• 18 مئی, 2024

اشکوں کا اِک سیلِ رواں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

اشکوں کا اِک سیلِ رواں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے
نام کسی کا وِردِ زباں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

میری تو بن آئی ہے یارو! جب سے اُس کو دیکھا ہے
اُس کا بھی میری اَور دھیاں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

گرتے پڑتے دشتِ جنوں میں آج جہاں تک پہنچے ہیں
لگتا ہے یہی اپنا جہاں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

آنا میرا اِس بستی میں منزل کی معراج سہی
ساتھ ہجومِ تشنہ لباں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

دِل کی بات زباں پر لا کر ناحق ہی بدنام ہوئے
کھلنے کو اب رازِ نہاں ہے، اِس کو کہاں تک روکو گے

(عبدالشکور کلیولینڈ، اوہائیو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2022

اگلا پڑھیں

بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے