• 15 اگست, 2022

تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
’’دین تو چاہتا ہے کہ مصاحبت ہو پھر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے؟ ہم نے بار ہا اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے اور پھر کہتے ہیں کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اٹھائیں مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔ مگر اس کی پروا کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکرکرنا مومن کاکام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آ گیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہو گی۔ وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو۔ مگر ان سب سے بڑھ کر بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن اس نے کچھ قدر نہ کی۔ وہ لوگ جو یہاں آ کر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں سے جو خداتعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے، وہ اپنی جگہ پر کیسے ہی نیک اور متقی اور پرہیز گار ہوں مگرمَیں یہی کہوں گا کہ جیساچاہئے انہوں نے قدر نہیں کی۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیل عملی کی ضرورت ہے۔ پس تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہےاور جب تک یہاں آ کر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔ بارہا خطوط آتے ہیں کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جوخدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ124-125 ایڈیشن 1988ء)

پچھلا پڑھیں

سٹراسبرگ فرانس میں جماعت کی تبلیغی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2022