• 23 اکتوبر, 2020

خلفائے سلسلہ کی بلاد عرب سے محبت۔ ایک عرب کی زبانی

محبت کی داستانیں زمانہ قدیم سے انسان اور انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔ عاشق اور معشوق کی کہاوتوں سے تو سب واقف ہیں مگر ایک اور محبت بھی ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں کچھ یوں ہے:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

(التوبہ: 128)

یہ وہ محبت ہے جو انبیاء علیہ السلام کو اپنی قوم سے ہوتی ہے۔ وہ انبیاء ایسے پیارے وجود ہوتے ہیں جو کہ اپنی امت کے غم میں ہلاک ہونے کو تیارہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں قرآن کریم کی شہادت ہے:

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

(الشعراء: 4)

اسی درجہ کی محبت رسول ہاشمی ﷺ کے بروز اور ظِل نے انسانیت سے کی مگر عربوں سے آپؑ کی محبت بے نظیر ہے۔ آپؑ کی عربوں سے خاص محبت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ آپؑ کے آقا و مولیٰ ﷺ کی قوم ہے۔ کیونکہ عرب وہ قوم تھی جس میں آپؑ کے سید و مولیٰ کا ظہور ہوا۔ آپؑ کو عرب کی خاک سے محبت اس لئے تھی کہ وہ بلاد رسول ﷺ کی خاک ہے۔ کیونکہ یہ وہ قوم تھی جس پر نبیوں کا سردار طلوع ہوااور آپ ﷺ کی ضیابار کرنوں نے ایک دفعہ ریگستان عرب کے ذرّہ ذرّہ کو تجلیات روحانیہ سے برکنار کیا۔

اے میرے پیارے اللہ اس نبی عربی پر درود بھیج جس نے فرمایا:

’’أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ : لِأَنِّي عَرَبِيّ وَالْقُرْآن عَرَبِيّ وَكَلَاْم أَهْلِ الْجَنَّةِ عرَبِيّ‘‘

(المستدرک علی الصحیحین للحاکم)

اور آپ ﷺ کے اس غلام صادقؑ پر رحمت بھیج جس نے عربوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے بندگانِ خدا! مجھے تم پر حسنِ ظن ہے اور میری روح تم سے ملنے کے لئے پیاسی ہے۔ میں تمہارے وطن اور تمہارے بابرکت وجودوں کو دیکھنے کے لئے تڑپ رہا ہوں تا کہ میں اس سرزمین کی زیارت کر سکوں جہاں حضر ت خیر الوریٰ ﷺ کے مبارک قدم پڑے، اور اس مٹی کو اپنی آنکھوں کے لئے سرمہ بنالوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5، صفحہ 421)

قارئینِ کرام! خاکسار نے اس مضمون کو لکھنے سے پہلے ایسا مضمون لکھنے کا ارادہ کیا جس میں عربوں کی خلافتِ احمدیہ سے محبت اور ان کی قربانیوں کا کچھ ذکر ہو۔ مگر مولانا محمد طاہر ندیم کی تصنیف (صلحاء العرب وابدال الشام) کے حوالہ جات تلاش کرنے کے لئے مطالعہ کرکے مجھے یہ احساس ہوا کہ خلافتِ احمدیہ کے ہم عرب احمدیوں پر بے شمار احسانات ہیں اور ہمارے ہر ایک فرد کو اس مبارک سلسلہ کا شکر گزار بننا چاہئے۔ اس لئے بجائے اس کے کہ میں عرب احباب کی قربانیوں کا ذکر کروں میں نے فیصلہ کیا کہ میں تحدیثِ نعمت کے لئے خلافِت احمدیہ کی عربوں کے ساتھ محبت اور شفقت کی کچھ جھلکیوں کے ذکر پر مشتمل مضمون لکھوں گا۔

مذکورہ بالا حوالہ سے حضرت مسیح موعودؑ کی عربوں سے محبت وشفقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ عرب تو عرب حضرت اقدسؑ عرب سے ہر تعلق رکھنے والی چیز سے محبت رکھتے تھے۔ حضورؑ مزید فرماتے ہیں:

’’اے میرے بھائیوں! مجھے تم سے اور تمہارے وطنوں سے بے پناہ محبت ہے۔ مجھے تمہاری راہوں کی خاک اور تمہاری گلیوں کے پتھروں سے محبت ہے۔ اور میں تمہیں دنیا کی ہر چیز پر ترجیح دیتا ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن ،جلد5 صفحہ 419۔422 بحوالہ صلحاء العرب و ابدال الشام)

اسی عظیم ترین محبت کے تقاضا یہ تھا کہ حضورؑنے اپنے پیارے عربوں کے لئے اس کو پسند نہیں کیا کہ وہ آپؑ پر نازل ہونے والا روحانی مائدہ سے اور آپؑ پر آسمان سے اُترنے والی نعمت سے محروم رہ جائیں۔ اس لئے آپؑ نے بلا تامل ان کو دعوت دی اور فرمایا:

’’اے عرب اور مصر اور بلاد شام کے بھائیوں، جب میں نے دیکھا کہ یہ ایک عظیم نعمت ہے اور آسمان سے نازل ہونے والا مائدہ ہے اور عطاؤں والے خدا کی طرف سے ایک قابل قدر نشان ہے تو میرے دل نے پسند نہیں کیا کہ میں آپ کو اس میں شریک نہ کروں۔ چنانچہ میں نے اس امر کی تبلیغ کو ایک فرض سمجھا اور ایسے قرض کے مشابہ خیال کیا جسے ادا کئے بغیر اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ 488۔490 بحوالہ صلحاء العرب و ابدال الشام)

آج عرب ملکوں کے ہر کونے سے یہ آوازیں زور سے اُٹھ رہی ہیں کہ اے مسیح موعود ومہدی مسعودؑ ہم گواہ ہیں کہ آپؑ نے اس قرض کو خوب ادا فرمایا علیک الصلوٰۃ والسلام یا سیدنا۔لیکن حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی محبت روحانی تحفے تک محدود نہ تھی بلکہ آپؑ نے ہر پہلو سے اور ہر وقت اور ہر ذریعے سے اپنی عربوں سے محبت کا اظہار فرمایا۔

چنانچہ آپؑ کی سخاوت کا ذکر سیرت المہدی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیلؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالمحیی صاحب عرب نے مجھ سے ایک روز حضرت خلیفہ اولؓ کے زمانہ میں ہی ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی سخاوت کا کیا کہنا ہے۔ مجھے کبھی آپ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ جو ضرورت ہوتی بلاتکلف مانگ لیتا اور حضور میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے۔ جب حضور کا وصال ہوگیا تو حضرت خلیفہ اوّلؓ حالانکہ وہ اتنے سخی مشہور ہیں میری حاجت براری نہ کر سکے۔ آخر تنگ ہو کر میں نے ان کو لکھا کہ حضرت مسیح موعودؑکے خلیفہ تو بن گئے مگر میری حاجات پوری کرنے میں تو ان کی خلافت نہ فرمائی۔ حضرت صاحب تو میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کرتے تھے۔ اس پر حضرت خلیفہ اولؓ نے میری امداد کی۔‘‘

(سیرت المہدی ، روایت نمبر 562 بحوالہ صلحاء العرب و ابدال الشام)

اس واقعہ سے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی جُود وسخا کے علاوہ حضرت خلیفہ اولؓ کے آپؑ کے قدموں پر چلنے اور عرب احباب کے ساتھ محبت اور شفقت کےسلوک کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور عرب صحابی سیٹھ ابو بکر صاحبؓ جو صدیقی النسب ہیں اور ان کا خادمانہ اور مخلصانہ وفا کا گہرا تعلق استوار رہا۔ آپؓ کے ایک خط کے جواب میں حضرت مفتی صاحبؓ فرماتے ہیں ’’آپ کا خط ملا،حضرت خلیفۃ المسیح آپ کے واسطے بہت دعا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ہم آپ کے واسطے رمضان میں بہت دعا کریں گے۔ آپ بڑے مخلص ہیں۔

(صلحاء العرب وابدال الشام)

قارئینِ کرام! ہم سب ……….مگر پھر بھی ان بے پناہ مصروفیات کے باوجود حضورؓ نے ان عرب صحابی سے وعدہ کیا کہ ہم بکثرت دعا کریں گے۔ یہ بات عجیب لگتی ہے۔ مگر خلفاء جیسے نیک وجود سے آشنا لوگوں کے لئے یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ہے اور ایسے واقعات سے خلفائے احمدیت کی تاریخ بھری ہوئی ہے۔

چنانچہ جماعت کبابیر کا ایک مخلص عرب احمدی عبداللہ اسد عودہؒ جب سکول میں طالب علم تھے انہوں نے حضرت مصلح موعودؓ کو خط لکھا ۔ اس کا جواب 30دسمبر 1947ء کو آیا۔ عبد اللہ صاحبؒ بیان کرتے ہیں کہ ‘‘اس وقت حالات خراب تھے لیکن ان مضطرب حالات کے باوجود آپؓ ہمارے لئے دعا کرنے کے لئے اور ہمیں ہدایات دینے کے لئے ہمیشہ تیار تھے۔‘‘

(مجلۃ التقویٰ، العدد الخاص، ذکریاتی مع الخلفاء، از محمد طاہر ندیم)

یہ تھی حضرت مصلح موعودؓ کی محبت اور یہ وہ ہدایات ہیں جن پر عمل کر کے جماعت احمدیہ کبابیر نے بے شمار برکات کو حاصل کیا۔

خلفائے احمدیت کی یہ نیک سیرت ہے کہ بے پناہ مصروفیات کے با وجود وہ ہمیشہ اپنے عرب احباب پر شفقت کرنے کے لئے وقت نکالتے ہیں۔مکرم محمد منیر ادلبی کا تعلق شام سے ہے۔ ان کی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے ایک ملاقات کے دوران حضورؒ کا پہلا سوال یہ تھا کہ کیا آپ نے کھانا کھا لیا؟ اور پھر آپؒ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے اور حضرت ابراہیمؑ نے اپنے مہمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا کہ فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ (هود: 70) یعنی مہمان سے سلام دعا کے بعد دیگر باتوں سے قبل مہمان نوازی کا فرض ادا کیا۔ اس کے بعد حضورؒ نے فرمایا: میں نے پرائیویٹ سیکرٹری کو کہہ دیا ہے کہ جب تک آپ یہاں ہیں روزانہ آپ کی ملاقات ہوتی رہے۔ چنانچہ مسلسل ایک ماہ تک ہر روز تقریباً ایک گھنٹہ تک وہ حضور انورؒ کے ساتھ ملنے اور باتیں کرنے کی سعادت پاتے رہیں جو حضور انورؒ کی غیر معمولی شفقت اور لطف وکرم پر دلالت کرتا ہے۔یہ صورت حال دیکھ کر انہیں وہاں پر موجود لوگوں نے ’’خوش نصیب شخص‘‘ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا تھا۔

(صلحاء العرب وابدال الشام)

خلفائےاحمدیت کی محبت صرف قربت میں رہنے والے خوش قسمت عرب احباب تک محدود نہیں بلکہ یہ نگاہِ کرم دور دراز عرب ممالک میں رہائش پذیر عشاق کو اپنی خوشبو سے معطر کرتی رہی ہے۔ مکرمہ خلود عودہ جو سیریا کی ایک مخلص احمدی خاتون ہیں لکھتی ہیں: ‘‘ہمارے والد صاحب ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے خط وکتابت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اور آپؒ کو ہمارے معاملہ سے اطلاع کرکے دعا کی برکات حاصل کرنے پر ہمیشہ آمادہ کرتے تھے۔ اسی لئے میرا حضورؒ سے تعلق ایسا تھا جیسا ایک بیٹی کا اپنے والد سے تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق طالب علمی کے زمانہ سے شروع ہوا پھر بڑھتا رہا یہاں تک کہ جب میرے والد صاحب فوت ہوگئے تو حضورؒ نے ہماری مددکرکے اور سکون بخش باتیں کرکے ہمارے خاندان کو خاص شفقت سے نوازا۔ 1990ء سے حضور کے وصال تک میرا آپؒ سے ٹیلیفون کے ذریعہ رابطہ مسلسل جاری رہا۔

(التقوی)

اسی طرح طہٰ قزق صاحب مرحوم جو ا ُردن کی جماعت کےصدر رہے اور جماعت کے لئے خدمات کو سر انجام دینے کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ ربوہ میں شامل ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں الوداعی ملاقات کی کیفیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا: ’’جب میری باری آگئی اور میں اندر چلا گیا تو آپؒ نے مجھے گلے سے لگایا اور مجھے یہ محسوس ہوا کہ میرے اور آپؒ کے دل کے درمیان ایک wire تھا۔ جیسا کہ وہ ایک battery کو charge کرتا ہے اور آپؒ نے مجھے یہ محسوس کروایا کہ صرف میں ہی آپؒ کا عزیز مہمان ہوں۔ تصویر کھینچ لی اور ہم نے باتیں کی۔‘‘

(التقویٰ)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی عرب سے محبت کے متعلق ایک اور واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ابو الفرج الحصنی صاحب جو سیریا کے ایک مخلص احمدی ہیں۔ 1972ء میں وہ ربوہ چلے گئے اور وہاں 8 مہینے تک رہے۔ حضور سےان کی پہلی ملاقات کی کیفیت کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ ’’مسئلہ یہ تھا کہ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی اور حضورؒ کو عربی تو آتی تھی مگر اس میں آپؒ نہیں بولتے تھے۔ اس لئے سب سے اچھا طریق یہ تھا کہ میں عربی میں بولوں اور حضور ؒ انگریزی میں۔ ہمارا محادثہ ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ یہ ایسی ملاقات تھی جس میں مجھے جو احساس پیدا ہوا میں اس کو اور خلیفۂ وقت سے میرے محبت اور تعلق کو بیان نہیں کر سکتا ہوں۔‘‘

ابو الفرج مزید لکھتے ہیں کہ: ’’ایک دن میں مختلف کھانا کھانے کی وجہ سے بیمار ہوا۔ آپؒ نے مجھے بلایا اور سوالات پوچھنے لگے (مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان سوالات کی وجہ کیا تھی۔ حضور یہ پوچھتے تھے کہ ہمارے ملک میں ہمارا کھانا کیسا ہے۔ تب میں نے آپؒ کو بتایا) پھر میں حیران رہ گیا جب مجھے معلوم ہوا کہ حضورانورؒ نے دار الضیافت کو ہمارے ملکوں میں وہ مشہور کھانے پکانے کا حکم دیا جن کے بارے میں میں نے آپؒ کو بتایا۔

(التقوی)

قارئینِ کرام! جب محبت دل سے ہوتی ہے تو محبت کرنے والا اپنے محبوب کو کسی وقفہ کے بغیر پہچانتا ہے۔ اس کی مثال کچھ اس طرح ہے کہ عبد الکریم الفحصی جن کا تعلق الجزائر سے تھا۔ ان کے ساتھ ہونے والا واقعہ سے ان کو معلوم ہوا کہ خلیفۂ وقت کی اپنے خدام سے محبت بے انتہا ہے۔ وہ واقعہ کچھ اس طرح ہے وہ لکھتے ہیں کہ: ’’بیعت کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ساتھ میرا بہت ہی گہرا اور محبت کا تعلق قائم ہو گیا۔ لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ حضور انور کو اپنے خدام سے اس سے بھی زیادہ محبت ہے۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ایک مجلس سوال وجواب میں میں نے سوال کرنے سے قبل اپنا تعارف کروانا چاہا تو حضور نے فرمایا: تعارف کی ضرورت نہیں، عبد الکریم میں آپ کو جانتا ہوں۔ حضور انور کے یہ کلمات سن کر میں ایک لمحے کے لئے اپنا سوال تک بھول گیا۔

(صلحاء العرب و ابدال الشام)

مکرم محمد شریف امیر جماعت احمدیہ کبابیر ایک ایسے مخلص احمدی ہیں جن کی خلافت سے محبت اور تعلق کی بہت داستانیں ہیں اور ان سب کو اس مختصر سامضمون میں بیان نا ممکن ہے۔ مگر ان کے ساتھ ہونے والا ایک دلچسب واقعہ ہے جس کا یہاں بیان کرنا بے محل نہیں ہے۔وہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ’’مکرم محمد شریف کو اکثر اوقات حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ شفقت فرماتے ہوئے اردو کلاس میں بیٹھنے کی اجازت مرحمت فرماتے۔ ایک دن ان کے بھائی منیر عودہ نے ان کو بتایا کہ اس دفعہ اردو کلاس میں شامل ہونا ناممکن ہے کیونکہ حضور انور کے کلاس میں بیٹھنے کے لئے اجازت لینی ضروری ہے۔ محمد شریف بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے اس محرومی پر شدید صدمہ لاحق ہوا۔ اسی حزن وملال کی کیفیت میں میں گریسن ہال روڈ کے کنارے چلنے لگا ۔اچانک میرے دل میں جنم لینے والی ایک معصوم سی خواہش دعا بن کر لبوں پر آگئی اور اس دل شکستگی کی کیفیت میں جانے کیسے میرے منہ سے نکل گیا کہ اے اللہ میرے غم کا مداوا یہ ہے کہ جب حضور ؒ نماز کے لئے مسجد میں تشریف لائیں تو میرے ساتھ کوئی شفقت فرمائیں۔ اس وقت اردو کلاس نماز مغرب اور عشاءکے درمیان ہوا کرتی تھی۔ میں مذکورہ بالا تفکرات وخیالات میں گھرا ہوا نمازِ عشاء کے لئے مسجد میں آبیٹھا۔ حضور انور تشریف لائے اور عشاء کے بعد جب تشریف لے جانے لگے تو مجھے دیکھتے ہی فرمایا: ’’شریف! اُردو کلاس میں کیوں نہیں آئے؟‘‘ مَیں نے عرض کیا کہ حضور منیر نے مجھے جانے سے روک دیا تھا۔ آپؒ نے فرمایا اچھا آؤ میرے ساتھ۔ حضور سیدھا سٹوڈیو تشریف لے گئے اور فرمایا منیر کو بلاؤ اور سلیم صاحب کو آئس کریم لانے کا ارشاد فرمایا۔ منیر عودہ آئے تو حضور نے پوچھا کہ شریف کو اُردو کلاس میں کیوں نہیں آنے دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور ہم نے حضور انور سے اجازت نہیں لی تھی۔ فرمایا اچھا اب یہ کل والی کلاس میں آجائیں۔‘‘

(صلحاء العرب وابدال الشام)

ان سے حضر ت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی محبت کے متعلق ایک اور دلچسپ واقعہ ہے۔ چنانچہ محبوب اپنے محبت کرنے والے کے قریب ہونے میں اپنا بہشت دیکھتا ہے اور اس کے قریب ہونے میں جو ہوتا ہے محبوب کی زبان اس کی وصف سے عاجز رہتی ہے۔ اسی طرح خلفائے احمدیت کی عرب احمدیوں کے ساتھ محبت کے سلوک کی وجہ سے عرب احمدی خلفاء کے ساتھ جو وقت گزارتے ہیں اس کو اپنا اس دنیا میں بہشت سمجھتے ہیں۔ مکرم محمد شریف اپنے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے معانقہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جب حضور انورؒ نے اس عاجز کو شرف معانقہ عطا فرمایا تو مجھے ایسے لگا جیسے مَیں اس زمین پر اور اس عالم میں نہیں بلکہ ہواؤں میں اڑنے لگا ہوں۔‘‘

(صلحاء العرب وابدال الشام)

اس کے باوجود کہ یہ ان کی خلیفہ وقت سے پہلی ملاقات تھی مگر خلیفہ کی محبت کو دیکھ کے ان کو یوں محسوس ہوا جیساکہ بہت لمبے عرصہ سے ان کو حضور جانتے تھے۔ اسی طرح ایک اور مخلص احمدی محمد منیر ادلبی اس دن کے وصف میں لکھتے ہیں،جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ان کو معانقہ کا شرف عطا فرمایا: ’’مجھے اس دن حقیقی محبت کی مٹھاس کا ادراک ہوا۔ حضور انور نے ایسے لطف وکرم اور شفقت ومحبت سے مجھے گلے لگایا کہ مجھے محسوس ہوا جیسے حضور انور کا کوئی پُرانا دوست یا سگا بھائی یا عزیز ترین بیٹا ہوں۔‘‘

(صلحاء العرب وابدال الشام)

ایک اور احمدی عرب خاتون کو موجودہ حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے پیار اور شفقت کے سلوک کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوا۔ مکرمہ فاہمی غزلان آف مراکش اپنی حضور انورایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے پہلی ملاقات کے بارہ میں لکھتی ہیں: ’’حضور انور نے اتنے پیار اور شفقت کا سلوک فرمایا کہ مجھے ایسے لگا جیسے ہمارا حضور ؒ کے ساتھ کئے سالوں سے بہت گہرا تعارف ہے۔‘‘

(صلحاء العرب وابدال الشام)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی عربوں پر شفقت کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی عمر کے آخری دن اپنے اہل وعیال کے بجائے آپ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے قریب گزارنے کے امیدوار ہیں۔ چنانچہ مصطفیٰ ثابت مرحوم جن کا تعلق مصر سے تھا۔ آپ اپنی زندگی میں جماعت کے بہت مخلص خادم تھے اور جب وہ فوت ہو ئے تو حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ان کا جنازہ پڑھایا۔ حضور پُر نور نے مصطفیٰ ثابت صاحب کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’آپ جب گزشتہ سال آٹھ مہینے سے زیادہ بیمار ہوئے تو مجھے لکھتے رہے کہ مَیں یہاں آنا چاہتا ہوں اور جتنا وقت ہے وہ یہاں آپ کے قریب گزارنا چاہتا ہوں تو میں نے کہا آجائیں یہیں۔ تو آپ یہاں گیسٹ ہاؤس میں تشریف لے آئے۔ جس دن آپ آئے کافی بیمار تھے مجھے پتہ لگا تو مَیں نے کہا کہ جا کے مَیں پتہ کرتا ہوں لیکن ان کو کسی طرح پتہ چل گیا کہ مَیں آرہا ہوں تو بڑی تیزی سے یہ اپنے کمرے سے نکلے ہیں اور میرے دفتر پہنچ گئے۔‘‘

(صلحاء العرب وابدال الشام)

لیکن حضور انور کی محبت اس حد تک نہیں رُکی بلکہ جب مصطفیٰ ثابت فوت ہوئے آپ ایدہ اللہ تعالیٰ قبرستان میں اس خادم کے مزار اپرعزاز واکرام کے لئے تشریف لا رہے ہیں اور یہ وقت جلسہ سالانہ برطانیہ کے فوراً بعد کا تھا۔ جس میں حضور انور ایدہ اللہ کی مصروفیت بے پناہ تھی۔ اس کے باوجود آپ ایدہ اللہ تعالیٰ نے میت والی گاڑی سے قبر تک میت کو خود کندھا دیا۔ پھر اپنے دست مبارک سے تابوت کو لحد میں اُتارا۔ جب قبر کی تیاری ہونے لگی تو پیارے حضور نے بعض خوش نصیبوں کی قبور پر دعا کی جن میں سے پہلے مکرم حلمی الشافعی ہیں (جن کی فوت ہونے سے پہلے خواہش یہ تھی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے قریب اپنے آخری دن گزاریں ۔ ان کی وفات حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے دفتر کے دروازہ پر ہوئی) قبر تیار ہونے پر پیارے آقا نے اپنے دست مبارک سے کتبہ نصب فرمایا اور پھر اجتماعی دُعا کروائی۔

(عمادالدین المصری- غانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اپریل 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ (22 ۔اپریل2020 ء)