• 20 مئی, 2024

مکرم الحاج ودراگو جبرئیل Nosyamba

یاد رفتگاں
ایک عاجز خدمت گزار
مکرم الحاج ودراگو جبرئیل Nosyamba

دراز قد، نرم خو، چہرے پرہلکی سی مسکراہٹ سجائے رکھنے والے محترم الحاج ودراگو جبرئیل صاحب 5؍جولائی 2022ء کو ہم سے رخصت ہوگئے۔ آپ برکینا فاسو کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور جماعت برکینا فاسو کے لئے ایک بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ سے ملنے والے کو یہی احساس ہوتا کہ جیسے کسی شجر سایہ دار کے نیچے آگئے ہوں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے لمبی عمر عطا فرمائی، صحت اچھی رہی اور آخر دم تک چلتے پھرتے رہے۔

ابتدائی زندگی

آپ کی پیدائش 1936ء کو Pogoro گاؤں میں ہوئی۔ آپ موسی خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ برکینا فاسو میں موسی قبیلہ سب سے زیادہ تعدا دمیں پایا جاتا ہے۔ یہ قبیلہ اپنی رسم و رواج، عادات، اخلاقیات اور روایات کی بنا پر اہم ترین قبیلہ ہے۔ اپنے قبائلی بادشاہی نظم و نسق کے ساتھ برکینا فاسو کے بڑے علاقے پر اس قبیلہ نے برسوں حکومت کی ہے۔ اب بھی ان کا بادشاہی اور قبائلی نظام باقی سب قبائل سے مضبوط اور منفرد ہے۔ موسی لوگ اپنی روایات سے جڑے اور ان کا احترام کرنے والے ہیں۔ موسی قبیلہ کے لوگوں کو بچپن سے ہی اپنے چیف کی کامل اطاعت کا درس دیا جاتا ہے ا س لئے بالعموم عملی زندگی میں اس قبیلہ کے لوگ اطاعت گزاراور اپنے بڑوں کی عزت کرنے والے شمار ہوتے ہیں۔

الحاج جبرئیل صاحب نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ آئیوری کوسٹ چلے گئے جہاں آپ گودی مزدور (Doker) کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

قبول احمدیت

ایک مخالف مولوی کی زبانی 1969ء میں آپ تک جماعت احمدیہ پیغام پہنچا جب برکینا فاسو سے جانے والے ایک مولوی سدی مائیگا(Sidi Maiga) نے آئیوری کوسٹ کے دارالحکومت آبی جان کی ایک مسجد میں تقریر کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کو اسلام کے خلاف کام کرنے والا ایک نیا مذہب قرار دیا۔ اسی سال الحاج بخاری صاحب نے آبی جان میں ایک دیوار پر یہ فقرہ لکھا ہو ادیکھا ’’la vraie religion, c’est l’Islam‘‘ یعنی حقیقی اور سچا مذہب اسلام ہے۔ آپ نے اسی وقت اس جگہ جانے کا فیصلہ کیااور اندر داخل ہوتے ہی جس شخص سے آپ کی ملاقات ہوئی وہ امیر و مبلغ انچارج آئیوری کوسٹ مکر م محمد افضل قریشی صاحب تھے۔ آپ نے امیر صاحب سے سوال کیا کہ کیا وہ یہاں قرآن مجید پڑھنا سیکھ سکتے ہیں اور اس کے لئے کتنی فیس لگے گی۔ قریشی صاحب نے کہا کہ ضرور پڑھ سکتے ہیں اور اس کے لئے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ جب آپ مقررہ دن قرآن مجید پڑھنے کے لئےاحمدیہ مشن ہاؤس پہنچے تو آپ نےقرآن مجید پڑھنے کے بعدصف پر رکھ دیا۔ قریشی صاحب نے قرآن مجید اٹھا کر رحل پر رکھا اور بتایا کہ قرآن مجید کے ادب اور احترام کے پیش نظر اسے زمین پر نہیں بلکہ اونچی اور صاف ستھری جگہ پر رکھتے ہیں۔

الحاج جبرئیل صاحب نے اس ملاقات سے دو باتیں سیکھیں کہ مخالفانہ پروپیگنڈے کے برخلاف احمدی قرآن مجید کی زیادہ عزت کرنے والے ہیں۔ دوسرے احمدی ہر ایک کو خواہ اسے وہ جانتے بھی نہ ہوں بلا معاوضہ قرآن کریم کی تعلیم دینے اور پڑھانے کو تیار ہیں۔ ان دونوں باتوں نے آپ کو احمدیت کے قریب کر دیا۔ چنانچہ 1970ء میں آپ نے بیعت کر لی۔

آئیوری کوسٹ میں جماعتی خدمات

آپ کو آئیوری کوسٹ میں پانچ امراء جماعت کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کا م کرنے کی توفیق پائی۔ آپ 1971ء سے 1993ء تک نیشنل مجلس عاملہ کے ممبر رہے (جس کے بعد وہ برکینا فاسو منتقل ہو گئے) اور درج ذیل شعبہ جات میں خدمات کی توفیق پائی۔

  • سیکرٹری ضیافت 1971ء تا 1993ء
  • سیکرٹری تربیت 1991ء تا 1993ء

آپ نے اپنے آئیوری کوسٹ میں قیام کے دوران 1970ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات پایا۔ اسی طرح 1988ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے ملاقات کا اعزاز ملا جبکہ 1979ء میں ڈاکٹر عبدالسلام سے ملاقات ہوئی۔

برکینا فاسو میں جماعت کے قیام کی کوشش

آپ کو آئیوری کوسٹ میں رہنے والے اپر وولٹا کےاحمدی احباب کے ساتھ مل کر برکینا فاسو جو اس وقت اپروولٹا کہلاتا تھا میں جماعت کے قیام کے لئے کوشش کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔ اس وقت حکومتی پابندیوں کی وجہ سے اپروولٹا میں کسی مذہبی جماعت کی رجسٹریشن کروانا آسان کام نہیں تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مولانا عبدالوہاب بن آدم امیر جماعت گھانا کی کوششوں سے 1986ء میں جماعت کی رجسٹریشن اپر وولٹا (موجودہ برکینا فاسو) میں ہوگئی۔

تبلیغی سرگرمیوں میں حصہ

آئیوری کوسٹ میں آپ کو مکرم عمر معاذ صاحب مبلغ سلسلہ، مکرم ابو بکر سانوگو صاحب لوکل مبلغ اور آدم معاذ کولی بالی کے ساتھ آئیوری کوسٹ کی جماعتوں کے تبلیغی دورے کرنےکی توفیق عطا ہوئی۔ اس طرح آپ نے آئیوری کوسٹ کے تقریباً ہر علاقے کا دورہ کیا اور پیغام حق پہنچانے کی سعادت پائی۔

اپر وولٹا سے آنے والے احمدیوں کی مدد

اپر وولٹا سے کئی احمدی روزگار کی تلاش میں آئیوری کوسٹ جاتے رہتے تھے۔ ایسے ضرورت مندوں کے لئے آئیوری کوسٹ میں آپ ایک امید کی کرن تھے۔ لوگوں کو اپنے پاس جگہ دیتے، کھانے پینے کا بندوبست کرتے اور بعض کو کام بھی تلاش کر کے دیا۔

برکینا فاسو میں خدمات

برکینا فاسو میں آپ کوپانچ ادوار امارت میں خدمات کی توفیق ملی۔ آپ 1994ء سے2018ء تک نیشنل مجلس عاملہ کے ممبر رہے۔ آپ کو درج ذیل حیثیتوں سے خدمات کا موقع ملا۔

  • سیکریٹری ضیافت 1994ء تا 2006ء،
  • سیکریٹری امور عامہ 2006ء تا 2018ء

علاوہ ازیں آپ کو زعیم انصار اللہ واگادوگو شہربھی خدمات کی توفیق عطا ہوئی۔

جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت

1999ء میں آپ کو جلسہ سالانہ برطانیہ میں جماعت برکینا فاسو کی نمائندگی میں شرکت کا موقع ملا۔ اسی طرح انٹرنیشنل مجلس شوریٰ میں بھی شریک ہوئے۔ 2008ء میں آپ کو گھانا کا سفر اختیار کرنے، جلسہ میں شرکت کرنے اورحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں شرف باریابی عطا ہوا۔

گھر میں نماز سنٹر کا قیام

آپ نے اپنے گھر کے ایک حصہ کو نماز سنٹر بنا یا ہوا تھا جہاں ارد گرد کے احمدی احباب نماز با جماعت کے لئے آجاتے تھے۔ آپ 1993ء سے 2022ء میں اپنی وفات تک اس سنٹر میں نماز کی امامت کراتے رہے۔

برکینا فاسو میں تبلیغی دورے

آپ کو برکینا فاسو کے پہلے امیر جماعت مکرم محمد ادریس شاہد صاحب لے کر موجودہ امیر جماعت مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب کے ساتھ برکینا فاسو کے متعدد تبلیغی و تربیتی دورے کرنے کی توفیق عطا ہوئی۔

مکرم یعقوبا Traore سیکریٹری ضیافت بیان کرتے ہیں۔
’’مکرم جبریل سعید صاحب کی وفات کے موقع پر میں اور الحاج ودراگو جبرئیل برکینا فاسو کی نمائندگی میں تعزیت کے لئے گھانا گئے۔ دوران سفرمکرم الحاج جبرئیل صاحب نے بیان کیا کہ وہ برکینا فاسوکے پہلے امیر مکرم محمد ادریس صاحب اور مبلغین کے ساتھ تبلیغی دوروں پر جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ دورے پر جانا تھا۔ حسب پروگرام جب مربی صاحب ان کے گھر پہنچے تو اس وقت ان کا ایک بچہ شدید بیمار تھا۔ لیکن انہوں نے اپنا بیگ اٹھایا اور چل پڑے۔ آپ کی اہلیہ نے پوچھا کہ آپ اس حالت میں ہمیں چھوڑ کر کہاں جاتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ میں نے تبلیغی دورے پر جانا ہے۔ اور یہ دورہ زیادہ اہم ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ خود ہی بچے کی حفاظت فرمائے گااور شفا عطا کرے گا۔ میں اس کے کام سے جارہا ہوں۔ آپ اہلیہ اور بچے کو اس حالت میں چھوڑ کر دورے پر چلے گئے۔ جب چنددن بعد دورہ مکمل کر کے واپس آئے اور گاڑی گھر کے دروازے پر آئی تو اسی بچے نے دروازہ کھولا جو چندد ن پہلے بستر مرگ پر تھا۔‘‘

مخلص، دعا گو، صائب الرائے وجود

مکرم محمود ناصر ثاقب صاحب امیر جماعت برکینا فاسو آپ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’الحاج ودراگو جبرئیل صاحب سے خاکسار کا سب سے پہلا تعارف 1998ء میں ہوا جب مکرم محمد ادریس شاہد صاحب امیر جماعت برکینا فاسو نے خاکسار کو افسر جلسہ سالانہ مقررکیا جبکہ الحاج ودراگو جبرائیل صاحب ناظم خوراک تھے۔ آپ نےبڑے احسن رنگ میں ساری خدمات انجام دیں اور مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کی۔ اس جلسہ کے بعد میرے ان کے ساتھ تعلقات مضبوط تر ہوتے گئے۔ ا ن کے پاس ایک پرانا موٹر سائیکل تھا اس پر ہر جماعتی پروگرام میں شامل ہوتے اورسب لوگوں سے پہلے پہنچتے۔

2000ء میں جب خاکسار کو امیر جماعت برکینا فاسومقرر کیا گیا تو آپ ہر کام میں میرے ممدو معاون بن گئے۔ امور عامہ، رشتہ ناطہ کے ساتھ ساتھ ہر وہ ذمہ داری جوآپ کے سپرد ہوئی اسے احسن رنگ میں سرانجام دیا۔ ساری جماعت میں آپ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بہت مخلص دعاگو اور فعال احمدی تھے۔ آپ ایک صائب الرائے وجود تھے۔ اس لئے ہر کام میں آپ کی معاونت میرے لئے بہت سود مند رہی۔ جب خاکسار کی تقرری مالی میں ہوگئی تو ہمیشہ میرے بیٹے سعود احمدکے ذریعہ پیغام بھجواتے کہ وہ میرے لئے بہت دعا کرتے ہیں۔ میرا بیٹا جو برکینا فاسو میں زیر تعلیم تھا اسے اکثر جمعہ کے بعدبہت پیار سے ملتے اور بہت تفصیلی حالات دریافت کرتے اور بہت دعائیں دیتے۔

آپ ہمیشہ جمعہ پر بروقت حاضر ہونے کی کوشش کرتے۔ کچھ عرصہ سے صحت کافی خراب تھی اور کمزوری بھی زیادہ تھی۔ اس سال رمضان المبارک کے آخری دنوں میں خاکسار آپ کو ملنے گیا تو کافی دیر آپ کے پاس بیٹھا رہا اور بتایا کہ اس سال پہلی دفعہ جماعت واگادوگو بستان مہدی میں عید کی نماز پڑھنے کا پروگرام بنا رہی ہے دعاکریں کہ آسانی ہو اور لوگ بسہولت پہنچ جائیں۔ خیال تھا کہ شاید آپ صحت کی خرابی کی وجہ سے نماز عید کے لئے نہیں آ سکیں گے۔ لیکن عید والے دن آپ بروقت عید گاہ پہنچ کر پہلی صف میں تشریف فرما تھے۔ ہم سب آپ کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ نما زعید کے بعد بچوں کے لئے عید کے تحائف کا انتظام تھا۔ کچھ بچوں کو یہ تحائف آپ کے ہاتھ سے دلوائے۔ یہ آپ کی آخری نمازعید ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔‘‘

خدمات کا اعتراف

آپ کی خدمات کےا عتراف میں جلسہ سالانہ برکینا فاسو 2021ء کے موقع پر جماعت کی طرف سے ایک یادگاری شیلڈ آپ کو تحفہ دی گئی۔ روزنامہ الفضل آن لائن لندن میں جلسہ سالانہ برکینا فاسو کی رپورٹ میں اس کارروائی کا تذکرہ یوں بیان ہے:
’’برکینا فاسو میں جماعت احمدیہ کے قیام کی خاطر غیر معمولی قربانی کرنے والے دو ابتدائی احمدی بزرگ مکرم الحاج Ouedraogo جبریل صاحب اور مکرم الحاج سانفو قاسم صاحب کا تفصیلی تعارف حاضرین جلسہ کو کروایا گیا تاکہ نئی نسل ان بزرگوں کی قربانیوں کو یا درکھے۔ اس موقع پر ان دونوں بزرگوں کو مکرم امیر جماعت برکینافاسو کی طرف سے یادگاری شیلڈز دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر اور صحت میں برکت دے۔ اور ان کی قربانیوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔‘‘

(روزنامہ الفضل آن لائن لندن 19 مئی 2021ء)

آپ کی وفات 5؍جولائی 2022ء کو اپنی رہائش گاہ پر ہوئی۔ مکرم ا میر صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ آپ کی وفات پر دور نزدیک سے احباب جماعت اور غیر از جماعت کی کثیر تعداد تعزیت کے لئے آئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جماعت احمدیہ برکینا فاسو کو سلطان نصیر اور مخلصین عطا فرماتا چلا جائے۔

(چوہدری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

اداریے (حنیف محمود کے قلم سے) جلد اول

اگلا پڑھیں

سیّدنا حضرت امیر المؤمنین کا دورہ امریکہ 2022ء (قسط 4)