• 6 جولائی, 2020

تعارف سورۃ الانعام(چھٹی سورۃ)

(مدنی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 166 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن ملک غلام فرید صاحب ایڈیشن 2003ء

وقت ِنزول اور سیاق و سباق

یہ مکی دور میں نازل ہونے والی سورۃ ہے۔ اکثر روایات کے مطابق یہ سورۃ اکٹھی نازل ہوئی تھی بعض راویوں کے مطابق ستر ہزار فرشتے بطور محافظ کھڑے تھے جب اس سورۃ کا نزول ہو رہا تھا جو اس سورۃ کے اہم مضامین کی طرف اشارہ ہے۔ غالباً اس سورۃ کا عنوان اس کی آیات 137 تا 139 سے لیا گیا ہے جہاں جانوروں کی پرستش کی وجہ سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کے مضامین کو بیان کرنے کے لئے گزشتہ سورتوں سے مختلف طریق اپنایا گیا ہے اس سورۃ میں غیر بنی اسرائیلی مذاہب کی تردید کی گئی ہےاور زرتشت ازم کی تردید سے آغاز کیا گیا ہےجس میں دو خداؤں کا تصور پایا جاتا ہےیعنی نیکی اور بدی کا خدا۔ قرآن کریم نے اس عقیدہ کی یوں عقدہ کشائی فرمائی ہے کہ نیکی اور بدی دراصل ایک ہی سلسلہ کے دو کڑے ہیں اور ایک کے بغیر دوسرا نا مکمل ہے۔ اس لئے ان دونوں کا دو الگ الگ خداؤں کے ذریعہ وجود میں آنے کا تصور غلط ہے۔ روشنی اور اندھیرا بھی ایک ہی خدا کی تخلیق ہیں اور دو خداؤں کی مخلوق ہونے کی بجائے یہ توحید الہٰی کے لئے ایک زبردست دلیل ہے اور انسان کی تخلیق اور اس کو عطا کردہ خداداد طاقتوں اور استعدادوں کے عجیب تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

یہ سورۃ اس نہایت اہم موضوع پر روشنی ڈالتی ہے کہ برائی انسان کو عطا کردہ خدائی طاقتوں کے غلط استعمال سے پیدا ہوتی ہے اور یہ بھی کہ جب انسان ان استعدادوں کا درست استعمال ترک کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک نبی مبعوث فرماتا ہے تاکہ ان کے درست استعمال کی طرف توجہ مبذول کروائے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیاہے کہ کفار کو الہٰی عذاب ملنے میں ڈھیل ہونے کے باعث یہ بات انہیں زیادہ دلیر بنا دیتی ہے جبکہ یہ تاخیر محض خدا تعالیٰ کے رحم کے سبب سے ہوتی ہے۔ وہ اپنے نبی اور مومنوں کو ظلم و تعدی کا نشانہ بناتے ہیں اس خام خیالی میں کہ یوں وہ مومنوں کے ایمان میں کمزوری لاسکیں گےجبکہ شدید ترین مخالفت اور ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود مومنوں کے ایمان غیرمتزلزل رہتے ہیں۔ جبکہ خود کسی معمولی مصیبت پڑنے سے وہ اپنے مشرکانہ عقائد کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

مزید براں اس مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ دہریت کے عقائد پنپنے کی بنیادی وجہ حیات بعد الموت پر ایمان میں کمزوری ہے اسی طرح کافروں کا خدا سے تعلق قائم نہ کر سکنا بھی ایک وجہ ہے۔ یہ ایمان کی دوہری کمزوری انہیں سچائی تسلیم کرنے سے مانع رکھتی ہے۔ منکرین کی طرف سے کی جانے والی نبیوں کی مخالفت ہرگز غیر فطرتی نہ ہے کیونکہ خدا تک وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو روحانیت سے شغف رکھتے ہیں کیونکہ جو روحانی طور پر بہرہ ہو وہ خدا کی آواز کو نہیں سن سکتا۔ وہ پے در پے نشان دیکھتے ہیں اور طوطوں کی طرح رَٹ لگائے رکھتے ہیں کہ انہیں کوئی نشان نہیں دکھایا جا رہا۔ آنحضرت ﷺ کے مخالفوں نے بہت سے نشانات دیکھے مگر ان سے بہرہ مند نہ ہوئے ۔ اس لئے انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اب وہ بطور سزا نشان دیکھیں گے۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔ منکرین اپنی مرضی سے اور ہٹ دھرمی سے توبہ کا دروازہ اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں اور بہتانوں کے ذریعہ الہٰی پیغام سے منہ موڑلیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں سزا ملتی ہے۔

پھر یہ بتایا گیاہے کہ جو اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے دل سچائی کو قبول کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو بتایا گیا ہےکہ خدا کا خوف رکھنے والوں کو پیغام پہنچائیں۔ دوسروں کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے دل میں خدا کا خوف پیدا کریں پھر دلائل ان کے لئے نفع رساں ہوں گے۔ پھر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے روحانی ترقی کے لئے خاص طور پر کوشش کی جائے کیونکہ نبی کریم ﷺ فانی ہیں اور ایک دن فوت ہو جائیں گے اور مومنوں کی ایک جماعت رہ جائے گی جو اس الہٰی پیغام کی تشہیر اور تبلیغ کرے گی ۔

پھر منکرین کو بتایا گیا ہے کہ ان کا نبی کریم ﷺ کو قصور وار ٹھہرانا محض ایک حماقت ہے کیونکہ وہ ایک انذاری سزا بھگت چکے ہیں۔ انہیں بتایا گیاہے کہ گھمنڈ کرنے والے اور متکبر اور سچائی کو جھٹلانے والے کو سزا دینا یقینی طور پر خدا کا کام ہےوہ جیسے مناسب سمجھتا ہے ان کے مناسب حال انہیں سزا دیتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص جو آج سچائی کا دشمن ہے اور الہٰی سزا کا مستحق معلوم ہوتا ہےاپنے اندر ایسی حقیقی اور سچی تبدیلی پیدا کرلے اور الہٰی رحم کا مستحق بن جائے۔ اس لئے سزا کا وارد کرنا یا معاف کردینا یا موقوف کردینا خدا کا ہی کام ہے۔

بعد ازاں اس سورۃ میں متعدد خداؤں کو ماننے کے عقیدہ کا جھوٹا ہونا بیان کیا گیا ہے ان دلائل کی رو سے جو حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھائے ۔ پھر ان نعماء اور فضلوں کا ذکر ہے جو خدا نے آپؑ پراور آپؑ کی نسلوں پر کئے کیونکہ انہوں نے حق کو دنیا میں پھیلانے کے لئے حد درجہ کوشش کی۔ یہ سورۃ آگے چل کر اس موضو ع پر روشنی ڈالتی ہے کہ خدا کے فرستادے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ بارش کے پانی کی طرح یہ روحانی طور پر بنجر اور بے آب و گیاہ زمین کو روئیدگی اور تازگی بخشتی ہے اور جیساکہ خدا تک پہنچنا ناممکن ہے جب تک وہ خود کسی انسان پر اپنے تئیں ظاہر نہ کرے۔ یہ ضروری ہے کہ خدا کے رسول کچھ عرصہ کے بعد مبعوث ہوتے رہیں کیونکہ وہ خدا کا مظہر ہوا کرتے ہیں۔

پھر یہ بتایا گیا ہے کہ پختہ ایمان کے حصول کے لئے پوری رضا و رغبت کے ساتھ دل کی تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے جو لازم و ملزوم ہے۔ بغیر ایسی تبدیلی کے نشانات اور معجزات بھی کسی کام نہیں آتے۔ بعد ازاں اسلامی عقائد اور مشرکوں کی حرکات کایہ موازنہ پیش کیا گیا ہے کہ (اسلامی عقائد) دلائل اور انصاف کے ہر مطالبے کا تسلی بخش جواب دیتے ہیں جبکہ ان (مشرکانہ حرکات) کی کوئی دلیل پیش نہیں کی جاتی۔

اس سورۃ کے اختتام پر ہمیں بتایا گیاہے کہ اس قرآن کا نزول ایسی اقوام کو اٹھانے اور معزز قرار دینے کیلئے بھی ہے جن کی طرف کبھی بھی وحی و الہام نازل نہیں کیا گیاتھا تاکہ وہ اہلِ کتاب کے مدّمقابل کسی احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔ قرآن کریم کا پیغام صحفِ سابقہ کے مقابل پر، جملہ انسانیت کیلئے ہے اور یہ حقیقی اور مستقل امن کی راہ مختلف اقوام کے مابین اور انسان اور اس کے خالق کے مابین بھی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔

(وقار احمد بھٹی)

پچھلا پڑھیں

رمضان کا مہینہ نفس کو پاک کرنے کیلئے خاص اثر رکھتا ہے

اگلا پڑھیں

معتکفین کے نام