• 5 اگست, 2020

بیوت الحمد منصوبہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں:۔
’’اللہ کے گھر بنانے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے غریب بندوں کے گھروں کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔‘‘

(خطبات طاہر جلد1صفحہ 241)

قرآنی تعلیمات کی رو سے بے سہارا افراد بیوائوں اور غرباء کی ضرورت پوری کرنا خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کا بہترین زینہ ہے۔ بیوت الحمد منصوبہ کے تحت بیوگان اور مستحقین کو حسب ضرورت رہائش کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ بیوت الحمد کالونی میں 112کوارٹرز تعمیر ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سات صد سے زائد احباب کو ان کے اپنے اپنے گھروں میں حسب ضرورت جزوی توسیع کے لئے لاکھوں روپے کی امداد دی جا چکی ہے اور امداد کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیوت الحمد سکیم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔
’’کئی احمدی جب اللہ کے فضل سے اپنے گھر بناتے ہیں تو اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں ۔ بعض نے اپنا بڑا قیمتی گھر بنایا تو بیوت الحمد کے ایک مکمل گھر کا خرچہ بھی ادا کیا تو اگر تمام دنیا کے احمدیوں کے خریدنے یا بنانے پر کچھ نہ کچھ اس مد میں دینے کی طرف توجہ پیدا ہو جائے تو کئی ضرورت مند غریب بھائیوں کا بھلا ہو سکتا ہے۔‘‘

(خطبہ عیدالفطر 13؍اکتوبر 2007ء خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات صفحہ 561)

(صدر بیوت الحمد منصوبہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

ہر انسان کا سر دو زنجیروں میں ہے