• 30 نومبر, 2021

اسلامی اصطلاحات و آداب کی پر حکمت تعلیمات (از حضرت مصلح موعود ؓ)

اسلامی اصطلاحات و آداب کی پر حکمت تعلیمات
از افاضات حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد مصلح موعود ؓ

ہمارے آقا ہادی عالم، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی امت کے لئے روزمرہ کے آداب سکھانے میں ایک روشن نمونہ چھوڑا ہے۔ آپؐ کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا اور کھانا پینا محض اللہ کی خاطر تھا۔ہر موقع محل کے لئے آپ ؐ نے اللہ کی یاد کو مقدم رکھا اور اپنے اسوۂ حسنہ سے اپنی امت کو یہی درس دیا کہ ہر لمحہ اللہ کو یاد رکھیں جس کی عبادت کی خاطر ہماری تخلیق ہوئی ہے۔

اسلامی اصطلاحات یا آداب جو آنحضرت ﷺ نے قرآنی تعلیم اور اپنے اسوہ سے ہمیں سکھائے ان کا خوبصورت بیان سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے اپنے فرمودات و تحریرات میں کیا ہے اور ان کی پر معارف حکمتیں بھی بیان فرمائی ہیں۔ذیل میں حضرت مصلح موعود ؓ کے الفاظ میں ہی مختلف اسلامی آداب کا تذکرہ ہدیہ قارئین کیا جا رہا ہے:

ہر کام سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھایا کہ قرآن شریف پڑھنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنی چاہئےاور ہر ایک سورۃ کے شروع میں یہ آیت نازل فرما کر انسان پر یہ لازم کر دیا کہ ابتدا اسی آیت سے ہو۔ پھر حدیث کے ذریعہ ہر ایک بڑے کام سے پہلے اس کا پڑھنا سنت ہوا۔اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں یہ کام اپنے نفس کے لئے نہیں کرتا اور کوئی گندی اور ناپاک ناجائز خواہشات کو دل میں چھپائے ہوئے شروع نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور اسی پر بھروسہ کر کے اور اسی سے اس بات کی مدد مانگتے ہوئے کہ وہ مجھے ہر ایک قسم کی بد نیتوں اور شرارتوں سے بچائے، شروع کرتا ہوں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد13 صفحہ120)

بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ کر کھانا

آنحضور ؐ کے سفر طائف کا حال بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:
’’آپؐ کا دل ان زخموں کی وجہ سے بھی بوجھل تھا جو طائف کے اوباشوں کے پتھراؤ کی وجہ سے آپ کے جسم پر پڑ گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے انہی کفارِ مکہ کے دلوں کو آپ کے لئے نرم کر دیا جو ہمیشہ آپ کو تکلیفیں دیا کرتے تھے۔ عتبہ اور شیبہ اُس وقت اپنے باغ میں موجود تھے اور انہوں نے دور سے آپ کی ساری حالت دیکھ لی تھی جب انہوں نے یہ دیکھا کہ آپ سخت زخمی حالت میں ایک درخت کے سایہ کے نیچے بیٹھے ہیں تو ان کے دلوں میں دور ونزدیک کی رشتہ داری کا یا کچھ قومی احساس پیدا ہوا اور انہوں نے انگور کے کچھ خوشے توڑ کر ایک طشت میں رکھے اور اپنے ایک عیسائی غلام کے ہاتھ آپ کے لئے بھیجے۔ وہ غلام مذہباً عیسائی تھا اس نے طشت لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر انگور کھانے شروع کئے یہ دیکھ کر عیسائی غلام سخت حیران ہوا اور آپ سے کہنے لگا آپ مکہ کے رہنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! وہ کہنے لگا آپ نے پھر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کہاں سے سیکھی ہے؟آپ نے فرمایا میں بے شک مکہ کا رہنے والا ہوں مگر میں خدائے واحد کو ماننے والا ہوں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد19 صفحہ155،154)

بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ کر پینا

حضرت مصلح موعود ؓ حضرت ابو ہریرہ اور اصحاب الصفہ کو دودھ پلانے والی روایت یوں بیان فرماتے ہیں:
’’رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! حاضر ہوں۔ فرمایا یہ پیالہ لو اور ان کو پلاؤ۔میں نے پیالہ لیا اور اس طرح تقسیم کرنا شروع کیا کہ پہلے ایک آدمی کو دیتا جب وہ پی لیتا اور سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر میں دوسرے کو دیتا جب وہ سیر ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا۔اسی طرح باری باری سب کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ سب پی چکےاور سب سے آخر میں میں نے نبی کریم ﷺ کو پیالہ دیا آپ نے پیالہ لے لیا اور اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا ابو ہریرہ! عرض کیا یا رسول اللہ ! حاضر ہوں۔ حکم فرمایا اب تو تم اور میں رہ گئے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!درست ہے۔ فرمایا اچھا تو بیٹھ جاؤ اور پیو۔ پس میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیاجب پی چکا تو فرمایا کہ اور پیو۔میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا اور پیو۔اور اسی طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آخر مجھے کہنا پڑا کہ خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اب تو اس دودھ کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا۔اس پر فرمایا کہ اچھا تو مجھے دے دو۔میں نے وہ پیالہ آپ کو پکڑا دیا آپ نے خدا تعالیٰ کی تعریف کی اور بِسْمِ اللّٰہِ پڑھی اور باقی بچا ہوا دودھ پی لیا۔‘‘

(انوارالعلوم جلد1 صفحہ617)

اَعُوْذُ بِاللّٰہِ پڑھنا

’’لوگ مذاہب بناتے ہیں کوئی کہتا ہے گدی بن جائے، کسی کو حکومت کا شوق ہوتا ہے، کسی کو دولت جمع کرنے کا خیال۔غرض مختلف وجوہات ہیں جن سے لوگ دین اختیار کرتے ہوں گے۔کوئی عیسائی بنتا ہے تو اسے یہ بھی خیال آتا ہو گا کہ میرے ضلع کے ڈپٹی یا میرے صوبہ کے لیفٹیننٹ گورنر یا میرے ملک کے وائسرائے خوش ہو جائیں گے۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ وہی تعلیم دیتا ہے جس سے خدا کا قرب خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔وہ اپنے پیرؤوں کو تعلیم دیتے وقت ارشاد فرماتا ہے کہ شاید تمہارے دل میں کوئی وسوسہ آجائے۔ اس لئے اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ لینی چاہئے۔جن کو محض اپنا مذہب پھیلانے کا شوق ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں داخل ہو خواہ کسی طرح۔ مگر یہاں ارشاد ہے کہ یہ دروازہ عشق الٰہی کا ہے اس میں شیطانی ملونی سے نہ آؤ۔بلکہ شیطان پر لعنت بھیج کر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگ کر،پھر یہ اَعُوْذُ نہ صرف ابتداء میں ہے بلکہ انتہا میں بھی یہی ارشاد ہوتا ہے کہ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھ لو۔ جس سے یہ مراد ہے کہ الٰہی میں نے تیری کتاب کو پڑھا ہے۔ ممکن ہے کہ کئی قسم کے قصور سر زد ہوئے ہوں۔ اپنی عظمت کا خیال آگیا ہوکہ میں صوفی بن جاؤں۔ لوگ مجھے بزرگ کہیں، میرے پاؤں چومیں، پس اپنے رب کی پناہ میں آکر عرض کرتا ہوں کہ محض اسی کی محبت ہو جس کی خاطر میں لوگوں کو اس کی تلقین کروں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد اول صفحہ370)

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کی عادت

’’رسول کریم ﷺ کا ایمان حقیقی ایمان تھا۔ سب مسلمان اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہتے ہیں اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے معنیٰ یہ ہیں کہ سب سچی تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو ہر قسم کے نقصوں سے پاک اور تمام خوبیوں کا جامع ہے۔ پس جس کے لئے سب تعریفیں ہوں گی وہی سب سے زیادہ حسین ہوگا اور جو سب سے زیادہ حسین ہو گا وہی زیادہ محبوب اور مطلوب ہوگا۔ اس لئے جو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی حسین نہیں۔ لیکن اگر وہ اور چیزوں کی بھی پرستش کرتا ہے تو وہ حقیقت میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے ثمرات سے بے خبر ہے۔ یوں تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اپنے رنگ میں ہر ایک مذہب کا آدمی کہے گا مگر عمل اس کے مخالف ہو گا لیکن جن کو واقعی اس پر یقین ہو گا ان کا عمل ان کے ایمان پر گواہی دے گا۔ ان لوگوں کے مقابلہ میں جو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ تو کہتے ہیں مگر ان کے اعمال اس پر گواہی نہیں دیتے۔ رسول کریم ﷺ کو دیکھو۔ آپؐ نے بھی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا کہ خدا کے لئے سب خوبیاں ہیں۔ پھر آپؐ نے اس قول کو زندگی کے ہر ایک شعبے میں نباہا۔ فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے کہ ہم کچھ بھی (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) محمد(ﷺ) کے متعلق کہیں۔ ہم کہیں کہ وہ پاگل تھا، مجنون تھا، اس نے دنیا میں ظلم کئے، اس نے سوسائٹی میں تفرقہ ڈالا مگر ہم اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ اس کو خدا کے نام کا سخت جنون تھا۔ ہم اور کچھ بھی کہہ دیں مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کو خدا سے تعلق نہیں تھا۔ وہ جو کچھ بھی کرتا اور وہ جس حالت میں بھی نظر آتا، خدا کا نام ضرور اس کی زبان پر ہوتا۔ اگر وہ کھانا کھاتا تو خدا کا نام لیتا، اگر کپڑا پہنتا تو خدا کا نام لیتا، اگر پاخانہ جاتا تو خدا کا نام لیتا، پاخانہ سے فراغت پاتا تو خدا کا نام لیتا، شادی کرتا تو خدا کا نام لیتا، غم میں مبتلا ہوتا تو خدا کا نام اس کی زبان پر ہوتا، کوئی پیدا ہوتا تو خدا کا نام لیتا، کوئی مرتا تو خدا کا نام لیتا،اگر اٹھتا تو خدا کا نام لیتا، اگر بیٹھتا تو خدا کا نام لیتا، سونے لگتا تو خدا کا نام لیتا، جاگتا تو خدا کا نام لیتا، صبح ہوتی تو خدا کا نام لیتا، شام ہوتی تو خدا کا نام لیتا۔ بہرحال محمد(ﷺ) کو کچھ بھی کہو مگر اللہ کے لفظ کا اس کو ضرور جنون تھا۔

یہ نمونہ ہے آپؐ کے اعمال کا کہ دشمن سے دشمن بھی مجبور ہے اس بات کا اقرار کرنے پر کہ آپؐ کے لب پر ہر وقت اور ہر حال میں اور آپؐ کی ہر ایک حرکت و سکون میں خدا ہی نظر آتا تھا۔‘‘

(الفضل 14دسمبر 1918ء)

مقدمہ ہارنے پر بھی اللہ کی حمد

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد مرحوم بہت مدبّر اور لائق آدمی تھے مگر دنیادارانہ رنگ رکھتے تھے جب آپ جوان تھے تو آپ کے والد صاحب مرحوم کو ہمیشہ آپ کے متعلق یہ فکر رہتی تھی کہ یہ لڑکا سارا دن مسجد میں بیٹھا رہتا ہے اور کتابیں پڑھتا رہتا ہے یہ بڑا ہو کر کیا کرے گا اور کس طرح اپنی روزی کماسکے گا؟ آپ کے والد صاحب مرحوم آپ کو کئی کاموں کی انجام دہی کے لئے بھیجتے مگر آپ چھوڑ کر چلے آتے یہاں تک کہ زمین کے مقدمات کے بارہ میں ان کو آپ کے خلاف شکایت رہتی تھی کہ وقت پر نہیں پہنچتے۔ ایک دفعہ آپ کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گئے تو عین پیشی کے وقت آپ نے نماز شروع کر دی۔ جب آپ نماز ختم کر چکے تو کسی نے آکر کہا آپ کامقدمہ تو آپ کی غیرحاضری کی وجہ سے خارج ہو گیا ہے آپ نے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اِس سے بھی جان چھوٹی۔ جب آپ گھر پہنچے تو والد صاحب مرحوم نے ڈانٹا اور کہا تم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ مقدمہ کی پیشی کے وقت عدالت میں حاضر رہو۔ آپ نے فرمایا نماز مقدمہ سے زیادہ ضروری تھی (گو مقدمہ کے متعلق میں نے سنا ہے کہ بعد میں معلوم ہوا کہ مقدمہ آپ کے حق میں ہی ہوگیا تھا)‘‘

(انوارالعلوم جلد18 صفحہ603)

تسبیحات کا ورد

’’صحابہ ؓ ذکرِ الٰہی میں ترقی کرنےکی اتنی کوشش کیا کرتے تھے کہ ان کی یہ جدوجہد وارفتگی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی، احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ غرباء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ جس طرح ہم نمازیں پڑھتے ہیں، اسی طرح امراء نمازیں پڑھتے ہیں، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں اسی طرح امراء روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم حج کرتے ہیں اسی طرح امراء حج کرتے ہیں مگر یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ہم زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات اور چندے وغیرہ نہیں دے سکتے اس وجہ سے وہ نیکی کے میدان میں ہم سے آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی ایسی ترکیب بتائیں کہ امراء ہم سے آگے نہ بڑھ سکیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا، میں تمہیں ایک ایسی ترکیب بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو تم پانچ سَو سال پہلے جنت میں داخل ہو سکتے ہو، انہوں نے عرض کیا کہ وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ترکیب یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ لیا کرو، وہ وہاں سے بڑی خوشی سے اُٹھے اور انہوں نے سمجھا کہ ہم نے میدان مار لیا مگر کچھ دنوں کے بعد پھر وہی وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہؤا اور عرض کیا کہ ہم پر بڑا ظلم ہؤا ہے۔ آپ نے فرمایا کس طرح؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے ہمیں جو بات اُس روز بتائی تھی وہ کسی طرح امیروں کو بھی پہنچ گئی اور اب انہوں نے بھی یہ ذکر شروع کر دیا ہے ہم اب کیا کریں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر نیکی حاصل کرنے کا اُن کے دلوں میں اس قدر جوش پایا جاتا ہے تو میں انہیں روک کس طرح سکتا ہوں؟ یہ وہ فضیلت تھی جس نے صحابہؓ کو جیتی جاگتی مسجد بنا دیا تھا۔‘‘

(انوارالعلوم جلد16 صفحہ49)

اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
پڑھنے کی نصیحت

’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نےشکایت کی کہ چکی پیسنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ اسی عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے۔ پس آپ آنحضرت ﷺکے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔ جب آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے جناب کو حضرت فاطمہؓ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے۔ میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر ہم دونوں کے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔ جب آپ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمھیں کوئی ایسی بات نہ بتا دوں جو اُس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہو اور تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو پس یہ تمہارے لیے خادم سے اچھا ہو گا۔‘‘

(الفضل 24 دسمبر 1913ء)

بلند آواز اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا

’’ہمیں جو اسم اعظم دیا گیا ہے وہ اتنا ظاہر ہے کہ اسے کوئی چھپا ہی نہیں سکتا وہ نام ہے اللہ۔ یہ چھپانے والا نام نہیں بلکہ ظاہر کرنے والا نام ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ بلند آواز سے اذان میں اور نمازوں میں ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘ کہو۔ غرض اسلام میں ہی اللہ تعالیٰ کا اسم ذات پایا جاتا ہے اور وہ اللہ کا لفظ ہے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد6 صفحہ344)

بِسْمِ اللّٰہِ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ

’’جنگ احزاب کے موقع کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا تھا۔ صحابہؓ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور آکر عرض کیا کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا۔ آپؐ تشریف لائے۔۔۔رسول کریم ﷺ نے بِسْمِ اللّٰہِ کہہ کر کدال اپنے ہاتھ میں لی اور اُسے زور سے پتھر پر مارا تو اس میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا اور پتھر کا تیسرا حصہ ٹوٹ گیا۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَرُ مجھے حکومت شام کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں اس کے سرخ محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ پھر دوسری دفعہ رسول کریم ﷺ نے اس کدال کو پتھر پر مارا تو پھراس میں سے شعلہ نکلا اور پتھر کا ایک اورحصہ ٹوٹ گیا۔ اس پر پھر آپؐ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَرُ مجھے ایران کی کنجیاں بھی دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں مدائن کے سفید محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپؐ نے تیسری دفعہ کدال ماری جس سے پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور باقی پتھر بھی ٹوٹ گیا۔ اس پر آپؐ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اَللّٰہُ اَکْبَرُ مجھے یمن کی کنجیاں بھی دے دی گئی ہیں۔‘‘

(الفضل 21 فروری 1933ء)

سُبْحَانَ اللّٰہِ

’’رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کَلِمَتَانِ حَبِیْبَتَانِ إِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ فرماتے ہیں دو کلمے ایسے ہیں کہ رحمان کو بہت پیارے ہیں خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ زبان پر بڑے ہلکے ہیں۔ عالم، جاہل، عورت، مرد، بوڑھا، بچہ ہر شخص ان کلمات کو آسانی سے ادا کرسکتا ہے۔ اگر تم دوسال کے بچہ کو وہ کلمات سکھانا چاہو تو وہ بھی ان کو سیکھ جائے گا۔ اگر ایک بڈھے کھوسٹ کو وہ کلمات سکھانے لگو تو وہ بھی ان کو سیکھ لے گا۔ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَانِ لیکن قیامت کے دن جب اعمال کا وزن ہوگا تو جس شخص کی نیکیوں کے پلڑے میں وہ ہوں گے وہ اسے بہت بھاری بنا دیں گے اور اُسے دوسرے پلڑے سے نیچا کردیں گے۔ وہ کلمے یہ ہیں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔ یہ کتنا چھوٹا سا کلمہ ہے۔ اگر تم اپنے دوسالہ بچے کو یاد کرانا چاہو تو وہ بھی اسے آسانی سے یاد کرے گا۔‘‘

(خطبات محمود جلد25 صفحہ341)

نماز میں سہو کے وقت سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنے کی حکمت

’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمر و بن عوف میں گئے تا کہ ان میں صلح کر وائیں پس نماز کا وقت آگیا اور مؤذن حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ میں اقامت کہوں؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور پہلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ کی آمد کی اطلاع ہوئی تو لوگ تالیاں پیٹنے لگے (تا حضرت ابوبکرؓ کو معلوم ہو جائے) لیکن حضرت ابوبکرؓ نماز میں کسی دوسری طرف کچھ توجہ نہ فرماتے۔ جب تالیاں پیٹنا تطویل پکڑ گیا تو آپ متوجہ ہوئے اور معلوم کیا کہ رسول کریم ﷺ تشریف لائے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے آپ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور اس عزت افزائی پر خداتعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا اور حمد کی۔ پھر آپ پیچھے ہٹ گئے اور صف میں مل گئے اور رسول کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ سلام پھیرنے کے بعد فرمایا کہ اے ابوبکر!جب میں نے حکم دیا تھا تو پھر آپ کو کونسی چیز مانع ہوئی کہ نماز پڑھاتے رہتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا کہ ابن ابی قحافہ کی کیا حیثیت تھی کہ رسول کریم ﷺکے آگے کھڑا ہو کر نماز پڑھاتا۔ پھر آپ نے (لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ تم لوگوں نے اس قدر تالیاں پیٹیں۔ جسے نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے اسے چاہیے کہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے کیونکہ جب وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے گا تو خود ہی اس کی طرف توجہ ہو گی اور تالیاں پیٹنا تو عورتوں کا کام ہے۔

اس حدیث سے اگرچہ اور بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اس جگہ مجھے صرف ایک امر کی طرف متوجہ کرنا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺکی تمام عمر کی کوشش یہی تھی کہ جس جس طرح سے ہوسکے لوگوں کی زبان پر خدا کا نام جاری کیا جائے۔ خود تو جس طرح آپ ذکر میں مشغول رہتے اس کا حال میں بیان کر چکا ہوں مگر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر ایک کی زبان پر یہی لفظ دیکھنا چاہتے تھے۔

آپؐ کی آمد کی اطلاع دینے کے لیے اگر صحابہؓ نے تالیاں بجائیں تو یہ اُن کا ایک رواج تھا اور ہر ایک ملک میں اطلاعِ عام کے لیے یا متوجہ کر نے کے لیے لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔ آج کل بھی جلسوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی لیکچرار کی کوئی بات زیادہ پسند آئے تو اس پر تالیاں پیٹتے ہیں تاکہ لوگوں کو توجہ پیدا ہو کہ یہ حصہ لیکچر خاص توجہ کے قابل ہے۔ پس تالیاں بجانا اس کام کے لیے رائج ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی یادِ الٰہی سے محبت دیکھو کہ آپ نے دیکھا کہ بعض دفعہ ضرورت تو ہوتی ہے کہ لوگوں کو کسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے پھر کیوں نہ اسی ضرورت کے موقع پر بجائے اس بے معنی حرکت کے لوگوں کو اس طرف لگا دیا جائے کہ وہ اپنے خیالات اور جوشوں کے اظہار کے لیے بجائے تالیاں بجانے کے سُبْحَانَ اللّٰہِ کہہ دیا کریں۔ کم سے کم ایسے موقع پر ہی خدا کا ذکر ان کی زبان پر جاری ہو گا۔۔۔۔۔۔

یاد رکھنا چاہیے کہ انسان جب کبھی کسی شے کی طرف توجہ کرتا ہے یا اسے ناپسند کرنے کی وجہ سے یا پسندیدگی کے باعث۔ تو ان دونوں صورتوں میں سُبْحَانَ اللّٰہِ کے کلمہ کا استعمال نہایت باموقع اور بامحل ہے۔ اگر کسی انسان کے کسی فعل کو ناپسند کرتا ہے تو سُبْحَانَ اللّٰہِ اس لیے کہتا ہے کہ آپ سے کوئی سہو ہوا ہے۔ سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔ اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کوئی عمدہ کام کرلے تو اس میں بھی سُبْحَانَ اللّٰہِ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے۔ یہ کام جو کسی سے سرزد ہوا ہے یا یہ قول جو کسی کی زبان پر جاری ہوا ہے اپنی خوبی اور حسن میں خداتعالیٰ کی پاکیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔‘‘

(الفضل یکم اکتوبر 1913ء)

راہ مولیٰ میں تکلیف پر سُبْحَانَ اللّٰہِ کا ورد

حضرت مصلح موعود ؓ بیان فرماتے ہیں:
’’مولوی بُرہان الدین صاحب سِلسلہ کے بزرگوں میں سے تھے۔ 1903ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ بڑا شاندار استقبال ہوا لیکن وہاں دشمنوں نے گالیاں بھی دیں۔ جب حضور واپس آنے لگے تو لوگ پتھر مارنے لگے، پتھروں کی کثرت کی وجہ سے گاڑی کی کھڑکیاں بند کر دی گئیں۔ مولوی صاحب بیچارے بوڑھے آدمی تھے، وہ ان لوگوں کے قابو چڑھ گئے کبھی داڑھی کھینچتے، کبھی مکّے مارتے، کبھی دھکّے دیتے وہ چلتے جائیں اور کہتے جائیں ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ ساڈیاں ایسیاں قِسمتاں کِتّھوں‘‘ آخر لوگوں نے پکڑ کر اُن کے منہ میں گوبر ڈال دیا تو کہنے لگے ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ ساڈی قسمت وچ ایہہ نعمتاں کِتّھوں‘‘ تو مؤمن پر دین کی وجہ سے جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ اُس کی نجات کا موجب ہوتا ہے اِس سے اُسے گھبرانا نہیں چاہئے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد17 صفحہ13)

حَسْبُکَ اللّٰہُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہنا

’’یہ تعلیم کہ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے ہر وقت خدا کو یا درکھو۔ اس اخلاص، اس محبت، اس عشق، اس پیار، اس شیفتگی کا پتہ دیتی ہے جو نبی کریم ﷺ کو خدا سے تھی۔ پھر اسی تعلیم کا اثر دیکھ کر مسلمانوں کے بچے، بوڑھے، جوان، عورتیں سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔ کوئی بچہ گرتا ہے تو فوراً منہ سے حَسْبُکَ اللّٰہُ، جب کوئی خوشی ہوتی ہے تو زبانیں پکار اٹھتی ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ آخر یہ بات کس نے ان کے دل میں ڈالی؟ رسول کریم ﷺ نے۔ انسان اپنے پیارے کا نام کسی نہ کسی بہانے سے ضرور سننا چاہتا ہے۔ پس نبی کریم ﷺ کا پیارا تو خدا تھا۔ آپ نے ہر حرکت و سکون ہر قول و فعل سے پہلے پیارے کا نام بتا دیا۔‘‘

(انوارالعلوم جلد اول صفحہ369)

روزمرہ کے آداب اسلامی اور اذکار پڑھنے کا حکم

’’قرآن کریم کی تلاوت کی علاوہ دیگر اذکار تسبیح اور تحمید جنہیں انسان اکیلا بیٹھ کر کرے یا مجالس میں۔ اس ذکر کی بھی ایک قسم فرض ہے جیسا کہ جانور کے ذبح کرتے وقت تکبیر پڑھنا اگر اس وقت تکبیر نہیں پڑھی جائے گی تو جانور حرام ہو جائے گا۔ اور دوسری قسم نفل ہے جو دوسرے اوقات میں ورد کی صورت میں پڑھی جاتی ہے اور ان کو رسول کریم ﷺ نے بہت وسیع کیا ہے۔ یعنی آپ نے ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ کا ذکر رکھا ہے۔ مثلاً جب کھانا کھانے بیٹھو تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ لو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی نہیں پڑھے گا تو اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ بلکہ یہ ہے کہ جس غرض کے لئے کھانا کھایا جاتا ہے وہ اس طرح پورے طور پر حاصل ہو جائےگی۔ یعنی روحانیت کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا۔پھر ہر کام کے شروع کرنے کے وقت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کا حکم ہے۔ تا کہ اس کام میں برکت ہو۔اور جب اس کو ختم کر لیا جائے۔ تو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ پڑھا جائے۔ تا کہ اس کام میں برکت ہو۔ اسی طرح اگر کوئی نیا کپڑا پہنے یا کوئی اور نئی چیز استعمال کرے تو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کہہ کر اس کا شکریہ ادا کرے۔ ہر رنج اور مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھنا چاہئے۔ اگر کوئی بات اپنی طاقت اور ہمت سے بالا پیش آئے تو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہنا چاہئے۔

غرض یہ ذکر ان باتوں کے متعلق ہیں جو روزانہ پیش آتی رہتی ہیں۔ ہر ایک انسان کو دن میں یا خوشی ہو گی یا رنج پس اگر خوشی ہو تو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ کہے اور اگر رنج ہو تو اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ اور آنحضرتﷺ نے ہر حالت کے متعلق ذکر مقرر فرما دئیے ہیں اس لئے ان کے کرنے سے انسان ہر حالت میں خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جو دفتر میں بیٹھا کام کر رہا ہو وہ اگر اپنے متعلق خوشخبری سنے تو اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کہے۔ اگر چلتے ہوئے اسے خوشی کی بات معلوم ہو تو بھی اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کہے۔ اگر لیٹے ہوئے خوشی کی بات سنے تو اسی حالت میں اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ کہے۔ اس طرح خود بخود قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا رہے گا۔ پھر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اَفْضَلُ الذِّکْرِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ) جابر سے ترمذی میں روایت ہے کہ سب سے بہتر اور افضل ذکر یہ ہے کہ اس بات کا اقرار کیا جائے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔باقی اذکار کی بھی مختلف فضیلتیں ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم کی نسبت فرمایا ہے۔ کَلِمَتَانِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزِانِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمَانِ (بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ و نضع الموازین القسط) کہ دو کلمے ایسے ہیں کہ جو زبان سے کہنے میں چھوٹے ہیں مگر جب قیامت کے دن وزن کئے جائیں گے تو ان کا اتنا بوجھ ہو گا کہ ان کی وجہ سے نیک اعمال کا پلڑا بہت بھاری ہو جائے گا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں۔ یہ بھی بہت اعلیٰ درجہ کا ذکر ہے۔ حتٰی کہ ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعودؑ بیماری کے سخت دورہ میں تہجد کے لئے اٹھے اور غش کھا کر گر گئے اور نماز نہ پڑھ سکے تو الہام ہوا کہ ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہی پڑھ لیا کرو۔ تو یہ بھی بہت فضیلت رکھنے والا ذکر ہے۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کثرت سے اس کو پڑھتے تھے۔

ان دو ذکروں کو رسول کریم ﷺ نے افضل بتایا ہے۔ مگر ایک اور ذکر بھی افضل ہے گو اس کے متعلق رسول کریم ﷺ کا کوئی ارشاد محفوظ نہیں۔ مگر عقل بتاتی ہے کہ وہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہے اور وہ قرآن کریم کی آیات کا ذکر ہے۔ اگر ان کو ذکر کے طور پر پڑھا جائے تو دوہرا ثواب حاصل ہو گا۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے ذکر کا۔‘‘

(انوارالعلوم جلد3 صفحہ503۔504)

حصول تقویٰ کے مختلف اذکار

’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔ پڑھتا رہے۔ اس میں یہ سر ہے کہ جو کسی کی تعریف کرے وہ ممدوح چاہتا ہے کہ یہ بھی ایسا ہی بن جائے۔ نبی کریم ﷺ نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر زور دیا۔ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک ثابت کیا تو خدا نے فرمایا اے نبی!ہم نے تجھے بھی دنیا میں فرد بنا دیا۔ جو اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ کے خدا کی دل و جان اور اپنے عمل سے بڑائی بیان کرے اسے اللہ بڑا بنا دے گا۔ اور جو اس کی تسبیح کرے گا خدا اسے پاک بنا دے گا۔ اور جو اس کا حامد بنے گا وہ محمود ہو جائے گا۔‘‘

(انوارالعلوم جلد3 صفحہ305)

سُبْحَانَکَ کہنا

’’ایک نیکی یہ بھی ہے کہ تہمت کا ذب کیا جائے۔ یعنی اگر کوئی کسی پر تہمت لگائے تو اس کو رد کر دینا چاہئے۔یہ بھی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہے۔اور تہمت کی تائید کرنا بڑا گناہ ہے۔سورہ نور میں مومن کا خاصہ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تہمت کا ذب کرتا ہے اور کہتا ہے سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ پس مومن کو حسن ظنی کرنی چاہئے نہ کہ بد ظنی بعض لوگ کہے ہیں کہ ہم نے یہ حسن ظنی کی کہ جو بات کسی نے سنائی اسے مان لیا اور بیان کرنے والے کو جھوٹا نہ سمجھا مگر ہم کہتے ہیں اس طرح تم نے بد ظنی ہی کی۔ جو شخص موجود نہ تھا اس کے خلاف بات سن کر یقین کر لینا بد ظنی ہے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد7 صفحہ36)

استغفار کی عادت

’’رسول کریم ﷺکو دیکھو کیسی معرفت تھی، کیسی احتیاط تھی، کس طرح خداتعالیٰ سے خائف رہتے تھے اور باوجود اس کے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپ کامل تھے اور ہر قسم کے گنا ہوں سے آپ پاک تھے، خود اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان تھا مگر باوجود اس تقدیس اور پاکیزگی کے یہ حال تھا کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خائف رہتے، نیکی پر نیکی کرتے، اعلیٰ سے اعلیٰ اعمال بجا لاتے، ہر وقت عبادتِ الٰہیہ میں مشغول رہتے مگر باوجود اس کے ڈرتے اور بہت ڈرتے۔ اپنی طرف سے جس قدر ممکن ہے احتیاط کرتے مگر خداتعالیٰ کے غنا کی طرف نظر فرماتے اور اُس کے جلال کو دیکھتے تو اس بارگاہِ صمدیت میں اپنے سب اعمال سے دستبردار ہو جاتے اور استغفار کرتے اور جب موقع ہوتا توبہ کرتے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ وَاللّٰہِ إِنِّیْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ فِی الْیَوْمِ أَکْثَرَ مِنْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خدا کی قسم! میں دن میں ستر دفعہ سے زیادہ خداتعالیٰ کے حضور میں اپنی کمزوریوں سے عفو کی درخواست کرتا ہوں اور اس کی طرف جھک جاتا ہوں۔

رسول کریمﷺاللہ تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے پاک تھے نہ صرف اس لیے کہ انبیاء کی جماعت مَعْصُوْمُ عَنِ الْاِثْمِ وَالْجُرْمِ ہوتی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ انبیاء میں سے بھی آپ سب کے سردار اور سب سے افضل تھے۔ آپ کا اس طرح استغفار اور تو بہ کرنا بتاتا ہے کہ خشیتِ الٰہی آپ پر اس قدر غالب تھی کہ آپ اس کے جلال کو دیکھ کر بے اختیار اس کے حضور میں گر جاتے کہ انسان سے کمزوری ہو جانی ممکن ہے تُومجھ پر اپنا فضل ہی کر۔ وہاں تو یہ خشیت تھی اور یہاں یہ حال ہے کہ ہم لوگ ہزاروں قسم کے گناہ کر کے بھی استغفار و توبہ میں کوتاہی کرتے ہیں اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَیْہِ۔‘‘

(الفضل 23 جولائی 1913ء)

’’رسول کریم ﷺ نے یہ جو فرمایا ہے کہ جب میں کسی مجلس میں بیٹھتا ہوں تو ستر بار استغفار پڑھتا ہوں اس کا مطلب لوگوں نے غلط سمجھ کر یہ خیال کیا ہے کہ گویا نعوذ باللّٰہ آپ بھی گنہگار تھے۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنے متعلق استغفار نہ پڑھتے تھے۔ وجہ یہ کہ چونکہ آپ کا قلب بہت ہی صاف تھا اس لئے جب آپ مجلس میں بیٹھتے تو لوگوں کے جس قسم کے حالات ہوتے ان کا اثر رسول کریمﷺ تک پہنچتا۔ اور جب کسی کا برا اثر آپ تک پہنچتا تو آپ استغفار کرتے کہ اس میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے۔ پھر جب دوسرے کا اثر پہنچتا تو پھر آپ استغفار کرتے۔ کیونکہ نبی کو اپنے پیروؤں کی اصلاح کا خیال ہوتا ہے اور جب کسی میں کوئی کمزوری دیکھتا ہے تو اس کا دل دکھتا ہے۔ پس رسول کریم ﷺ جو استغفار کرتے تھے وہ دوسروں کی حالت کی وجہ سے ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ ان کی اصلاح کر دے اور ان کی کمزوریوں کو دور کر دے۔ اور ستربار استغفار سے مراد کثرت سے استغفار کرنا ہے کیونکہ ستر کا عدد عربی میں کثرت کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ گن کر آپ ستر دفعہ استغفار کرتے تھے۔‘‘

(الفضل 4 ستمبر 1922ء صفحہ4)

استغفار کرنے کی حکمت

’’جہاں آپؐ کی فتح کا ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے جو آپؐ کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ دیکھنا ہم آپؐ کو بہت بڑی فتح اور عزت دینی چاہتے ہیں اور بے شمار لوگوں کو آپؐ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں۔ پس یاد رکھو جب تمہارے بہت سے شاگرد ہو جائیں تو تم خدا کے حضور گر جانا اور کہنا کہ الہٰی! اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے آپ خود ہی ان نوواردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کردی جائے گی اور ان کی کمزوریوں اور بدیوں کو دور کرکے ان کو پاک کردیا جائے گا۔ لیکن ان سب باتوں کو ملانے سے جہاں ایک طرف یہ اعتراض مٹ جاتا ہے کہ آپؐ کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے وہاں دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت ایک قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خداتعالیٰ نے فتح کے ساتھ ہی استغفار کا ارشاد فرمایا ہے۔ کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کا جو وقت ہوتا ہے وہی وقت اس کے تنزل کے اسباب کو بھی پیدا کرتا ہے۔‘‘

(انوار خلافت انوارالعلوم جلد3 صفحہ162)

وفات پر اِنَّا لِلّٰہِ پڑھنا

’’آپ کی ایک سالی زینب بنت جحش بھی تھیں ان کے تین نہایت قریبی رشتہ دار جنگ میں شہید ہوگئے تھے۔ رسول کریم ﷺنے جب انہیں دیکھا تو فرمایا اپنے مردے کا افسوس کرو (یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ تمہارا عزیز مارا گیا ہے) زینبؓ بنت جحش نے عر ض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کس مُردے کا افسوس کروں؟ آپ نے فرمایا تمہارا ماموں حمزہؓ شہید ہو گیا ہے۔ یہ سن کر حضرت زینبؓ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا اور پھر کہا اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلند کرے وہ کیسی اچھی موت مرے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا اچھا اپنے ایک اور مرنے والے کا افسوس کر لو۔ زینب نے عرض کیا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ِﷺ کس کا؟ آپ نے فرمایا تمہارا بھائی عبداللہ بن جحش بھی شہید ہوگیا ہے زینب ؓ نے پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھا اور کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وہ تو بڑی ہی اچھی موت مرے ہیں۔ آپ نے پھر فرمایا زینبؓ! اپنے ایک اور مُردے کا افسوس کرو۔ اُس نے پوچھا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ کس کا؟ آپ نے فرمایا تیرا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے۔ یہ سُن کر زینبؓ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اُس نے کہا ہائے افسوس!! یہ دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو! عورت کو اپنے خاوند کے ساتھ کتنا گہرا تعلق ہوتا ہے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد19 صفحہ57)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنے کی عادت

’’رسول کریم ﷺ کی زندگی کے حالات پڑھ کر دیکھو کہ آپ ہمیشہ سلام کہنے میں سبقت کرتے تھے اور کبھی اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے کہ کوئی غریب آدمی آپ کو خود بڑھ کر سلام کرے بلکہ آپ کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ آپ ہی پہلے سلام کہیں۔ اس کے متعلق میں اس جگہ ایک ایسے شخص کی گواہی پیش کرتا ہوں جس کو آپ کی مدینہ کی زندگی میں برابر دس سال آپ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ میری مراد حضرت انسؓ سے ہے جن کو رسول کریم ﷺ نے مدینہ تشریف لانے پر ملازم رکھا تھا اور جو آپ کی وفات تک برابر آپ کی خدمت میں رہے۔ ان کی نسبت امام بخاریؒ روایت کرتے ہیں عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ مَرَّ عَلٰی صِبْیَانٍ فَسَلَّمَ عَلَیْہِمْ وَقَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُہٗ یعنی حضرت انسؓ ایک دفعہ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے تو آپؓ نے ان کو سلام کہا اور پھر فرمایا کہ آنحضرت ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے یعنی آپ بھی جب لڑکوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہا کرتے تھے۔

ان واقعات پر سرسری نظر ڈالنے والے انسان کی نظر میں شاید یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہو لیکن جو شخص کہ ہر ایک بات پر غور کرنے کا عادی ہو وہ اس شہادت سے رسول کریم ﷺ کی منکسرانہ طبیعت کے کمال کو معلوم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں امراء کے لیے اپنے سے چھوٹے آدمی کو پہلے سلام کہنا ایک نہایت سخت مجاہدہ ہے اور ممکن ہے کہ کبھی کبھار کوئی امیر ایسا کر بھی دے لیکن ہمیشہ اس پر قائم رہنا ایک ایسی بات ہے جس کا ثبوت کسی دنیاوی بادشاہ کی زندگی سے نہیں مل سکتا۔ پھر بچوں کو سلام میں ابتدا کرنا تو ایک ایسی بات ہے جس کی بادشاہ تو الگ رہے امراء سے بھی امید کرنا بالکل محال ہے۔ اور امراء کو بھی جانے دو کتنے بالغ و جوان انسان ہیں جو با وجود دنیاوی لحاظ سے معمولی حیثیت رکھنے کے بچوں کو سلام میں ابتدا کرنے کے عادی ہیں اور جب گلیوں میں بچوں کو کھڑا پاتے ہیں تو آگے بڑھ کر ان کو سلام کرتے ہیں۔ شا ید ایسا آدمی جو اس پر تعہد سے قائم ہو اور ہمیشہ اس پر عمل کرتا ہو ایک بھی نہ ملے گا۔ لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت حضرت انسؓ جیسے واقف کار صحابی جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے فرماتے ہیں کہ آپ جب بچوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو سلام کہتے تھے۔ اس شہادت میں آپؓ نے کئی باتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اول یہ کہ آنحضرت ﷺ انکسار کے اس اعلیٰ درجہ پر قدم زن تھے کہ بچوں کو سلام کہنے سے بھی آپ کو عار نہ تھا۔ دوم یہ کہ آپ ان کو سلام کہنے میں ابتدا کرتے تھے۔ سوم یہ کہ ایک یا دو دفعہ کی بات نہیں آپ ہمیشہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔‘‘

(انوارالعلوم جلد اول صفحہ620۔621)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کو رواج دینے کا حکم

’’خداتعالیٰ نے دو ایسے حکم دئیے ہیں جو اگرچہ شریعت کے قوانین نہیں ہیں تمدن سے تعلق رکھتے ہیں مگران پر بہت زور دیا گیا ہے کیونکہ ان کا اثر دین پر پڑتا ہے وہ حکم یہ ہیں:

اوّل یہ کہ جب کسی مکان میں داخل ہونے لگو تو داخل ہونے سے پہلے مکان میں رہنے والے سے اجازت حاصل کرلو۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو داخل ہو جاؤ۔

دوم یہ کہ جب مکان میں داخل ہو جاؤ تو انہیں سلام کرو۔

پہلے حکم کے متعلق یہ اَور فرمایا کہ اگر اندر آنے کی اجازت نہ ملے تو پھر داخل مت ہو۔ رسول کریم ﷺ نے اسی کی اور تشریح فرمادی ہے۔ قرآن کریم نے کہا ہے کہ پہلے اِذن مانگو اور پھر اگر اجازت پاؤ تو مکان میں داخل ہو اور اگر اجازت نہ ہو تو نہ داخل ہو۔ اس اِذن مانگنے کی رسول کریم ﷺ نے یہ تشریح فرمائی ہے کہ یہ اِذن تین دفعہ مانگو۔تین دفعہ کے بعد اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ آؤ۔ یہ نہیں کہ بار بار آوازیں دیتے یا کنڈی کھٹکھٹاتے رہو۔ا گر کسی کو داخل ہونے کی اجازت مل جائے تو اس کے لئے قرآن کریم نے یہ دوسرا حکم دیا ہے کہ تُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَھْلِھٖ۔ اس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَا تَدْ خُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی تُؤْمِنُوْا وَلَا تُؤْمِنُوْا حَتّٰی تَحَآ بُّوْا۔ اَوَلَآ اَدُلُّکُمْ عَلٰی شَیْءٍ اِذَا فَعَلْتُمُوْہُ تَحَابَبْتُمْ اَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ کہ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو اور مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو۔اورکیا میں تمہیں آپس میں محبت کرنے کی ترکیب بتاؤں؟ وہ یہ کہ آپس میں سلام خوب پھیلاؤ یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سلام کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی کثرت کرنی چاہئے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس طرح آپس میں محبت پیدا ہو گی۔ جب کوئی دوسرے کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے دل میں محبت ہو اور جوں جوں وہ زیادہ دعا کرے وہ محبت بھی بڑھتی جائے گی۔ آجکل تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے معنیٰ ہی نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی محبت پیدا نہ ہو تو اَور بات ہے لیکن جو سمجھتے ہیں ان میں ضرور محبت پیدا ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے۔ اور جب ایک انسان دوسرے کے لئے دعا کرے گا تو خود اس کے لئے بھی اوردوسرے کے لئے بھی وہ دعا بہت سے فوائد اور برکات کا موجب ہوگی۔ا للہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بہت محبت اور پیار کرتا ہے اس لئے جو کوئی اس کی مخلوق سے محبت کرتا ہے اس سے وہ بھی محبت کرتا ہے۔ تو ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کہنے کی وجہ رسول کریم ﷺ نے یہ فرمائی کہ تمہاری آپس میں محبت ہو گی اور آپس کے تعلقات درست ہوں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہیں ایمان حاصل ہو گا اور جب ایمان حاصل ہو گا تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔ رسول کریم ﷺ جب کسی مکان پر جا کر دستک دیتے تو اُس کے دوسری طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے اور جب اندر سے کوئی آتا تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ کر اس کی طرف لوٹتے۔اس طرح کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے۔ کئی مکان ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہی کمرہ میں تمام گھر کے آدمی ہوتے ہیں جب اس کا دروازہ کھلتا ہے تو سامنے مستورات بیٹھی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی دروازہ کے سامنے منہ کر کے کھڑا ہو گا تو اس کی نظر ضرور اندر پڑ ے گی اور اس طرح بے پر دگی ہو گی۔ اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ دائیں یا بائیں طرف مڑ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔‘‘

(الفضل 4نومبر 1916ء)

اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے جواب میں
وَ عَلَیْکُمُ السَّلَامُ کہنا

’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡہَاۤ اَوۡ رُدُّوۡہَا (النساء: 87) جب تمہاری نسبت کوئی کلمہ نیک استعمال کیا جائے تو تم کو بھی چاہئے کہ اس کے قائل کی نسبت اس سے بہتر کلمہ نیک یا کم سے کم وہی کلمہ استعمال کرو جیسا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے جواب میں وَ عَلَیْکُمُ السَّلَامُ۔ تو کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو غیر محدود خزانوں والا ہے اور بہتر سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اپنے بندوں سے اس طرح معاملہ نہ کرے وہ کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب میرا بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں دو قدم آتا ہوں جب وہ تیز چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔‘‘

(انوارالعلوم جلد2 صفحہ103)

انعام ملنے پر بَارَکَ اللّٰہُ اور جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہنا

’’جب کسی نوجوان کو انعام دیا جاتاہے تواس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دوسرے نوجوانوں کے دلوں میں بھی تحریک پیدا ہوکہ وہ بھی ویسے ہی کام کریں اوردوسروں کے دلوں میں تحریک کاثبوت اس طرح مل سکتاہے کہ وہ اس میں دلچسپی لیں۔ یوں تو انعام دینے والا، دوسرے کے لئے دل میں بھی دعا کرسکتاہے مگر میں نے جو طریق جاری کیاتھا کہ دوسرے بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہِ کہیں تو اِس کی غرض یہ تھی کہ دوسروں کے دل میں ایسے کاموں کی رغبت پیدا ہو۔ مگر انعامات کی تقسیم کے وقت باقی سب لوگ خاموش رہے ہیں جس سے معلوم ہوتاہے کہ میری یہ ہدایت ا ُنہیں فراموش ہوچکی ہے۔ اُن کا فرض تھاکہ کسی کو انعام ملتا تو وہ بلند آواز سے بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہِ کہتے۔

دوسری عجیب بات مَیں نے یہ دیکھی ہے کہ انعام لینے والوں کو بھی یہ معلوم نہیں کہ انہیں کیا کہنا چاہئے ان میں سے بھی بعض نے بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہِ کہہ دیا حالانکہ انعام دینے والا کہتا ہے بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہ ِ خدا تجھے برکت دے اور اس انعام کو تیرے لئے فائدہ مند بنائے اور یہ انعام تیری آئندہ ترقیات کا پیش خیمہ ہو۔ اور انعام لینے والا کہتا ہے جَزَاکُمُ اللّٰہُ کیونکہ انعام دینے والے نے اس کو انعام بھی دیا اور دعا بھی دی۔ پس یہ اُس کے شکریہ میں دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے اِس نیکی کی جزا عطا فرمائے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے شریعت نے یہ سکھایا ہے کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے توفارغ ہونے پر کہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ اب یہ عقل کے بالکل خلاف بات ہوگی اگر کھانا کھلانے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور کھانے والا خاموش رہے۔ پس انعام دینے والے کے لئے مناسب فقرہ یہ ہے کہ بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہِ اور انعام لینے والے کے لئے مناسب فقرہ یہ ہے کہ جَزَاکُمُ اللّٰہُ یعنی جنہوں نے انعام دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی اِس نیکی کو قبول کرے اور اُنہیں اِس کا نیک بدلہ دے۔ پس آئندہ کے لئے یاد رکھو کہ جب انعام دینے والا بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْہِ کہے تو دوسرے بھی یہی فقرہ زور سے کہیں تا انعام لینے والے کو محسوس ہو کہ سب نے اس کے کام کو پسند کیا ہے اوروہ بھی اس کی خوشی میں شریک ہیں اور لینے والا جَزَاکُمُ اللّٰہُ کہے تا اس کے دل میں شکر گزاری کا مادہ پیدا ہو۔‘‘

(انوارالعلوم جلد22 صفحہ53۔54)

(ایم۔ایم۔طاہر)

پچھلا پڑھیں

خطبہ جمعہ مؤرخہ 3؍ستمبر 2021ء (بصورت سوال و جواب)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اکتوبر 2021