• 3 جولائی, 2022

فقہی کارنر

book

اچھے نام رکھنا

کسی لڑکی کا نام جنت تھا۔ کسی شخص نے کہا کہ یہ نام اچھا نہیں کیونکہ بعض اوقات انسان آواز مارتا ہے کہ جنت گھر میں ہے اور اگر وہ نہ ہو تو گویا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے۔ یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہا جائے کہ گھر میں برکت نہیں تو گویا نحوست ہوئی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا:۔
یہ بات نہیں ہے نام رکھنے سے کوئی حرج نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اندر نہیں ہے نہ یہ کہ برکت نہیں یا اگر کہے کہ جنت نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت نہیں اور دوزخ ہے بلکہ یہ کہ وہ انسان اندر نہیں جس کا نام جنت ہے۔

کسی اور نے بھی کہا کہ حدیث میں بھی حرمت آئی ہے۔ فرمایا:۔
میں ایسی حدیثوں کو ٹھیک نہیں جانتا اور ایسی حدیثوں سے اسلام پر اعتراض ہوتا ہے کیونکہ خدا کے بتائے ہوئے نام عبداللہ، عبد الرحیم اور عبد الرحمٰن جو ہیں ان پر بھی بات لگ سکتی ہے کیونکہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ عبد الرحمٰن اندر نہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ عبد الشیطان اندر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شخص جس کا نام نیک فال کے طور پر رکھا جاتا ہے تا وہ شخص بھی اس نام کے مطابق ہو۔

(الحکم 31 مارچ 1907ء صفحہ10۔11)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

اعلانِ ولادت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مئی 2022