• 15 اپریل, 2024

ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ دکھانا چاہئے

• ’’جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برا نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔ برے نمونے سے اور وں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونے سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ مَیں اگرچہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) خداتعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روزنامچہ بناتا ہے۔ پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روزنامچہ تیار کرنا چاہئے اور اس میں غور کرنا چاہئے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھاہے…انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جا تا بلکہ اُس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ455 جدید ایڈیشن)

• ’’خداتعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ﴿۵۷﴾ (الذاریات: 57) جو اس اصل غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکرمیں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خرید لوں، فلاں مکان بنا لوں، فلاں جائیداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خداتعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔ انسان کے دل میں خداتعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے نزدیک وہ ایک قابل قدرشے ہو جاوے گا۔پس انسان کی سعادت اسی میں ہے کہ وہ اس کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور تعلق بنائے رکھے۔ سب عبادتوں کا مرکز دل ہے۔ اگر عبادت تو بجا لاتا ہے مگر دل خداکی طرف رجوع نہیں ہے تو عبادت کیا کام آوے گی‘‘۔ فرمایا: ’’اب دیکھو! ہزاروں مساجد ہیں مگر سوائے اس کے کہ ان میں رسمی عبادت ہو اور کیا ہے؟‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ222 جدید ایڈیشن)

پچھلا پڑھیں

لجنہ اماءاللہ پریری ریجن کے تحت سالانہ تعلیم و تربیت کیمپ2022ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 فروری 2023