• 12 اگست, 2020

ہمسایوں سے حسن سلوک کرنے کی تلقین

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ارشاد فرماتے ہیں:۔
’’…… مغربی ممالک میں عموماً ہر کوئی اپنے میں مگن رہتا ہے ان لوگوں کی ایک زندگی بن گئی ہے کہ اپنا گھر یا اپنے بہت قریبی۔ ہمسائے کا وہ تصور یہاں ہے ہی نہیں جو (اسلام) نے ہمیں سکھایا ہے۔ یہی (اسلام) کی خوبی ہے کہ ہر بظاہر چھوٹی سے چھوٹی بات کی طرف بھی توجہ دلا دی اور پھر اس کے نتیجے کے طور پر بڑی بڑی جنتوں کی خبریں دیں تاکہ ہر طرح سے معاشرے میں سلامتی پھیلانے کے لئے ہر مومن کوشش کرے۔ تو جب ان لوگوں سے سلامتی کا پیغام پہنچاتے ہوئے ہم تعلق رکھیں گے، جب ان لوگوں کو یہ پتہ چلے گا کہ یہ لوگ بے غرض ہو کر ان سے تعلق رکھ رہے ہیں، ان کے یہ تعلق ہماری ہمدردی کے لئے ہیں،تو یہ لوگ خوش بھی ہوتے ہیں اور حیران بھی ہوتے ہیں کیونکہ اس کی ان کو عادت نہیں ہے۔ ان باتوں کا، اس خوشی کے اظہار کا، ان کی باتوں اور خیالات سے بڑا واضح پتہ لگ رہا ہوتا ہے۔ اس تعلق کو بڑھانے کی وجہ سے فطرت کی جو آواز ہے۔ اگر نیک فطرت ہے تو فطرت تو ہر ایک سے یہ چاہتی ہے کہ نیکی کا سلوک ہو۔ فطرت کی وہ آواز ان کے اندر بھی انگڑائی لیتی ہے۔وہ بھی اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے ہمسائے ہمارے سے نیک تعلق کی وجہ سے رابطہ رکھ رہے ہیں۔ کوئی مفاد یا ذاتی منفعت حاصل کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔ اِلاّماشاء اللّٰہ اکثریت اس بات پر خوش ہوتی ہے۔

جب سے مَیں نے ان مغربی ممالک کے رہنے والوں کو خاص طور پر ہمسایوں سے اچھے تعلق رکھنے کی طرف توجہ دلائی تھی، بعض جگہ سے بہت خوش کن رپورٹس آئی ہیں۔ وہی لوگ جو پاکستانی یا ایشین (مومن) ہمسایوں سے خوفزدہ تھے جب ان کے یہ تعلق بڑھنے شروع ہوئے، عید، بقر عید پر، ان کے تہواروں پر،جب تحفے ان کی طرف جانے شروع ہوئے تو اس کی وجہ سے ان میں نرمی پیدا ہونی شروع ہو گئی، ان کے خوف بھی دور ہوئے۔ وہی لوگ جو (اسلام) کو شدت پسند اور امن برباد کرنے والا مذہب سمجھتے تھے (اسلام) کی سلامتی کی تعلیم سے متاثر ہو رہے ہیں۔ (مسجد) فضل کے حلقے میں بھی دو سال سے ہمسایوں کو بلا کر ان کی دعوت وغیرہ کی جاتی ہے۔ علاوہ اس ذاتی تعلق کے جو لوگ اپنے طور پر گھروں میں بھی کرتے ہوں گے۔ اس سال بھی جو انہوں نے فنکشن کیا تھا مَیں اس میں شامل ہوا تھا تو مَیں نے ہمسایوں کے تعلق میں جب ان کے سامنے (اسلام)کی تعلیم پیش کی تو سب نے حیرت اور خوشی سے اس کو سنا اور اس کا اظہار کیا اور شکریہ ادا کیا اور اب تک بھی مختلف حوالوں سے مختلف موقعوں پر ان ہمسایوں کے مجھے خطوط آتے رہتے ہیں، کارڈز بھی آتے رہتے ہیں۔ تو سب ہمسایوں سے حسن سلوک جہاں سلامتی کی ضمانت ہے وہاں ا س سے (تبلیغ) کا بھی بہترین راستہ کھل جاتا ہے۔

اگر ان لوگوں میں مذہب سے دلچسپی نہیں ہے تو کم از کم ایسے لوگوں کے ذہنوں سے (اسلام) کے خلاف جو زہر بھرا گیا ہے وہ نکل جاتا ہے۔ اگر ہمسائیگی کی وسعت ذہن میں ہو تو پوری دنیا میں سلامتی اور صلح کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔ دنیا سے فساد دُور ہو سکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ہمسائیگی تو 100 کوس تک بھی ہوتی ہے۔ پس آج جبکہ احمدی دنیا کے 185سے زائد ممالک میں ہیں۔ بعض علاقوں میں شاید تھوڑے ہیں یا زیادہ ہیں۔ اپنے ارد گرد کے 100-100میل کے علاقے کو بھی اپنی سلامتی کے پیغام سے معطر کر دیں تو دنیا کے ایک و سیع حصے میں (اسلام) کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں، اس کے خلاف جو پُرتشدّد اور ظلم کرنے والاہونے کا الزام لگایا جاتا ہے وہ سب داغ دُھل سکتے ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو اس عہد کی کوتاہی کر رہے ہوں گے جو ہم نے اس زمانے کے امام سے باندھا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ یکم جون 2007ء) (الفضل انٹرنیشنل 22/جون تا28/جون2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

ہر انسان کا سر دو زنجیروں میں ہے