• 30 نومبر, 2020

جو تمام اعمال اور اخلاق کے جامع ہوتے ہیں وہی متقی کہلاتے ہیں۔ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس حقیقی مومن اور تقویٰ پر قدم مارنے والوں کا مولیٰ اور دوست وہ عظیم جاہ و جلال والا خدا ہے جس کی بادشاہت تمام زمین و آسمان پر حاوی ہے۔ پس جو ایسے جاہ و جلال اور قدرت رکھنے والے خدا کی آغوش میں ہو کیا اسے مخالفین کا مکر اور ان کی تدبیریں کچھ نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ یقینا نہیں، کبھی نہیں۔ کیونکہ جو خداتعالیٰ پر کامل ایمان لاتا ہے خدا اس کی حفاظت کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ یہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مدد فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے وَکَانَ حَقَّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ (الروم:48) یعنی مومنوں کی مدد کرنا ہمار افرض ہے۔ پس یہ ہے مومنوں کا خدا جو کسی لمحہ بھی اپنے مومن بندوں سے غافل نہیں۔ یہ زمین و آسمان کا مالک خدا جس کو نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ آتی ہے، ہر وقت اپنے مومن بندے کی پکار پر ہر جگہ پہنچ جاتا ہے۔ پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اپنے اس خدا سے تعلق جوڑتے ہیں اور خشوع اور تقویٰ میں بڑھے ہوئے ہیں اور بڑھتے چلے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو خدا اپنے مومن بندے کی حفاظت و نصرت کے لئے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے، اس کو ماننے والے ہیں۔ پس ہمیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آئے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس زمانے میں آنحضرتﷺ کے عاشقِ صادق کی بیعت میں آنے والے ہی حقیقی مومن ہیں، ایک تو اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ صرف یہ ایک عمل کہ ہم بیعت میں آ گئے کافی نہیں، بلکہ ہم نے اپنے اعمال کے بیج کی حفاظت کرکے اس کے اُگنے کے سامان کرنے ہیں۔ پھر اس کے اُگنے کے بعد نرم سبزے کی حفاظت کرنی ہے۔ پھر نرم سبزے نے جب ٹہنیوں کی صورت اختیار کرنی ہے اس کی نگہداشت کرنی ہے، اسے ہر قسم کے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں سے محفوظ رکھنا ہے۔ پھر اس پودے کی نگہداشت رکھتے ہوئے اسے مضبوط تنے پر کھڑا کرنا ہے، تب جا کر یہ ثمر آور درخت بنے گا، پھل دینے والا درخت بنے گا جو فائدہ پہنچائے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو تمام اعمال اور اخلاق کے جامع ہوتے ہیں وہی متقی کہلاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہیں کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاقِ فاضلہ اس میں نہ ہوں۔ کسی ایک نیکی کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھے تقویٰ پر قدم مارنے والا نہیں جب تک تمام اخلاقِ فاضلہ اس میں نہ ہوں۔ پس ایک تو یہ بات ہر وقت ہر احمدی کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ ایمان میں مضبوطی کے لئے تمام نیکیوں کو اختیار کرنا اور ان میں بڑھتے چلے جانا ضروری ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کا دوست ہے اس لئے ان کی حفاظت فرماتا ہے اور کافر اس لئے تباہ ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی دوست نہیں۔ اب اس مدد کو اور رنگ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ صرف دوست نہیں ہے اور صرف حفاظت ہی نہیں کرتا بلکہ مومنوں کو یہ ضمانت ہے کہ مومنوں کو کافروں پر فوقیت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے ایسے سامان پیدا فرمائے گا کہ جیت یقینا مومنوں کی ہو گی، غلبہ یقینا تمہارا ہو گا۔ مخالفین کی کثرت سے ان کے سازوسامان سے، ان کے مکروں سے، ان کی حکومتوں سے تم پریشان نہ ہو۔ ان کے حملے تمہارے ایمانوں میں کمزوری پیدا نہ کریں۔ یاد رکھو کہ دشمنوں کے جتھے تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے اوپر فرض کر لیا ہے کہ انبیاء اور مومنین کی جماعت ہی آخرکار غالب آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ذریعوں سے دشمن کی تباہی کے سامان کرتا ہے جو ایک عام آدمی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔

جنگِ بدر کے ذکر میں اللہ فرماتا ہے کہ اس وقت تمہاری کیا حیثیت تھی۔ آنحضرتﷺ تڑپ تڑپ کراللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کر رہے تھے کہ اگر آج مومنین کی چھوٹی سی جماعت ختم ہو گئی تو پھر اے اللہ !تیرا نام لیوا اس دنیا میں کوئی نہیں ہو گا اور اس جنگ میں سازوسامان اور تعداد کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اور کفارکی کوئی نسبت ہی نہیں تھی۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا۔ ان دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے جو آنحضرتﷺ نے کیں اور مومنین کے ایمان کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور کفار کی اس کثرت کو بے بس اور مغلوب کر دیا۔ ہر طرف ان کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ (الانفال:18) یعنی یا د رکھو کافروں کو تم نے نہیں مارا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مارا تھا اور پھر آنحضرتﷺ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (الانفال:18) کہ جب تم نے مٹھی بھر کنکر پھینکے تھے تو توُ نے نہیں پھینکے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکے تھے۔ پس اس جنگ میں کافروں کو ذلیل و خوار کر دیا۔ وہ جو مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے آئے تھے کہ آج مٹھی بھر مسلمان ہیں ان کو ختم کر دیں گے خود نہایت ذلیل و خوار ہو کر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تسلی دلائی کہ یہ میری مدد کی اور اس وعدے کی (کہ غلبہ انشاء اللہ تمہارا ہے) ایک جھلک ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمُ الْفَتْحُ وَاِنْ تَنْتَھُوْا فَھُوَخَیْرٌ لَّکُمْ وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ۔ وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ۔ وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْ مِنِیْنَ (الانفال:20) پس اے مومنو! اگر تم فتح طلب کیا کرتے تھے تو فتح تو تمہارے پاس آ گئی اور اے منکرو اب بھی اگر تم باز آ جاؤ تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر تم شرارت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی عذاب کا اعادہ کریں گے اور تمہارا جتھہ تمہارے کسی کام نہ آئے گا خواہ کتنا ہی زیادہ ہو اور یہ جان لو کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔ پس فتح کا یہ نشان اس زمانے میں یقینا مومنوں کے ایمان میں مضبوطی قائم کرنے والا بنا۔ صحابہ ؓ کے ایمان مضبوط ہوئے اور یہ بات قرآن کریم میں فرما کر مومنوں کو اور خاص طور پر آخرین کو جنہوں نے مسیح و مہدی کو مانا ہمیشہ کے لئے تسلی دلا دی کہ اللہ کی مدد ہمیشہ مومنوں کے ساتھ ہے اس لئے تم مخالفین کے جتھے اور کثرت سے نہ ڈرو۔ ان کی حکومتوں سے نہ ڈرو، ان کی تدبیروں سے نہ ڈرو بلکہ اعلان کرو کہ تمہاری کثرت، تمہارے یہ سب مکرو فریب اور یہ سب کوششیں ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں الہام فرما کر تسلی دلائی۔ کئی دفعہ یہ الہام ہوا ہے کہ یَا اَحْمَدُ بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ مَارَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔ قُلْ اِنِّیٓ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ (تذکرہ صفحہ 35 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ)

کچھ حصے مَیں نے پڑھے ہیں۔ کہ اے احمد! اللہ تعالیٰ نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے۔ جو کچھ توُ نے چلایا وہ توُ نے نہیں چلایا بلکہ خداتعالیٰ نے چلا یا ہے۔ کہہ کہ مَیں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور مَیں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ اعلان کروانا یقینا ًاس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ آخری فتح آپؑ کی جماعت کی ہو گی۔ آپؑ کی زندگی میں بھی انتہائی مشکل حالات آئے، ان کا سامنا آپؑ کو کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر آپؑ کو کامیاب فرمایا۔ آپؑ کی حفاظت فرمائی، آپؑ کی مدد فرمائی۔ آپؑ کے بعد مومنین کی جماعت پر بھی بڑے شدید حالات آئے اور ہم نے ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھے۔ پس یقینا یہ اللہ تعالیٰ کا سلوک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی کی دلیل ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کے ہر فرد کو اس یقین پر قائم رہنا چاہئے کہ یقینا ًخداتعالیٰ کی تائیدات آپؑ کے ساتھ اور آپؑ کی جماعت کے ساتھ ہیں اور اللہ تعالیٰ جو ہوائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت کی کامیابی کے لئے چلا رہاہے اسے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ پہلے مومنین کو فتوحات نصیب کرتا آیا ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ہے تو آج بھی وہ سچے وعدوں والا خدا مومنین کے ساتھ ہے اور احمدیت کے غلبہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن اس بات کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو فتح دکھائی اور آئندہ بھی دکھائے گا اور وہ مومنوں کے ساتھ ہے اور کافر ذلیل و خوار ہوں گے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی کامل اطاعت کرو اور کسی کے حکم سے منہ نہ پھیرو۔ یہ بات پھرایمان میں مضبوطی پیدا کرے گی اور تم خداتعالیٰ کے نشانات دیکھتے چلے جاؤ گے۔ یہ فتح کے وعدے مومنین کے ساتھ ہیں، کامل اطاعت گزاروں کے ساتھ ہیں، جماعت کی لڑی میں پروئے جانے والوں اور خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ پس اللہ اور رسول کی کامل اطاعت کرنے والے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ان دعاؤں کے جو آپؑ نے جماعت کے حق میں کی ہیں حصہ دار بنیں گے، ان دعاؤں کے وارث بنیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور تائید اور حفاظت کے وعدے ان سب کے حق میں پورے ہوں گے جو حقیقی مومن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر موقع پر جب بھی ضرورت ہو گی مومنین کی مدد کو آئے گا جیسا کہ ہمیشہ سے چلا آتا ہے اور ان کے دشمن کو جو جماعت کو نقصان پہنچانا چاہیں گے ہمیشہ خائب و خاسر کرے گا۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک جگہ حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی خدا کے ولی پر حملہ کرتا ہے تو خداتعالیٰ اس پر ایسا جھپٹ کر آتا ہے جیسا ایک شیرنی سے کوئی اس کا بچہ چھینے تو وہ غضب سے جھپٹتی ہے۔

(ملفوظات جلد 1صفحہ 438 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

پس رسوائی اور ناکامی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخالفین کا مقدر ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ خدا آپؑ کی جماعت کے ساتھ ہے۔ اگر ہم تقویٰ اور ایمان کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے ہوں گے تو اپنی زندگی میں یہ فتوحات اور غلبہ کے نظارے دیکھیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اور اپنے نفسوں کا محاسبہ کرتے ہوئے یہ معیار قائم کرنے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور اس پر باقاعدگی سے کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ان انعاموں کا وارث بنائے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایاہے۔

(خطبہ جمعہ 17؍ اگست 2007ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

والدین سے حسن سلوک