• 19 جون, 2024

حضرت ملک عطاء اللہؓ کا ايک ناياب تبليغی خط

تبليغ دين يعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا کام اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ہستيوں يعنی انبياء کرام اور مرسلين کے ذريعے ليتا ہے۔ انبياء کے بعد خلفاء کرام، صحابہؓ اور مخلصين داعين کومقر ر کرتا ہے جو ان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھاتے ہيں۔ تبليغ کی اہميت کو واضح کرنے کےلئےصحيح مسلم کی ايک حديث مبارکہ پيش خدمت ہے:حضرت سہل بن سعدؓ بيان کرتے ہيں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمايا:خدا کی قسم ! تيرے ذريعے ايک آدمی کا ہدايت پا جانا اعلیٰ درجے کے سرخ اونٹوں کے مل جانے سے ذيادہ بہتر ہے۔

(صحيح مسلم کتاب الفضائل)

نا صرف آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ بلکہ حضرت مسیح موعود عليہ السلام کے صحابہؓ نےبھی اس بات پر عمل پيرا ہوتے ہوئے تبليغ کے فريضہ کو جاری رکھا۔ہدايت اور نور کی شمع روشن کرنے کی خاطر ان لوگوں نے اس راستے ميں ہر طرح کی قربانياں پيش کرنے سے گريز نہيں کيا۔ ان خوش قسمت داعيان ميں سے ايک خوش قسمت داعی الی اللہ حضرت مسیح موعود عليہ السلام کے صحابی حضرت ملک عطاء اللہؓ صاحب آف گجرات شہر بھی تھے جنھوں نے 1901ء ميں تقريباً 18سال کی عمر ميں احمديت قبول کی اور اس راہ ميں اپنی تعليم، مال ودولت اور رشتوں کی قربانی دی مگر اس ہدايت پر نا صرف خود قائم رہے بلکہ اس روشنی کو پھيلانے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاکسار کے پڑدادا جان تھے۔ آپؓ کی زندگی کے بارے ميں کچھ معلومات پہلے سے جماعت کے لٹريچر ميں محفوظ ہيں۔

(روز نامہ الفضل 1 اور 5؍فروری 1958ء۔روز نامہ الفضل آن لائن 21؍جنوری 2021ء۔روز نامہ الفضل آن لائن 24؍جون 2021ء اور تاريخ احمديت جلد 18)

آپؓ کی پيدائش 1882ء ميں جبکہ وفات 1957ء ميں ہوئی۔ آپؓ ايک دعا گو، ايمان دار، علم دوست،لائق،بہادر اور جوشيلے داعی الی اللہ تھے۔ آپؓ کو جماعت احمديہ گجرات ميں مختلف شعبہ جات ميں خدمات بجا لانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ آپؓ نائب و قائمقام امير جماعت احمديہ ضلع گجرات بھی مقرر ہوئے۔ آپؓ ميدان تبليغ ميں سرگرم رہتے تھے اور جہاں موقع ملتا لوگوں کو بڑے جوش اور واضح دلائل کے ساتھ احمديت کی تبليغ کرتے۔ اس سلسلے ميں آپؓ کا ايک ايمان افروز، ناياب اورغير مطبوعہ خط پيش خدمت ہے جسے آپؓ نے اپنے ايک عزيز کو تبليغ کی غرض سے تحرير کيا۔اس خط کو ديکھنے اور پڑھنے سے آپؓ کے طرز تحرير، خوش خطی اور طرز بيان کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے۔ يہ خط اس وقت لکھا گيا جب پنجاب ميں 1953ء ميں جماعت احمديہ کے خلاف فسادات کا طوفان سامنے کھڑا تھا ليکن اس کے باوجود آپؓ بلا خوف و خطر تبليغ کا فرض ادا کرنے ميں مشغول رہے۔ اصل خط کے ساتھ قارئين کی خدمت ميں آسانی کے لئے يہ خط دوبارہ تحرير کيا گيا ہے۔ خاکسار کے پاس يہ خط خدا تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہے۔ الحمدللّٰہ

بسم اللّٰہ الرحمن الرحيم
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
عزيز م انور۔ السلا م عليکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاۃ

عنايت ملا۔ کاشف حال ہوا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔ آمين ثمہ آمين۔ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ آپ نے پڑھ لی ہو گی۔ آپ پر يہ امر واضح ہو گيا ہو گا کہ جس شخص کو لوگ اسلام کے مقابلہ ميں نئے دين کا بانی کہتے ہيں وہ جلسہ اعظم مذاہب ميں اسلام کی خوبياں بيان کرتا ہے اور ايسے رنگ ميں کرتا ہے کہ سب اديان پر اسلام کا غلبہ ثابت کرتا ہے اور دوسرے مذاہب والے اس کے مقابلے ميں عاجز آجاتے ہيں۔ عزيز من۔ غور کا مقام ہے کہ جس شخص کا دين اسلام کے سوا کوئی اور دين ہے وہ ايسے موقع پر کيوں اپنے دين کی خوبياں بيان نہيں کرتا۔ بلکہ کرتا ہے تو اسلام کی خوبياں۔ عزيز من۔ يہ سب دشمنوں کا افترا ہے اور جھوٹ ہے۔ چنانچہ حضرت صاحبؑ فرماتے ہيں:

ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکايا ہم نے
کوئی ديں دينِ محمدﷺ سا نہ پايا ہم نے
کوئی مذہب نہيں ايسا کہ نشاں دکھلائے
يہ ثمر باغِ محمدﷺ سے ہے کھايا ہم نے
ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے ديکھا
نور ہے نور اٹھو ديکھو سنايا ہم نے
اور دينوں کو جو ديکھا تو کہيں نور نہ تھا
کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپا يا ہم نے
تھک گئے ہم تو انہی باتوں کو کہتے کہتے
ہر طرف دعوتوں کا تير چلايا ہم نے
آزمائش کيلئے کوئی نہ آيا ہر چند
ہر مخالف کو مقابل پہ بلايا ہم نے
جل رہے ہيں يہ سبھی بغضوں ميں اور کينوں ميں
باز آتے نہيں ہر چند ہٹايا ہم نے
آؤ لوگو! کہ يہيں نورِ خدا پاؤ گے!!
لو تمہیں طور تسلی کا بتايا ہم نے
آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجزميں
دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلايا ہم نے
جب سے يہ نور ملا نورِ پيمبرسے
ہميں ذات سے حق کی وجود اپنا ملايا ہم نے
مصطفٰے پر تيرا بےحد ہو سلام اور رحمت
اس سے يہ نور ليا بارِ خدايا ہم نے
ربط ہے جانِ محمدﷺ سے ميری جان کو مدام
دل کو وہ جام ِ لبالب ہے پلايا ہم نے
اس سے بہتر نظر آيا نہ کوئی عالم ميں
لا جرم غيروں سے دل اپنا چھڑايا ہم نے
موردِ قہر ہوئے آنکھ ميں اغيار کے
ہم جب سے عشق اس کا تہ دل ميں بٹھا يا ہم نے
کافر و ملحدود جال ہميں کہتے ہيں!
نام کيا کيا غم ملت ميں رکھايا ہم نے
گاليا ں سن کے دعا ديتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش ميں اور غيظ گھٹايا ہم نے
تيرے منہ کی ہی قسم ميرے پيارے احمد ﷺ
تيری خاطر سے يہ سب بار اٹھايا ہم نے

عزيز من۔ نظم بڑی لمبی ہے۔ اس لئے ميں مندرجہ بالا اشعار پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ اميد ہے کہ آپ کی تسلی کے لئے يہی کافی ہے۔ صفحہ 2 پڑ ھيں۔

ايک اور بات غور کے قابل ہے۔ وہ يہ ہے کہ آپ اپنے اسلامی تاريخ کے علم کی رو سے غور کريں اور سوچيں کہ کيا آپ کو کوئی ايسی مثال کسی مامور من اللہ کی يا اس کی جماعت کی ملتی ہے کہ کسی گذشتہ مامور من اللہ نے اپنے مخالفوں کو گالياں دی ہوں يا مارا ہو يا اسکے ماننے والوں نے ہی ايسا کيا ہو۔آپ ساری عمر بھی تلاش کرتے رہيں تو آپ کو ايسی کوئی مثال نہيں ملے گی۔ بلکہ برخلاف اس کے يہی ملےگا کہ مامور من اللہ کو ہی مخالفوں نے گالياں ديں، دکھ ديئے، مارا۔ نيز اس کی جماعت کو گالياں ديں، ستايا اور مارا۔ بھلا کسی مولوی سے ہی اس کے متعلق دريافت کر کے ديکھ ليں وہ يقيناً کوئی مثال پيش نہيں کر سکےگا۔ ہاں يہ ضرور کہے گا کہ آپ احمدی ہو گئے ہيں۔ حضرت صاحب اور جماعت کے حق ميں ہر ممکن تبرہ بازی کرے گا۔ ہاں ايک اور بات ياد آ گئی ہے۔ احرار وغيرہ جماعت احمديہ کو غير مسلم اقليت قرار دلانے ميں ہر طرح نا کام ہو چکے ہيں۔ يہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ اب وہ جماعت احمديہ کے سوشل با ئيکاٹ کی تجويز اپنی مجلس ميں پاس کر چکے ہيں۔ جس پر وہ عمل کرنے کا 1953؍2؍22 سے اعلان کر چکے ہيں۔ آپ کو اس کی مثال بھی نہيں ملے گی کہ کسی مامور يا اس کی جماعت نے اپنے مخالفوں کا بائيکاٹ کيا ہو۔ بلکہ ان کے مخالفين ايسی ناشائستہ حرکات کا ارتکاب کرنے والے نظر آئينگے۔ يہ بھی ياد رکھئے کہ سچے ماموروں کی ہميشہ مخالفت ہوتی ہے۔ جھوٹے مدعيان نبوت يا ماموريت کو کوئی پوچھتا بھی نہيں کہ ان کے منہ ميں کتنے دانت ہيں۔ميری زندگی ميں کئی لوگوں نے دعوے کئے مگر ان کی طرف کسی نے توجہ ہی نہيں کی۔

ميں آج دو کتابيں پيغام احمديت و کشتی نوح بذريعہ رجسٹر ڈ بک پوسٹ بھيج رہا ہوں۔ وصول ہونے پر اطلاع ديں۔ خط لکھتے رہا کريں۔ ’’المکتوب نصف الملاقات‘‘ مشہور ہے اور يہ ہے بھی صحيح کہ خط آدھی ملاقات ہوتا ہے۔ ان دونوں کتابوں کو غور سے پڑھيں اور شروع سے آخر تک پڑھيں۔ ان شاءاللّٰہ ان کے مطالعہ سے آ پ کو شرح صدر ہو جائيگا اور حق اچھی طرح کھل جائيگا۔ خدا کرے کہ ايسا ہی ہو۔ آمين۔ يار زندہ و صحبت باقی۔ مزيد ان شاءاللّٰہ پھر۔ والدعا۔1953؍2؍4

خاکسار
ملک عطاءاللہ بيروں شاہ دولہ گيٹ گجرات (پاکستان)

آخر ميں حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ايک ارشاد تبليغ کے متعلق پيش خدمت ہے:پس يہ کام خدا تعالیٰ کے ہيں، جب چاہتا ہے کہ سعيد فطرت لوگوں کو حق پہچانے کی توفيق ملے تو ايسی ہوا چلاتا ہے کہ دل خود مائل ہونا شروع ہو جاتے ہيں۔ دلوں کو مائل کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے اور تبليغ کرنا انبياء کے ساتھ الٰہی جماعتوں کے افراد کا کام ہے۔ پس ہمارا کام يہ ہے کہ اپنے ملک کے حالات کے مطابق يہاں تبليغ کے نئے نئے راستے تلاش کريں۔

(خطبہ جمعہ 9؍اپريل 2010ء)

ہمارے بزرگ تو اپنے حصے کی شمع روشن کر نے کی کوشش کرتے رہے ہيں،اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس روشنی کو مزيد آگے پھيلائيں۔ اللہ تعالیٰ ہميں بھی تبليغ کے فرض کو احسن رنگ ميں ادا کرنے کی توفيق عطا فرمائے۔ آمين ثم آمين

کام مشکل ہے بہت منزل مقصود ہے دور
اے ميرے اہل وفا سست کبھی گام نہ ہو
ہم تو جس طرح بنے کام کيے جاتے ہيں
آپ کے وقت ميں يہ سلسلہ بد نام نہ ہو

(ڈاکٹر مبارز احمد ربانی۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 فروری 2023

اگلا پڑھیں

حضرت مصلح موعودؓ کے بعض الہامات اور کشوف و رؤیا کا ذکر