• 19 اکتوبر, 2021

ہمارےمذہب کاخلاصہ اورلبّ لباب لا إله إلا اللّٰه محمد رسول اللّٰه ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
پھر مزید وضاحت سے اپنے عقیدے اور عملی حالت کی حقیقت کے معیار کے بارے میں جماعت کو بھی توجہ دلاتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ہمارے مذہب کا خلاصہ‘‘ (کہ ہمارا عقیدہ کیا ہے؟ اس میں عقیدے کی بھی وضاحت ہو جائے گی اور اس عقیدے کے ساتھ جو ہمارے عمل وابستہ ہیں اُن کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے۔) فرماتے ہیں ’’ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لُبِّ لُباب یہ ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالَم گزران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے۔ اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتاجو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافرہے۔ اور ہمارااس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتاچہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجُز اقتدا اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں۔ کوئی مرتبہ شر ف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلّی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔ اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیلِ منازل سلوک کرچکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جُزئی فضائل ہیں جو اَب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہوسکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد3 صفحہ169-170)

یعنی وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے ہیں اُن کے بعض فضائل ایسے ہیں جو اَب نہیں مل سکتے۔ انہوں نے دیکھا، وہ آپ ؐ کی صحبت میں رہے۔

پھر آپ فرماتے ہیں:
’’جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں۔ اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر ’’حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہِ‘‘ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو‘‘ (یعنی آپس میں اختلاف ہو) ’’قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں‘‘۔ (حدیث پر قرآن کو ترجیح ہے۔) فرماتے ہیں ’’بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روزِ حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جلّ شانہ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترکِ فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے‘‘ (یعنی اپنی مرضی سے جہاں ضروری ہو بدل لے، حلال حرام کے بارہ میں اپنے فیصلے کرنا شروع کر دے) ’’وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور اسی پر مریں۔ اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے ان سب پر ایمان لاویں۔ اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خداتعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلفِ صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض ہے۔ اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد14 صفحہ323)

(خطبہ جمعہ 30؍ مارچ 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

ورچوئل ملاقات میں شمولیت کے بعد جذبات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 ستمبر 2021