• 4 مارچ, 2024

بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے

مَیں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ جو شخص سچے دل سے خداتعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا کہ اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خداتعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دُور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دُور ہوجاتی ہے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد3 صفحہ498 ایڈیشن 1988ء)

• میں یقینا جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریاکاری کے موقعوں میں تو صدہا روپیہ خرچ کریں۔ اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔ شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خِسّت اور بخل کو نہ چھوڑے۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے نبیﷺ نے بھی کئی مرتبہ صحابہؓ پر چندے لگائے۔ جن میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے … جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ156)

•خدا کی رضا کو تم کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔ لیکن اگر تلخی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آ جاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔… لیکن اگر تم اپنے نفس سے در حقیقت مر جاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے۔

(الوصیت، روحانی خزائن جلد20 صفحہ307-308)

پچھلا پڑھیں

رپورٹ جلسہ یوم خلافت مانساکونکو، گیمبیا

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 جولائی 2022