• 18 اکتوبر, 2021

عائلی زندگی اور خواتین مبارکہ کے اعلی ٰنمو نے (قسط دوئم و آخر)

عائلی زندگی اورخواتین مبارکہ کے اعلی ٰنمو نے
(قسط دوئم و آخر)

سادہ محبت کرنے والے گھرانے میں آپ کے شوہر محترم سیدنا محمود بھی آپکا بہت خیال رکھتے تھے لیکن ایک رات جب آپ اپنے کاموں کی وجہ سے کچھ دیر سے آئے تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے پائوں دباتے دباتے پلنگ کی پٹی پر سر رکھے سو گئی تھیں۔تو حضور ؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا ‘‘میاں محمود ! جلدی آجایا کرو محمودہ کو اکیلے ڈر لگتا ہے ’’۔چنانچہ اس کے بعد آپ رات کو جلد گھر آجاتے تھے۔

(بحوالہ سیدہ محمودہ بیگم کتب لجنہ صفحہ 6شائع کردہ یوکے 2008ء)

جب آپ کو علم ہوا کہ آپ دوسری شادی کا ارادہ رکھتے ہیں تو صرف ایک فرمائش کی کہ آپ کے ذاتی کام صرف میں ہی کیا کروں گی۔ اپنے ہاں باری کے روز حضورؓ کے لیے خود صفائی ستھرائی کا خیال رکھتیں حضورؓ کی پسند کا کھانا اہتمام سے بناتیں۔

(ماخوذاز سیدہ محمودہ بیگم کتب لجنہ صفحہ 9شائع کردہ یوکے 2008ء)

حضرت سیدہ امۃ الحئی صاحبہؓ : حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی مزاج شناس خاتون خانہ تھیں۔ آپس کی ہم آہنگی کی نہایت خوب صورت قابل رشک الفاظ میں تعریف فرماتے ہیں :
’’رسول کریم ؐنے فرمایا ہے۔ اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَۃٌ کہ روحیں ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا بعض سے تعلق ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری روح کو امۃ الحی کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی… میں نے عمر بھر کوئی کامیاب شادی اور خوش کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی۔‘‘

(بحوالہ خطباتِ محمود جلد3 صفحہ204تا205)

حضرت سیدہ مریم النساء صاحبہ (ام ِطاہر): انیس سال کی دلہن کو شوہر کی طرف سے مرحومہ بیوی کے تین بچے سنبھالنے کی ذمہ داری ملی جو آپ نے اتنی عمدگی سے ادا کی کہ دل جیت لیے۔ دل جیتنے کے فن کا ذکر حضرت مصلح موعود ؓکی تحریروں میں کئی جگہ ملتا ہے۔ محبت بھرے الفاظ دیکھیے:
’’جب مریم بیگم نے امۃ الحئ مرحومہ کے بچوں کو پالنے کا وعدہ کیا اور میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں اس سے بہت محبت کروں گا تو اس وقت میں نے تجھ سے دعا کی تھی کہ تو اسکی محبت میرے دل میں ڈال دے اور تو نے میری دعا سنی اور باوجود ہزاروں بدمزگیوں کے اسکی محبت میرے دل سے نہیں نکلی۔‘‘

(بحوالہ انوار العلوم جلد17 صفحہ369)

مزید فرماتے ہیں:
’’مریم علمی باتیں نہ کرسکتی تھیں مگر علمی باتوں کا مزا خوب لیتی تھیں جمعہ کے دن اگر کسی خاص مضمون پر خطبہ ہوتا تھا تو واپسی پر میں اس یقین کے ساتھ گھر میں گھستا تھا کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ جاتے ہی تعریفوں کے پُل باندھ دیں گی اور کہیں گی کہ آج بہت مزا آیا اور یہ میرا قیاس شاذ ہی غلط نکلتا۔ میں دروازے میں انہیں منتظر پاتا۔ ان کے جسم کے اندر ایک تھرتھراہٹ سی پیدا ہو رہی ہوتی تھی۔ مریم ایک بہادر عورت تھیں جب کوئی نازک موقع آتا میں یقین کے ساتھ ان پر اعتبار کرسکتا تھا۔…ضرورت کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔ اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔…‘‘

(بحوالہ انوار العلوم جلد17 صفحہ353)

حضرت مریم صدیقہ صاحبہ: حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓ کا شمار ان خوش نصیب افراد میں ہوتا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے ہر روپ میں خواہ وہ بہن کا ہو، ماں کا ہو، یا بیگمات کا ہو، یا بیٹی کا ہو، قیمتی اثاثے سے مالا مال کر رکھا تھا۔ آپ کی شادی 30؍ستمبر 1935ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓسے ہوئی۔ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب ؓنے اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے نصیحت کی:
’’مریم صدیقہ تم اندازہ نہیں کر سکتیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح پر خدمت دین کا کتنا بوجھ ہے …پس مبارک وجود کو اگر تم کبھی خوشی دے سکو اور کچھ بھی ان کی تکان اور تفکرات کو اپنی بات چیت، خدمت گزاری اور اطاعت سے ہلکا کرسکو تو سمجھ لو کہ تمہاری شادی اور تمہاری زندگی بڑی کامیاب ہے اور تمہارے نامۂ اعمال میں وہ ثواب لکھا جائے گا جو بڑے سے بڑے مجاہدین کو ملتا ہے…مریم صدیقہ تمہاری زندگی اب خلیفہ کی رضا جوئی اور خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے ہے‘‘

(الفضل 25؍مارچ 1966ء صفحہ3 کالم1)

سترہ سال کی عمر میں نصیحتوں سے لدی پھندی اس دلہن کا استقبال شادی کی رات شوہر نے اس طرح کیا۔ حضرت چھوٹی آپا تحریر فرماتی ہیں :
’’مجھے یاد ہے کہ میری شادی کی پہلی رات بے شک عشق و محبت کی باتیں بھی ہوئیں مگر زیادہ تر عشق الٰہی کی باتیں تھیں۔ آپ کی باتوں کا لب لباب یہ تھا اور مجھ سے ایک طرح عہد لیا جا رہا تھا کہ میں دعاؤں اور ذکر الٰہی کی عادت ڈالوں، دین کی خدمت کروں اور حضرت خلیفۃ المسیح کی ذمہ داریوں میں ان کا ہاتھ بٹاؤں۔‘‘

(الفضل 25؍مارچ 1966ء صفحہ2 کالم2)

اسلامی روایات سے تربیت اولاد کے درخشاں ثبوت

پرسکون عائلی زندگی کے بعد دوسرا اہم فریضہ تربیتِ اولاد ہے جس سے خاندانوں اور قوموں کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے کیونکہ آج کے بچوں نے ہی کل ملک و ملت اور مذہب کی ذمہ داریاںسنبھالنی ہوتی ہیں۔حدیث شریف میں ہے:
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ؐنے فرمایا: ہر بچہ فطرتِ اسلامی پر پیدا ہو تا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ یعنی قریبی ماحول سے بچے کا ذہن متاثر ہو تا ہے جیسے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے۔ کیا تمہیں ان میں کوئی کان کٹا نظر آتا ہے؟ یعنی بعد میں لوگ اس کا کان کاٹتے ہیں اور اسے عیب دار بنا دیتے ہیں۔

(مسلم، کتاب القدر باب معنی کل مولود یولد علی الفطر)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’اولاد کے لئے ایسی تربیت کی کوشش کرو کہ ان میں باہم اخوت، اتحاد ،جرأت،شجاعت،خودداری،شریفانہ آزادی پیدا ہو۔ ایک طرف انسان بنائو، دوسری طرف مسلمان۔‘‘

(بحوالہ خطباتِ نور صفحہ75 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ نظارت نشرواشاعت قادیان)

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ابتداء سے بچہ کی تربیت کی۔ اور نہ صرف خود کی بلکہ اپنی امت کو سکھایا کہ یوں تربیت کریں۔ آپؐ جب اپنی بیوی کے پاس جاتے تو فرماتے:

بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطٰنَ وَ جَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا

(بخاری، کتاب الوضوء)

یعنی الٰہی! اگر اس فعل مباشرت سے تیرے علم میں ہمیں کوئی بچہ عطا ہونے والا ہے تو ہمیں اس وقت گندے شہوانی خیالات سے بچا اور تمام بُرائیوں کے خیالات سے ہمارے دل و دماغ کو محفوظ فرما تاکہ ہمارے اس وقت کے بُرے خیال کا اثر ہونے والے بچے کے دل و دماغ پر نہ پڑے۔… علم النفس کے ماہرین کی متفقہ شہادت سے یہ امر ثابت ہے کہ بچہ کے اخلاق پر ماں باپ کے خیالات اور جذبات کا بہت اثر ہوتا ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے بچوں کی تربیت میں ان تمام امور کا خیال رکھا۔

(مضمون حضرت میر محمد اسحق ؓبحوالہ الفضل قادیان 6نومبر 1932ء صفحہ 11کالم 1,2)

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :
’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چاہتے تھے کہ آپکی اولاد سادگی سے زندگی بسر کرنے والی ہواور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی ہو… حضرت ثعبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب کسی سفر پر جاتے تو سب سے آخر پر اپنے گھر والوں میں سے حضرت فاطمہؓ سے ملتے اور جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ ایک مرتبہ جب آپؐ ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ کے ہاں گئے۔ جب دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا اور حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے چاندی کے دو کڑے پہنے ہوئے تھے۔ آپؐ کے بڑے لاڈلے نواسے تھے۔ جب آپؐ نے یہ دیکھا آپؐ گھر میں داخل نہ ہوئے۔ بلکہ واپس تشریف لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ بھانپ گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان چیزوں نے گھر میں داخل ہونے سے روکا ہے۔ اس پر حضرت فاطمہؓ نے پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے کڑے لے کر توڑ دئیے۔ اور اس کے بعد دونوں بچے روتے ہوئے حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس گئے۔ حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان میں سے ایک بچے کو اٹھایا اور راوی کہتے ہیں کہ مجھے ارشاد فرمایا کہ اس کے ساتھ مدینہ میں فلاں کے ہاں جاؤ اور فاطمہ کے لئے ایک ہار اور ہاتھی دانت کے بنے ہوئے دو کنگن لے آؤ اور پھر فرمایاکہ مَیں اپنے اہل خانہ کے لئے پسند نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا میں ہی تمام آسائش اور آسانیاں حاصل کر لیں۔‘‘

(سنن ابی داؤد۔ کتاب الترجیل۔ باب فی الانتفاع بالعاج بحوالہ خطبہ جمعہ فرمودہ 19؍ اگست 2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 9؍ستمبر 2005ء صفحہ6 کالم1)

حضرت صفیہؓ نے حضرت زبیرؓ کی تربیت بڑے عمدہ طریق پر کی۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا یہ بیٹا بڑا ہو کر ایک نڈر اور بہادر سپاہی بنے۔ چنانچہ وہ حضرت زبیرؓ سے سخت محنت اور مشقت کے کام لیتی تھیں۔

(ماخوذ از تذکار صحابیات ؓ، از طالب الہاشمی صفحہ163، البدر پبلی کیشنز لاہور 2005ء)

نیک ماں کی نصیحت: حضرت سید عبد القادر جیلانیؒ کی پیدائش اولیاء و عارفین باللہ کے خاندان میں ہوئی۔ … اس لحاظ سے آپ کی تربیت ایک پاک خاندان میں ہوئی۔ حضرت مسیح موعود ؑ انکے بارے میں ملفوظات میں تحریر فرماتے ہیں :
’’… ان کا نفس بڑا مطہّر تھا۔ ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے برداشتہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشوا تلاش کروں جو مجھے سکینت اور اطمینان کی راہیں دکھلائے۔ والدہ نے جب دیکھا کہ یہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا تو ان کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں۔ … سید عبدالقادرؒ نے اپنی والدہ سے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرما ویں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا۔ اس سے بڑی برکت ہوگی۔ اتنا سن کر آپ رخصت ہوئے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کر آپؒ گزرے اس میں چند رہزن قزّاق رہتے تھے جو مسافروں کو لُوٹ لیا کرتے تھے۔ … ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ … فی الفور جواب دیا کہ ہاں چالیس مہریں میری بغل کے نیچے ہیں جو میری والدہ صاحبہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں۔ اس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے۔ دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس کو بھی یہی جواب دیا۔ الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔ وہ ان کو اپنے امیر قزاقاں کے پاس لے گئے کہ بار بار یہی کہتا ہے۔ امیر نے کہا اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی۔ جب تلاشی لی گئی تو واقعی چالیس مہریں برآمد ہوئیں۔ وہ حیران ہوئے کہ یہ عجیب آدمی ہے۔ ہم نے ایسا آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ امیر نے آپؒ سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے کہ تُو نے اس طرح پر اپنے مال کا پتہ بتا دیا؟ آپؒ نے فرمایا کہ میں خدا کے دین کی تلاش میں جاتا ہوں۔ روانگی پر والدہ صاحبہ نے نصیحت فرمائی تھی کہ جھوٹ کبھی نہ بولنا۔ یہ پہلا امتحان تھا۔ مَیں جھوٹ کیوں بولتا۔ یہ سن کر امیر قزاقاں رو پڑا اور کہا کہ آہ! میں نے ایک بار بھی خدا تعالیٰ کا حکم نہ مانا۔ چوروں سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس کلمہ اور اس شخص کی استقامت نے میرا تو کام تمام کر دیا ہے۔ میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا اور توبہ کرتا ہوں۔ اس کے کہنے کے ساتھ ہی باقی چوروں نے بھی توبہ کر لی۔‘‘

(بحوالہ ملفوظات جلد اول صفحہ50 ایڈیشن2003ء)

تو دیکھیں نیک ماں کی نیکی کی نصیحت کئی لوگوں کی ہدایت کا موجب بنی۔

ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے: ’’یتیم وہ بچہ نہیں ہے جسے اسکے والدین دنیا میں‌تنہا چھوڑ گئے ہوں، اصل یتیم تو وہ ہیں جن کی ماؤں کو تربیتِ اولاد سے دلچسپی نہیں ہے اور باپ کے پاس انکو دینے کے لیے وقت نہیں۔‘‘ اور جب مائیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرتی ہیں تو ان کی اولاد معاشرے میں کیا مقام پاتی ہے اسی حوالے سے ایک واقعہ پیش کرنا چاہوں گی۔

تاریخ اسلام سےایک مثالی ماں کا نمونہ: تاریخ اسلام سےایک ایسی والدہ کا ذکر ملتا ہے جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت ایسے بہترین رنگ میں کی کہ وہ بڑا ہو کر قوم کا امام کہلایا ان کی والدہ حضرت اُمّ ربیعہ قرون اوّل کی ایک باکمال خاتون تھیں جن کی گود صحیح معنوں میں گہوارۂ علم و عرفان ثابت ہوئی اور جس نے امام ابو عثمان ربیعہ الراعی جیسا بزرگ عالم دین پیدا کیا۔ جب وہ حمل سے تھیں توان کےشوہر فروخ نے جہاد پرجاتے وقت اپنی اہلیہ کو اپنی کل جمع پونجی تیس ہزار اشرفیاں دیں اور کہا کہ انہیں احتیاط سے رکھنا۔ اور میرے جانے کے بعد اللہ تمہیں لڑکا یا لڑکی دے تو اس کی پرورش عمدہ طریقے سے کرنا، جب ربیعہ سن شعور کو پہنچے تو والدہ نے ان کی تعلیم و تربیت پر اپنے شوہر کی چھوڑی ہوئی تمام اشرفیاں خرچ کر دیں۔ربیعہ بے حد ذہین اور محنتی تھے انہوں نے چھوٹی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور پھر چند سالوں میں قرآن، حدیث، فقہ، ادب اور دوسرے تمام علوم پر ایسا عبور حاصل کیاکہ ان کے علمی کمالات کی سارے عرب میں دھوم مچ گئی اور بائیس برس کی عمر میں آپ امام ربیعہ الراعی کہلانے لگے۔

آپؒ کا معمول تھا کہ روزانہ مسجد نبوی میں لوگوں کو درس دیتے تھے۔ ستائیس برس کے بعد جب والد جہاد سے لوٹے تو بیٹے نے باپ کو نہ پہچانےکی بنا پرگھر میں داخل نہ ہونے دیا۔ اس پہ انہوں نے اپنا تعارف کر وایا توبیوی نے پہچان کربیٹے کو بتایا کہ یہ تمہارے والد ہیں۔جب فروخ نے بیوی سے رقم کی بابت پوچھاہے تو بیوی نے کہا مَیں نے یہ تمام رقم اس کی تعلیم پر خرچ کر دی اورآپکے بیٹے کو ایک ایسے خزانے کا مالک بنا دیا جس کو کبھی زوال نہیں۔‘‘

(ماخوذحیاۃ الامام ربیعۃ بن فروخ از تاریخ دمشق از حافظ ابن عساکر شائع شدہ 26؍جمادی الاولیٰ 1428ھ بمطابق 11؍ جون 2007ء)

حضرت امّاں جانؓ (حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ) کا طریقِ تربیت :تاریخ سے ہمیں ایسی ایسی عظیم الشان ماؤں کی مثال نظر آتی ہے جنہوں نے اپنی اولاد کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ڈال دی۔ حضرت ہاجرہ کی تقلید میں خدا کے فضل سے ایسی مائیں پیدا ہو رہی ہیں جو اپنے بچوں کو خدا کی رضا کی خاطر قربانی کے لیے تیار کرتی ہیں یہ اسلام کے دورِ اول میں بھی تھیں اور دورِ آخر میں بھی ہیں۔ حضرت سیّدہ اماں جان نے حضرت مسیح موعودؑ کے وصال کے وقت بچوں کو یوں تسلی دی کہ ’’بچو !خالی گھر دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لیے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لیے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے۔جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔‘‘

(محسنات مرتبہ امۃ الباری ناصر لجنہ کراچی صفحہ58)

ہر شخص کو اپنے گھر میں تربیت اولاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔…اس سلسلہ میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم تحریر فرماتی ہیں:
’’اصولی تربیت میں مَیں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کو کر کے بھی حضرت والدہ صاحبہ سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی …مگر جو آپ کے اصولِ اخلاق و تربیت ہیں ان کو دیکھ کر مَیں نے یہی سمجھا ہے کہ خاص خدا کا فضل اور خدا کے مسیح علیہ السلام کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا؟

1: بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کریں۔ اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصولِ تربیت ہے۔

2: جھوٹ سے نفرت اور غیرت و غنا آپ کا اوّل سبق ہوتا تھا۔ ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچہ میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔ …حضرت امّ المومنین ہمیشہ فرماتی تھیں کہ ’’میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے‘‘ اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا۔… بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ ’’پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔‘‘

استانی سکینۃ النساء بیگم تحریر فرماتی ہیں:
’’حضرت ام المومنینؓ نے نرمی اور سختی سے بھی بار ہا یہ بات بیان فرمائی ہے کہ جھوٹ بولنا اور مبالغہ آمیز بات کرنا کبیر گناہ ہے…حضرت امّ المومنینؓ اپنے بچوں، بہو، بیٹیوں کی عبادات وغیرہ کے متعلق پوری توجہ سے نگرانی فرماتیں۔ نماز تہجد کا خاص اہتمام فرماتیں اور ہمیشہ خاندان کے افراد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی تاکید فرماتی رہتیں۔‘‘

(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم ؓحصہ اوّل صفحہ273,274 مصنف شیخ محمود احمد عرفانی ایڈیشن فروری 2019ء)

’’حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ جن کی تربیت (حضرت) امّاں جان ؓکی گود میں ہوئی۔فرماتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی سلام کرنے کی عادت امّاں جانؓ نے ڈالی تھی۔ نماز کا وقت ہوتا تو وضو کروا کر نماز کے لئے بھیج دیتیں۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھلواتیں۔ بسم اللہ اونچی آواز میں پڑھتیں، ساتھ مَیں بھی پڑھتا۔ عصر کے بعد کھیلنے کے لئے بھیجتیں لیکن حکم تھا کہ مغرب کی اذان کے ساتھ گھر آجاؤ اور پھر مغرب کے بعد کہیں بھی جانے کی اجازت نہ ہوتی۔ بڑے ہوکر کوئی ضروری جماعتی کام ہوتا تو نکل سکتا تھا ورنہ کسی اپنے کے گھر جانے کی اجازت بھی نہ تھی۔

(بحوالہ روز نامہ الفضل 19اپریل 2012ء صفحہ6 کالم3)

مزید فرماتے تھے:
’’… حضرت امّاں جانؓ تربیت کرنے کے لیے اس بات کابھی خیال رکھتیں کہ گھر کے بچے اور دوسری یتیم لڑکیاں جو آپ کے گھر پل رہی تھیں، اچھی عادتوں والے بچوں کے ساتھ ہی کھیلیں تاکہ ان میں کسی دوسرے گندے بچے کی بری عادت نہ پڑے اور بچے بری صحبت سے دور رہیں۔ آپ جب بھی کسی بچے کی کوئی بری بات دیکھتیں تو اس طرح نصیحت فرماتیں کہ اس کی اصلاح بھی ہوجائے اور خواہ مخواہ دوسروں کے سامنے شرمندگی بھی نہ اُٹھانی پڑے۔‘‘

(سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا، از صاحبزادی امۃ الشکور، شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان، صفحہ نمبر29)

حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ فرماتی ہیں کہ جب مَیں چھوٹی سی لڑکی تھی تو حضرت مسیح موعودؑ نے کئی بار فرمایا کہ میرے ایک کام کے لئے دعا کرنا۔ یہ اس لئے ہوتا تھا کہ ہم بچوں کو بھی دعا کی عادت پڑے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ بڑے پیار سے فرماتے کہ ’’میرے لئے دعا کرتی ہو؟‘‘ اور ’’میرے لئے بھی دعا ضرور کیا کرو۔‘‘ آپؓ ہم چھوٹی لڑکیوں سے بھی فرماتے کہ ’’اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی شرم نہیں۔ تم چھوٹی ضرور ہو مگر خدا سے دعا کرتی رہا کرو کہ اللہ تعالیٰ مبارک اور نیک جوڑا دے۔‘‘

(ماخوذ از تحریرات مبارکہ صفحہ 69تا71)

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ فرماتے ہیں کہ میری والدہ کو اگر کبھی ہلکا سا بھی احساس ہوتا کہ مَیں قرآن کریم کی تلاوت اور دینی لٹریچر کے مطالعہ کی طرف پوری توجہ نہیں دے رہا تو ناپسندیدگی کا اظہار فرماتیں بلکہ زجروتوبیخ بھی کرتیں۔ وہ بچوں سے بے جا لاڈ پیار کی قائل نہیں تھیں خواہ بچے بیمار ہی کیوں نہ ہوں۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ بے جا لاڈپیار بچوں کی شخصیت کو تباہ کردیتا ہے۔

(بحوالہ روزنامہ الفضل 19اپریل 2012ء صفحہ6کالم 4)

والدہ کی نیک صحبت کا اثر :ماں باپ کی اپنی تربیت اور اخلاق کا اثر اولاد پر پڑتا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ فرماتے ہیں۔ ’’میری والدہ کو قرآن کریم پڑھانے کا بڑا ہی اتفاق ہوتا تھا۔ انہوں نے تیرہ سال کی عمر سے قرآن کریم پڑھانا شروع کیا تھا۔چنانچہ یہ ان کا اثر ہے کہ ہم سب بھائیوں کو قرآن شریف سے بہت ہی شوق رہا ہے۔‘‘

(مرقاۃالیقین فی حیات نور الدین مرتبہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی صفحہ196 ایڈیشن 2009ء)

(درثمین احمد آصف۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

ورچوئل ملاقات میں شمولیت کے بعد جذبات

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 ستمبر 2021