• 27 نومبر, 2021

آنحضرت ﷺکے اخلاق حسنہ و اخلاق فاضلہ

Nabi

کسی نے کیا خوب کہا ہے :

؎حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضاداری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

عبداللہ بن سلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے اور یہودی ان کا بہت احترام کرتے تھے، انہوں نے جب پہلی بار سیدنا محمد عربیؐ کو دیکھا تو بے اختیار پکار اٹھے :

’’خدا کی قسم یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا‘‘۔

چنانچہ آپ رسول اللہ ؐ کا چہرہ دیکھ کر مسلمان ہو گئے اور انہی سے رسول اللہ کی یہ حدیث بھی مروی ہے جس میں رسول خدا ؐ نے فرمایا:
’’اے لوگو ! سلام کو رواج دو۔ ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ اگر تم ایسا کرو گے تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

(ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ بحوالہ حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 493)

رسول کریم ؐ نے اپنی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ کہ میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے معبوث کیا گیا ہوں۔ بلاشک و شبہ آنحضرت ؐ نے مکارم اخلاق کے بہترین نمونے قائم کئے اور ہر خلق کو اس کے معراج تک پہنچایا یہی وجہ تھی کہ خدائے رب عزوجل نے بھی قرآن کریم میں آپ کے اخلاق کی اس رنگ میں گواہی دی:

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ

(القلم: 5)

اے نبی! یقینا ً آپ عظیم الشان اخلاق فاضلہ پر قائم ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ ؐ کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔ جیسے فرمایا اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ۔ یوں تو آنحضرت ؐ کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں مگر آپ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر اُن سب سے اول ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی‘‘

(ملفوظات جلد نمبر1 صفحہ141)

جس طرح مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب A Ranking Of The Most Influential Persons Of History 1987 NY میں مصنف لکھتا ہے کہ دنیا کی مؤثر ترین شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر پر محمد ؐ کا انتخاب کرنے پر غالباً کچھ لوگ حیران ہوں گے اور …… لیکن تاریخ انسانی میں آپ وہ تنہا شخصیت تھے جو مابہ الامتیاز مذہبی اور دنیوی سطح پر کامیاب رہے تھے۔

فاضل مصنف نے اربوں انسانوں کو جو اَب تک زمین پر پیدا ہو چکے ہیں ان میں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے مؤثر ترین انسان قرار دیا جس نے تاریخ انسانی میں زیادہ اور دیر پا اثر چھوڑا ہے۔ ایسا اثر جس نے لوگوں کی زندگیوں کو خاص رنگ میں رنگین کیا اور دنیا کو بھی ایک خاص رنگ میں ڈھال دیا۔

(ترجمہ از انگریزی مترجم محمد زکریا ورک آف کینیڈا ) (اسوہ کامل صفحہ828)

آپ کے اخلاق فاضلہ کو احاطہ تحریر میں لانا اور ان کو شمار کرنا مجھ گنہگار کے بس کی بات نہیں اور میرے خیال میں کسی کے بھی بس کی بات نہیں۔ تا ہم وقت کی مناسبت سے میں چند ضروری امور بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔

اللہ تعالیٰ سے محبت

سب سے اول آپ کی اللہ تعالیٰ سے محبت اس کی عبادت، نماز سے محبت اور ذکر الٰہی اور دعاؤں کی اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ بھی پکار اٹھے:

عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَّبَّہٗ۔

خدا تعالیٰ کے ساتھ یہی وہ محبت تھی، یہی وہ عشق تھا کہ عین جوانی میں غارِ حرا میں جا کر آپ دن رات اسکی عبادت میں مصروف رہتے۔

نماز آپ کی روح کی غذا تھی، اگرچہ امت کی سہولت کی خاطر آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب کھانا لگ جائے تو پہلے کھانا کھا لو مگر اپنا یہ حال ہے کہ جب ایک دفعہ کھانا کھا رہے تھے تو حضرت بلالؓ نے آواز دی کہ ’’نماز کا وقت ہو گیا ہے‘‘ اگلے ہی لمحہ آپ نے کھانا چھوڑ دیا اور سیدھے نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

(ابوداؤد،کتاب الطھارۃ بحوالہ اسوہ انسان کامل صفحہ57)

جنگ کی ہنگامی حالت میں بھی نماز کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ غزوہ بدر میں آپ اپنے خیمہ میں سر بسجود خدا کے حضور رو رو کر دعائیں کر رہے تھے کہ اے خدا اگر یہ عبادت گزار تباہ ہو گئے تو کون تیری عبادت کرے گا۔ دراصل آپ نے نماز اور نمازیوں کی حفاظت کے لئے ہی دعا فرمائی اور یہ جنگ دعاؤں کے ذریعہ ہی جیتی گئی۔

نماز سے ایسی محبت کا عالم تھا کہ جس بیماری سے آپ فوت ہوئے ہیں اس سے تھوڑا سا پہلے جب بیماری سے افاقہ ہوا تو اسی کمزوری کی حالت میں دو صحابہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اور سہارا لیکر مسجد میں نماز کے لئے پہنچے، اور حالت یہ تھی کہ کمزوری سے پاؤں زمین پر گھسٹتے جا رہے تھے۔ دنیا میں آپ کی آخری خوشی بھی نماز ہی تھی جس دن آپ کی وفات ہوئی ہے اس دن فجر کی نماز کے وقت اپنے حجرے کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو صحابہ عبادت میں مشغول تھے۔ اپنے غلاموں کو نماز میں دیکھ کر آپ کا دل خوشی سے بھر گیا اور چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔

(بخاری، کتاب الاذان بحوالہ اسوہ کامل صفحہ60)

ایک دفعہ حضرت عائشہؓ کے ہاں آپ کی باری تھی۔ اور یہ باری نویں دن آتی تھی، موسم سرما کی رات تھی بستر پر لیٹ جانے کے بعد حضرت عائشہ سے فرماتے ہیں کہ عائشہ !
’’اگر اجازت دو تو آج رات میں اپنے رب کی عبادت میں گذار دوں۔ وہ بخوشی اجازت دیتی ہیں اور آپ ساری رات عبادت میں روتے روتے سجدہ گاہ تر کر دیتے ہیں۔‘‘

(انسان کامل، صفحہ 69)

آپ نے اپنی آخری بیماری اور وفات کے وقت جو کچھ مسلمانوں کو وصیت فرمائی تھی وہ یہ تھی:

اَلصَّلٰوۃُ اَلصَّلٰوۃُ………

اے لوگو! اے مسلمانو! نماز کی حفاظت کا خاص خیال رکھنا۔

پھر اسی وجہ سے آپ نے مسلمانوں کو نماز کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ نماز باجماعت کا 27گناہ زیادہ ثواب ہے اور فرمایا:

قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ

یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔

قبولیت دعا

جہاں آپ کو عبادت کا شغف تھا۔ وہاں مسلمانوں کو بھی آپ نے اس بات کی ترغیب دلائی کہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں۔ خواہ وہ دینی امر سے متعلق ہوں یا دنیوی امر سے اس کا تعلق ہو۔ ہر حال میں خداتعالیٰ سے مدد مانگنا اس کے در پر جھکنا اور اس سے تعلق جوڑنا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ تنگی کے وقت اس کی دعائیں سنے اسے چاہئے کہ حالت آرام میں بھی دعائیں کرے۔ آپ نے مسلمانوں کو ہر موقع کی دعائیں سکھائیں۔ اور ذکر الٰہی کے لئے آداب اور طریق سکھائے۔

آپ کی قبولیت دعا کے صرف دو واقعات ہی بیان کر سکوں گا۔

حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ مشرکہ تھیں۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ اپنی والدہ کو بار بار اسلام کی تبلیغ کرتے تھے لیکن ان کی والدہ نہ صرف انکار کرتیں بلکہ رسول خدا کو بھی لعن طعن کرتیں۔ ایک دفعہ آپ اپنی والدہ کو تبلیغ کر کے اسلام کا پیغام پہنچا رہے تھے تو ان کی والدہ نے رسول خدا کو گالیاں دینا شروع کیں اور آپ کی شان میں بہت بدزبانی کی۔ جس سے حضرت ابوہریرہؓ کا دل چھلنی ہو گیا آپ روتے روتے حضور ؐ کی خدمت اقدس میں پہنچے اور اپنی والدہ کے لئے دعا کی درخواست کی۔ آنحضرت ؐ نے اسی وقت آپ کی والدہ کے لئے دعا کی اور فرمایا کہ گھر جاؤ!

چنانچہ آپ گھر آئے تو دروازہ بند تھا۔ آپ نے کھٹکھٹایا تو والدہ نے جواب دیا کہ انتظار کرو۔ تھوڑی دیر کے بعد والدہ نے دروازہ کھولا تو بتایا کہ میں غسل کر رہی تھی، میں پاک صاف ہو رہی تھی تاکہ اسلام قبول کروں اور اَشْھَدُ اَنَّ لَّآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھ کر مسلمان ہو گئیں۔ یہ آنحضرت ؐ کی دعا کا نتیجہ تھا۔

دوسرا واقعہ حضرت عمرؓ کی قبولیت اسلام کا ہے۔ حضرت عمر بھی قریش کے سرداروں میں سے بڑے بارعب اور پر اثر شخصیت تھے۔ جب آنحضرت ؐ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو حضرت عمرؓ ان لوگوں میں سے تھی جو حضورؐ اور آپ کے صحابہ کو تکالیف پہنچاتے تھے۔ اور جن غلاموں نے اسلام قبول کر لیا تھا انہیں بھی بڑی سخت قسم کی ایذائیں دیتے تھے۔ ان کے قبول اسلام کا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن گھر سے تلوار لیکر نکلے کہ میں آج محمدؐ کو قتل کر دوں گا۔ راستہ میں کسی نے دیکھ لیا تو پوچھا عمر کدھر کا ارادہ ہے؟ عمر نے بتایا کہ میں محمد سے تنگ آچکا ہوں انہیں قتل کرنے جا رہا ہوں۔ چنانچہ اس شخص نے کہا کہ پہلے تم اپنے گھر کی خبر تو لو تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں اسلام اختیار کر چکے ہیں۔ چنانچہ آپ سیدھے بہن کے گھر آئے اور دروازہ ہی میں سے تلاوت قرآن ان کے گھر سن لی۔ اندر گئے تو بہن سے پوچھا کہ کیا ہو رہا تھا۔ اور ساتھ ہی بہن اور بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔ بہن نے بڑے زور دار الفاظ میں کہا عمر ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو کر لو بخدا اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺکی محبت جو دل میں گڑھ چکی ہے وہ اب نکلنے والی نہیں۔

بس بہن کے ان الفاظ نے جادو کا سا اثر کیا اور کہنے لگے کہ مجھے بھی قرآن سناؤ۔ بس پھر کیا تھا وہاں سے سیدھے آنحضرت ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب رسول خدا نے پوچھا عمر کیسے آنا ہوا؟ حضرت عمر نے جواب دیا اسلام لانے کے لئے۔ فضا اس وقت اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے نعروں سے گونج اٹھی۔ وہاں ایک موجود صحابی نے کہا خدا کی قسم! میں نے کل ہی آنحضرت ؐ کو دعا کرتے سنا آپ خدا کے حضور عرض کر رہے تھے کہ اے اللہ دو عمروں میں سے ایک دے دے۔ دو عمر سے مراد عمر بن ہشام جو ابوجہل کے نام سے مشہور ہے اور دوسرے عمر بن خطاب جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ

آنحضرت ﷺکی دعاؤں کی تاثیر

وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرہ گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے، اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے۔ اور آنکھوں کے اندھے بینا ہو گئے۔ اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں ایک دفعہ ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔ کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا۔ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کو دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَ حُزْنِہٖ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ وَ اَنْزِلْ عَلَیْہِ اَنْوَارَ رَحْمَتِکَ اِلَی الْاَبَدِ ……

(برکات الدعا صفحہ5)

دعاؤں میں آپ اپنے دشمنوں کو بھی یاد کرتے۔ ان کے لئے بھی ہمیشہ دعا کرتے۔ پتھر مارنے والوں، راستے میں کانٹے بچھانے والوں، آپ کے ساتھ بائیکاٹ کرنے والوں، لعن طعن کرنے والوں، کھانا پینا بند کر دینے والوں، قتل کے منصوبے کرنے والوں کے لئے یہ دعا کی:

اے اللہ ان لوگوں کو معاف کر دے یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔

کسی نے آپ سے کہا کہ اپنے دشمنوں کے لئے بددعا کریں۔ فرمایا:
میں لعنت کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ سلسلہ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

خطبہ جمعہ مؤرخہ 3؍ستمبر 2021ء (بصورت سوال و جواب)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اکتوبر 2021