• 14 جولائی, 2024

تجھ کو مولا نے کیا عطر رضا سے ممسوح

تجھ کو مولا نے کیا عطررضا سے ممسوح
یہ مہک گلشن عالم میں بسا دے ساقی

پیشگوئی مصلح موعود کے مرکزی نقطہ ’’نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہو‘‘ کو جناب ثاقب زیروی صاحب نے اوپر شعر میں خوب موزوں کیا ہے

نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے:
قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی: رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (التحریم: 9) کہ اے ہمارے رب تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نوع انسانی کے لئے ایک کامل نور بنا کر بھیجا تو نے اس نور سے ہمیں بھی حصہ دیا اپنی رحمت اور فضل سے اے خدا! اس نور کو ہمارے لئے مکمل کر تو ہر چیز پر قادر ہے۔

(بحوالہ جلسہ سالانہ کی دعائیں 1965ء – 1975ء)

اس نور سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو حسب مراتب حصہ دیا اور اسی نور کا پیشگوئی مصلح موعود میں ذکر ہے جو مصلح موعود کو دیا گیا۔ خدا سے خبر پا کر 20؍فروری 1886ء کو حضرت مسیح موعودؑ نے پیشگوئی مصلح موعود شائع فرمائی جس کا مرکزی نقطہ ’’نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا‘‘ ہے آگے فرمایا:
’’ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کاسایہ اس کے سر پر ہوگا وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امرا مقضیًا‘‘

(اشتہار 20؍فروری 1886ء)

اپنی کتاب سراج منیر (اشاعت 1897ء) میں حضرت مسیح موعودؑ نے تحریر فرمایا ’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہوگا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا اور اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے‘‘

(سراج منیر، روحانی خزائن جلد12 صفحہ36)

پسرش یادگار مے بینم

یہ وہی پسر موعود مصلح موعود تھا جس کے بارے میں خدا سے الہام پاکر حضرت نعمت اللہ ولی نے 850 سال پہلے ان الفاظ میں پیشگوئی فرمائی تھی

چوں زمستان بے چمن بگذشت
شمس خوش بہار مے بینم

یعنی جب کہ زمستان بے چمن مراد یہ ہے کہ جب تیرھویں صدی کا موسم خزاں گزر جائے گا تو چودھویں صدی کے سر پر آفتاب بہار نکلے گا یعنی مجدد وقت ظہور کرے گا۔

دور اوچوں شود تمام بکام
پسرش یاد گار مے بینم

یعنی جب اس کا زمانہ کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا تو اس کے نمود پر اس کا لڑکا یادگار رہ جائے گا یعنی مقدر یوں ہے کہ خدا تعالیٰ ایک لڑکا پارسا دے گا جو اسی کے نمونہ پر ہو گا اور اسی کے رنگ سے رنگین ہو جائے گا اور وہ اس کے بعد اس کا یادگار ہوگا درحقیقت اس عاجز کی اس پیشگوئی کے مطابق ہے جو ایک لڑکے کے بارے میں کی گئی ہے۔

(نشان آسمانی روحانی خزائن جلد4 صفحہ373)

حضرت مصلح موعودؓ کا طویل زمانہ خلافت

پیشگوئی مصلح موعود میں 52 علامات کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو 52 سال کا زمانہ خلافت عطا فرمایا 12؍جنوری 1889ء کو آپ پیدا ہوئے 14؍مارچ 1914ء کو آپ خلافت ثانیہ کے منصب پر متمکن ہوئے اور 7 اور 8؍نومبر 1965ء کی درمیانی شب آپ نے وفات پائی۔ اس بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بھی واضح اشارہ فرمایا تھا:
’’ایک نکتہ قابل یاد سنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجود کوشش رک نہیں سکا کہ وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا ان کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے 78 برس تک انہوں نے خلافت کی 22 برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے تھے یہ بات یاد رکھو کہ میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لئے کہی ہے۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 118)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ

حضرت مصلح موعود کے وصال کے بعد جو پہلا جلسہ سالانہ آیا یعنی دسمبر 1965ء اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق پر تقریر فرمائی اور فرمایا ’’وہ ایک نور تھا وہ الہی وعدہ ’نور آتا ہے نور‘ کے مطابق 14؍مارچ 1914ء کو ہمارے افق پرطلوع ہوا اور 7؍نومبر 1965ء کی رات کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ 52)

اس نشان کی قدر و منزلت

’’حضرت مسیح موعودعلیہ الصلواۃ والسلام نے وہاں لکھا ہے کہ میں اپنے موعود فرزند نشان الہی کی قدر کرنا باقی دوسروں کی قدر سے بھی زیادہ فرض سمجھتا ہوں۔‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ363 – 364)

پیشگوئی کا مرکزی نقطہ۔ ’’نور آتا ہے نور‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا: ’’مذکورہ پیشگوئی میں پسر موعود کی جو بنیادی صفت اور خاصیت بتائی گئی ہے وہ یہ ہے ’’نور آتا ہے نور‘‘ باقی تمام خواص اس مرکزی نقطہ کے گرد گھومتے ہیں گزشتہ باون برس تک ہم نے انوار الہیہ کو اس پاک نفس پر بارش کی طرح برستا ہوئے دیکھا اور خود ہم نے مشاہدہ کیا کہ وہ انوار کبھی اخبار غیبیہ کے رنگ میں کبھی علوم و معارف کی صورت میں اور کبھی اخلاق فاضلہ کے پیرایہ میں اس پر اپنا پرتو ڈالتے رہے تھے وہ نظر احدیت کا منظور تھا جس پر فضل ربانی کا عظیم الشان سایہ تھا اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا تھا کہ قادر مطلق کا نور اس کی صحبت میں، اس کی توجہ میں، اس کی ہمت میں، اس کی دعا میں، اس کی نظر میں، اس کے اخلاق میں، اس کی خوشنودی میں، اس کے غضب میں، اس کی رغبت میں، اس کی نفرت میں، اس کی حرکت میں، اس کے سکون میں، اس کے نطق میں اس کی خاموشی میں، اس کے ظاہر میں اور اس کے باطن میں ایسا بھرا ہوا تھا جیسے ایک مصفی شیشہ ایک نہایت عمدہ اور اعلیٰ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ہم میں سے بہتوں نے اس کے فیض صحبت اور اس سے دلی تعلق پیدا کر کے وہ نورانی برکات حاصل کیں جو مجاہدات شاقہ سے بھی حاصل نہیں ہو سکتیں اور اس سے ارادت اور عقیدت کا تعلق پیدا کرنے سے ہم میں سے بہتوں کی ایمانی حالت نے ایک دوسرا ہی رنگ پکڑا جس سے ان میں نیک اخلاق ظاہر کرنے کی طاقت پیدا ہو گئی اور نفس امارہ پر زوال آگیا اور جن خوش بختوں کو اس کی طویل صحبت میسر آئی وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حضرت مصلح موعود کا پاک وجود اپنی ایمانی قوتوں میں اخلاقی حالتوں سے انقطاع عن الدنیا اور توجہ الی اللہ میں، محبت الہی میں، شفقت علی العباد میں، وفا، رضا استقامت میں اس عالی مرتبہ پر تھا جس کی نظیر آج کی دنیا میں ملنی ممکن نہیں غرضیکہ اس کی نورانیت اس سے سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں کو ہر وقت اور ہر آن منور کرتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ ’’نور آتا ہے نور‘‘ اور خدا شاہد ہے کہ پسر موعود کے شامل حال ایک عظیم الشان نور تھا‘‘

(خطابات ناصر جلد اول صفحہ50-51)

حضرت عبد اللہ غزنوی نے کشفا دیکھا تھا کہ ایک نور آسمان سے گرا اور وہ قادیان پر نازل ہوا اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کو الہاماً بتایا گیا: انا المسیح الموعود و مثیلہ و خلیفتہ (کہ میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور خلیفہ ہوں) پس یہ وہی نور تھا جو مسیح موعود کے مثیل اور خلیفہ مصلح موعود کو بھی عطا کیا گیا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمہ سے جاری ہوا تھا۔

مصطفی پر تیرا بے حد ہو سلام اور رحمت
اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے

(انجینئر محمود مجیب اصغر۔ سویڈن)

پچھلا پڑھیں

تبلیغی اسٹال مجلس انصار للہ ڈنمارک

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ