• 5 اکتوبر, 2022

فقہی کارنر

فاسقہ کا حق وراثت

ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت (مسیح موعودؑ) سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً زید نام لا ولد فوت ہو گیا ہے۔ زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کے حین حیا ت میں بیاہی گئی تھی۔ بہ سبب اس کے خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مر گیا۔ زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے باقاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ ناجائز ہے۔ زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئے؟

حضرت نے فرمایا:۔
اس کو حصہ شرعی ملنا چاہئے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا۔ شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئے باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔ اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ با ضابطہ کاروائی کر سکتا ہے۔ اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آ سکتا۔

(بدر 26 ستمبر 19907ء صفحہ6)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

سٹراسبرگ فرانس میں جماعت کی تبلیغی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2022