• 19 مئی, 2024

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی سادہ طرز زندگی اور عاجزی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی
سادہ طرز زندگی اور عاجزی

پچھلے دنوں ایک مشہور پاکستانی اینکر انیق ناجی صاحب کی ایک و یڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے احمدی افراد سے مخاطب ہوتے ہوئے بظاہر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور افراد جماعت کو پاکستان میں مظالم سے بچنے کے لئے کچھ مشورے بھی دینے کی کوشش کی ۔آخر پرانہوں نے بڑے واضح الفاظ میں جماعت کی لیڈرشپ پرکچھ اعتراضات بھی کئے۔ اس و یڈیو کی زیادہ تفصیل میں تو مَیں نہیں جاؤں گا لیکن جماعت احمدیہ کی لیڈرشپ پر لگائے جانے والے اعتراضات پر ضرور کچھ کہوں گا۔ نہ تو میں نے کبھی کوئی مضمون لکھا ہے اور نہ مجھے مضامین لکھنے آتے ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ قارئین کو یہ مضمون روایتی مضامین سے ذرا مختلف لگے۔ اسی طرح مجھے پاکستانی میڈیا سے زیادہ لگاؤ نہیں اور نہ ہی اسے بہت زیادہ فالو کرتا ہوں۔ لیکن جب یہ ویڈیو دیکھی تو اس میں احمدیت کی لیڈرشپ کے بارہ میں بیان کردہ باتوں کو سن کر سوچا کہ ان بے بنیاد اعتراضات کا جواب دیا جائے کیونکہ مجھ جیسے عام احمدی کا مشاہدہ ان اعتراضات سے بالکل مختلف ہے۔ انیق ناجی صاحب کا اعتراض بظاہر کوئی نیا اعتراض نہیں۔ کافی عرصہ سے احمدیہ لیڈرشپ کے بارہ میں لوگوں کے ذہنوں میں بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ گویا احمدیہ لیڈرشپ ایک پُر تکلف زندگی گزارتی ہے۔ ذیل میں پانچ باتوں کا ذکر کروں گا جس سے احمدیہ لیڈرشپ یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی سادہ طرز زندگی اور عاجزی ظاہر عیاں ہو گی۔

  1. حضور انور کی ذاتی آمدنی کا ذریعہ
  2. حضور انور کے کھانا تناول فرمانے کا معمول
  3. حضور انور کی رہائش
  4. حضور انور کو جماعتی پیسوں کا خیال
  5. حضور انور کی رہن سہن میں عاجزی کا اظہار

حضور انور کی ذاتی آمدنی کا ذریعہ

مکرم عابد خان صاحب جو کہ حضور انور کے پریس سیکریٹری ہیں اپنی 15 اکتوبر 2021ء کی ڈائری میں لکھتے ہیں:
حضور نے ایک احمدی کی طرف سے موصول ہونے والے خط کا ذکر کیا جس میں حضور کی ذاتی آمدنی کا ذریعہ دریافت کیا گیا تھا۔ میں یہ سن کر بہت پریشان ہوا کہ ایک احمدی اس قسم کے تجسس یا خدشات کو رکھ سکتا ہے۔ اگر معصومانہ تجسس سے پوچھا جائے تو بھی میری نظر میں کسی احمدی کو خلیفہ وقت سے ایسا سوال کرنا مناسب نہیں تھا۔ ذاتی طور پر میں نے سوچا کہ اس طرح کے سوال کے جواب کی ضرورت بھی نہیں، البتہ حضور کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور خواہش رکھتے ہیں کہ کسی بھی ایسے سوال یا غلط سوچ کا جو کسی احمدی کے ایمان کو ممکنہ طور پر کمزور کر سکتا ہو، جواب دیا جائے۔ اس طرح سوال کی ذاتی نوعیت کے باوجود حضور نے براہ راست سوال کا جواب اس احمدی کو بھیجا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:
’’میں نے اس احمدی کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پاس جو کچھ بھی ہے اس میں برکت دی ہے۔ میرے پاس پاکستان میں ایک فارم ہے جو کامیاب ثابت ہوا ہے اور اس سے ذاتی آمدنی کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے ذاتی ذرائع بھی ہیں۔ چونکہ میرا پس منظر زراعت اور کاشتکاری میں ہے، میں نے کچھ نئی زرعی تراکیب تیار کی ہیں جو میرے فارم پر استعمال ہوتی ہیں اور ان کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ حالانکہ سب سے بڑھ کر یہ اللہ کا فضل ہے۔‘‘

جوں جوں میں سنتا رہا، مجھے افسوس ہوتا رہا کہ ایک احمدی نے اس معاملے کے بارے میں پوچھا کیا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ گزشتہ ملاقات میں حضور نے مجھ سے کہا کہ جب وہ بیرون ملک سفر کرتے ہیں تو حضور کی محترم زوجہ محترمہ آپا جان کے سفری اخراجات وہ ذاتی طور پر ادا کرتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے حضور سے کہا تھا کہ خالہ صبوحی (حضور کی محترم اہلیہ) حضور کے سفر میں مسلسل جماعت کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، لجنہ کے ارکان سے ملاقاتیں، تقریبات میں شرکت اور بہت کچھ کرتی ہیں۔ حضور نے تسلیم کیا کہ یہ سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ وہ جماعت کا ایک پیسہ بھی غیر ضروری طور پر خرچ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے اس لیے انہوں نے اس طرح کے سفری اخراجات ذاتی طور پر ادا کرنے کو ترجیح دی۔‘‘

حضور انور کے کھانا کھانے کا معمول

عموماً ملک کے بڑے سربراہان یا دوسرے بڑے لیڈروں کے لئے سفر و حضر میں پُر تکلف کھانے تیار کئے جاتے ہیں۔ جتنی زیادہ ڈشیں تیار ہوں اور جتنا بڑا دسترخوان لگے اتنی بڑی شان اس سربراہ یا لیڈر کی جاتی ہے۔ اسی طرح بڑے بڑے لیڈر مہنگے اور مشہور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

خاکسار کی اہلیہ کی خالہ کو کافی عرصہ سے جرمنی کے دورہ جات کے دوران حضور انور کی مہمان نوازی کا موقع ملتا رہتا ہے۔ آپ بتاتی ہیں کہ حضور انور کا دسترخوان عام سوچ سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ حضور انور کی خوراک انتہائی سادہ اور کم ہوتی ہے۔ دو ڈشوں سے زیادہ تیار نہیں ہوتا۔ پلاؤ، ابلے چاول، دال، کدو، آلو گوشت جیسے عام کھانے ہوتے ہیں۔ حضور انور زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ پھلکا تناول فرماتے ہیں اور یہ پھلکا بھی ہمارے گھروں میں بنائی جانے والی عام روٹی سے آدھا ہوتا ہے۔ ناشتہ بھی بہت سادہ ہوتا ہے جس میں ایک آدھ پھلکا اور انڈا فرائی یا آلو کی بھُجیا وغیرہ ہوتی ہے اور میٹھے میں بھی صرف زردہ وغیرہ ہوتا ہے جو کہ حضور انور بہت کم استعمال فرماتے ہیں۔ کسی قسم کا پُر تکلف کھانا یا دسترخوان نہیں لگتا۔

اسی طرح حضور انور باقی لیڈروں کی طرح کسی بھی مشہور اور مہنگے ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضور انور ایدہ اللہ کا کھانے پینے کا اور زندگی گزارنے کا طرز دنیاوی لیڈروں اور سربراہان سے بالکل مختلف ہے۔

حضور انور کی رہائش

دنیاوی لیڈر جن کا مقصد دنیا میں اچھی بود و باش اختیار کرنا ہوتا ہے بڑے بڑے محلات میں رہتے ہیں اور آرام دہ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حضور انور کی رہائش 16 سال تک مسجد فضل لندن میں رہی اور 15 اپریل 2019ء کو حضور انور کی رہائش گاہ اسلام آباد ٹلفورڈ میں منتقل ہو ئی۔ اُسی سال مجھے اسلام آباد جانے اور ایک مجلس میں بیٹھنے کا موقع ملا جس میں منیر الدین شمس صاحب بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جس رہائش گاہ میں حضور انور مسجد فضل لندن میں 16 سال تک مقیم رہے وہ انہوں نے دیکھی ہوئی ہے۔ موصوف ذکر کرتے ہیں کہ وہ رہائش گاہ لندن کے عام چھوٹے اور تنگ فلیٹ کی طرح ہے۔ اس فلیٹ کا بیڈروم اتنا چھوٹا ہے کہ بیڈ پر صرف ایک طرف سے چڑھا جا سکتا ہے۔

ہر وہ شخص جس نے لندن کے تنگ اور چھوٹے فلیٹ دیکھیں ہوں گے، با خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ جگہ کتنی تنگ ہو گی۔ ما سوا اس کے یہ ایک طبعی امر ہے کہ جتنی زیادہ مصروفیت اور ذمہ داری کسی شخص پر ہو اتنا زیادہ اسے کھلی فضا اور آرام دہ سہولت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے قوی آرام کے بعد پھر توانائی حاصل کر سکیں اور تمام فرائض مستعدی سے سر انجام دئیے جا سکیں ۔سخت مصروفیت اور کروڑوں لوگوں کی سربراہی کے باوجود حضور انور نے اتنا لمبا عرصہ ایسی تنگ جگہ پر اپنی رہائش رکھی۔ یہ بات حضور انور ایدہ اللہ تعالی کی عاجزی اور سادہ طرز زندگی گزارنے پر دلیل کافی ہے۔

حضور انور کو جماعتی پیسوں کا خیال

غالباً دسمبر 2011ء کی بات ہے۔ میں جامعہ احمدیہ جرمنی میں درجہ اولیٰ کا طالب علم تھا۔ سردیوں کی تعطیلات میں مَیں نے دو طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ایک ہفتہ کے لئے یوکے جانے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کا پروگرام بنایا۔ ملاقات کے دوران مَیں نے موسم کی مناسبت سے گرم کپڑے کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ جیسا ہی حضور انور کے دفتر میں مَیں داخل ہوا تو اچانک شدید قسم کی ٹھنڈ محسوس ہوئی۔ ملاقات کے دوران تو اس بارہ میں زیادہ سوچنے کا موقع نہیں ملا لیکن جب تصویر بنانے کے لئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سامنے بلایا تو سردی کی شدت کی وجہ سے جسم تھوڑا سا کانپنا شروع ہوا۔ اس بات کو حضور انور نے بھی محسوس کیا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ ’’کیا تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے؟‘‘ اس پر مَیں نے جواب دیا کہ ’’جی حضور!‘‘

بہر حال ملاقات ختم ہوگئی۔ اس ملاقات کے بعد جس طرح سے باقی سفر میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے نظارے دیکھنے کو ملے، وہ داستان الگ ہے۔ لیکن ایک سوالیہ نشان میرے ذہن میں رہا کہ حضور انور کے دفتر میں اتنی سردی کیوں تھی؟ یہ راز کئی سالوں تک مجھ پر نہ کھلا یہاں تک کہ میں نے حضور انور کے پریس سیکریٹری مکرم عابد خان کی مئی اور جون 2015ء کی ڈائری پڑھی جس میں انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ انہوں نے خود حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو سردیوں میں اپنے دفتر میں گرم اوور کوٹ اور سکارف پہنے ہوئے دیکھا ہے۔ جب میں نے اس بات کو پڑھا تو فوراً مجھے اپنی ملاقات یاد آ گئی اور اس ملاقات کے دوران ٹھنڈ کی وجہ بھی معلوم ہو گئی۔ حضور انور کا ہیٹر کی سہولت موجود ہونے کے باوجود جماعتی خرچ کا خیال رکھنا عاجزی کی انتہا کی ایک ایسی اعلیٰ مثال ہے جس تک کوئی اور لیڈر کبھی نہیں پہنچ سکتا۔

حضور انور کی عاجزی کا ایک واقعہ

حضور انور کی عاجزی کی انتہا کا ایک اور واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جس نے ذاتی طور پر مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کا ذکر مکرم عابد خان نے اپنی اپریل 2017ء کی ڈائری میں کیا ہے۔ حضور انور جرمنی کے دورہ پر تھے اور رہائش معمول کے مطابق بیت السبوح فرینکفرٹ میں تھی۔ کچھ دنوں بعد چند مساجد کے افتتاح کی غرض سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی رہائش بیت السبوح فرینکفرٹ سے باہر رہی۔ جب حضور انور واپس بیت السبوح فرینکفرٹ تشریف لائے تو کچھ دن گزر جانے کے بعد اس بات کا علم ہوا کہ جب حضور انور بیت السبوح فرینکفرٹ واپس تشریف لائے تو آپ کی رہائش گاہ میں گرم پانی کی سہولت مہیا نہیں تھی اور کچھ وقت حضور انور کے زیر استعمال ٹھنڈا پانی ہی رہا۔ آخر کچھ وقت یا شاید ایک دن کے بعد جا کر حضور انور نے اس کو ٹھیک کرنے کا فرمایا۔

دنیاوی بادشاہوں اور لیڈروں کے آرام میں جب ذرا سی بھی کمی آتی ہے تو وہ فوراً طیش میں آجاتے ہیں اور اپنے آرام میں کسی قسم کا بھی خلل واقع نہیں ہونے دینا چاہتے ۔ لیکن قربان جائیں حضور انور کی ذاتِ اقدس پر کہ کسی قسم کا شکوہ اور شکایت آپ نے نہیں کی اور کئی دنوں تک ٹھنڈا پانی ہی استعمال کرتے رہے۔

ان مختصر سی مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی لیڈرشپ جیسی سادگی اور عاجزی کسی اور لیڈرشپ میں نہ ملتی ہے اور نہ ہی آئندہ ملے گی۔

ایک اور اعتراض کا جواب

آخر پر انیق ناجی صاحب کے ایک اور اعتراض پر بھی کچھ کہنا چاہوں گا۔ انیق ناجی صاحب نے احمدیہ لیڈرشپ کے مرسڈیز کار استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ اس کے جواب میں تین باتیں مختصراً ذکر کرنا چاہوں گا۔

1. ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے والد کو جو کہ اس کے لئے قابل عزت اور احترام ہوتا ہے ہر آرام دہ سہولت میسر ہو اور وہ اسے اچھی سے اچھی گاڑی استعمال میں دے۔ ہر احمدی، خلیفۃ المسیح سے اپنے والد سے کہیں زیادہ محبت اور پیار رکھتا ہے اور اپنے تمام عزیزوں اور پیاروں سے زیادہ ترجیح دینے کے لئے ہر دم تیار رہتا ہے اور یہ زیادہ پسند کرتا ہے کہ اگر اس کے والد یا کسی اور عزیز کو کوئی تنگی اٹھانی پڑے تو پڑے لیکن خلیفہ وقت کو کسی قسم کی تنگی یا تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔

2. اسی طرح حضورانور ،اسلام کی امن پسند تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لئے بڑے بڑے ایوانوں میں تشریف لے جاتے ہیں اور بڑے بڑے ملکی سربراہان سے ملتے ہیں۔ ہر احمدی کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح کی حیثیت دنیا کے سب لیڈروں اور سربراہوں سے بڑھ کر ہے۔ کوئی احمدی یہ خواہش نہیں کرے گا کہ ان دنیاوی سربراہان کے سامنے ان کا پیارا کسی بھی طرح سے بے شک ظاہری اعتبار سے ہی سہی کم نظر آئے۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ حضور کی جو مرسیڈیز گاڑی ہے وہ جماعت نے نہیں خریدی ہوئی بلکہ ایک مخلص فیملی خلافت رابعہ کے زمانہ سے حضور کی خدمت میں پیش کرتی چلی آ رہی ہے۔ اللہ تعالی انہیں اس کی بہترین جزاء عطا فرمائے۔

3. اسی طرح مغربی ممالک کے سربراہان کو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ عموماً حضور ﷺ کی حدیث کے مطابق قوم کے سردار ہونے کے باوجود قوم کے خادم ہوتے ہیں ۔ اس کے باوجود مغربی عوام اپنے سربراہان کی کسی قسم کی فضول خرچی برداشت نہیں کرتی۔ لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہی عوام اس بات پر کبھی انگلی نہیں اٹھاتی کہ ان کے لیڈر کیوں مرسڈیز یا دوسری بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کیونکہ جہاں بھی وہ جاتے ہیں وہ ملک کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے ملکی مفاد کی خاطر ان گاڑیوں کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سفر اختیار فرماتے ہیں تو وہ کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں ہوتا بلکہ صرف للٰہی اور اسلام کی تبلیغ کی خاطر ہوتا ہے۔ جہاں بھی حضور پُر نور سفر کے لئے تشریف لے جاتے ہیں وہاں پر لوگوں کو اسلام کی امن پسند تعلیم سے متعارف کرواتے ہیں اور اسلام کے خلاف لگائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہیں۔

یہاں پر سب خلافت پر اعتراضات لگانے والوں سے بس ایک سوال ہے۔ آپ نے آج تک اسلام کی خدمت کے لئے کونسی محنت کی ہے؟ کس ایوان میں جا کر اسلام کی امن پسند تعلیم پیش کی ہے؟ کتنے غیر مسلموں سے مل کر ان کو اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کی ہے؟ کتنے غیر مسلم صحافیوں سے گفتگو کی ہے؟ کتنے غیر مسلموں کے تحفظات کو دور کیا ہے اور کتنے لوگوں تک اسلام کی خوبصورت تعلیم پہنچائی ہے؟ آج کل کے تمام نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں اور خلافت احمدیہ پر اعتراضات لگانے والوں نے مل کر بھی اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم اتنی دور تک نہیں پہنچائی جتنی صرف خلافت احمدیہ نے پہنچائی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی سادگی اور عاجزی تو مجھ جیسے دور رہنے والے ایک عام احمدی کو بھی نظر آتی ہے۔ افسوس کہ دنیا دار اس حسن لا زوال کو شناخت نہیں کر پاتے۔ حقیقت میں ایسے لوگ تو ظاہر میں جتنے خوبصورت نظر آتے ہیں اس سے کہیں زیادہ باطن میں خوبصورت ہوتے ہیں اور یہی اولیاء اللہ کی خاصیت ہوتی ہے۔ انہیں دنیا اور دنیاوی آسائش و آرام سے کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ ان کا اوڑھنا بچھونا صرف خدا ہوتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباس پر میں یہ مضمون ختم کرتا ہوں۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔ اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔ اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنا لیتا ہے۔ تب وہ اپنی روح سے نہیں بلکہ خدا کی روح سے دیکھتا اور خدا کی رو ح سے سنتا اور خدا کی روح سے بولتا اور خدا کی روح سے چلتا اور خدا کی روح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ 216)

(حسیب احمد گھمن۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

تبرکات کی حقیقت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 فروری 2022