• 30 نومبر, 2020

والدین سے حسن سلوک

وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا

(بنی اسرائیل24-25)

اور تىرے ربّ نے فىصلہ صادر کردىا ہے کہ تم اُس کے سوا کسى کى عبادت نہ کرو اور والدىن سے احسان کا سلوک کرو اگر ان دونوں مىں سے کوئى اىک تىرے پاس بڑھاپے کى عمر کو پہنچے ىا وہ دونوں ہى، تو اُنہىں اُف تک نہ کہہ اور انہىں ڈانٹ نہىں اور انہىں نرمى اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔ اور ان دونوں کے لئے رحم سے عجز کا پَرجُھکا دے اور کہہ کہ اے مىرے ربّ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن مىں مىرى تربىت کى۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں اُن سے نہ کر جن میں اُن کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔ اس آیت کے مخاطب تو آنحضرتﷺ ہیں لیکن دراصل مرجع کلام اُمت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہوچکے تھے اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ کہ اس آیت سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بُزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے اور اسی کی طرف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔ وَقَضٰى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوْا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا یعنی تیرے رب نے چاہا ہے کہ تو اُسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔

(حقیقتہ الوحی۔ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 213)

سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

(صحيح البخاري، كتاب مواقيت الصلاة باب فضل الصلاة لوقتها)

حضرت عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کونسا عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیارا ہے؟ فرمایا: نماز وقت پر پڑھنا۔ انہوں نے کہا پھر کونسا؟ فرمایا: پھر والدین سے اچھا سلوک کرنا۔ انہوں نے کہا پھر کونسا؟ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ

(صحيح مسلم, كتاب البر والصلة والآداب باب رغم انف من ادرک ابویه)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: خاک آلودہ ہو ناک اُس شخص کی، خاک آلودہ ہو ناک اس شخص کی، خاک آلودہ ہو ناک اُس شخص کی! (مطلب: وہ شخص ذلیل وخوار ہو)! پوچھا گیا یا رسول اللہ !وہ کون شخص ہے؟ آپ ؐنے فرمایا: وہ شخص جو اپنے والدین میں سے کسی ایک، یا دونوں کو، بڑھاپے کی حالت میں پائے اور پھر (اُنكى خدمت كر كے) جنت میں داخل نہ ہو۔

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی ہے کہ والدہ کی عزّت کرے۔ اویسؓ قرنی کے لئے بسا اوقات رسول اللہﷺ یمن کی طرف مُنہ کرکے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔ آپؐ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔ بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خداﷺ موجود ہیں، مگر وہ ان کی زیارت نہیں کرسکتے۔ صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصرورفیت کی وجہ سے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی۔ یا اویسؓ کو یا مسیحؑ کو۔ یہ ایک عجیب بات ہے، جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی، چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمرؓ اُن سے ملنے کو گئے۔ تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چَرایا کرتے ہیں۔ ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ ایک وہ ہیں جو پیسہ پیسہ کے لئے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بُری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قومیں چُوہڑے چمار بھی کم لیتے ہوں گے۔ ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اور رسول اللہﷺ کی پاک ہدایت کا بتلادینا ہے۔ مگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کرکے اس کو ماننا نہیں چاہتا، تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ ایسے نمونے سے دوسروں کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے‘‘۔

(ملفوظات جلد اول ایڈیشن1988صفحہ195۔196)

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا

(سنن النسائي، كتاب الجهاد باب الرخصة فی التخلف)

معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ حضرت جاہمہؓ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! میں چاہتا ہوں کہ آپﷺ کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوں اس لئے میں آپ کی خدمت میں مشورہ کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تیری والدہ زندہ ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: جا اپنی والدہ کی خدمت میں لگ جا، یقیناً جنت اس کے قدموں کے نیچے ہے۔

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَأَضِعْ ذٰلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ

(سنن ابن ماجه،كتاب الأدب باب بر الوالدین)

حضرت ابودرداءؓ سے روایت ہے، انہوں نے آپﷺ سے سنا، آپﷺ فرمارہے تھےکہ باپ جنت کا سب سے بہترین دروازہ ہے، چاہے اس دروازے کو ضائع کردو یا چاہے تو اس دروازے کو محفوظ کرلو۔

حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’سب سے بڑا فضل جو اس نے ہم پر کیاوہ یہ ہے کہ تمہیں ماں باپ دئیے جنہوں نے تمہاری پرورش کی، بچپن میں تمہاری بے انتہاء خدمت کی،راتوں کو جا گ جاگ کر تمہیں اپنے سینے سے لگایا۔تمہاری بیماری اور بے چینی میں تمہاری ماں نے بے چینی اور کَرْب کی راتیں گزاریں،اپنی نیندوں کو قربان کیا، تمہاری گندگیوں کو صاف کیا۔ غرض کہ کون سی خدمت اور قربانی ہے جو تمہاری ماں نے تمہارے لئے نہیں کی۔ اس لئے آج جب ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تم منہ پرے کر کے گزر نہ جاؤ، اپنی دنیا الگ نہ بساؤاور یہ نہ ہو کہ تم ان کی فکر تک نہ کرو۔ اور اگر وہ اپنی ضرورت کے لئے تمہیں کہیں تو تم انہیں جھڑکنے لگ جاؤ۔نہیں، بلکہ وہ وقت یاد کرو جب تمہاری ماں نے تکالیف اٹھاکر تمہاری پیدائش کے تمام مراحل طے کئے۔ پھر جب تم کسی قسم کی کوئی طاقت نہ رکھتے تھے، تمہیں پالا پوسا، تمہاری جائز وناجائز ضرورت کو پورا کیا۔ اور آج اگر وہ ایسی عمر کو پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں تمہاری مدد کی ضرورت ہے جو ایک لحاظ سے ان کی اب بچپن کی عمر ہے،کیونکہ بڑھاپے کی عمر بھی بچپن سے مشابہ ہی ہے۔ان کو تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔تو تم یہ کہہ دو کہ نہیں، ہم تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہیں ہم خدمت نہیں کرسکتے۔ اگر وہ بڑھاپے کی وجہ سے کچھ ایسے الفاظ کہہ دیں جو تمہیں ناپسند ہوں تو تم انہیں ڈانٹنے لگ جاؤ، یا مارنے تک سے گریز نہ کرو۔ بعض لوگ اپنے ماں باپ پر ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔ میں نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا ہے، بہت ہی بھیانک نظارہ ہوتا ہے۔ اُف نہ کرنے کا مطلب یہی ہے کہ تمہاری مرضی کی بات نہ ہوبلکہ تمہارے مخالف بات ہوتب بھی تم نے اُف نہیں کرنا۔اگر ماں باپ ہر وقت پیار کرتے رہیں، ہربات مانیں، ہروقت تمہاری بلائیں لیتے رہیں،لاڈ پیار کرتے رہیں پھرتو ظاہر ہے کوئی اُف نہیں کرتا۔ تمہاری مرضی کے خلاف باتیں ہوں تب بھی نرمی سے، عزت سے، احترام سے پیش آنا ہے۔ اور نہ صرف نرمی اورعزت و احترام سے پیش آنا ہے بلکہ ان کی خدمت بھی کرنی ہے۔ اوراتنی پیار، محبت اور عاجزی سے ان کی خدمت کرنی ہے جیسی کہ کوئی خدمت کرنے والا کر سکتا ہو‘‘۔

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 16 جنوری 2004)

(مرسلہ: مرزا فراز احمد طاہر۔ مربی سلسلہ نائیجر)

پچھلا پڑھیں

آنحضرتﷺ ،متفرق کمالات کے جامع وجود

اگلا پڑھیں

خدا کی بادشاہت