• 25 مئی, 2020

اعتکاف آخری عشرہ کی بابرکت عبادت

اعتکاف عبادت کی نیّت سے روزہ رکھ کر دنیاوی کاموں سے کلّی انقطاع کر کے مسجد میں ٹھہر کر عبادت کرنے کو کہتے ہیں معتکف کے لئے ضروری ہے کہ اس کی نیّت ہمہ وقت عبادت اور ذکر الہٰی کی ہو نہ کہ دوست احباب سے گپ شپ کی یا دوسروں پر اپنی نیکی کا اثر ڈالنے کی آنحضرتﷺکا یہ معمول تھا کہ آپ ہر سال رمضان کےآخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے آپ کی وفات کے بعد امّہات المومنین اس سنت کی پیروی کرتے ہوئے اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں جس سال آنحضورﷺکی وفات ہوئی اس سال آپ بیس دنوں تک اعتکاف بیٹھےآنحضرت ﷺ بیس رمضان کی نماز فجر کے بعد اعتکاف بیٹھا کرتے تھے عید کا چاند نظر آنے پر اعتکاف ختم کر دیتےاعتکاف ایک،دو،تین،چار،پانچ،چھ، سات یا آٹھ دن کا بھی ہو سکتا ہے آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اعتکاف کرنے والے کو اللہ تعالی جہنّم کی آگ سے بچاتا ہے۔

معتکفین

اعتکاف کے لئے ہمہ وقت مصروف رہنے کی غرض سے ایسی مسجد میں اعتکاف بیٹھا جاتا ہے جہاں نماز با جماعت کا التزام ہوتا ہے معتکف کے لئے حوائج ضروریہ کے علاوہ کسی اور وجہ سے مسجد سے باہر جانے کی اجازت نہیں معتکف کے لئے ضروری ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرے فضول باتوں میں وقت ضائع کرنا مناسب نہیں تلاوت قرآن کریم ، مطالعہ قرآن و حدیث ،نوافل اور دعا میں وقت صرف کرنا چاہئے۔

معتکفات

عورتیں حفاظتی انتظام اور پردہ کی پابندی کے ساتھ مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں نیز گھر میں بھی نماز کی ایک صاف ستھری جگہ مخصوص کر کے وہاں بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں۔مسجد میں صفائی ستھرائی کا اہتمام ضروری ہے اگر عورت کے مخصوص ایّام شروع ہوجائیں تو اسے اعتکاف ترک کر دینا ہو گا اس حالت میں مسجد میں رہنا مناسب نہیں۔

لیلۃالقدر

رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ایک رات ایسی آتی ہے جو بہت برکتوں اور رحمتوں والی رات ہے اسے ہر مومن کو تلاش کرنا چاہئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں۔

اعتکاف بیسویں کی صبح کو بیٹھتے ہیں کبھی دس دن ہو جاتے ہیں اورکبھی گیارہ………ایک دفعہ رسول کریم ﷺ دوسروں کو قبولیّت دعا کا وقت بتانے کے لئے باہر نکلے تھے مگر اس وقت دو آدمی آپس میں لڑتے ہوئے آپ نے دیکھے تو فرمایا کہ تم کو دیکھ کر مجھے وہ وقت بھول گیا ہے مگر اتنا فرما دیا کہ ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں یہ وقت آتا ہے صوفیاء نے لکھا ہے کہ ان راتوں کے علاوہ بھی یہ وقت آتا ہے مگر رمضان کی آخری راتوں میں قبولیّت دعا کا خاص وقت ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے تجربہ کی بناء پر فرمایا کہ ستائیسویں کی رات کو یہ وقت ہوتا ہے

(الفضل3 نومبر 1914ء)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اگر میں لیلۃ القدر پاؤں تو کیا دعا کروں؟ آپ نے فرمایاکہ دعا کرنا:

اَللّٰھُمّ اِنَّک عَفُوّٗ کَرِیمٗ تُحِبُّ العفوَ فَا عفُ عَنِّی

ترجمہ:اے اللہ تو بہت معاف کرنے والا کریم ہے تو عفو کو پسند کرتا ہے پس مجھ سے درگزر فرما

(ترمذی کتاب الدعوات باب 85)

(زرتشت منیر احمد خان ۔ناروے)

پچھلا پڑھیں

روزہ کی اہمیت

اگلا پڑھیں

رمضان المبارک کی تین اجتماعی برکات