• 2 جون, 2020

صحیح بخاری کتاب الصوم

کتاب الصوم (یعنی روزوں کی کتاب) صحیح بخاری کی 30ویں کتاب ہےجس میں 69 ابواب ہیں اور 116 احادیث ہیں (بعض احادیث کا تکرار بھی ہے) کتاب صلوٰۃ التراویح، کتاب فضل لیلۃالقدر اور کتاب الاعتکاف اس کے علاوہ ہیں۔ امام بخاریؒ نے کتاب الصوم کا آغاز قرآن کریم کی اس بنیادی آیت سے کیا ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ

(البقرۃ: 184)

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اس کتاب کے بعض اہم ابواب اور احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔

ابواب

رمضان کے روزے واجب ہونا۔روزے کی فضیلت۔روزہ گناہوں کا کفارہ ہے۔ ریّان (دروازہ) روزہ داروں کے لیے مقدر ہے۔چاند دیکھنا۔ جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید سے نیت کر کے رکھے۔ آنحضور ﷺ سب سے زیادہ جو سخاوت کرتے تو رمضان میں کرتے۔ روزہ میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا جو نہ چھوڑے۔کیا یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں جب اُسے گالی دی جائے۔آنحضرت ﷺ کا فرمان کہ جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا شروع کرو اور جب تم (شوال کا) چاند دیکھو تو افطار کرو۔ رمضان سے پہلے روزہ نہ رکھا جائے نہ ایک دن نہ دودن۔سحری کھانے میں دیر کرنا۔ سحری کھانے کی برکت بغیر اس کے کہ وہ واجب ہو، جب دن کے وقت روزے کی نیت کرے، روزہ دار جب بھول کر کھالے یا پی لے، روزہ دار کا تازہ اور خشک مسواک کرنا، سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا، رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے کب رکھے جائیں؟، حائضہ عورت روزہ اور نماز ترک کرے، روزہ دار کے افطار کا وقت کب ہوتا ہے؟، افطار میں جلدی کرنا وغیرہ ۔

احادیث

حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓسے روایت کی کہ ایک بدوی رسول ﷺ کے پاس آیا۔ حالت یہ تھی کہ سر کے بال پراگندہ تھے۔اس نے کہا:یا رسول اللہؐ! آپؐ مجھے بتائیں اللہ نے نماز میں سے کیا کچھ مجھ پر فرض کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: پانچ نمازیں،سوائے اس کے کہ تو خوش نفسی سے کچھ اور پڑھے تو اس نے کہا: مجھے بتائیں روزوں سے اللہ نے مجھ پر جو فرض کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا: رمضان کا مہینہ سوائے اس کے کہ تو خوش نفسی سے کچھ اور روزے رکھے تو اس نے کہا: مجھے بتائیں زکوة سے اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے؟ (حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ ) کہتے تھے: رسول اللہﷺ نے شریعت کے احکام اس کو بتائے۔ اس نے کہا: اسی ذات کی قسم ہے جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ عزت بخشی، میں بطور نفل کچھ نہیں کروں گا اور نہ اس سے کچھ کم کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بامراد ہوگیا اگر یہ سچا ہےیا (فرمایا) جنت میں داخل ہوگیا اگر یہ سچا ہے۔

(حدیث نمبر 1891)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: روزے ڈھال ہیں۔ سو کوئی شخص فحش بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات، اور اگر کوئی آدمی اس سے لڑے یا گالی دے تو چاہیے کہ اس سے دو بار کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا اور اپنی شہوت میری خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ روزے میرے لیے ہیں اور میں ہی اس کا بدلہ اور نیکی کا بدلہ دس گناہ ہے۔

(حدیث نمبر 1894)

حضرت سہلؓ نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا۔ جنت میں بھی ایک دروازہ ہے۔ جس کو ریان کہتے ہیں۔ قیامت کے دن روزہ دار اس سے داخل ہوں گے۔ ان کے سوا کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔ پوچھا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہوجائیں گے۔ ان کے سوا کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔ پس جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ بند کردیا جائے گا تو پھر کوئی بھی اس سے داخل نہ ہوگا۔

( حدیث نمبر 1896)

عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے (ابوسہیل) ابن ابی انس نے خبر دی اور وہ تیمیین کے آزاد کردہ غلام تھے کہ ان کے باپ نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیطان زنجیروں میں جکڑدیئے جاتے ہیں۔

(حدیث نمبر 1899)

حضرت ابوہریرہؓ نے نبی کریمﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو کوئی لیلۃ القدر میں ایمان رکھ کر ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو: اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو کوئی رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھے گا، اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

(حدیث نمبر 1901)

عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: نبی ﷺ نیکی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں بہت ہی سخاوت کرتے تھے۔ جب حضرت جبرائیلؑ آپؐ سے ملتے اورحضرت جبرائیلؑ رمضان کی ہر رات آپؐ سے ملاقات کرتے تھے، یہاں تک کہ (رمضان) گزر جاتا۔ نبی ﷺ قرآن کا دور کرت۔ جب حضرت جبرائیلؑ آپؐ سے ملتے تو آپؐ نیکی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے۔

(حدیث نمبر 1902)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا چھوڑے تو اللہ کو کوئی حاجت نہیں کہ ایسا شخص کھانا اور پینا چھوڑ دے۔

(حدیث نمبر 1903)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے سوائے روزہ کے۔ کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوتا ہوں اور روزے ایک ڈھال ہیں اور جب تم میں سے کسی کے روزہ کا دن ہو تو وہ کوئی اس کا گالی دے یا اس سے لڑے تو چاہیے کہ وہ یہ کہہ دے: میں روزہ دار شخص ہوں۔ اور اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے! یقیناً روزہ دار کے منہ کی بُواللہ تعالیٰ کے نزدیک بوئے مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ پہلی خوشی اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ افطار کرتا ہے اور دوسری جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا۔

( حدیث نمبر 1904)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔

( حدیث نمبر 1923)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: اگر کوئی بھول سے کھائے پئے تو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اللہ نے ہی اسے کھلایا اور پلایا ہے۔

(حدیث نمبر 1933)

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ ایک سفر میں تھے تو آپؐ نے ایک جمگھٹا دیکھا اور ایک شخص کو جس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو لوگوں نے کہا: ایک روزہ دار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: سفر میں روزہ کوئی نیکی نہیں۔

( حدیث نمبر 1946)

حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔

( حدیث نمبر 1957)

ابن شہاب نے ابوعبید سے جو کہ ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام تھے، روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ میں نے عید کی نماز پڑھی تو آپؓ نے کہا: یہ دو دن ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک تو عید الفطر کا وہ دن جس میں تم اپنے روزوں کی افطاری کرتے ہو اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں کا گو شت کھاتے ہو۔

( حدیث نمبر 1990)

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم اور سنت نبویؐ کی پیروی میں رمضان گزارنے کی توفیق دے۔ آمین

(جنید اسلم)

پچھلا پڑھیں

رمضان۔ روزہ،صدقات اورانفاق فی سبیل اللّٰہ کا مہینہ ہے

اگلا پڑھیں

اللہ کا قرض پورا کرو