• 30 نومبر, 2021

آنحضور کے عاشق صادق حضرت مسیح موعودؑ ہی ایمان کو ثریا سے لے کر واپس آئے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شرائطِ بیعت کی دسویں شرط میں اپنے سے تعلق اور محبت اور اخوت کو اُس معیار تک پہنچانا لازمی قرار دیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی رشتے میں نہ ملتی ہو۔ یہ مقام آپ کی بیعت میں آنے کے بعد آپ کو دینا کیوں ضروری ہے؟ اس لئے کہ آپ ہی اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ عاشقِ صادق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ایمان کو ثریا سے زمین پر لے کے آئے۔ اسلامی تعلیم میں داخل ہونے والی بدعات کو دور فرما کر اسلام کی خالص اور چمکتی ہوئی تعلیم کو پھر سے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی مقام اور مرتبے کی پہچان ہمیں کروائی اور بندے کو خدا تعالیٰ سے ملایا۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’میں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفتِ کاملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔‘‘

(حقیقۃالوحی روحانی خزائن جلد22 صفحہ64-65)

پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی اور عشق میں فنا ہونا آپ کا خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا اور پہنچانے کا باعث بنا۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشقِ صادق کو بھی اپنے تک پہنچنے کے ذریعہ میں شامل فرما کر آپ علیہ السلام سے تعلق اور محبت کو اور اخوت کے رشتے کو ضروری قرار دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بھی محبت کے وہ نظارے دکھائے جس نے آخرین کو اولین سے ملا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس سلوک کے بارے میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اُس سے محبت کرتا ہے۔ تب زمین پر اُس کے لئے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اُس کی ڈال دی جاتی ہے اور ایک قوتِ جذب اُس کو عنایت ہوتی ہے اور ایک نور اُس کو دیا جاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘

(حقیقۃالوحی روحانی خزائن جلد22 صفحہ65)

پس یہ مقام اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ملا۔ اِس وقت میں آپ علیہ السلام سے سچی محبت کرنے والوں کے، آپ سے عشق کا تعلق رکھنے والوں کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔

حضرت اللہ یار صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور کے ساتھ میری ملاقات بہت دفعہ ہمیشہ ہوتی رہی اور مجھے شوق تھا کہ حضور کو ہاتھوں سے دبایا کرتا تھا۔ الہام اور حضور کا کلام پاک سنا کرتا تھا (یعنی مجالس میں بیٹھ کے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعض الہامات وغیرہ کا ذکر فرماتے تھے تو اُن کو سنا کرتا تھا)۔ اسی شوق میں مَیں قادیان ہجرت کر کے آیا (کہ ہمیشہ یہ باتیں سنتا رہوں) تو یہاں آکر لکڑی وغیرہ کا کام شروع کیا carpentary کا)۔ میرے پاس کافی روپیہ تھا جو کہ خرچ ہو گیا اور جو لے کے آیا تھا وہ بھی خرچ ہو گیا اور پاس کچھ نہ رہا۔ پھر کہتے ہیں میں نے ایک دن حلوہ بنا کر بیچنا شروع کیا اور حضور کے بیت الدعا کے نیچے پکارا کہ تازہ حلوہ۔ حضرت امّ المؤمنین نے میری آوازوں کو سن لیا اور جانتی بھی تھیں۔ تو کہتی ہیں یہ ٹھیکیدار نے کیا کام شروع کیا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ ’’پروانے شمع پر گرتے ہیں اور کیا کریں؟‘‘ یہ اسی کام کے لئے یہاں آیا ہے۔ کچھ نہ کچھ تو انہوں نے گزارے کے لئے کرنا ہے۔ تو حضرت امّ المؤمنین نے فرمایا کہ ٹھیکیدار ہے۔ (شاید ان کے زمانے میں ٹھیکیداروں کے پاس گدھے تھے۔ جن سے سامان ادھر اُدھر لے جایا جاتا تھا کہ) گدھے لے کر باہر کیوں نہیں چلا جاتا؟ حضور نے فرمایا کہ وہ گدھے والا نہیں ہے۔ تو حضرت امّاں جان نے فرمایا کہ کسی کی نوکری کر لے۔ حضور نے فرمایا کہ یہ اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں ہے۔ خیر یہ گفتگو ہوتی رہی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ لکڑی کا کام ہی جانتا ہے وہی کر سکتا ہے۔ اُس میں خدا برکت دے۔ کہتے ہیں: مَیں نیچے یہ ساری باتیں سُن رہا تھا۔ اس کے بعد حضور نے مجھے بلایا کہ آپ کے پاس کچھ لکڑی ہے؟ تو مَیں نے عرض کی بیری کی ہے۔ پیپل کی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ مہمان خانے کے لئے چارپائیوں کے پائے چاہئیں۔ کیا پائے بن جاویں گے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اُسی وقت ایک مختار جو حضور کا تھا، اُس نے کہا کہ پیپل کے پائے زیادہ دیر نہیں چلتے۔ حضور نے فرمایا کہ جس کے لئے بنوانے ہیں وہ خود پیپل پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے بیکار پیدا نہیں کیا اور مجھے بیس جوڑی کا حکم دیا۔ (یعنی کسی کارکن نے کہا کہ نہ بنوائیں۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ جو ہے بنا دو۔ یعنی دونوں طرف سے یہ تعلق قائم تھا۔) (ماخوذازرجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد5 صفحہ52-53روایت حضرت اللہ یار صاحبؓ)

پھر حضرت ملک خان صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ مَیں 1902ء میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قادیان دارالامان میں آیا۔ یہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ جب ہم آئے، اُسی دن بیعت کی یا دوسرے دن۔ ہاں یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد ہم بیعت کے لئے پیش ہوئے۔ حضرت شہید مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ میں ہاتھ دئیے اور پھر دوسرے نمبر پر خاکسار نے ہاتھ رکھے۔ بیعت کرنے کے بعد اس خاکسار نے غالباً دو تین یوم قادیان دارالامان میں گزارے ہوں گے کہ شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ مَیں نے رؤیا دیکھی ہے کہ آپ کو خوست کے حاکم تکلیف دیں گے۔ اس لئے تم فوراً واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ میں دو تین یوم بعد واپس چلا گیا۔ میرے ساتھ ایک مُلّا سپین گل صاحب بھی واپس چلے گئے۔ شہید مرحوم ہمیشہ فرمایا کرتے تھے (حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا یہ واقعہ ہے جو آپ سے عشق کا یہ بیان فرما رہے ہیں کہتے ہیں کہ فرمایا کرتے تھے) مَیں نے اپنے سے زیادہ عالم نہیں دیکھا۔ یہ محض خداوند تعالیٰ کا فضل ہے۔ یعنی صاحبزادہ صاحب اپنے آپ کو فرماتے ہیں کہ مَیں نے اپنے سے بڑا اس وقت تک کوئی عالم نہیں دیکھا ورنہ میں اُس کے پاؤں چومتا۔ چنانچہ کہتے ہیں جب یہاں آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت کی تو کہتے ہیں۔ مَیں نے اپنی آنکھوں سے شہید مرحوم کو دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاؤں مبارک چومے۔ اس طرح جو فرمایا تھا اُس کی تصدیق فرمائی۔)

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد5 صفحہ82 روایت حضرت ملک خان صاحبؓ)

(خطبہ جمعہ 11؍ مئی 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

خطبہ جمعہ مؤرخہ 3؍ستمبر 2021ء (بصورت سوال و جواب)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اکتوبر 2021