• 25 مئی, 2020

معتکفین کے نام

خوشا نصیب کہ تم اِس جہاں میں آ بیٹھے
ملیک کل کے مکاں و مکاں میں بیٹھے

پڑے گی کیسے نہ تم پر نگاہِ بندہ نواز
کہ اُس کے گھر میں ہی تم آشیاں بنا بیٹھے

ہوئے ہو اُس کی محبت میں اتنے سرگرداں
کہ حُب دنیا کی تم ہر ادا بھلا بیٹھے

تمام دنیا کو تم رکھ کر آج ایک طرف
درِ کریم پہ کس عاجزی سے آبیٹھے

کنارہ کر لیا دنیا کی شان و شوکت سے
زمینِ بیت پہ یوں بوریا بچھا بیٹھے

ادائے حسنِ طلب عشق کی کوئی دیکھے
کہ دھونی تم درِ مولیٰ پہ ہو رَما بیٹھے

جہاں سے لوٹا نہ کوئی بھی خالی ہاتھ
تم اُس کریم کی دہلیز پر ہی جا بیٹھے

نصیب جاگیں گے لاریب آج اُن سب کے
دنوں کے ساتھ جو راتوں کو بھی جگا بیٹھے

مری دعا ہے کہ مقبول ہو خدا کے حضور
ہر ایک اشک جو پلکوں پہ تم سجا بیٹھے

چلیں جو تیر تمہاری کٹری کمانوں سے
ہر ایک تیز نشانہ پہ بے خطا بیٹھے

کچھ اس طرح سے عطائے مجیب حاصل ہو
مقامِ ‘‘کن’’ پہ ہی جا کر ہر اک دعا بیٹھے

(عطاء المجیب راشد۔لندن)

پچھلا پڑھیں

تعارف سورۃ الانعام(چھٹی سورۃ)

اگلا پڑھیں

روزہ کی اہمیت