• 18 اپریل, 2024

لیفٹیننٹ (ر) کرنل رفیق احمد بھٹی مرحوم

انسان کی زندگی ایک سفرمسلسل ہے۔ یہ سفر مستقر ہویا مستودع ہو، ہر مقام پر بعض ایسے لوگ ملتے ہیں،کچھ ناقابل فراموش واقعات جنم لیتے ہیں یا کچھ ایسی یادیں رہ جاتی ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ بظاہر آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی طرح ہوتی ہیں اور کسی بھی وقت مناسب ہوا اور ماحول ملنے پر چنگاری سے شعلہ بن جاتی ہیں۔

خاکسار کو 1976ء سے 1982ء تک کھاریاں میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق ملی۔اللہ کے فضل سے کھاریاں اور اس کے مضافات کی سب جماعتیں بہت ہی مخلص تھیں اور ہیں اور ان شاءاللّٰہ رہیں گی۔

آج میں ایک بہت ہی مخلص اور یک فدائی احمدی فوجی افسر کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں۔جن کے ساتھ قیام کھاریاں کے دوران ایک محبت بھرا یادگار تعلق رہا۔

یہ دوست مکرم رفیق احمد بھٹی صاحب ہیں۔ان کی کھاریاں میں ٹرانسفر 1979ء میں ہوئی۔ ان کی کھاریاں آمد سے قبل ایک احمدی فوجی افسر نے مجھے بتایا کہ ایک میجر صاحب کی تقرری کھاریاں میں ہورہی ہے اور وہ بفضل للہ ایک بہت ہی فعال اور مخلص احمدی ہیں۔

جب موصوف میجر صاحب کھاریاں تشریف لائے۔نماز جمعہ پر ان سے ملاقات ہوئی۔واقعی ہی وہ ایک مثالی احمدی تھے۔کوئی بھی کام ہو ہر کار خیر میں ہمیشہ ہی پیش پیش رہنے والے وجود تھے۔

کھاریاں کینٹ کے چند مخلص رفقاء کا ذکر خیر

ان ایام میں کھاریاں کینٹ میں کافی احمدی دوست آرمی یا دیگر شعبوں میں رہ کر وطن عزیز کی خدمت کی توفیق پارہے تھے۔سب کا ذکر تو نا ممکن ہے۔چند ایک نمایاں احباب کے اسماء کا ذکر کردیتا ہوں۔

  • کرنل نذیر احمد صاحب۔اسٹیشن کمانڈر کھاریاں
  • کرنل راجہ محمد اسلم صاحب
  • میجر رفیق احمد بھٹی صاحب۔۔بعد ازاں بطور لیفٹیننٹ کرنل خدمت کی توفیق پائی۔
  • ڈاکٹر میجر کرشن احمد صاحب۔سی ایم ایچ
  • کرنل افضال احمد بھٹی صاحب۔ریٹائرڈ
  • میجر چوہدری مبشراحمد صاحب
  • مکرم صوبیدار میجررفیق احمد صاحب
  • مکرم ادریس حمد صاحب بنک مینیجر
  • مکرم یعقوب امجد صاحب۔ٹیچر
  • سیدعبد الکریم طاہر صاحب۔ٹیچر
  • ماسٹر عطا محمد صاحب۔ٹیچر

اللہ کے فضل سے سب افسران بہت ہی مخلص تھے۔ ہَر گُلے را رَنگ و بُوئے دِیگَر اَست

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ رفیق احمد بھٹی صاحب

مکرم رفیق صاحب کے والد محترم کا اسم گرامی مکرم ڈاکٹر میجر شاہ نواز خان بھٹی صاحب ہے۔ جنہیں جماعت احمدیہ کے پہلے بیرون پاکستان ڈاکٹرکے طور پربو،سیرالیون میں خدمت دین کی سعادت ملی۔

جہاں بھی گئے داستان چھوڑ آئے

مکرم کرنل صاحب ملازمت کے سلسلہ میں جہاں کہیں بھی گئے۔آپ نے نہایت ایمانداری اور جانفشانی سے خدمت کی۔آپ کا اپنے افسران بالا اور ماتحتوں کے ساتھ رویہ بہت ہی متوازن اور قابل تحسین تھا۔ان کے ساتھ کام کرنے والےباوجود ان کے احمدی ہونے کے سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔دوران ملازمت انہیں مختلف مقامات پر رہنے کا موقعہ ملا۔جہاں بھی ان کی ٹرانسفر ہوتی وہاں پر ہرنوع کی خدمت میں ہمیشہ ہی پیش پیش رہتے۔ نظام جماعت،مسجد اور مربیان سے ان کا رشتہ اورتعلق مثالی ہوتا تھا۔ ان کی طبیعت میں بہت زیادہ انکساری پائی جاتی تھی۔میں نے دیکھا کہ عام فوجی جوانوں کا بھی بہت احترام کرتے اور ان کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے۔

ملازمت سےریٹائر ہونے کے بعد راولپنڈی میں رہائش اختیار کرلی۔پھر خدمت دین کا سلسلہ جاری وساری رہا۔یہاں بھی صدر جماعت سبزہ زار کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔

ڈاکٹر فرید احمد صاحب

مغربی افریقہ میں واقع گیمبیا نامی ملک کے قصبہ فرافینی میں جماعت احمدیہ کا کلینک ہے۔جو اس پسماندہ علاقہ میں بنی نوع انسان کی خدمت میں شب وروز مصروف عمل ہے۔جس میں مختلف ڈاکٹر صاحبان کو خدمت خلق کی سعادت مل رہی ہے۔اتفاق سے خاکسا ر نےبھی اپنی ڈیوٹی کے سلسلہ میں اس مقام پر تقریباً سات سال گزارے ہیں۔جس کی وجہ سے اس قصبہ کے ساتھ مجھے بڑی انسیت ہے۔ اس لئے وہاں دوستوں سے ہمیشہ ہی رابطہ رہتا ہے۔

چند سال قبل ایک نوجوان ڈاکٹر مکرم فرید احمد صاحب کی اس کلینک میں تقرری ہوئی۔ایک روز انہوں نے کسی کام کے سلسلہ میں مجھے فون کیا۔تعارف میں انہوں نے بتایا کہ میرا نام فرید احمد ہے اور میرے والد صاحب کا نام کرنل رفیق احمد بھٹی صاحب ہے اور میرا تعلق راولپنڈی سے ہے۔مجھے احساس ہوا کہ یہ تو کھاریاں والے میجر رفیق صاحب کے بیٹے ہیں۔میرا خیال درست نکلا۔ڈاکٹر فرید صاحب ان کے ہی صاحبزادے تھے۔کھاریاں میں قیام کےدنوں یہ پرائمری سکول کے طالب علم تھے۔اس حسن اتفاق سے،از سر نو مکرم کرنل رفیق صاحب کے ساتھ رشتہ اخوت و محبت تازہ ہو گیا۔ پھر گاہے بگاہے ان کا ذکر خیر چلتا رہا۔

ایک مثالی باپردہ خاتون

مکرم رفیق صاحب کی اہلیہ محترمہ ڈاکٹر طیبہ رفیق تھیں جن کو ہم نے ہمیشہ ہی با پردہ دیکھا ہے۔بسا اوقات فوجی افسران کی بیویاں اپنے ماحول کی وجہ سے پردہ میں سستی کرجاتی ہیں۔لیکن ڈاکٹر صاحبہ ان سب کے لئے ایک خوبصورت مثال تھیں۔

ڈاکٹر صاحبہ تو ایک فرشتہ ہیں

کھاریاں کےمحلہ احمدیہ میں ایک دوست مکرم چوہدری رشید احمد صاحب برادر اصغر چوہدری شریف احمد صاحب ایس۔ڈی۔او کے گھر کے باہر ایک تھڑا سا بنا ہوا تھا۔جہاں سورج کی روشنی بہت آتی تھی۔ محلہ کے باقی گھروں میں ان کے محل وقوع کی وجہ سےیہ دھوپ والی نعمت میسر نہ تھی۔چند بزرگ ماہ دسمبر کی سردی میں اکثر وہاں کھڑے ہو کر تمازت آفتاب سے استفادہ کرتے اورگپ شپ سے اپنے دل بھی بہلاتے رہتے تھے۔

ایک روز میں بھی ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا۔میں نے دیکھا ایک احمدی خاتون جن کا تعلق میرے گاؤں سے تھا اور ان کی شادی کھاریاں میں ہوئی تھی۔وہ ننگے پاؤں بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور روتے ہوئے کہنے لگیں۔مربی صاحب میرے بیٹے کو بچالیں۔وہ بہت سخت بیمار ہے۔میں نے اسی وقت وہیں سے ایک ٹانگہ کرائے پر لیا اور ان کے گھر پہنچ کر ان کے بیٹے کو ساتھ لیا اور کھاریاں کینٹ کا رخ کیا۔ادھر محترمہ طیبہ رفیق اہلیہ کرنل رفیق صاحب کا کلینک تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔انہوں نے اولین فرصت میں بچے کو دیکھا۔ فوری طبی امداد پہنچائی۔ ڈاکٹر صاحبہ کی بروقت کوشش اورضروری مناسب علاج سے بچے کو معجزانہ شفا ہوگئی۔جب ان سے پیسوں کے بارے میں بات کی تو کہنے لگیں۔بس دعا کردیں۔یہی میرے لئے کافی ہے۔ بچے کے چہرے پر حیات نو کے آثار دیکھ کر اس کی والدہ کے چہرے پر رواں خوشی اور شکرانہ کے آنسو آج بھی مجھے یاد ہیں جوبار بار کہہ رہی تھیں کہ ڈاکٹر صاحبہ تو ایک فرشتہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحبہ اپنے بچوں کی نظر میں

ڈاکٹر فرید احمد صاحب کو جماعتی اور ذاتی تاریخ سے کافی لگاؤ ہے۔ اس لئےکسی نہ کسی موضوع پر ان کا قلم صفحہ قرطاس پر موتی بکھیرتا رہتا ہے۔کچھ عرصہ قبل انہوں نے مجھے اپنی والدہ محترمہ کے نام پر تیار کردہ ایک ویب سائٹ بھیجی۔

اس ویب سائٹ پر جانے پر علم ہواکہ محترمہ ڈاکٹر طیبہ رفیق کس قدر عظیم خاتون تھیں۔ان کی میدان صحت میں خدمات، خدمت خلق اور جماعتی بزرگان سے خط و کتابت اور علمی ذوق وشوق اور تربیت اولاد کی کوشش اور اپنے شوہر نامدار کے ساتھ سفر وحضر اور نشیب وفراز کی ساتھی سب کچھ ہی اپنی ذات میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کی رحلت پر ان کے اہل خانہ کے علاوہ بہت ساری دیگر شخصیات کے تأثرات پڑھنے کے بعد میری نگاہ و نظر میں ان کا قداور بڑھ گیا۔

بوڑھا جوان

سال 2012ء میں انصاراللہ کی سالانہ سپورٹس کے مقابلہ جات منعقد ہوئے تھے۔اتفا ق سے میں بھی ان دنوں ربوہ گیا ہوا تھا۔محمود ہال میں تقسیم انعامات کی تقریب جاری تھی۔میرے ساتھ والی کرسی پر ایک بزرگ تشریف فرما تھے۔اسٹیج پر اعلان ہوا۔اگلا انعام راولپنڈی جماعت سےمکرم کرنل رفیق احمد بھٹی صاحب کا ہے۔وہ اسٹیج پر تشریف لا کر اپنا انعام وصول کرلیں۔اس پر میرے ساتھ والی سیٹ پر تشریف فرما بزرگ اٹھے اور انعام کے لئے تشریف لے گئے۔مجھے پھر یہ احساس ہوا کہ یہ تو کھاریاں والے میجر رفیق بھٹی صاحب ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق،گردش زمانہ کے نشیب وفراز نے ہمارے جوان چہروں پر اب بڑھاپے کی جھریوں نے اپنے نقش و نگار بنارکھے تھے۔ تیس سال پرانے چہروں کو پہچاننا کاردارد ہوتا ہے۔جب بھٹی صاحب انعام لینے کے بعد واپس تشریف لائے۔تو میں نے انہیں مبارک باد پیش کی اور بتایا کہ میرا نام منور خورشید ہے۔کسی زمانہ میں ہم کھاریاں میں اکھٹے رہتے تھے۔اس پر بہت خوش ہوئے اور کافی دیر تک پرانی یادیں تازہ کرنے کا موقعہ مل گیا۔

تربیت اولاد

مکرم کرنل صاحب باقاعدگی کے ساتھ نماز جمعہ کے لئے مسجد احمدیہ کھاریاں میں تشریف لاتے۔ان کی اہلیہ محترمہ اور بچگان عزیز فرید احمد اور مبارک احمد بھی ان کے ہمراہ ہوتے تھے۔نماز کے بعد مجھےبچوں سے ضرور ملاتے۔میں بھی کبھی کبھار کھاریاں کینٹ میں ان کے گھر جاتا،بہت پیار اور احترام سے پیش آتے۔ان کے ہر قول وفعل سے جماعت کی محبت جھلکتی تھی۔ان کی پاک تربیت کا نیک اثر آج بھی ان کی اولاد کے کردار سے مترشح ہوتا ہے۔

اس دور میں چند فوجی افسران،جن میں کرنل راجہ محمد اسلم صاحب،کرنل نذیر احمد صاحب اور میجر رفیق احمد صاحب کے بچوں کی خاکسار کھاریاں کینٹ میں باری باری ان کے گھروں میں کلاسز لیتا تھا۔جس میں ان کے والدین کا تعاون،کردار اورجذبہ قابل قدر تھا۔

قانون خداوندی سے کس کو مفر ہے۔ ان عظیم وجود وں میں سے کئی دوست تواب اس جہان فانی کو چھوڑ کر اگلے جہاں سدھار چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے اور ابدی جنتوں کا وارث بنائےاور ان کی اولادوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق سے نوازے۔آمین

نیک اولاد صدقہ جاریہ

مکرم ڈاکٹر فرید احمد صاحب کی تقرری بطور ڈاکٹر فرافینی گیمبیا میں ہوگئی۔ اس سے قبل ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوچکا تھا۔ دوسرا بھائی بھی بیرون ملک جا چکا تھا۔اب کرنل صاحب گھر پر بڑھاپے اور بیماری میں اکیلے ہوگئے۔ فرید صاحب نے حضور انور کی خدمت میں صورت حال بیان کی، جس پر ارشاد ملا کہ پاکستان جاکر اپنےوالد صاحب کی دیکھ بھال کریں۔ اس پر فرید صاحب پاکستان چلے گئے۔شب وروز بیمار باپ کی ہر قسم کی خدمت کی۔یہاں تک کہ 9؍نومبر 2022ء کو مکرم کرنل رفیق بھٹی صاحب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ ڈاکٹر فرید صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے والد بزرگوار کی خدمت کے بدلہ میں جزائے خیر عطا فرمائے نیز دیگر بچگان مبارک احمد اور نثار احمداور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

(منور احمد خورشید۔ مبلغ سلسلہ انگلستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 فروری 2023

اگلا پڑھیں

حضرت مصلح موعودؓ کے بعض الہامات اور کشوف و رؤیا کا ذکر