• 12 اگست, 2020

حضرت مولوی محمد ابو الحمید آزاد رضی اللہ عنہ، حیدر آباد دکن

تعارف صحابہؓ

حضرت مولوی محمد ابو الحمید آزاد رضی اللہ عنہ ولد مولوی شجاعت حسین قوم صدیقی ریاست حیدرآباد دکن کے ایک لائق اور کامیاب وکیل تھے۔ آپ کا حلقۂ احباب نیک سیرت لوگوں پر مشتمل تھا جس کی وجہ سے آپ کوحق کی طرف جلد رہنمائی ملی۔ آپؓ حیدرآباد دکن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے متعلق فرماتے ہیں:۔

’’….. جب براہین احمدیہ کی وہ جلد چھپ کر آئی جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار ہے اور ہم لوگوں نے اسے پڑھا تو ہمارے قلوب کی جو حالت اس کے پڑھنے سے ہوئی اس کا بہتر علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اس کے بعد رسالہ جات فتح اسلام اور توضیح مرام بھی ہم نے پڑھے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی ماموریت کا اعلان فرمایا اس وقت جہاں تک مجھے یاد ہے اخویم مولوی میر مردان علی صاحب مرحوم اور اخویم مولوی ظہور علی صاحب مرحوم نے اپنی اپنی عمروں سے پانچ پانچ سال حضرت اقدس علیہ السلام کو دینے کے متعلق خطوط روانہ کئے اور بیعت کے عریضے تحریر کئے …. اخویم مولوی میر مردان علی صاحب مرحوم نے پہلے اپنی عمر میں سے پانچ سال دیے اور بیعت کا خط لکھا اور سبقت کی ہے….‘‘

(الحکم21,28مئی1924ء)

آپؓ کے دوستوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی جب بیعت کی تو آپ کو بھی پیغام حق کی دعوت دی ۔آپؓ کی طبیعت میں جلد بازی نہیں تھی اس لیے معاملہ کو پرکھ کر اور پوری طرح واقفیت حاصل کرکے پھر کسی نتیجہ پر پہنچتے ، بیعت کے معاملہ میں بھی پہلے بغرض تحقیق کچھ دیر ٹھہرے جب حضرت اقدس علیہ السلام کی کتب پڑھیں تو اطمینان ہوا اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے اور پھر تا دمِ آخر اس تعلق کو نبھایا۔ جماعت احمدیہ کی طرف زیادہ توجہ حضرت میر مردان علی صاحب رضی اللہ عنہ (بیعت 23ستمبر 1891ء) کی کوششوں سے ہوئی جو آپ کو احمدیت کی طرف راغب کرنے کے لیے حضرت اقدسؑ کی کتب آپ کو دیتے اور پھر آپ سے پوچھتے، اسی سلسلے میں دونوں بزرگوں کی خط و کتابت کا کچھ حال اخبار الحکم 21 جون 1934ء صفحہ 9 پر موجود ہے۔ حضرت اقدس کی مخالفت آپؓ نے کبھی نہیں کی بلکہ اس خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپؓ حضورؑ کے دعاوی کی سچائی کے متعلق یقین رکھتے تھے۔گو کہ آپؓ کی بیعت کا سال معلوم نہیں ہو سکالیکن جلد ہی آپؓ نے بھی بیعت کرلی، آپؓ فرماتے ہیں:

’’ازالہ اوہام کے پڑھنے کے بعد اخویم مولوی میر مردان علی صاحب مرحوم اور اخویم مولوی ظہور علی صاحب مرحوم نے تو دارالامان کے سفر کی تیاری کرلی۔جب یہ چلنے لگے تو روانگی سے ایک دو روز پیشتر اخویم مولوی میر مردان علی صاحب مرحوم نے تحریر کے ذریعے حضرت اقدس علیہ السلام کے بارے میں مجھ سے اپنے خیالات کے اظہار کی خواہش کی۔ اس عرصہ میں مَیں نے کئی مرتبہ غالبًا تین بار ازالہ اوہام کو پڑھ کر ختم کر لیا تھا۔ میں نے اپنے خیالات ظاہر کیے اور ان کو یہ بھی کہاکہ اس تحریر کو حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت مبارک میں کسی موقع و محل پر پیش کریں۔ جب یہ حضرات دار الامان سے تشریف لائے تو مجھ سے وہ الفاظ بیان کئے جو حضرت اقدس علیہ السلام نے اس خاکسار کی نسبت ارشاد فرمائے…… جب وہ مژدۂ جان بخش و روح پرور مجھے پہنچا تو یہ خاکسار بھی سلسلہ بیعت میں داخل ہوگیا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ‘‘

(الحکم21,28مئی 1924ء)

سلسلہ بیعت میں آنے کے بعد آپ نے اخلاص و وفا میں بہت ترقی کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی تبلیغ کے اول مددگاروں میں شامل ہوئے۔ مارچ 1898ء میں حیدرآباد دکن کی جماعت نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں درج ذیل عریضۂ نیاز لکھا کہ

’’….. ہم لوگ جو خدا تعالیٰ کے عاجز گناہگار بندے اور جناب رسالت ماٰب صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنیٰ امتی اور حضور اقدس کے جاں نثار خدّام میں سے ہیں …. ہم اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم کا بدل و جان بدرجہ غایت شکر کرتے ہیں کہ ہم نے حضور کا وہ مبارک زمانہ پالیا جس کی تمنا میں تیرہ سو برس دنیا کی عمر ختم ہوگئی…..مگر ہم اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ تمام دنیا کی دعائیں اور تدبیریں ایک طرف اور حضور کی ایک دعائے نیم شبی ایک طرف۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضور مستجاب الدعوات ہیں اس لیے اس بات کی درخواست کرتے ہیں کہ حضور ہمارے حق میں دعا فرماویں کہ ہم حضور کے ایام کامیابی جہاں تک مقدر ہے دیکھ لیں …..

1۔ سید مردان علی 2۔ محمد نصیر الدین 3۔ محمد ابوالحمید 4۔ سید عبد الحی 5۔ سید محمد رضوی …..‘‘

(الحکم 20 مارچ 1898ء صفحہ 1,2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخالفین کو الٰہی پیشگوئیوں کے مطابق ملنے والی اللہ تعالیٰ کی مالی معاونت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’خدا نے ایسے مخلص اور جان فشاں ارادتمند ہماری خدمت میں لگا دیے کہ جو اپنے مال کو اس راہ میں خرچ کرنا اپنی سعادت دیکھتے ہیں …..ہماری عزیز جماعت حیدرآباد کی یعنی مولوی سید مردان علی صاحب اور مولوی سید ظہور علی صاحب اور مولوی عبد الحمید صاحب دس دس روپیہ اپنی تنخواہ میں سے دیتے ہیں۔‘‘

(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11، صفحہ 312,313 حاشیہ)

پھر حضورؑ نے اسی کتاب میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اپنے 313 کبار صحابہ کی فہرست شائع فرمائی ہے جس میں آپ کا نام بھی بیسویں نمبر پر درج ہے:
۲۰۔ مولوی ابوالحمید صاحب حیدرآباد دکن

(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ325)

آپؓ حیدرآباد دکن جماعت کے دوسرے امیر تھے۔ آپؓ نے حیدرآباد میں افراد جماعت کو منظم کیا اور سلسلہ احمدیہ کی تبلیغ و اشاعت کے لیے جلسے منعقد کرائے اور لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ آپؓ 1912ء میں حیدرآباد کے بعض احباب کے ساتھ قادیان حاضر ہوئے اور 15جون 1912ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ساتھ سفر لاہور میں آپ کو بھی رفاقت کی سعادت نصیب ہوئی۔

(بدر 20جون 1912ء، صفحہ 1)

آپؓ جماعتی اخبارات و دیگر لٹریچر بڑے شوق سے باقاعدگی کے ساتھ خریدتے۔ اخبار فاروق کی اشاعت کے متعلق آپؓ کے دو مخلصانہ خط اخبار فاروق 28/21ستمبر1916ء اور فاروق 27/20دسمبر1917ء میں شائع شدہ ہیں، اُس وقت آپؓ پربھنی (Parbhani) صوبہ مہاراشٹرا میں ناظم عدالت دیوانی متعین تھے۔ آپؓ بفضلہ تعالیٰ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے آپؓ کا نام حیدرآباد دکن کے تحت 5147 نمبر پر درج ہے۔

آپؓ اردو کے ایک اچھے شاعر تھے اورداغؔ دہلوی کے شاگرد تھے۔ اردو ادب کی بعض کتابوں میں آپؓ کا تذکرہ بھی محفوظ ہے، مثلًا آپ کی زندگی میں چھپنے والی ایک کتاب ’’محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن‘‘ میں آپؓ کا ذکر یوں محفوظ ہے:

’’آزاد تخلص۔ ابو الحمید نام۔ آپ کا اصلی وطن لکھنو ہے۔ آپ نے سن شعور کے بعد فارسی و عربی میں بقدر ضرورت استعداد حاصل کر کے شعر گوئی کی، طبع موزون و خوش فکر تھے، خوب لکھنے لگے۔ نواب مرزا خان داغ دہلوی سے اصلاح لینے لگے، جناب داؔغ کی عنایت توجہ سے لائق شاعر ہوگئے۔ کلام سلیس و بامحاورہ ہے، ابہام و مبالغہ سے پاک و صاف ہے۔ آپ چند سال سے سرکار عالی نظام میں ملازم ہیں۔ خوش خلق و نیک سیرت ہیں۔ عمر تقریبًا چالیس پچاس برس کے ہے …..‘‘

(محبوب الزمن تذکرہ شعرائے دکن حصہ اول صفحہ 239۔ تالیف مولوی ابو تراب محمد عبدالجبار خان صاحب ملکا پوری براری حیدرآبادی صدر مدرس عربی و فارسی مدرسہ اغرہ۔ 1329 ھ۔ در مطبع رحمانی)

ایک اور کتاب ’’تزک محبوبیہ‘‘ جلد دوم مؤلفہ غلام صمدانی خان گوہر حیدرآبادی ۔ نظام المطابع پریس بازار چھتہ حیدرآباد دکن ۔ 1321ہجری میں بھی دفتر پنجم طبقہ وکلائے ذی اعتبار میں سب سے اول نمبر پر حضرت ابو الحمید آزاد صاحبؓ کا احوال موجود ہےجس کے آخر پر لکھا ہے ’’آدمی لائق، خوش طبع، بذلہ سنج، وجیہ ہیں‘‘۔

ڈاکٹر محمد عطاء اللہ خان صاحب اپنی کتاب ’’معاصرین داغ دہلوی‘‘ میں آپ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’شاعری میں آزاؔد حضرت داغ کے شاگرد تھے۔ آزاؔد کا کلام نہایت صاف اور معاملہ بندی سے آزاد تھا۔ انھوں نے اپنے دور میں بہت شہرت حاصل کی…..‘‘

(معاصرین داغ دہلوی صفحہ 71 مرتبہ ڈاکٹر محمد عطاء اللہ خان ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی2009ء)

نور اللہ محمد نوری صاحب اپنی کتاب ’’داغؔ‘‘ (اسی کتاب میں آپ کی تصویر بھی محفوظ ہے) کے آغاز میں اظہار تشکّر کے تحت لکھتے ہیں:
’’مولوی ابو الحمید آزاد وکیل ہائیکورٹ اور نواب عزیز یار جنگ بہادر کو میں نے تحریر کتاب کے سلسلہ میں بے حد تکلیف دی، اگر ان صاحبوں نے میری اعانت نہ کی ہوتی تو کتاب ناقص اور نا تمام رہتی۔‘‘

(داغؔ مصنفہ نور اللہ محمد نوری۔ 1355ھ۔ صفحہ 32۔مطبوعہ اعظم اسٹیم پریس چار مینار حیدرآباد دکن)

جماعتی لٹریچر میں بھی آپ کی بعض نظمیں شائع شدہ ہیں، مثلًا اخبار بدر 7مئی 1908ء میں آپ کی مسدس، اخبار الحکم 28-21 مئی 1918ء میں آپ کی نظم ’’شان محمد ﷺ و بعثت احمدؑ‘‘ اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی شان میں آپ کی ایک نظم اخبار الفضل 6اکتوبر 1937ء میں شائع شدہ ہیں۔

آپ نظام وصیت میں بھی شامل تھے وصیت نمبر 3886 تھا، آپ نے اپریل 1938ء میں وفات پائی، اخبار الفضل نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا:
’’سکندرآباد سے جناب سید بشارت احمد صاحب نے بذریعہ تار یہ افسوس ناک خبر بھیجی ہے کہ مولوی ابوالحمید صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پرانے صحابی تھے انتقال کرگئے انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ہمیں اس صدمہ میں مرحوم کے خاندان سے اور جماعت احمدیہ حیدرآباد و سکندرآباد سے دلی ہمدردی ہے خدا تعالیٰ انھیں نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے۔‘‘

(الفضل 14 اپریل 1938 صفحہ 2)

٭…٭…٭

(غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

ہر انسان کا سر دو زنجیروں میں ہے