• 19 جون, 2024

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 79)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط 79

ہفت روزہ نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 18 تا 24؍نومبر 2011ء میں صفحہ 12 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام و رحمت‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو پہلے گذر چکا ہے۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت 15 تا 22؍نومبر 2011ء میں صفحہ 3 پر خاکسار کی مضمون بعنوان ’’مصطفیٰ پر تیرا بے حد ہو سلام و رحمت‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نفس مضمون اوپر گزر چکا ہے۔ یہ اخبار امریکہ کی مختلف ریاستوں میں شائع ہونے کے علاوہ کینیڈا سے بھی شائع ہوتا ہے۔

ہفت روزہ نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 25؍نومبر تا یکم دسمبر 2011ء میں صفحہ 12 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’اے قادر و توانا! آفات سے بچانا‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ خاکسار نے لکھا کہ اب ہم اسلامی کیلنڈر کے حساب سے جلد ہی نئے اسلامی سال میں داخل ہوجائیں گے۔ یہ آخری مہینہ سال کا اور اگلے سال کا پہلا مہینہ (ذی الحجہ اور محرم کا مہینہ) بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ہر دو مہینے قربانیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ایک مہینہ میں جو ذوالحجہ کا ہے جانوروں کی قربانی حج کے تعلق میں کی جاتی ہیں اور اسلامی کیلنڈر کے پہلے مہینے یعنی محرم میں حضرت امام حسینؓ کی قربانی ہے جس میں اہل بیت نے اپنا خون دینا تو گوارا کیا لیکن باطل کے آگے نہیں جھکے اور جو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے تھا مسلمان آج اسی سے غفلت کر رہے ہیں۔ اسی لئے آج کے مضمون کے لئے یہ عنوان چنا ہے جو کہ ایک دعا ہے کہ ؎

’’اے قادر و توانا! آفات سے بچانا
ہم تیرے در پہ آئے ہم نے ہے تجھ کو مانا‘‘
’’غیروں سے دل غنی ہے جب سے ہے تجھ کو جانا
یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ‘‘

خاکسار نے محرم الحرام کے مہینہ کے بارے میں مزید بتایا کہ ان دنوں میں کثرت سے درود شریف پڑھا جائے اور پھر 4 احادیث لکھی ہیں جن میں درود شریف کی اہمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے۔

ایک حدیث درج کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے گا۔ حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا
نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے
اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

خاکسار نے اس کے بعد زاہدہ حنا صاحبہ ایک کالم نگار کے مضمون سے چند اقتباسات بھی لکھے۔ وہ لکھتی ہیں:
پاکستان کی آبادی میں غیر مسلموں کا تناسب بمشکل 2 سے 3 فیصد ہے ان غیر مسلموں کے حوالے سے ایک امریکن کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ جو نصاب کی 100 سے زیادہ کتابوں کی چھان بین کے بعد مرتب کی گئی ہیں اور اس کے لئےسینکڑوں طلبہ اور اساتذہ سے بھی سوالات کئے گئے ہیں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی سے میٹرک تک کی نصابی کتابوں میں ہندو، عیسائی اور دوسرے غیر مسلموں کے خلاف ذہنوں کو آلودہ اور انتہا پسندی کو ترویج دینے کا کام اس وقت سے شروع کردیا جاتا ہے جب ذہن کچے ہوتے ہیں اور یوں اکثریت کے ذہنوں میں ان لوگوں سے نفرت کابیج بو دیا جاتا ہے جو آگے چل کر لوگوں کو تشدد پر مائل کرتا ہے……اس رپورٹ میں نفرت کی جس رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے اس کی فصلیں آج لہلہا رہی ہیں۔ ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹیں پڑھیئے تو ہمیں سال بہ سال پاکستانی غیرمسلموں کا حال زار سناتی ہیں کہ کتنے عیسائیوں کے گھر جلے۔ ان کی عبادت گاہوں کی کس طرح بے حرمتی ہوئی۔ کتنے ہندوؤں نے جان کے خوف سے نقل مکانی کی اور اپنی دھرتی کو چھوڑ کر روتے ہوئے ہندوستان گئے۔ احمدیوں کی جان کس طرح ہر وقت سولی پر رہتی ہے، انہیں ملازمتوں سے نکالنے کا برسرِ عام مطالبہ ہوتا ہے۔ ان کی دکانوں کو نشان زدہ کر کے اکثریت سے کہا جاتا ہے کہ ان کا معاشی مقاطعہ کیا جائے۔ یہ سب کچھ ہمارے ہاں روزمرہ امور ہیں۔ اکثریت کو اس بات کا گمان بھی نہیں گزرتا کہ ان کے درمیان رہنے والے غیر مسلم جوآٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں وہ ہرلمحہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کب ان کے گھر پر حملہ ہوجائے۔ کب ان پر توہین رسالت کا الزام لگ جائے کہ غیر مسلموں سے ذاتی دشمنی چکانے کا سب سے آسان طریقہ یہی رہ گیا ہے اور جانے کب ان کی دوکان جلا دی جائے۔ کسی کی نظر اگر ان کی بیٹی اور بہن پر ہے تو اسے اٹھا لیا جائے اور پھر جبراً اسے مسلمان کر کے اس سے شادی کر لی جائے اور لڑکی اور اس کے گھر والوں کی فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔

ابھی اس امر یکی رپورٹ پر پاکستان بھر میں واویلا ہورہا تھا اور اسے جھوٹ قرار دیا جارہا تھا کہ عید کے موقع پر شکار پور میں تین ہندو ڈاکٹر قربان کر دیئے گئے۔ اس قتل کے بارے میں کئی باتیں کہی جار ہی ہیں۔ کوئی مسلمان لڑکی اور ہندو لڑکے کے عشق کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کسی ہندو کا مسلمان لڑکی سے عشق ہماری توہین تھا لہٰذا سبق سکھانے کے لئے تین ڈاکٹر قتل کر دیئے گئے۔ یاد رہے کہ تین مقتولین میں سے ایک زندہ تھا اور بچایا جاسکتا تھا لیکن سکھر کے ہسپتال میں اس لئے اس کا علاج نہیں ہوا کہ وہ غیر مسلم تھا۔

اس اندوہناک واقعے کے بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ چند ہندو ڈاکٹر ایک مسلمان رقاصہ کو مجرے کے لئے لائے تھے۔ چنانچہ اس علاقے میں رہنے والی برادری کو غیرت ایمانی جوش میں آ گئی اور مجرا دیکھنے والوں میں سے تین قتل کردیئے گئے۔ گویا مسلمان رقاصہ کا مجرا مسلمان دیکھیں توغلط نہیں لیکن ہندو دیکھیں تو واجب القتل ہیں!

دنیا بھر میں اور خود پاکستان میں مختلف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن غریب اور مسلک کی بنیاد پر ہمارے یہاں جس تیزی سے تشدد میں اضافہ ہوا اس نے ہمیں دنیا کے اور خود اپنے سامنے شرمسار کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ ہیں جو خود کش بمباروں کے ذریعے بے گناہ مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں۔ ہماری مسجدیں، امام باڑے، صوفیوں اور بزرگوں کے مزار اُن کے ہاتھ سے محفوظ نہیں۔ عورتوں کو وہ آہنی پنجروں میں بند کر کے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ان کے گھر سے باہر نکلنے، محنت مزدوری کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کو خلاف شرع خیال کرتے ہیں۔ اس لئے لڑکیوں کے سینکڑوں سکول بارود سے اڑا چکے ہیں۔ ان لوگوں کے اندر انتہا پسندی کا یہ زہر جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں پھیلا۔ اچانک سماج میں ایک ایسا طبقہ نمودار ہوا جو اپنے مسلک کے سوا دوسرے مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان کو بھی ’’کافر‘‘ اور ’’واجب القتل‘‘ سمجھنے لگا اور اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔ ایک مکتبہ فکر پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی تعلیمی اداروں سے نفرت کاز ہربہت سلیقے سے پھیلا رہا تھا۔ اسی مکتبہ فکر نے ذرائع ابلاغ میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا اور پاکستان کے روا دار اور کثیر المشرب سماج کو تقسیم کرنے کا کام کیا۔‘‘

میں زاہدہ حنا کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بہت حد تک اپنے اس کالم میں پاکستان کے حالات، مسلمانوں اور غیرمسلموں سے رویہ اور ناروا سلوک کا ذکر مختصر الفاظ میں کردیا ہے ……. اسلام ہمیں اختلاف عقیدہ کی بھی اجازت دیتا ہے ………اور مذہب آزادی بھی مہیا کرتا ہے………اسلام ہر ایک کی جان ………عزت اور آبرو کی بھی ضمانت دیتا ہے لیکن حیرت اور افسوس ہے کہ اسلام کے نام پر ہی یہ سب زیادتیاں اور ظلم روا رکھے جارہے ہیں۔ کاش کوئی ان پر غور کرے۔ غور کرنا تو الگ رہا اگر کوئی غیر مسلم اس اسلامی مملکت کے ججوں کے پاس اپنا کیس لے کر جائے تو کیس درج ہی نہ ہوگا۔ اگر ہو بھی جائے تو انصاف نہیں ملے گا۔ خدا کے لئے اپنے حالات پر غور کرو……… ہر ایک کو اس کے عقیدہ کے مطابق مذہبی آزادی جو اسلام دیتاہے دینی چاہئے۔

میں نے ایک اور ای میل پڑھی جسے میرے کئی دوستوں نے بھی بھجوائی جس میں لکھا تھا کہ کیا مسلمان پاکستان میں خوش ہیں؟ کیا مسلمان مصر میں خوش ہیں؟ کیا مسلمان فلسطین میں خوش ہیں؟ کیا مسلمان عراق، ایران اور دوسرے اسلامی ملکوں میں خوش ہیں؟ پھر وہ لکھتے ہیں کہ مسلمان یورپ کے ہر ملک میں خوش رہتے ہیں۔ امریکا کے ویزے مل جائیں تو سبھی بھاگ کر یہاں آجائیں گے………کسی یورپین ملک میں جانے کے لئے وہ ہر وقت تڑپتے ہیں؟ آخر اس کا سبب کیا ہے؟

بات پوچھنے والی ہے……… ان ملکوں میں مذہبی آزادی ہے؟ ہر ایک آزادی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارسکتا ہے……… کاش مسلمان قرآن کریم کوبھی غور سے پڑھیں۔ جس میں یہ آزادیاں سب قوموں کو بلا تفریق دی گئی ہیں……… جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ پہلی سے دسویں جماعت تک کے بچوں کو ان کے نصاب میں واقعی دوسرے مذاہب سے نفرت کا سبق سکھایا جاتا ہے۔ ہم سب کلمہ ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ خدا کے فضل سے پڑھتے ہیں۔ اس کا ترجمہ بھی کتب میں ……… مساجد کی دیواروں پر……… اور شہروں کے گلی کوچوں کے دروازے پر غلط لکھا جاتا ہے ……… اس کا صاف، سادہ اور آسان ترجمہ یہ ہے اور اس کے علاوہ جو ہے وہ غلط ہے صحیح ترجمہ یہ ہے:۔ ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں……… اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔‘‘

خدا تعالیٰ ہمیں اس کلمہ کے ساتھ زندہ رکھے اور اسی کلمہ پر ہمارا انجام ہو۔ آمین

ڈیلی بلیٹن نے اپنی اشاعت17؍نومبر 2011ء میں صفحہ A10 پر خاکسار کا ایک خط شائع کیا ہے جس کا عنوان اخبار نے یہ دیا ہے:۔

’’Efficient Charity‘‘۔ ’’کارآمد صدقہ و خیرات‘‘

یہ خاکسار کا ایک خط ہےہیومینٹی فرسٹ کے لئے لکھا گیا تا عوام الناس کو اس کی اہمیت سے آگاہی ہو نیز دوسری آرگنائزیشن سے بھی اس کا تقابلہ کیا کہ باقی تنظیمیں جو کچھ وہ حاصل کرتی ہیں اس کا بہت کم حصہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر لگاتی ہیں باقی رقم اپنے ورکرز کی تنخواہوں پر صرف کرتی ہیں جب کہ ہیومینٹی فرسٹ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ میں نے ایک شخص کا بہت غور سے یہ خط پڑھاجس کا عنوان ہے ’’ریسرچ کریں اور پھر دیں (16؍ستمبر)‘‘ جس میں کہا گیا ہے کہ بہت سے فلاحی ادارے ہر ڈالر کے صرف 20 سینٹ فلاحی کاموں پر خرچ کرتے ہیں باقی فنڈز اکٹھا کرنے کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے ان کے ورکرز کو تنخواہ کے طور پر دیا جاتا ہے۔

یہ اعداد و شمار بہت خوفناک ہیں خاص طور پر اس وقت جب ان فلاحی اداروں کے اعلیٰ سی ای اوز کی تنخواہوں کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ لہٰذا میں فلاحی عطیات کے حصول میں دلچسپی رکھنے والے ڈیلی بلیٹن کے قارئین کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی فلاحی تنظیم موجود ہے جو ہر ڈالر کے 90 سینٹ فلاحی کاموں پر خرچ کرتی ہے اور اس رقم کو تباہ کاریوں اور انسانی امداد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تنظیم کو ہیومینٹی فرسٹ کہا جاتا ہے اور آپ https://humanityfirst.org/ پر آن لائن جا کر مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ گروپ اوپر سے نیچے تک رضاکاروں کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور ’’زمین پر‘‘ رضاکاروں کا یہ نیٹ ورک تقریباً 200ممالک میں انتظامی اور رسد کے اخراجات کو کم سے کم کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

اس طرح ہیومینٹی فرسٹ، ان فنڈز اور وسائل کو جتنا ممکن ہو سکے اتنا اچھے طریقے سے جہاں ان کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہاں پہنچاتی ہے اور خرچ کرتی ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کی امریکہ میں مقامی آفات اور انسانی امداد کے لئے امریکی بنیاد پر ویب سائٹ (us.HumanityFirst.org) بھی موجود ہے۔ آپ امریکی سائٹ یا برطانیہ میں مقیم مرکزی HumanityFirts.org سائٹ پر آفات یا انسانی امداد کے لئے عطیات دے سکتے ہیں۔

تنظیم کی جاری انسانی خدمت کی کوششوں میں سے کچھ میں تو افریقی دیہات میں شمسی توانائی سے چلنے والے پمپوں کے ساتھ تازہ پانی کے کنویں فراہم کرنے کے منصوبے اور لاطینی امریکہ اور دیگر جگہوں پر آنکھوں کی سرجری کا مشن شامل ہیں۔ میں ہر اس شخص سے گزارش کرتا ہوں جو اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ وہ جتنا پیسہ خیرات یا عطیہ جات میں دے وہ چیک کرے کہ وہ اصل میں ان لوگوں تک پہنچتا بھی ہے جن کا مقصد Humanity First یعنی انسانیت پہلے ہے۔ پھر آپ یقین کر سکتے ہیں کہ آپ کی نیکی مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت 24؍نومبر تا 30؍نومبر 2011ء میں صفحہ 3 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’اے قادر و توانا! آفات سے بچانا‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو اوپر دوسرے اخبار کے حوالہ سے گزر چکا ہے۔

پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 17 تا 25؍نومبر 2011ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا مندرجہ بالا مضمون ’’اے قادر و توانا آفات سے بچانا‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ نفس مضمون اوپر گزر چکا ہے۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 24؍نومبر 2011ء میں صفحہ 20 پر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ عید الاضحیہ حضور انور کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو اس سے قبل الاخبار کے حوالہ سے اوپر گذر چکا ہے۔

پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 2؍دسمبر 2011ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’ہے شکر رب عزوجلّ خارج از بیاں‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ: امریکہ میں بسنے والے مکین اور تمام وہ لوگ جو اس ملک میں دیگر ممالک سے آکر آباد ہوئے ہیں ہر سال نومبر کی آخری جمعرات کو Thanks Giving (یوم تشکر) مناتے ہیں یہ ان کا قومی تہوار ہے۔ ہر جگہ چھٹی ہوتی ہے لوگ دور دراز کا سفر اختیار کر کے اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، عزیز و اقارت کے پاس آکر یہ دن گزارتے ہیں اور اس دن کے متعلقہ خوشیوں میں شامل و شریک ہوتے ہیں۔ اس دن اکٹھے ہو کر اور اس دن کو روایتی انداز منانے کے لئے ساری قوم میں ایک جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو Homeless بے گھر ہوتے ہیں یا جو اپنے دن رات سڑکوں پر گزار لیتے ہیں ان سب کو بھی اس دن کھانا کھلائے جانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔

خاکسار نے ان سب باتوں کے لکھنے کے بعد مسلمان کو کس طرح جذبہ شکر ادا کرنا چاہیئے بھی لکھا ہے کہ ہر مسلمان کی زندگی کا ہر لمحہ ہی جذبہ شکر سے لبریز ہونا چاہیئے۔ اگر انسان دن کے صرف ایک لمحہ کو ہی سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر انعامات سے نوازا ہے مثلاً صحت دی ہے۔ چلنے پھرنے کی طاقت، دیکھنے کے لئے آنکھیں، کام کرنے کے لئے دو ہاتھ، کھانے کا ذائقہ، چکھنے کے لئے زبان، پھر بولنے کی طاقت، پھر ماں باپ، عزیز و اقارب، بہن بھائی، یار دوست خدا نے اور بہت کچھ دیا جن کو گنا بھی نہیں جاسکتا تو ان سب پر شکر واجب ہے! اس کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ نے ہمیں مسلمان بنایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان نبی کی امت بنایا۔ قرآن جیسی نعمت دی اس زمانے کے امام کو پہچاننے کی توفیق ملی۔ الحمد للّٰہ

ہم جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کی زندگی کا ہر لمحہ شکر خداوندی میں گذرتا تھا۔ کچھ انبیاء کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ’’عبد شکور‘‘ کے لقب دیئے ہیں۔ مگر آپ کی شکر گزاری سب سے بڑھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا ہے کہ مومن کی بھی عجیب بات ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کی خاطر صبر کرتا ہے اور اگر اسے نعمت ملے تو شکر کرتا ہے۔

قرآن کریم نے بھی اس کی اس طرح ترغیب دی۔ سورۃ البقرہ آیت نمبر 153 میں ہے۔ ’’مجھے یاد کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا میرا شکر ادا کرو اور ناشکرے مت بنو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا ’’تم اللہ کی عبادت کرو اور خدا کے شکر گزار بندے بن جاؤ‘‘

عبادت اور تہجد میں آپؐ کا قیام بہت لمبا ہوتا، پاؤں متورم ہوجاتے۔ حضرت عائشہؓ کے پوچھنے پر فرمایا اَفَلَآ اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔ قرآن کریم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو گے تو وہ تم سے راضی ہوگا۔

اسی طرح اس ضمن میں ایک دعا بھی لکھی گئی ہے۔ جو قرآن مجید میں مذکور ہے کہ ’’اے میرے رب مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دعا مانگا کرتے تھے اے میرے رب مجھے اپنا ذکر کرنے والا اور اپنا شکر کرنے والا بنایو۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے بہت راضی اور خوش ہوتا ہے جو ایک لقمہ بھی کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف کرتا ہے۔ پانی پیتا ہے تو اس پر بھی اللہ کی حمد اور تعریف کرتا ہے۔ پھر کھانے کے بعد بھی شکر کے لئے دعا کرتے۔ رات کو بستر پر جاتے تو شکر کرتے اور اللہ کی تعریف کرتے۔

پس شکر گزاری تو مومن کا شیوہ ہے۔ بے شک یہ دن منائیں دوستوں کے ساتھ بیوی بچوں کے ساتھ، ماں باپ کے ساتھ لیکن خدا کو نہ بھول جائیں، نمازیں بروقت مساجد میں آکر ادا کریں۔ اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ آکر جب نماز ادا کریں گے تو اس کا مزا ہی کچھ اور ہوگا۔ جس طرح کھانے کی میز پر اگر سب بیٹھ کر کھانا کھائیں تو اس کی لذت اور ہوگی بہ نسبت کے اکیلے کھانے کے۔ اس طرح مسجد میں اپنے بچوں کو لے کر آئیں روحانی مائدہ کھائیں تو اس کی لذت اور ہوگی۔ ہمارا جذبہ شکر خدا کی عبادت سے ہونا چاہیئے۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت یکم دسمبر 2011ء میں صفحہ 3 پر خاکسار کا مندرجہ بالا مضمون ’’ہےشکر ربّ عزوجلّ خارج از بیاں‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ نفس مضمون اوپر لکھا جاچکا ہے۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 2؍دسمبر 2011ء میں صفحہ B26 پر ایک رنگین تصویر کے ساتھ ہماری خبر شائع کی ہے۔ جس کا عنوان ہے ’’اپ لینڈ میں بین المذاہب ناشتہ پر دعائیہ تقریب‘‘۔ تصویر میں سامعین اور جماعت احمدیہ کا وفد بیٹھا نظر آرہا ہے۔ خبر کا نفس مضمون وہی ہے جو پہلے دیگر اخبارات کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔

نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 2 تا 8؍دسمبر 2011ء میں صفحہ 12 پر خاکسار کا مندرجہ بالا مضمون ’’ہے شکر ربّ عزوجلّ خارج از بیاں‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ مضمون کا خلاصہ وہی ہے جو دیگر اخبارات کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔

ہفت روزہ پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 8؍دسمبر 2011ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا ایک مضمون بعنوان ’’جس نے میری سنت زندہ کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون میں خاکسار نے لکھا کہ:۔

مولانا دوست محمد صاحب شاہد مرحوم نے ’’ربانی واعظوں کو بیش قیمت نصائح‘‘ کے عنوان سے تقریباً 13 احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کر کے 23؍جنوری 2009ء کے الفضل میں شائع کرایا۔ یہ احادیث انہوں نے جامع الصغیر للسیوطی، احادیث زیر لفظ ’’مَنْ‘‘ سے لی ہیں۔ ہر حدیث ہی جوامع الکلم ہے اِن میں سے چند احادیث کا تذکرہ کرتا ہوں۔

(1) ایک حدیث میں ارشاد ہے ’’افضل عمل یہ ہے کہ انسان اپنے مومن بھائی کے دل کو سرور سے بھر دے، اس کا قرض ادا کرے، اس کی ضرورت کی تکمیل کرے، اسے غم سے نجات دے۔‘‘

یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے افضل عمل قرار دیئے ہیں۔ مومن کی تکلیف کا خیال رکھنا اس کو خوشی اور راحت پہنچانا۔ اگر اس حدیث پر لوگ عمل پیرا ہوجائیں تو سوچیں کہ کتنے مسائل کا حل ہوجائے گا۔ اس وقت تو لوگ ایک دوسرے کی جان لینے کے درپے ہیں۔ دنگا فساد، قتل و غارت، لوٹ مار میں ماہر بن رہے ہیں۔ کجا یہ کہ دوسرے مسلمان بھائی کی تکلیف کا احساس کریں اور اس کی تکلیف کو دور کریں۔

(2) دوسری حدیث یہ بیان کی گئی ہے۔ ’’بہترین اسلام یہ ہے کہ بےتعلق اور بے مقصد باتوں سے قطعی طور پر اجتناب کیا جائے۔‘‘

ہمارے معاشرہ میں غیر ضروری باتوں کا تو حساب ہی نہیں ہے۔ پھر ساتھ ہی وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ انسان جتنی زیادہ باتیں کرتا ہے اتنی ہی غیر مقصد اور غیر ضروری باتیں ہوجاتی ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور اس پر مواخذہ ہوگا۔پہلے تولو پھر بولو پر عمل ہونا چاہیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ انسان کو اپنی زبان پر کنٹرول رکھنا چاہیئے اپنی زبان کو قابو میں رکھے گا تو جنت میں جائے گا۔

(3) ایک حدیث یہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔ ’’جو شخص مومنوں کو سرعام تکلیف پہنچاتا ہے اس پر خدا کی لعنت واجب ہوجاتی ہے۔‘‘

اس وقت وطن عزیز میں کیا ہو رہا ہے۔ سرعام تکلیف کا بازار گرم ہے۔

اس ضمن میں یہ حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایک مومن کی برسر عام تحقیر دیکھی اور اس کی کوئی مدد نہ کی تو ربّ ذوالجلال حشر کے روز تمام مخلوق کے سامنے اسے رُسوا کرے گا‘‘

(4) ایک حدیث یہ ہے جس کا متن عنوان میں درج ہے۔ ’’جس نے میری سنت زندہ کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘۔

اس میں سنت سے کیا مراد ہے؟ ’’سنت سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی۔ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل۔‘‘

(ریویو برمباحثہ بٹالوی، چکڑالوی صفحہ 203)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل ہمارے لئے سنت اور واجب العمل ہے۔ صحابہ کرامؓ تو اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ وہ اپنے اعمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مطابق کریں۔

اب میں ان چند باتوں کا ذکر کرتا ہوں جو عام ہیں لیکن ان سے غفلت برتی جاتی ہے۔ اگر ان پر عمل کیا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ وہ جنت میں آپ کے ساتھ ہوگا۔ وہ کون سی بنیادی باتیں ہیں۔

اول:السلام علیکم کو رواج دو۔ صحابہ تو بازاروں میں صرف السلام علیکم کہنے کے لئے نکل جاتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ’’اے لوگو! سلام کو رواج دو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ اور اس وقت نماز پڑھو جب دوسرے لوگ سوئے ہوئے ہوں (نماز تہجد اور نماز فجر مراد ہے) تو تم سلامتی سے جنت میں داخل ہو جاؤ گے‘‘۔ بعض لوگ جب دوسروں کو ملیں گے تو سلام کر لیں گے لیکن اپنے گھر میں داخل ہوں گے تو السلام علیک نہیں کہتے۔قرآن کریم میں خاص طور پر اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’جب تم اپنے گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے گھر والوں کو السلام علیکم کیا کرو یہ دعائے خیر خدا کی طرف سے بڑی ہی بابرکت اور پاکیزہ تعلیم ہے۔‘‘

سلام تو ہر واقف کار اور ناواقف کار کو کرنا چاہیئے۔ بچوں کو خود آج کل السلام علیکم کہہ کر پہل کرتے ہوئے انہیں السلام علیکم سکھانے کی ضرورت ہے۔ اس سے وہ سنت پر عمل کرنا سیکھیں گے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت یہ تھی کہ گھروں میں، مساجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں اندر رکھتے۔ اسی طرح قمیص پہنتے ہوئے، جرابیں، جوتے پہنتے ہوئے بھی پہلے دایاں بازو یا دایاں پاؤں جوتے اور جراب میں ڈالتے تھے۔

پھر ایک سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوتے اور بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے اور کھانا کھاتے وقت بھی بسم اللّٰہ و علی برکۃ اللّٰہ پڑھتے۔ آج کل تو بائیں ہاتھ سے کھانا پینا فیشن بن گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کا ہاتھ پکڑ کر جو کھانے کی پلیٹ میں ہر طرف گھوم رہا تھا فرمایا: بچے اللہ کا نام لے کر کھاؤ۔ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔

آج کل ٹوپی کو بھی خیر باد کہا جارہا ہے۔ یعنی ننگے سر نماز پڑھنے کو رواج دیا جارہا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ہے کہ آپ سر پر عمامہ، پگڑی باندھتے تھے اور سر ڈھانک کر نماز پڑھنی بھی سنت ہے۔

ہر کام دائیں طرف سے فرماتے تھے۔ یہ بھی ایک سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہر کام دائیں طرف سے کرو۔ خواہ سر میں کنگھی کرنا ہو یا جوتا پہننا ہو۔

ایک سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ آپ رات کو سونے سے قبل جب بستر پر فراش ہوتے تو دونوں ہاتھوں پر دعا کرنے کے بعد سورۃ الفاتحہ، آیت الکرسی اور آخری تینوں قل پڑھتے اور ہاتھوں پر پھونک مار کر سارے بدن پر مل لیتے تھے۔

ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے بعد اب ایک بڑی بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز باجماعت ادا فرماتے تھے اور مسجد میں ادا فرماتے تھے۔ اس طرف بھی مسلمانوں کی توجہ بہت کم ہے۔ نماز کسی صورت میں معاف نہیں ہے۔ ایک نابینا صحابی کو جسے مسجد پہنچنے میں تکلیف بھی راستہ میں ہوتی تھی پھر بھی آپ نے اُسے فرمایا کہ مسجد آکر ہی نماز ادا کرو۔

اسلام کی پہلی دفاعی جنگ، جنگ بدر، نماز کے دفاع اور عبادت الٰہی کے دفاع ہی میں لڑی گئی تھی۔ آپؐ نے الحاح کے ساتھ یہ دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ یہ تیری عبادت کرنے والے اگر آج ہلاک ہوگئے تو پھر تیری عبادت نہ ہوگی۔‘‘

خواتین کو بھی اس جنگ (جہاد) نماز کے جہاد میں شریک ہونا چاہیئے اور خلافت کے قیام اور استحکام کے لئے نماز کا قیام بہت ضروری ہے۔

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 فروری 2023

اگلا پڑھیں

حضرت مصلح موعودؓ کے بعض الہامات اور کشوف و رؤیا کا ذکر