• 30 نومبر, 2020

بچوں کی تربیت کے حوالہ سے آنحضورﷺ کی والدین اور بزرگوں کو نصائح

حاصل مطالعہ

بچوں کی تربیت کے حوالہ سے آنحضورﷺ کی والدین اور بزرگوں کو نصائح
(قسط دوم)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اولاد کےحوالہ سے بعض نصائح فرمائی ہیں۔ جن پر تعمیل ہمارے بہت ہی پیارے آقا سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ہر موقع پر خود بھی فرمائی اور صحابہ سے بھی کروائی۔ جیسے اولاد کو دینی تعلیم اور اخلاق حسنہ سے آراستہ کرنے کے لئے والدین کو یہ دُعا سکھلائی:

قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ

(ال عمران: 39)

اے میرے رب! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریت عطا کر۔ یقیناً تو بہت دعا سننے والا ہے۔

اولاد ہوجانے کے بعد اولاد کو نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھنے کے لئے یہ دُعا سکھلائی:

قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ

(الاحقاف:16)

اے میرے رب! مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کرسکوں جو تُونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جن سے تُو راضی ہو اور میرے لئے میری ذریت کی بھی اصلاح کردے۔ یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔

آنحضرتﷺ نے بچے کی پیدائش پر دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کی تلقین فرمائی۔ جس سے ’’اُم الصبیان‘‘ (اس میں بچوں کو سوکھے کا مرض لاحق ہوجاتاہے اور بچہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے. عموماً تشنج کا دورہ پڑتا ہے۔) کی بیماری نہیں ہوتی۔

(الجامع الصغیر)

ان الفاظ سے قرآنی تعلیم کا خلاصہ بچے کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے گویا بچے کے دل میں تعلیم کا پختہ نقش قائم ہوجاتا ہے۔

آنحضورﷺ نے اذان کے متعلق فرمایا: اَلْاَ ذَانُ یَتَرَدَّدُ الشَّیْطٰنُ (بخاری) کہ اذان شیطان کو دھتکار کردیتی ہے۔

اسی طرح حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے خود بعض بچوں کو گھٹی (بعض لوگ اسے گڑھتی بھی کہتے ہیں) دے کر دعا کی تاکہ بچے پر نیک اور اچھا اثر پڑے۔ اسی سنت کے تتبع میں خاندان اور معاشرہ میں نیک صالح شخص سے گھٹی دلوائی جاتی ہے۔

پھر سات دن کے ہونے پر لڑکے کی صورت میں دو اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی کا ارشاد ہے۔ اگر لڑکا پیدا ہو تو اس کا ختنہ بھی کرایا جائے۔

(زادالمعاد)

جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہیں۔ اس سے پہلے بچے کو نماز کے الفاظ اور دُعائیں یاد کروادینی چاہیں اور جب بڑا ہوجائے اور باہر چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے تو پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اسے فحشاء و منکر سے بچانے کے لئے ہدایت دی کہ مُرُوْا اَوْلَادَکُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَھُمْ اَبْنَاءَ سَبْعٍ وَاضْرِبُوْھُمْ عَلَیْھَا وَ ھُمْ اَبْنَاءَ عِشْرِیْنَ وَ فَرِّقُوْا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعٍ

(ابوداؤد)

کہ جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اُسے نماز کا حکم دو اگر تین سال کی کوشش کے بعد بھی نماز نہ پڑھے تو اس کو سرزنش کی جائے اور دس سال کی عمر میں اس کو علیحدہ سلائیں اور جب بڑا ہوجائے تو اس کو گھر میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہیے۔

پھر فرمایا کہ جب تمہاری اولاد بولنے لگے تو اُسے لا الہ الا اللّٰہ سکھا دو …… اور جب دودھ کے دانت گر جائیں تو نماز کا حکم دیں۔

(زاد المعاد)

آنحضورﷺ عورتوں سے بیعت لیتے وقت یہ عہد بھی لیتے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو روحانی طور پر قتل نہیں کریں گی اور ان کی احسن طریق سے تربیت کریں گی اور ان کے اخلاق و عادات کو اسلامی شعار کے مطابق ڈھالیں گی۔

حتی کہ حضورؐ نے عورتوں یعنی ماؤں کو ایسی حالت میں روزے رکھنے سے منع فرمایا جب وہ بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں یا حاملہ ہوں تا ان کی صحت قائم رہے اور کوئی بُرا اثر بچے کی صحت پر نہ پڑے۔

آنحضورﷺ نے طلاق و خلع کو ناپسند فرمایا اور اِسے اَبْغَضُ الْحَلَالِ قرار دیا۔ کیونکہ طلاق یا خلع سے بچے جہاں بٹ جاتے ہیں وہاں ان کی تربیت پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے۔

آنحضورﷺ نے قوم کے نئےپھولوں اور کلیوں کی تربیت کے لئے والدین کو ہدایت فرمائی کہ
بیٹے کا حق اس کے باپ کے ذمے یہ ہے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھیں، اس کا عمدہ ٹھکانہ بنائے اور پسندیدہ آداب سکھلائے۔

فرمایا : اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ کیونکہ تمہارا یہ فعل روزانہ ایک صاع صدقہ کے برابر ہے۔

نیز ترمذی کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ یعنی باپ اپنے بیٹے کو نیک آداب سکھانے سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا۔

والدین کو ہی بچوں کی تربیت کے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ

مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ اِلَّا یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہِ اَوْیُنَصِّرَانِہِ اَوْ یُمَجِّسٰنِہِ

(بخاری کتاب الجنائز)

کہ ہر بچہ فطرت اسلام (فطرت صحیحہ) پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین ہی اُسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں یعنی بچہ والدین کے نمونہ کو اخذ کرتا ہے ۔ بچہ اپنے والدین سے ہی سب سے پہلے سیکھتا ہے اس لئے والدین کو اپنا نمونہ درست رکھنا چاہیے۔

پھر والدین کو ہدایت دیتے ہوئے آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کی ایسے رنگ میں تربیت کرو کہ یہ تین خوبیاں بطور عادت و خصلت ان میں راسخ ہوجائیں۔

  1. اپنے نبی سے محبت
  2. اہل بیت سے محبت
  3. تلاوت قرآن اور اس سے محبت

پھر فرمایا:

اَعِیْنُوااَوْلَادَکُمْ عَلَی الْبِرِّ

(الجامع الصغیر ابن سیوطی، ابن ماجہ)

کہ نیکی کے کاموں میں اپنے بچوں کی مدد کیا کرو۔

پھر فرمایا:

دُعَاءُ الْوَالِدِ لِوَلَدِ ہٖ کَدُعَاءِ النَّبِیِّ لِاُ مَّتِہٖ

(الجامع الصغیر ابن سیوطی، ابن ماجہ)

کہ باپ کی دُعا اپنے بچے کے حق میں ایسے ہی مقبولیت کا درجہ رکھتی ہے جیسے نبی کی دُعا اپنی امت کے لئے۔

اپنی اولاد کا واجبی احترام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ

اَکْرِمُوْا اَوْلَادَکُمْ وَاَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ

(ابن ماجہ)

کہ والدین اپنی اولاد کے ساتھ نرمی و ملاطفت اور درگزر کا سلوک کریں۔ ان کا واجبی احترام کریں اور ان کو آداب سکھلائیں۔

یہی ہدایت ابن ماجہ میں ان الفاظ میں بھی ملتی ہے آنحضور ﷺ نے فرمایا:
اے لوگو! اپنے بچوں کی عزت کیا کرو کیونکہ ان کی عزت کرنا دوزخ کا پردہ ہے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

(یہ تمام مواد ’’حضرت رسول کریم ﷺ اور بچے‘‘ شائع کردہ لجنہ اماء اللہ کراچی سے لیا گیا ہے)

(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

والدین سے حسن سلوک