• 11 اگست, 2020

رمضان۔ روزہ،صدقات اورانفاق فی سبیل اللّٰہ کا مہینہ ہے

وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ

(التغابن:17)

ترجمہ:جو بخل سے کام لیتا ہے تو وہ یقیناً اپنے ہی نفس کے خلاف بخل کرتا ہے۔

وَ اَنۡفِقُوۡا خَیۡرًا لِّاَنۡفُسِکُمۡ ؕ

( محمد:39)

ترجمہ:اور خرچ کرو (یہ) تمہارے لئے بہتر ہوگا۔

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمۡ ؕ بَلۡ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمۡ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ

(آل عمران:180)

ترجمہ:اور وہ لوگ جو اس میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا ہے،ہرگز گمان نہ کریں کہ یہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ یہ تو ان کے لئے بہت بُرا ہے۔ جس (مال) میں انہوں نے بخل سے کام لیا قیامت کے دن ضرور وہ اس کے طوق پہنائے جائیں گے۔

حدیث میں آتاہےکہ آنحضرتﷺنےفرمایاکہ‘‘اللہ تعالیٰ اس وقت تک انسان کی ضرورتیں پوری کرتا ہےجب تک کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی ضرورتوں کا خیال رکھتاہے۔’’

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں کہ آنحضرتﷺنےفرمایا۔

‘‘جس نےکسی مسلمان کی بےچینی کو دور کیا اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کی قیامت کی تکلیفوں اور دکھوں کو دور کرے گااورجس نے کسی تنگدست کوآرام پہنچایااوراس کے لئےآسانی پیداکی اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کےلئےآسانیاں پیداکرےگا۔اللہ تعالیٰ اس بندہ کی مدد پر تیار رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد کے لئے تیاراور کوشاں رہتاہے۔’’

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ رسول کریم ﷺسب لوگوں سےزیادہ سخی تھےاوررمضان میں آپﷺکی سخاوت اور بھی زیادہ ہوتی تھی۔آپﷺ رمضان میں تیزآندھی سےبھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

(بخاری کتاب الجمعۃ)

حضرت جابرؓ بیان کرتےہیں کہ جب بھی حضورﷺسےکسی نے سوال کیا آپﷺنےکبھی بھی جواب میں ‘‘لَا’’نہیں فرمایایعنی کبھی آپﷺ کےمنہ سے نہ نہیں نکلا۔

(بخاری کتاب الصوم )

ایک حدیث میں ہےکہ رمضان کےمہینہ میں خرچ کرنےبخل نہ کیاکرو بلکہ اپنے نان و نفقہ پربھی خوشی سےخرچ کیاکروکیونکہ اس مہینہ میں تمہارےاپنےنان نفقہ کاثواب بھی خداکی راہ میں خرچ کرنےکےبرابرثواب ہے۔

(جامع الصغیر)

ایک حدیث میں ہے کہ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے اورنفلی صدقہ کرنےوالےکوفرض کےبرابرثواب ملتاہے اور فرض زکوٰۃ ادا کرنےوالےکو 70 فرض ادا کرنےکےبرابرثواب ملتا ہے۔

(بیہقی)

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺنےفرمایاکہ‘‘سب سے افضل اوربہترین صدقہ وہ ہے جورمضان میں کیاجائے۔’’

(ترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتےہیں آنحضرتﷺ نےفرمایاکہ‘‘بخیل اورشقی کی مثال ان دوآدمیوں کی سی ہےجنہوں نےسینےتک لوہےکی قمیض پہنی ہوئی ہےجس میں وہ دونوں جکڑےہوئےہیں۔سخی جب کچھ خرچ کرتاہےتواس کی قمیض کا حلقہ کھل جاتاہے اوراس طرح وہ قمیض آہستہ آہستہ کھل جاتی ہے اورآخرکاروہ اس کی جکڑسے آزادہوجاتاہےلیکن بخیل کی قمیض تنگ ہوتی چلی جاتی ہے اس طرح اس کی قمیض کا حلقہ تنگ ہوتاچلاجاتاہے۔’’

(مسنداحمد/2256)

حضرت ابن سعدؓ بیان کرتےہیں کہ آنحضرت ﷺنےفرمایاکہ ‘‘دوآدمیوں کےسواکسی پر رشک نہیں کرناچاہئے۔ایک وہ جس کو اللہ تعالیٰ نےمال دیا اوراس نے راہ حق میں خرچ کردیا۔دوسرےوہ شخص جسےخدانےعلم وحکمت عطافرمائی جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلےکرتا اوردوسروں کو(وہ علم)سکھاتاہے۔’’

(بخاری کتاب الزکوٰۃباب انفاق المال فی حقہ )

اِتَّقُوا النَّارَوَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔ٓآگ سے بچوخواہ کھجورکاایک ٹکڑادےکر

(بخاری کتاب الزکوٰۃباب اتقوا النار)

وَ اَنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَلَاتُلۡقُوۡابِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہۡلُکَۃِ ۚوَ اَحۡسِنُوۡاۚ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔۔۔

(البقرۃ:196)

ترجمہ:اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں (اپنے تئیں) ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کرو یقیناً اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺنےفرمایا۔

سخی اللہ کےقریب ہوتاہے،جنت کے قریب ہوتاہےاورلوگوں سے قریب ہوتا ہےمگردوزخ سےدور اوربخیل اللہ تعالیٰ سے دور، لوگوں سےدوراورجنت سے دور ہوتاہےمگردوزخ کےقریب ہوتا ہے اورجاہل سخی اللہ تعالیٰ کو بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتےہیں کہ آنحضرتﷺ نےفرمایا:

ہرصبح دوفرشتےنازل ہوتےہیں۔ان میں سے ایک کہتاہےاےاللہ تعالٰی خرچ کرنےوالےسخی کو اور دے اور اس کےنقشِ قدم پرچلنےوالےاورپیدا کر۔ دوسراکہتا ہے اےاللہ بخیل اور کنجوس کوہلاک کر اس کا مال ومتاع تباہ کر۔

(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب قول اللّٰہ تعالیٰ فاما من کان اعطی واتقی )

اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنےسایہ میں جگہ دےگاجس دن اس کے سایہِ رحمت کےسواکوئی سایہ نہیں ہوگا۔ایک ان میں وہ سخی ہےجس نےاس طرح پوشیدہ طورپرخداکی راہ میں خرچ کیایاصدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کوبھی نہ پتہ چلا کہ اس کے دائیں ہاتھ نےکیاخرچ کیا ہے۔

(مسلم کتاب الزکوٰۃ باب فضل اخفاء صدقہ)

اَبْغُوْا نِی فیِ الضُّعَفَاءِ فَاِنَّمَا تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُوْنَ بِضُعَفَاءِکَ

(بخاری ،ابوداؤد)

مجھے غریبوں میں تلاش کرو ۔یعنی ان کی مددکرکےتم میری رضاحاصل کرسکتےہو۔

پھرفرمایا۔
‘‘کمزوروں اور غریبوں کی مددکی وجہ سے تمہیں رزق ملتاہے اور خداکی مدد شاملِ حال ہوتی ہے۔’’

(بخاری کتاب الجہاد،ابوداؤد)

حضرت اقدس مسیح موعودؑفرماتےہیں۔
میں دیکھتاہوں کہ بہت سےایسےہیں جن میں اپنےبھائیوں کےلئےکچھ بھی ہمدردی نہیں ہے۔اگرایک بھوکامرتاہوتودوسراتوجّہ نہیں کرتااوراس کی خبرگیری کے لئےتیارنہیں ہوتا۔یااگروہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہےتواتنانہیں کرتےکہ اس کے لئےاپنےمال کاکوئی حصّہ خرچ کردیں۔حدیث شریف میں ہمسایہ کی خبرگیری اوراس کے ساتھ ہمدردی کاحکم آیاہےبلکہ یہاں تک بھی ہےکہ اگرتم گوشت پکاؤ تو شوربہ زیادہ کرلوتاکہ اسےبھی دےسکو۔اب کیا ہوتاہےاپناہی پیٹ پالتےہیں لیکن اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔یہ مت سمجھوکہ ہمسایہ سےاتناہی مطلب ہےجوگھرکےپاس رہتاہوبلکہ جو تمہارےبھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سَو کوس کےفاصلےپربھی ہوں ۔

( ملفوظات جلد4صفحہ215)

‘‘یادرکھوہمدردی کا دائرہ میرےنزدیک بہت وسیع ہے۔کسی قوم اورفردکو الگ نہ کرے۔میں آج کل کےجاہلوں کی طرح یہ نہیں کہناچاہتاکہ تم اپنی ساری ہمدردی صرف احمدیوں یامسلمانوں سے مخصوص کرو،نہیں۔میں کہتاہوں کہ تم خداتعالیٰ کی ساری مخلوق سے ہمدردی کرو۔خواہ کوئی ہو،ہندوہویامسلمان یاکوئی اور۔میں کبھی ایسےلوگوں کی باتیں پسندنہیں کرتاجوہمدردی کو صرف اپنی قوم سےمخصوص کرنا چاہتےہیں۔ان میں بعض اس قسم کےخیالات رکھتےہیں کہ اگرایک شِیرے کے مٹکے میں ہاتھ ڈالاجاوےاورپھراس کو تِلوں میں ڈال کرتِل لگائےجاویں تو جس قدر تل اس کو لگ جاویں اس قدر دھوکہ اور فریب دوسرےلوگوں کودےسکتےہیں۔’’

(ملفوظات جلد4صفحہ217)

پس چاہئے کہ خداتعالیٰ پرتوکل کرکےپورےاخلاص اورجوش اورہمت سےکام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کاہے۔پھربعداس کےوہ وقت آتاہےکہ ایک سونےکاپہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تواس وقت کےایک پیسےکےبرابرنہیں ہوگا……اللہ تعالیٰ نے متواتر ظاہرکردیاہےکہ واقعی اورقطعی طورپروہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائےگاکہ اپنےمال کواس راہ میں خرچ کرےگا۔یہ ظاہرہےکہ تم دوچیزوں سےمحبت نہیں کرسکتےاورتمہارےلئےممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرواورخداتعالیٰ سے بھی۔صرف ایک سے محبت کرسکتےہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہےکہ خداتعالیٰ سےمحبت کرے۔اوراگرکوئی تم میں سےخداتعالیٰ سےمحبت کرکےاس کی راہ میں مال خرچ کرے گاتومیں یقین رکھتاہوں کہ اس کےمال میں بھی دوسروں سے زیادہ برکت دی جائےگی کیونکہ وہ مال خودبخودنہیں آتابلکہ خداکےارادہ سےآتاہے۔

پس جو شخص خداکےلئےبعض حصّہ مال کاچھوڑتاہےوہ ضروراسے پائے گا۔لیکن جوشخص مال سےمحبت کرکےخداکی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتاجوبجالانی چاہئےتووہ ضروراس مال کوکھوئےگا…..اوریہ بہت خیال کروکہ تم کوئی حصہ مال کا دےکریاکسی اوررنگ سےکوئی خدمت بجالاکرخداتعالیٰ اوراس کے فرستادہ پرکچھ احسان کرتےہو۔بلکہ یہ اس کا احسان ہےکہ تمہیں اس خدمت کےلئےبلاتاہےاورمیں سچ سچ کہتاہوں کہ اگر تم سب کےسب مجھے چھوڑدواورخدمت اور امداد سےپہلوتہی کروتووہ ایک قوم پیداکردےگاکہ اس کی خدمت بجالائےگی۔

تم یقیناً سمجھوکہ یہ کام آسمان سےمجھےملاہےاورتمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کےلئےہے۔پس ایسا نہ ہوکہ تم دل میں تکبر کروکہ ہم خدمت مالی یاکسی قسم کی خدمت کرتےہیں۔میں تمہیں باربارکہتاہوں کہ خداتمہاری خدمتوں کا ذرہ محتاج نہیں۔ہاں تم پراس کا فضل ہےکہ تم کو خدمت کا موقع دیتاہے۔’’

(تبلیغ ِرسالت،روحانی خزائن جلد10صفحہ53تا55)

(سعیداحمدرشید۔مرحوم)

پچھلا پڑھیں

نمونیہ پلیگ سےسعداللہ لدھیانوی کی ہلاکت

اگلا پڑھیں

صحیح بخاری کتاب الصوم