھتے تھے ان پر اثر ہوتا تھا۔ اور پھر باہر جا کر اس میں کمی بھی ہوتی تھی۔ لیکن بہرحال ان صحابیؓ کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف تھا۔ اخلاص تھا۔ اس لئے ان کو فکر پیدا ہوئی کہ نیکی میں کمی کی حالت کہیں لمبی نہ ہوتی چلی جائے اور ہوتے ہوتے مجھے دین سے دور نہ کر دے۔ میرے اندر کوئی منافقت نہ پیدا ہو جائے۔ یہ سوچ تھی صحابہؓ کی اور جب یہ احساس ہوتا ہے تو پھر انسان دعا اور استغفار سے اپنی حالت بہتر کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 22؍جولائی 2016ء صفحہ404)

حضرت مسیح موعودؓ کے معیار کے مطابق
کمزوریوں کا جائزہ لیتے رہیں

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری پردہ پوشی فرمائی ہوئی ہے اور ہماری غلطیاں ابھر کر غیروں کے سامنے نہیں آتیں ورنہ اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو ہمیں پتا لگے گا کہ کتنی کتنی غلطیاں ہیں اور ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معیار کے مطابق کتنی کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور یہ کمزوریاں جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام کو بدنام کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہماری طرف منسوب ہو کر ہمیں بدنام نہ کرو۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد1 صفحہ146)

اگر ہماری عبادتوں کے معیار اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ اگر ہمارے اخلاق اچھے نہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ اگر ہم لغویات میں گرفتار ہیں تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن رہے ہوں گے۔ پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم احمدیوں پر ہے اور ہمیں اپنے جائزے لیتے رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 2؍ستمبر 2016ء صفحہ476)

جلسہ سالانہ کی انتظامیہ کو اپنے جائزے لینے چاہئیں۔ خامیوں اور کمیوں کو تنقیدی نظر سے دیکھنا چاہئے
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ کی انتظامیہ کو نصائح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’انتظامیہ کو اپنے جائزے لینے چاہئیں۔ خامیوں اور کمیوں کو تنقیدی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ ان کو تلاش کریں کہ کہاں کہاں ہماری کمزوریاں تھیں اور پھر جو کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ لال کتاب بنائیں جس میں غلطیوں کا اندراج ہو۔ اس میں درج کریں اور آئندہ انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح ہمارے نظام میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ افسر جلسہ سالانہ کا کام ہے کہ اپنے تمام شعبہ جات کی بعد میں میٹنگ کریں اور انہیں کہیں کہ اپنے اپنے شعبہ کی کمیاں نوٹ کر کے لائیں۔ جہاں جہاں ان کو کوئی سقم نظر آئے وہ نوٹ کر کے لائیں تا کہ آپس کے مشورے سے ان کا بہتر حل نکالا جائے۔ آئندہ سال بہتر انتظام ہو۔ اور اگر لوگوں کی طرف سے کوئی اصلاح طلب یا قابل توجہ امر سامنے آئے تو فوراً کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شکایت کو دور کرنے کے لئے آئندہ مضبوط پلاننگ ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بھی سب کو توفیق عطافرمائے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 9؍ستمبر 2016ء صفحہ490)

تمام شاملین جلسہ اور سننے والے بھی اپنے جائزے لیں کہ جلسہ پر جو سنا ہے اسے ابھی تک اپنایا ہوا ہے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’تمام شاملین جلسہ اور سننے والے بھی اپنے جائزے لیں کہ کیا ہم نے جلسہ پر جو سنا ہے اسے ابھی تک اپنایا ہوا ہے؟ زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اور یہ بھی جائزے لیں کہ کس طرح ہم نے نیک باتوں کو ہمیشہ اپنائے رکھنا ہے اور اس کے لئے کوشش کرنی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی شکر گزاری عارضی اور وقتی شکرگزاری نہیں۔

پس اس چیز کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور یہی بات ہے جس سے پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کو مزید بڑھاتا چلا جاتا ہے اور ان سے نوازتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں پر عمل کرنے کی ہر احمدی کو توفیق دے جو حقیقت میں خداتعالیٰ کو پہنچاننے والے اور اس سے تعلق جوڑنے والے ہیں۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 14؍اکتوبر 2016ء صفحہ554)

ایک مومن اپنے حالات کا ایک جائزہ لے۔ روزانہ اپنی ڈائری لکھے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
(حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں) ’’ایک مومن کو بھی چاہئے کہ اپنے حالات کا ایک جائزہ لے۔ روزانہ اپنی ڈائری لکھے۔ دیکھے کیا میں نے اچھے کام کئے۔ کیا میں نے برے کام کئے۔ فرمایا کہ انسان کو بھی حالات کا ایک روزنامچہ تیار کرنا چاہئے ’’اور اس میں غور کرنا چاہئے۔‘‘ صرف لکھ نہیں لینا بلکہ اس پہ غور کرنا چاہئے ’’کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔‘‘ انسان کا غور کرنا یہ ہے کہ ہم نیکی میں کس حد تک بڑھے ہیں۔ کل جہاں تھے اس سے آگے قدم رکھا ہے کہ نہیں رکھا۔ فرمایا کہ ’’انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔ جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔‘‘ اسی بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہماری نیکی جو کل تھی وہ آج بھی قائم ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا قدم کل کی نسبت آج نیکی میں بڑھے۔ اگر نہیں تو سمجھو تم فائدہ نہیں اٹھا رہے، نقصان اٹھا رہے ہو، گھاٹے میں جا رہے ہو۔ فرمایا کہ ’’انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد10 صفحہ137-138)‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 4؍نومبر 2016ء صفحہ590)

دنیا کے فساد اور فتنوں اور افراتفری کی وجہ
دولت کی محبت اور ہوس ہے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مال و دولت ایسی چیز ہے جس سے انسان بہت محبت کرتا ہے۔ آج اگر ہم جائزہ لیں تو دنیا کے فساد اور فتنوں اور افراتفری کی وجہ دولت کی محبت اور ہوس ہے۔ پھر دنیا دار کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ اگر اس کے پاس بہت سی دولت آگئی ہے تو اسے خرچ کس طرح کرنا ہے۔ مغربی ممالک میں جو ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں بیشک ان میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی ہیں لیکن ان کے اخراجات کیا ہیں۔ یہاں خرچ کرنے کے لیے ان کے پاس جو چیزیں ہیں casino ہیں وہاں جا کر یہ عیاشیوں میں خرچ کرتے ہیں۔ جوؤں پہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ بلکہ مسلمان ممالک کا بھی یہ حال ہے، مسلمانوں کا بھی کہ وہ لوگ بھی یہاں آکر یہ عیاشیاں کرتے اور خرچ کرتے ہیں بلکہ ان کے اپنے ممالک میں ایسی جگہیں ہیں جہاں کھلے خرچ کیے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک رسالے میں ایک آئس کریم کا اشتہار دیکھا جو دبئی کے ہوٹل کا اشتہار تھا جس کے ایک کپ کی، جس میں دو یا تین سکوپ تھے، اس کی قیمت ساڑھے آٹھ سو ڈالر تھی کہ اس میں فلاں جگہ کا زعفران استعمال ہوا ہے اور فلاں جگہ کی فلاں چیز استعمال ہوئی ہے اور اس پہ سونے کا ورق چڑھایا گیا ہے۔ ساڑھے آٹھ سو ڈالر میں ایک غریب ملک کے ایک پورے خاندان کا بہت اعلیٰ رنگ میں گزارہ ہوسکتا ہے لیکن یہ لوگ ایک کپ آئس کریم کھانے میں لگا دیتے ہیں۔ تو جن کے پاس پیسہ بے انتہا ہو ان کو پتا ہی نہیں کہ خرچ کس طرح کرنا ہے اور کس طرح اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ خرچ تو بیشک یہ لوگ کرتے ہیں لیکن اپنی عیاشیوں کی تسکین کے لیے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور نیکیوں کے لیے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 11؍نومبر 2016ء صفحہ594)

صدران اور ان کی عاملہ کے ممبران کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’صدران اور ان کی عاملہ کے ممبران بھی شامل ہیں جن کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ اور یہ صرف کینیڈا کی بات نہیں ہے، جرمنی سے بھی اور یہاں بھی اور دوسرے بعض ممالک میں بھی یہی شکایتیں ہیں۔ پس ہر جگہ اپنے رویّوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہ کر کے نہ صرف امانت اور عہدوں کا خیال نہیں رکھ رہے بلکہ خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ خدمت کر کے ثواب لینے کی بجائے ناانصافیاں کر کے یا متکبرانہ رویّے دکھا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والے بن جاتے ہیں۔

پس جہاں غلطیاں ہوتی ہیں وہاں غلطیوں کو چھپانے کے لئے عذر لنگ تلاش کرنے کی بجائے، غلط قسم کے عذر تلاش کرنے کی بجائے استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس ہمارے عہدیداروں کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں؟ اپنے کام سے بھی انصاف کر رہے ہیں اور جن سے واسطہ پڑ رہا ہے ان سے بھی انصاف کر رہے ہیں؟ صرف صدر ہونا یا سیکرٹری ہونا یا امیر ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ عہدے نہ کسی کی بخشش کے سامان کرنے والے ہیں، نہ ہی اللہ تعالیٰ پر اور اس کی جماعت پر کوئی احسان ہے۔ اگر یہ اپنی امانتوں اور عہدوں کے اس طرح حق ادا نہیں کر رہے جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور خالص ہو کر ادا نہیں کر رہے تو کوئی فائدہ نہیں۔ پس ہر فیصلہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر ایک عہدیدار کو کام کرنا چاہئے۔ اگر کوئی معاملہ سامنے آئے جس کے بارے میں پہلے غلط فیصلہ ہو چکا ہے تو جیسا کہ میں نے کہا اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان فیصلوں کو درست کریں۔ اپنے اخلاق کو بھی درست کریں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھی یاد رکھیں کہ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ: 84) کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور ملاطفت سے بات کرو، اعلیٰ اخلاق سے بات کرو۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں عہدیداروں کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ اگر کینیڈا کی مثال مَیں نے دی ہے یا اس سے خیال آیا تو اس لئے کہ وہاں لوگوں میں، غیروں میں جماعت زیادہ جانی جاتی ہے اور اب میرے دورے کے بعد مزید تعارف بڑھا ہے اور ہم لوگوں کی نظر میں، غیروں کی نظر میں زیادہ ہیں۔ پس اس لحاظ سے ہمیں ہر معاملے میں اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ہر عہدیدار خاص طور پر اور ہر احمدی عموماً دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل ہونا چاہئے۔ جہاں دنیا میں فتنے فساد اور افراتفری اور حقوق غصب کرنے کے نمونے نظر آتے ہیں وہاں جماعت میں انصاف اور حقوق کی ادائیگی کے نمونے نظر آنے چاہئیں۔ اس تعارف سے دنیا والے دیکھیں گے کہ جماعت کس طرح کی ہے۔ ہر فرد جو ہے وہ ایک نمونہ ہے۔

پس ہر احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ذمہ داری صرف عہدیداروں کی ہی نہیں ہے، ہر احمدی بھی ذمہ دار ہے۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کے تعلقات میں مثالی نمونے قائم کریں۔ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ اپنے اخلاق کو اعلیٰ معیار تک پہنچائیں۔ ایک دوسرے سے معاملات میں کسی بھی قسم کی طرفداری سے اپنے آپ کو مکمل طور پر پاک کریں۔ کسی بھی طرف ان کا جھکاؤ نہ ہو۔ احمدی کی گواہی اور بیان اپنے انصاف اور سچائی کے لحاظ سے ایک مثال بن جائے اور دنیا یہ کہے کہ اگر احمدی نے گواہی دی ہے تو پھر اسے چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ گواہی انصاف کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی ہے۔ اگر ہم یہ کر لیں تو ہم اپنی تقریروں میں، اپنی باتوں میں، اپنی تبلیغ میں سچے ہیں ورنہ پھر جیسے دوسرے ویسے ہی ہم۔

ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے اپنے عہد بیعت میں تمام قسم کی برائیوں سے بچنے کا عہد کیا ہے اور عہد پر توجہ نہ دینا اور جان بوجھ کر اس پر عمل نہ کرنا خیانت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک حقیقی مومن کی نشانی بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔

(مسند احمد بن حنبل جلد3 صفحہ320مسند ابی ہریرہؓ حدیث 8577
مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

پھر ایک حدیث میں آپؐ نے فرمایا جو عہدیداروں کو بھی سامنے رکھنی چاہئے اور ہر احمدی کو بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین امور کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔ خدا تعالیٰ کے لئے کام میں خلوص نیت۔ دوسرے ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی۔ اور تیسرے جماعت مسلمین کے ساتھ مل کر رہنا۔ (سنن الترمذی کتاب العلم باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع حدیث 2658)‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 25؍نومبر 2016ء صفحہ627-629)

اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ
کیا ہمارے تقویٰ کے معیار اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آئے

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہمیں پہلے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اگر ہمارے تقوٰی کے معیار اتنے بلند ہو چکے ہیں کہ جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا نور نظر آئے اور ہماری دعائیں گدازش کی اُن حدود کو چھو رہی ہیں جو ایک صحیح دعا کرنے والے کے لئے چاہئیں اور جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو پھر ہمیں اس بات پہ یقین ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت قریب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمارے لئے ملک بھی بنائے گا اور ہمارے لئے زمینیں بھی ہموار کرے گا۔ ان شاء اللّٰہ۔ اور اگر اس سے ہٹ کر ہم کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا چاہیں گے تو کچھ نہیں ملے گا۔ ہمارے سامنے ان تنظیموں کی مثالیں ہیں جو اسلام کے نام پر اور بے شمار وسائل کے ساتھ ملینز بلینز ڈالرز اور پاؤنڈ خرچ کر کے اسلامی حکومتیں قائم کرنا چاہتی ہیں لیکن سوائے فساد ظلم بربریت کے انہیں کچھ نہیں ملا۔ عارضی قبضے بھی ہوئے تو بھی ہاتھ سے نکل گئے۔ اسلام کو بدنام کرنے والے تو یہ کہلاتے ہیں اور دنیا میں اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ اسلام کی خدمت کرنے والے ان کو کوئی نہیں کہتا۔ اسلام کی خدمت اور اسلام کی اشاعت اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے اور آپ کی جماعت کے ذریعہ سے مقدر ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس فرستادے کے نقش قدم پر چلیں ورنہ دنیاوی لحاظ سے ہم جتنی کوشش کر لیں نہ ہمارے پاس طاقت ہے نہ وسائل ہیں کہ ہم کچھ حاصل کریں۔ لیکن اگر ہم تقوٰی پیدا کر لیں گے، اگر ہم اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کر لیں گے، اگر ہم اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچانے والے ہوں گے تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے حوالے سے فرمایا ہے کہ ہمیں وہ نور اور طاقتیں عطا ہوں گی جس کا کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مقابلہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ (الحجرات: 14) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ تو کیا اللہ تعالیٰ غلط کہتا ہے؟ ایک طرف تو وہ متقی کو معزز کہے اور دوسری طرف دنیا والوں کے سامنے انہیں ذلیل کر کے چھوڑ دے۔ یقیناً نہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو دنیا داروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بیان فرمایا ہے مگر کیا ہر موقع پر دشمن خود خائب و خاسر نہیں ہوا۔ کیا ہر ایک جو جماعت کی ترقی میں روک ڈالنے کے لئے کھڑا ہوا یا ہر روک جو جماعت کی ترقی میں ڈالی گئی اس سے جماعت مزید پھیلی اور پھولی نہیں؟ اندرونی حربے بھی مخالفین نے آزمائے اور بیرونی حملے بھی لیکن جماعت ترقی کی شاہراہوں پر قدم مارتے ہوئے آج دو سو نو (209) ممالک میں نفوذ کر چکی ہے۔ اگر ایک جگہ سے دباتے ہیں تو دس دوسری جگہوں میں پہلے سے بڑھ کر پھیلنے کا اللہ تعالیٰ سامان اور موقع عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ میں ایک عام شخص کو جو تقوٰی میں بڑھا ہوا ہے بغیر عزت دینے کے نہیں چھوڑتا تو کیا جس شخص کو خود خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اور گزشتہ سوا سو سال سے ہم جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات دیکھ رہے ہیں آج اللہ تعالیٰ اس کی جماعت کو باقی وعدے پورے کئے بغیر چھوڑ دے گا بغیر عزت کے چھوڑ دے گا کبھی یہ نہیں ہو سکتا لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ثبات قدم اور مستقل مزاجی سے ملے گا۔ یہ شرط ہے۔ اگر ہم مستقل مزاجی سے اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑے رہیں گے تو ہم دشمن کی خاک اڑتے بھی ان شاء اللّٰہ دیکھیں گے۔‘‘

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 23؍دسمبر 2016ء صفحہ676)

ہر کوئی اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی کے ایک سال میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا۔ کیا کھویا اور کیا پایا

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’ہر کوئی اپنا جائزہ لے اور غور کرے کہ اس کی زندگی میں ایک سال آیا اور گزر گیا۔ اس میں وہ ہمیں کیا دے کر گیا اور کیا لے کر گیا۔ ہم نے اس سال میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ ایک مومن نے دنیاوی لحاظ سے دیکھنا ہے کہ اس سال میں اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اس کی دنیاوی حالت میں کیا بہتری پیدا ہوئی یا دینی لحاظ سے اور روحانی لحاظ سے دیکھنا ہے کہ کیا کھویا اور کیا پایا اور اگر دینی اور روحانی لحاظ سے دیکھنا ہے تو کس معیار پر رکھ کر دیکھنا ہے تا کہ پتا چلے کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔

ہم احمدی خوش قسمت ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جنہوں نے ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعلیم کا نچوڑ یا خلاصہ نکال کر رکھ دیا اور ہمیں کہا کہ تم اس معیار کو سامنے رکھو تو تمہیں پتا چلے گا کہ تم نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا ہے یا پورا کرنے کی کوشش کی ہے یا نہیں؟ اس معیار کو سامنے رکھو گے تو صحیح مومن بن سکتے ہو۔ یہ شرائط ہیں ان پہ چلو گے تو صحیح طور پر اپنے ایمان کو پرکھ سکتے ہو۔ ہر احمدی سے آپ نے عہد بیعت لیا اور اس عہد بیعت میں شرائط بیعت ہمارے سامنے رکھ کر لائحہ عمل ہمیں دے دیا جس پر عمل اور اس عمل کا ہر روز ہر ہفتے ہر مہینے اور ہر سال ایک جائزہ لینے کی ہر احمدی سے امید اور توقع بھی کی۔

پس ہم سال کی آخری رات اور نئے سال کا آغاز اگر جائزے اور دعا سے کریں گے تو اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے۔ اور اگر ہم بھی ظاہری مبارکبادوں اور دنیاداری کی باتوں سے نئے سال کا آغاز کریں گے تو ہم نے کھویا تو بہت کچھ اور پایا کچھ نہیں یا بہت تھوڑا پایا۔ اگر کمزوریاں رہ گئی ہیں اور ہمارا جائزہ ہمیں تسلی نہیں دلا رہا تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا سال نہ ہو۔ بلکہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اٹھنے والا قدم ہو۔ ہمارا ہر دن اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے والا دن ہو۔ ہمارے دن اور رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں۔ وہ عہد جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا۔ بتوں اور سورج چاند کو پوجنے کا شرک نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شرک جو اعمال میں ریاء اور دکھاوے کا شرک ہے۔ وہ شرک جو مخفی خواہشات میں مبتلا ہونے کا شرک ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد7 صفحہ800-801۔ حدیث محمود بن لبید حدیث نمبر24036۔ عالم الکتب بیروت 1998ء)

کیا ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے صدقات، ہماری مالی قربانیاں، ہمارے خدمت خلق کے کام، ہمارا جماعت کے کاموں کے لئے وقت دینا، خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے غیر اللہ کو خوش کرنے یا دنیا دکھاوے کے لئے تو نہیں تھا۔ ہمارے دل کی چُھپی ہوئی خواہشات اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر کھڑی تو نہیں ہو گئی تھیں۔ اس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس طرح فرمائی ہے۔ فرمایا کہ:
’’توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہیں اور دل میں ہزاروں بُت جمع ہوں۔ بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پرایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بُت پرست ہے۔‘‘

(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد12 صفحہ349)

پس اس معیار کو سامنے رکھ کر جائزے کی ضرورت ہے۔ پھر اس کے بعد یہ سوال ہے کہ کیا ہمارا سال جھوٹ سے مکمل طور پر پاک ہو کر اور کامل سچائی پر قائم رہتے ہوئے گزرا ہے؟ یعنی ایسا موقع آنے پر جب سچائی کے اظہار سے اپنا نقصان ہو رہا ہو لیکن پھر بھی سچائی کو نہ چھوڑا جائے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کا معیار یہ مقرر فرمایا ہے کہ:
’’جب تک انسان اُن نفسانی اغراض سے علیحدہ نہ ہو جو راست گوئی سے روک دیتے ہیں تب تک حقیقی طور پر راست گو نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘ فرمایا ’’سچ کے بولنے کا بڑا بھاری محل اور موقع وہی ہے جس میں اپنی جان یا مال یا آبرو کا اندیشہ ہو۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ360)

(خطبات مسرور جلد14 خطبہ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 30؍دسمبر 2016ء صفحہ681-682)

(ابو مصور خان۔ رفیع ناصر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

دعا کا تحفہ