• 5 جون, 2020

رمضان المبارک کی تین اجتماعی برکات

رمضان المبارک کامہینہ انگنت وبےشماربرکات کا مہینہ ہے یہ مبارک دن اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے نزول کے دن ہیں۔پندرہ سوسال سے صلحائےامت ان کا مشاہدہ کرتے آئے ہیں اوراس کے فیض سے مستفیض ہوتے آئے ہیں۔ ان ایام میں شیاطین کوجکڑدیا جاتا ہے اور جنت کے دروازے اوررحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ روزوں سے دلوں کا زنگ اور کی کثافت دورکی جاتی ہے ۔ ان بابرکت ایام میں روزہ دارکوخاص روحانی کیفیات سے نوازا جاتا ہے ۔ ان کی دعائیں شرف قبولیت حا صل کرتی ہیں۔ان پر انوارکےدر وا ہوتےہیں۔ قرآنی معارف سے نوازا جاتاہے ۔ رؤیا ، کشوف اور الہام کی نعمت سے بہرہ ور کیاجاتا ہے ۔

شریعت اسلامیہ نے روزہ دارکے لئے ضروری قراردیا ہے کہ وہ ہمہ وقت تلاوت قران کریم ، نوافل ، ذکرالہی ، صدقہ وخیرات اوردعاوں میں مشغول رہے ۔ اورہرقسم کی لغویات اوراعمال سیئہ سےاجتناب کرے۔

سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جوتجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدرکم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اورکشفی قوتیں بڑھتی ہیں ۔ خداتعالی کامنشاء اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کو کم کرو اوردوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزہ دارکویہ مدّنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خداتعالی کے ذکر میں مصروف رہے تا کہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مقصد ہےکہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرے رسم کے طور پر نہیں رکھتے، انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اور تہلیل میں لگے رہیں جس سے دوسری غذا انہیں مل جائے۔

(ملفوظات جلد 5 ص 102)

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

“مومن بننا اتنا آسان کام نہیں۔ انہیں تقوی کی باریک راہوں کو اختیار کرنا ہوگا تو پھر مومن کہلا سکو گے ’’۔ تو یہ تقوی کی باریک راہیں ہیں کیا ؟ فرمایا “یہ راہیں تم تب اختیار حاصل کر سکتے ہو جو تمہاری اپنی مرضی کچھ نہ ہو۔ بلکہ اب تمہارا ہر کام، ہرعمل خدا کی رضا کی خاطر ہو۔ اگر خدا تعالی تمہیں روکتا ہے کہ گو کھانا تمہاری صحت کے لئے اچھا ہےحلال کھانا جائز ہے لیکن میری رضا کی خاطر تمہیں اب اس سے ایک مہینے میں کچھ وقت کے لئے کھانے سے ہاتھ روکنا پڑے گا۔ ہر قسم کی سستی کو ترک کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں کہ میرے حکموں کو سستی کی وجہ سے ٹال دو۔ اگر تم رمضان کے مہینے میں لاپرواہی سے کام لو گے اور روزے کو کچھ اہمیت نہیں دو گے یا اگر روزے رکھ لو گے اس لئے کہ گھر ہیں سب رکھ رہے ہیں، شرم میں رکھ لو اور نمازوں میں سستی کرجاو، نوافل میں سستی کر جاو، قرآن کریم پڑھنے میں سستی کر جاو، قرآن کریم بھی رمضان میں کم از کم ایک دورمکمل کرنا چاہئے۔ تو یہ تمہارے روزے خدا کی خاطرنہیں ہوں گے اگر یہ سستی ہوتی رہی۔ یہ تو دنیا کو دکھاوے کے روزے ہیں۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالی کو ضرورت نہیں ہے کہ لوگوں کو بھوکا پیاسا رکھے یا ایسے لوگوں کے بھوکا پیاسا رہنے سے اللہ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ تو مومن ہی نہیں ہیں۔ اور روزے تو مومن پر اور تقویٰ اختیار کرنے والوں پر فرض کئے گئے ہیں۔ بعض لوگ صرف سستی کی وجہ سے روزے چھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ نیند بہت پیاری ہے۔ کون اٹھے۔ روزے میں ذرا سی تھکاوٹ یا بھوک برداشت نہیں کر رہے ہوتے تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو ایمان سے دور لے جانیوالی ہیں۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ ایمان مکمل طور پر تقوی اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اور روزے رکھنے سے جس طرح کہ روزے رکھنے کا حق ہے۔ نوفل کےلئے اٹھو، نمازوں میں باقاعدگی اختیار کرو، اس کو سمجھنے کی کوشش کرو، اسی سے تمہارے اندر تقوی پیدا ہوگا تو اتنا ہی زیادہ تمہارا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا ۔

(خطبات مسرور جلد1 ص 418،417)

سوجب انسان محض خداکے لئے روزہ رکھتا ہے اوراس کے لئے تبتل اورانقطاع حاصل کرتا ہے اورتسبیح اورتہلیل میں مصروف رہتاہےتواس کی روح اوراسکے اخلاق پرایک نہایت عمدہ اثرپڑتا ہے جس کے نتیجہ میں اسےایک خاص روحانی ماحول اور فضا میسرآجاتی ہے ان سب امورکے علاوہ بعض اجتماعی برکات بھی جنہیں روزہدارحاصل کرتاہے۔

رمضان اورقرآن آپس میں لازم وملزوم ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ اس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے ۔ گویارمضان کے مہینہ میں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اس کے معانی پرغورکیاجاتاہے۔ اس کے معارف کے حصول کی کوشش کی جاتی ہے۔ حضرت جبریل ہر رمضان میں رسول اللہﷺ کے سا تھ قرآن مجید کا دورہ فرمایا کرتے تھے۔آپ نے قرآن مجید اجتماعی طورپر پڑھنے اور سننے کا ایک طریق یہ بھی اختیار فرمایاکہ آپ مسجد تشریف لائے لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نوافل ادا کئے۔ دو تین دن تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ یہ منظربہت ہی دلفریب اور پرکیف تھا لوگ چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ رسول اللہﷺ چونکہ ایک شارع نبی تھے اس لئے آپ نےاس طریق کومسلسل جاری نہ رکھا۔ مبادہ یہ فرض ہی نہ ہوجائے۔ مگرتہجد میں خود بھی تلاوت فرماتے اور صحابہ کو بھی تلقین فرماتے۔ کچھ لوگ تہجد ادا کرتے اوربعض نمازعشاء کے بعد یہ نوافل ادا کرلیا کرتے تھے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے دور میں یہ انتظام کیا گیا کہ نمازتراویح ب سے یں سارے قرآن مجید کادوررمضان المبارک میں مکمل ہوجایاکرے۔ اورتب سے آج تک یہی سلسلہ جاری ہے۔ اور یہ امت کی سہولت کے پیش نظرتھا۔اورکس قدر بابرکت اورشاندار روایت ہے کہ آج پندرہ سوسال گزرتے ہیں ہرملک میں ، ہردیارمیں ، ہرشہرمیں ، ہربستی میں قرآن کریم سنانے کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس سے لوگوں کوزیادہ سے زیادہ قرآن مجید حفظ کرنے کی طرف توجہ ہوتی ہے۔اورعشاق قرآن،قرآن کریم سننے کے لئے جوق درجوق مسجد میں حاضرہوتے ہیں۔

یوں تورمضان کا سارا مہینہ ہی روحانیت کے حصول کے لئے جدوجہداورمحنت شاقہ کامہینہ ہے۔ مگر اس کا آخری عشرہ تو خاص توجہ کاطالب ہوتا ہے۔ جس میں روحانی پھلوں کے حصول کے لئے مومن دن رات ایک کردیتا ہے۔ رسول اللہﷺ ان ایام میں خاص طورپرکمرہمت کس لیتے۔ صدقہ وخیرات کرتے ،گھر والوں کوبیدار کرتے۔ اورقرآن مجید کے ارشاد کے مطابق رمضان کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرماتے۔ عاشقان الہٰی بھی نہایت ذوق و شوق سےان دنوں خلوت نشین ہوتے۔اپنے رب سے نازکرتے۔ آستانہ الوہیت پرناصیہ فرسا ہوتے۔ اوراسلام کے غلبہ ، امت کی اصلاح اورداعیان الی اللہ کی کامیابی وکامرانی کے لئے خدا کےحضوردست بہ دعا ہوتے۔ امام وقت کی صحت وسلامتی کے لئے دعائیں کرتے۔ گویا تمام اعتکاف کرنے والے اجتماعی طور پرغلبئہ اسلام کے لئے گریہ وزاری کرتے ۔ اور خدا کی محبت ورحمت سے جھولیاں بھرلیتے۔

قرآن مجید میں لیلۃ القدرکی خاص اہمیت بیان فرمائی گئی ہے۔ جوہزارراتوں سے بہترہے۔ اس میں ساری رات نزول ملائکہ ہوتاہے۔ دعاکرنے والےخاص لذت پاتے ہیں۔ دل نور سے بھر جاتا ہے۔ انسان کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ اور نہایت مستحکم اور پائیدارتعلق ذات باری تعالیٰ سے پیداہوجاتا ہے۔ اب وہ زمینی نہیں بلکہ آسمانی بن جاتا ہے لیلہ القدر اللہ تعا لی کا مومنوں پر وہ انعام ہے جو محض امت محمدیہ کے لئے مخصوص ہے۔ کوئی دوسری امت اس انعام میں اس کی شریک نہیں ہے۔ اسی لئے ہمارے پیارے آقاحضرت محمدﷺ فرمایا کرتے تھے ۔

تحروا لیلۃ القدرفی العشرالآواخرمن رمضان

(مسلم کتاب الصوم )

کہ رمضان کے آخری عشرہ میں لیلہ القدرکی تلاش میں پوری طرح سرگرداں رہو۔جدوجہد اورکوشش کرو۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ۔ اگر میں لیلہ القدر پاؤں تو کیا دعا کروں۔ آپﷺ نے فرمایا ۔ تم یہ کہا کرو۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّکَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی

اے اللہ ۔تو معززہے معاف کرنے والا ہے ۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ۔پس مجھے بھی فرمادے۔

اللہ کرے کہ ہم سب رمضان کی تمام برکتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانے والے ہوں اور لیلۃ القدر کی برکت ہمارے تمام اگلے پچھلے چھوٹے بڑے گناہ معاف ہو جا ئیں اوراس کی برکت سے ہم خداتعالی کے نیک اورپاک اور مطہر بندے بن جا ئیں ۔

سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔
لیلۃ القدرکی تلاش میں آخری راتوں میں سعی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ۔۔۔ جس رات آپ نے اپنے گناہوں سےہمیشہ کےلَئےسچی توبہ کرلی اور ایسی توبہ کہ پھرآپ لوٹ کر ان گناہوں میں واپس نہیں جائیں گے۔ تو یقین جانیں کہ وہی آپ کے لئے لیلۃ القدر ہے۔جو گویا ہزارمہینوں سے بہتر رات تھی۔ وہ آپ کو مل گئی اس کے بعد آپ کے لئے کوئی خوف نہیں۔پھر تو اولیاء اللہ میں آپ کے داخل ہونے کے دن آنے والے ہیں۔اس لئے ایسی رات کی تلاش کریں جو گناہوں سے توبہ کی رات بن جائے۔اورایسی توبہ کی رات بنے کہ اس کے بعد آپ مڑکر ان گناہوں کی طرف نہ دیکھیں۔ پھرآپ کی جتنی بھی راتیں آئیں گی وہ آپ کے لئے بمنزلہ لیلۃ القدر ہوں گی۔ اور خدا کی رحمتیں اوربرکتیں ہمیشہ آپ پرنازل ہوتی رہیں گی۔

(روزنامہ الفضل 4 نومبر 2003ء)

(عبدالقدیرقمر)

پچھلا پڑھیں

اعتکاف آخری عشرہ کی بابرکت عبادت

اگلا پڑھیں

آپ آن لائن اسٹور کامیابی سے چلا سکتے ہیں-اپنی دکان کو آن لائن کریں