• 18 مئی, 2024

شاہ تاج احمدیہ ہائی سکول لائبیریا

گریجویش تقریب
شاہ تاج احمدیہ ہائی سکول لائبیریا

1996ء میں حضرت خلیفةالمسیح الرابع رحمه الله تعالیٰ کی منظوری سے مکرم محمد اکرم باجوہ صاحب سابق امیر و مشنری انچارج لائبیریا نے شاہ تاج احمدیہ ایلیمنٹری و جونیئر ہائی سکول کا آغاز کرایہ کی ایک عمارت میں کیا جو دارالحکومت منروویا کے مرکزی علاقے میں تھی۔ سکول کی یہ عمارت منروویا کی دو معروف سڑکوں Camp Johnson Road اور UN Drive کے سنگم پر واقع تھی۔

سکول شروع کرنے کیلئے تمام اخراجات شاہنواز فیملی نے ادا کئے اور یہ رقم آئندہ تین سے چار سال تک سکول کے اخراجات کیلئے کافی تھی۔حضور انور رحمه الله تعالیٰ نے ازراہ شفقت سکول کیلئے ’’شاہ تاج احمدیہ سکول‘‘ کا نام عطا فرمایا جو بعد ازاں بفضل خدا سینئر ہائی سکول بن گیا۔اس سکول کے پہلے پرنسپل مکرم منصور احمد ناصر صاحب ہیں جو 2؍مئی 1997ء سے تاحال خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

سکول کی موجودہ بلڈنگ Tweh Farm پر موجود ہے جس میں سکول کی عمارت کے ساتھ ساتھ پرنسپل و نائب پرنسپل، مبلغ سلسلہ مونٹسیرراڈو کی رہائش کے علاوہ ایک خوبصورت تین منزلہ مسجد بھی اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

2؍ اکتوبر 2022ء کو شاہ تاج احمدیہ ہائی سکول کی نویں گریجویشن تقریب منعقد کی گئی۔جس میں مکرم امیرومشنری انچارج لائبیریا،ممبران مجلس نیشنل عاملہ، واقفین زندگی،اساتذہ، طلبا اور والدین کے ساتھ ساتھ دیگرمعزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔

تقریباً ساڑھے بارہ بجےتمام مہمانان کرام کے ہال میں تشریف لانے کے بعد قصیدہ بردہ شریف کی پس پردہ آواز میں امسال گریجویشن کرنے والے طلبا ہال میں داخل ہوئے۔تمام معزز مہمانوں نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔جس کے بعد مکرم نوید احمد عادل صاحب امیر و مشنری انچارج لائبیریا کی زیر صدرات تقریب کا باقاعدہ آغاز حسب روایت تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا جس کی سعادت مکرم حافظ حسین احمد سائیوں صاحب کو حاصل ہوئی۔پھر نائب پرنسپل مکرم Lawrance Momo صاحب نے سکول کی مختصر تاریخ معزز مہمانوں کے سامنے پیش کی۔جس کے بعد پرنسپل مکرم منصور احمد ناصر صاحب نے ہائی کلاس کا نتیجہ پیش کیا جو گورنمنٹ کے معیار کے مطابق سو فیصد رہا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ

بعد ازاں مکرم Victor Roberts صاحب نے گریجویٹ طلبا کی نمائندگی کرتے ہوئے مکرم پرنسپل صاحب، اساتذہ کرام، سکول انتظامیہ اور اپنے ساتھی طلبا کا شکریہ ادا کرنے کے بعد سکول سے محبت اور وفاداری کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نئی آنے والی کلاس کو خوش آمدید کہتے ہوئے چند نصائح کیں اور کامیابی کی علامتی چابی مکرم حافظ حسین احمد صاحب کے سپرد کی۔

مکرم Amb. Clarence H. Cole صاحب (Executive Secretary in the House of Representatives) کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔آپ نے اپنے خطاب میں طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد ایک طالب علم کے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعداکثر طلبا اپنی تعلیم کوجاری نہیں رکھتے اور چھوٹے چھوٹے کاروبارکرنے کو کافی سمجھ بیٹھتے ہیں اور اپنی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے جو ان کے اور ان کی فیملی کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے اور ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہے جس کی وجہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمیں ماہرین نہیں مل پاتے۔اس لئے ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد بھی اپنی تعلیم کو مزید جاری رکھیں اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔والدین کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ والدین اور بچوں کے باہمی تعلق میں کافی فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے مختلف قسم کی معاشرتی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور نتیجةً سکول سے دور ہوجاتے ہیں جس سے ہمارا ملکی و قومی نقصان ہوتا ہے۔اس لئے والدین کو روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزرانا چاہیے ان کی علمی کامیابیوں پر ان کی حوصلہ افرائی کرنی چاہئے ۔ اگر آپ نے ہائی سکول مکمل کیا ہے تو کوشش کریں آپ کا بچہ یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرئے اور یہ سلسلہ آگے چلنا چاہئے۔

اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے کامیابی حاصل کرنے والے طلبا میں اسناد تقسیم کیں ۔اسناد کی تقسیم کے بعد طلبا نے سکول ODE پیش کیا۔

Here at Ahmadiyya
Knowledge is gained
Here at Ahmadiyya the future is set
Here at Ahmadiyya education is sure
O-O We love Ahmadiyya
O-O We love Ahmadiyya
We the sons and daughters of this land
Seeking the education is our goal
and with dedication We’ll succeed
O-O We love Ahmadiyya
O-O We love Ahmadiyya
This is a gift from Allah the Almighty
Giving all the praises to Him above
Caring for children of this land
O-O We love Ahmadiyya
O-O We love Ahmadiyya

تقریب کے آخر پر تمام شرکاء نے یک زبان ہوکر قومی ترانہ پڑھا جس کے ساتھ ہی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

(رپورٹ: فرخ شبیر لودھی۔نمائندہ الفضل آن لائن لائبیریا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 فروری 2023

اگلا پڑھیں

قرآن، قرآن کے آئینہ میں