• 19 اکتوبر, 2021

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ بابت مختلف ممالک وشہور (قسط 3)

ارشادات حضرت مسیح موعودؑ بابت مختلف ممالک وشہور
قسط 3

ارشادات برائے سیالکوٹ

دوسرے دن صبح نو بجے کی سیر میں ڈاکٹر لوقا کے ذکر پر جس کا بیان سیالکوٹ کے ایک اخبار میں سے گذشتہ دن سنا یا گیا تھا، جس میں مر ہم عیسیٰ کے ضمن میں لکھا گیا تھا۔ بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ آپ نے مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی اللہ دیا لودھیانی کو مزید تحقیقات کا حکم دیا۔ دوران گفتگو فرمایا:
’’عربی میں لق چٹنی کو بھی کہتے ہیں۔‘‘ جس پرمفتی محمد صادق صاحب نے کہا کہ انگریزی میں لق چا ٹنے کو کہتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ’’چٹنی تک تو بات پہنچ گئی ہے امید ہے کہ مرہم پٹی تک بھی نکل آوے‘‘۔ فرمایا انگریزی کتابوں اور تاریخ کلیسا سے اس کے حالات کے متعلق تحقیقات کرنی چاہیے۔ یہ ایک نئی بات نکلی ہے۔ پھر فرمایا ’’کہ یہ کچھ مشکل امر نہیں ہے۔ اگر ہم چاہیں تو لوقا پرتوجہ کریں اور اس سے سب حال دریافت کریں، مگر ہماری طبیعت اس امر سے کراہت کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالی کے سوائے کسی اور کی طرف توجہ کریں۔ خدا تعالیٰ آپ ہمارے سب کا م بناتا ہے۔

(ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ355-356)

سیالکوٹ کے ضلع کا ایک نمبردار تھا۔ اس نے بیعت کرنے کے بعد پوچھا کہ حضور اپنی زبان مبارک سے کوئی وظیفہ بتادیں۔

فرمایا کہ نمازوں کو سنوار کر پڑھو کیونکہ ساری مشکلات کی یہی کنجی ہے اور اسی میں ساری لذات اور خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ صدق دل سے روزے رکھو۔ صدقہ وخیرات کرو۔ درود اور استغفار پڑھا کر و۔اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو۔ ہمسایوں سے مہربانی سے پیش آؤ۔ بنی نوع بلکہ حیوانوں پر بھی رحم کرو اور ان پر بھی ظلم نہ چاہیے۔ خدا سے ہر وقت حفاظت چاہتے رہو کیونکہ ناپاک اور نا مراد ہے وہ دل جو ہر وقت خدا کے آستانہ پر نہیں گرار ہتاو ہ محروم کیا جاتا ہے۔ دیکھو اگر خداہی حفاظت نہ کرے تو انسان کا ایک دم گذارہ نہیں۔ زمین کے نیچے سے لے کر آسمان کے اوپر تک کا ہر طبقہ اس کے دشمنوں کا بھرا ہوا ہے۔ اگر اسی کی حفاظت شامل حال نہ ہو تو کیا ہوسکتا ہے۔ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ہدایت پر کار بند ر کھے۔ کیونکہ اس کے ارادے دو ہی ہیں۔ گمراہ کرنا اور ہدایت دینا جیسا کہ فرماتا ہے یُضِلُّ بِہٖ کَثِیۡرًا ۙ وَّ یَہۡدِیۡ بِہٖ کَثِیۡرًا (البقرۃ 27)۔ پس جب اس کے ارادےگمراہ کرنے پر بھی ہیں تو ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ وہ گمراہی سے بچاوے اور ہدایت کی توفیق دے۔ نرم مزاج بنو کیونکہ جو نرم مزاجی اختیار کرتا ہے خدا بھی اس سے نرم معاملہ کرتا ہے۔ اصل میں نیک انسان تو اپنا پاؤں بھی زمین پر پھونک پھونک کر احتیاط سے رکھتا ہے تا کسی کیڑے کو بھی اس سے تکلیف نہ ہو۔ غرض اپنے ہاتھ سے، پاؤں سے، آنکھ و غیره اعضاء سے کسی کو کسی نوع کی تکلیف نہ پہنچا ؤاور دعائیں مانگتے رہو۔

(ملفوظات جلدچہارم جدید ایڈیشن صفحہ236-237)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ کا ذکرہے جب میں سیالکوٹ میں تھا۔ ایک مکان میں میں اور چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے بجلی پڑی اور ہمارا سارا مکان دھوئیں سے بھر گیا اور اس دروازہ کی چوکھٹ جس کے متصل ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ایسی چیری گئی جیسے آرے سے چیری جاتی ہے۔ مگر اس کی جان کو کچھ بھی صدمہ نہ پہنچا، لیکن اسی دن بجلی تیجا سنگھ کے شوالہ پر بھی پڑی اور ایک لمبا راستہ اس کے اندر کو چکر کھا کر جاتا تھا جہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ تمام چکر بجلی نے بھی کھائے اور جا کر اس پر پڑی اور ایسا جلا یا کہ بالکل ایک کوئلے کی شکل اسے کر دیا پھر یہ خدا کا تصرف نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک شخص کو بچالیا اور ایک کو مار دیا۔ خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعده وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے۔

(ملفوظات جلد پنجم جدید ایڈیشن صفحہ338)

ارشادات برائے لاہور

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
خود ہمارے اس گاؤں میں جہاں ہماری مسجد ہے۔ کارداروں کی جگہ تھی۔ ہمارے بچپن کا زمانہ تھا، لیکن میں نے معتبر آدمیوں سے سنا ہے کہ جب انگریزی دخل ہو گیا تو چند روز تک و ہی قانون رہا۔ ایک کاردار آیا ہوا تھا اس کے پاس ایک مسلمان سپاہی تھا۔ وہ مسجد میں آیا اور مؤذن کو کہا کہ بانگ دے۔ اس نے وہی گنگنا کر اذان دی۔ سپاہی نے کہا کہ کیا تم اسی طرح پر با نگ دیتے ہو؟ مؤذن نے کہا ہاں! اسی طرح دیتے ہیں۔ سپاہی نے کہا کہ نہیں کوٹھے پر چڑھ کر اونچی آواز سے اذان دے اور جس قدر زور سے ممکن ہے وہ دے۔ وہ ڈرا، آخر اس نے زور سے بانگ دی۔ تمام ہند واکٹھے ہوگئے اور مُلاّں کو پکڑ لیا۔ وہ بے چارہ بہت ڈرا اور گھبرایاکہ کاردار مجھے پھانسی دے دے گا۔ سپاہی نے کہا کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ آخر سنگدل چھری مار برہمن اس کو پکڑ کر کاردار کے پاس لے گئے اور کہا کہ مہاراج! اس نے ہم کو بھرشٹ کر دیا۔ کاردار تو جانتا تھا کہ سلطنت تبدیل ہوگئی ہے اور اب وہ سکھا شاہی نہیں رہی، مگر ذرا دبی زبان سے پوچھا کہ تو نے اونچی آواز سے کیوں با نگ دی؟ سپاہی نے آگے بڑھ کر کہا کہ اس نے نہیں میں نے بانگ دی۔ کاردار نے کہا کہ کم بختو ! کیوں شور ڈالتے ہو۔ لاہور میں تو اب کھلے طور سے گائے ذبح ہوتی ہے۔ تم ایک اذان کو روتے ہو۔ جاؤ چپکے ہو کر بیٹھ رہو۔ الغرض یہ واقعی اور سچی بات ہے جو ہمارے دل سے نکلتی ہے۔ جس قوم نے ہم کو تحت الثریٰ سے نکالا ہے۔ اس کا احسان ہم نہ مانیں یہ کس قدر ناشکری اور نمک حرامی ہے۔

(ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ432-433)

حضورؑ فرماتے ہیں:
دیکھولا ہور کے بشپ صاحب نے لاہور میں بڑے اہم مضامین پر لیکچر دیئے اور اپنی قرآن دانی اور حدیث دانی کے ثبوت کے لیے بڑی کوشش کی،لیکن اسے ہم نے دعوت کی تو باجود یکہ پایونیر نے بھی اس کو شرمندگی دلا ئی، مگروہ صرف یہ کہہ کر کہ ہمارا دشمن ہے مقابلہ سے بھاگ گیا۔ ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بشپ صاحب تو مسیح کی تعلیم کا کامل نمونہ ہونا چاہیے تھا اور اپنے دشمنوں کو پیار کرو پر ان کا پوراعمل ہوتا اگر میں ان کا دشمن بھی ہو تا حالا نکہ میں سچ کہتا ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نوع انسان کا سب سے بڑھ کر خیر خواہ اور دوست میں ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں ان تعلیمات کا دشمن ہوں جو انسان کی روحانی دشمن ہیں اور اس کی نجات کی دشمن ہیں۔ غرض بشپ صاحب کو کئی بار اخباروں نے اس معاملہ میں شرمندہ کیا مگروہ سامنے نہ آئے۔ عیسائیوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو سادہ دیکھتے ہیں تو چھوٹا ہے تو بیٹا بنا کر اور بڑا ہے تو باپ بنا کر اندر داخل ہوتے ہیں۔ اور دیکھتے ہیں کہ اگر وہ حالات سے واقف ہے تو پھر اس سے بغض کرتے ہیں اس لیے کہ جب خدا سے تعلق توڑ بیٹھتے ہیں تو مخلوق سے سچی ہمدردی کیونکر پیدا ہو، مگر ہماری جماعت خاص ہے اس کو عام مسلمانوں کی طرح نہ سمجھیں۔

(ملفوظات جلد دوم جدید ایڈیشن صفحہ524)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں
پھر اس کے ساتھ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ کا نشان ہے۔ یہ بہت پرانا الہام ہے اور اس وقت کا ہے جب کہ میرے والد صاحب مرحوم کا انتقال ہوا۔ میں لا ہور گیا ہوا تھا۔ مرزا صاحب کی بیماری کی خبر جو مجھے لا ہور پہنچی میں جمعہ کو یہاں آ گیا تو دردِ گردہ کی شکایت تھی۔ پہلے بھی ہوا کرتا تھا اس وقت تخفیف تھی۔ ہفتہ کے دن دوپہر کوحقہ پی رہے تھے اور ایک خدمت گار پنکھا کر رہا تھا۔ مجھے کہاکہ اب آرام کا وقت ہے تم جا کر آرام کرو میں چوبارہ میں چلا گیا۔ ایک خدمت گار جمال نام میرے پاؤں دبا رہا تھا۔ تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا وَالسَّمَآءِوَالطَّارِقِ اور معاً اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی۔ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ لفظ پہلے آئے یا تفہیم۔ قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اس حادثہ کی جو غروب آفتاب کے بعد ہونے والا ہے۔ گویا خدا تعالیٰ عزا پرسی کرتا ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے جس کو ہر ایک نہیں سمجھ سکتا۔ ایک مصیبت بھی آتی ہے اور خدا اس کی عزا پرسی بھی کرتا ہے چونکہ ایک نیا عالم شروع ہونے والا تھا۔ اس لیے خدا تعالی نے قسم کھائی مجھے یہ دیکھ کر خدا تعالیٰ کا عجیب احسان محسوس ہوا کہ میرے والد صاحب کے حادثہ انتقال کی وہ قسم کھا تا ہے اس الہام کے ساتھ ہی پھر معاًمیرے دل میں بشریت کے تقاضے کے موافق یہ خیال گذرا۔ اور میں اس کو بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھتا ہوں کہ چونکہ معاش کے بہت سے اسباب ان کی زندگی سے وابستہ تھے۔ کچھ انعام انہیں ملتا تھا اور کچھ اور مختلف صورتیں آمدنی کی تھیں جس سے کوئی دو ہزار کے قریب آمدنی ہوتی تھی۔ میں نے سمجھا کہ اب وہ چونکہ ضبط ہو جا ئیں گے، اس لیے ہمیں ابتلا آئے گا۔ یہ خیال تكلف کے طور پر نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے میرے دل میں گذرا۔ اور اس کے گذرنے کے ساتھ ہی پھر یہ الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے چنانچہ یہ الہام میں نے ملا وامل اور شر مپت کی معرفت ایک انگشتری میں اسی وقت لکھوا لیا تھا جو حکیم محمد شریف کی معرفت امرتسر سے بنوائی تھی اور وہ انگشتری میں کھدا ہوا الہام موجود ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحہ150-151)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’کسی وقت کا اخلاص اور خدمت انسان کے کام آ جاتا ہے۔ شاید ان وقتوں کا اخلاص ہی ہو جو بالآخر مولوی محمد حسین صاحب کو اس سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے کیونکہ وہ بہت ٹھوکریں کھا چکے ہیں اور آخر دیکھ چکے ہیں کہ خدا کے کاموں میں کوئی حارج نہیں ہوسکتا۔

فرمایا ایسا ہی اجتہادی طور پرہمیں بعض لوگوں پر بھی حسن ظن ہے کہ وہ کسی وقت رجوع کریں گے کیونکہ ایک دفعہ الہام ہوا تھا کہ
’’لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں، وسوسہ پڑ گیا ہے پر مٹی نظیف ہے، وسوسہ نہیں رہے گا۔ مٹی رہے گی۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحہ126)

لاہور سے ایک شخص کا خط آیا کہ اسے خواب میں حضرت اقدس کی نسبت بتلایا گیا کہ وہ سچا ہے۔ اس شخص کی ارادت ایک فقیر کے ساتھ تھی جو کہ داتا گنج بخش کے مقبرہ کے پاس رہا کرتا ہے اس شخص نے اس سے بیان کیا تو اس نے کہا کہ مرزا صاحب کی اتنے عرصہ سے ترقی کا ہونا اور دن بدن عروج کا ہونا ان کی سچائی کی دلیل ہے پھر ایک اور مست فقیر وہاں تھا اس نے کہا بابا ہمیں بھی پوچھ لینے دو، دوسرے دن اس نے بتلایا کہ مجھے خدا نے کہا ہے کہ مرزا مولا ہے اول فقیر نے کہا کہ مولا نا کہا ہو گا کہ وہ تیرا اور میرا اور ہم جیسوں سب کا مولا ہے۔

حضرت اقدسؑ نے فر مایا کہ۔ آج کل خواب اور رؤیا بہت ہوتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ لوگوں کو خوابوں سے اطلاع دیوے خدا کے فرشتے اس طرح پھرتے ہیں جیسے آسمان میں ٹڈ ی ہوتی ہے وہ دلوں میں ڈالتے پھرتے ہیں کہ مان لو مان لو۔

پھر ایک اورشخص کا حال بیان کیا کہ جس نے حضور عالی کے ردمیں ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو تو رد لکھتا ہے اور اصل میں مرزا صاحب سچے ہیں۔

(ملفوظات جلد سوم جدید ایڈیشن صفحہ365-366)

حضورؑ فرماتے ہیں:
’’عجیب بات یہ ہے کہ مسیح موعود بقول نواب صدیق حسن خان صاحب کے صدی کے سر پر ہوگا اور یہ بھی وہ کہتا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہ ہو گا،مگر اب تو اس صدی سے بیس سال گذر گئے۔ پانچواں حصہ صدی کا گذر چکا اگر اب تک بھی نہیں آیا تو پھر سو سال تک انتظار کرتے رہیں۔ اس صدی میں اسلام اہل صلیب سے کچلا جاوے گا۔ جب پچاس سال میں یہ حال ہو گیا ہے کہ تیس لا کھ آ دمی مرتد ہو چکے ہیں اور جیسی جیسی شوکت بڑھتی ہے ان کی شوخی بڑھتی گئی ہے۔ یہاں تک کہ امہات المومنین جیسی گندی کتاب شائع کی گئی۔ انجمن حمایت الاسلام لاہور نے اس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس میموریل بھیجا۔ اس کے میموریل سے پہلے مجھے الہام ہو چکا تھا کہ یہ میموریل بھیجنا بے فائدہ ہے چنانچہ میرے دوستوں کو جو یہاں رہتے ہیں اور ان کو بھی جو دوسرے شہروں میں ہیں معلوم تھا کہ یہ میں نے الہام قبل از وقت ان کو بتا دیا تھا آخر وہی ہوا اور گورنمنٹ نے اس پر کوئی کارروائی انجمن کے حسب منشاء نہ کی۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم جدید ایڈیشن صفحہ211)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سر زمین میں ایسے اجزاء ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرا ڈالا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد ہفتم ایڈیشن 1984ء صفحہ49)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کئے ہیں۔ پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غض بصر کا۔ نماز، روزہ،زکوٰۃ، حج، حلال و حرام کا امتیاز، خدا تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات، رسم و رواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہو سکتا۔ عیسائی باش و ہرچہ خواہی کُن۔ اور ان کا مذہب بھی ایک بے قید مذہب ہے۔ اور مسلمانوں میں بھی آجکل ان لوگوں کو دیکھا دیکھی ایک ایسا فرقہ پیدا ہوا ہے کہ وہ اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں یہ سب امور اسی بے قیدی اور آزادی کے خواہشمندوں کو سوجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ بے قیدی اور پاکیزگی تو نُور و ظلمت کی طرح آپس میں دشمن ہیں۔ لاہور میں بھی طبائع میں قبول حق کی استعداد تو معلوم ہوتی ہے مگر بے قیدی اور آزادی ان کے راستے میں ایک سخت روک ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد دہم ایڈیشن 1984ء صفحہ346-347)

ارشادات برائے لندن، فرانس و پیرس

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کفارہ کا مسئلہ ماننے والوں نے پاک باطنی کی عملی نظیریں کیا قائم کی ہیں؟ یورپ کی بد اعمالیاں سب کو معلوم ہیں۔ شراب جوام الجرائم اور ام الخبائث ہے۔ اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے کہ اس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔ میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ اگر لندن کی شراب کی دوکانوں کو ایک لائن میں رکھا جائے تو پچھتر میل تک چلی جاویں۔ جس حالت میں ان کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر ایک گناہ کی معافی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اور جس قدر گناہ کوئی کرے وہ معاف ہیں۔ اب سوچ کر عیسائی ہم کو جواب دیں کہ اس کا اثر کیا پڑے گا۔‘‘

(ملفوظات جلداول جدید ایڈیشن صفحہ163)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’مثلاًکثرت ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت عورتوں کی اجازت دی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا دلیر اور مرد میدان معترض ہے جو ہم کو یہ دکھلا سکے کہ قرآن کہتا ہے کہ ضرور ضرور ایک سے زیادہ عورتیں کرو۔ ہاں یہ ایک سچی بات ہے اور بالکل طبعی امر ہے کہ اکثر اوقات انسان کو ضرورت پیش آجاتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں کرے۔ مثلا عورت اندھی ہوگئی ہے یا اور کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہو کر اس قابل ہوگئی کہ خانہ داری کے امور سرانجام نہیں دے سکتی اور مرداز راہ ہمدردی یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے علیحدہ کرے یا رحم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو کر مرد کی طبعی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی تو ایسی صورت میں اگر نکاح ثانی کی اجازت نہ ہوتو بتلا ؤ کیا اس سے بد کاری اور بداخلاقی کو ترقی نہ ہوگی ؟ پھر اگر کوئی مذہب یا شریعت کثرت ازدواج کوروکتی ہے تو یقینا ًوہ بدکاری اور بد اخلاقی کی مؤید ہے لیکن اسلام جو دنیا سے بد اخلاقی اور بدکاری کو دور کرنا چاہتا ہے اجازت دیتا ہے کہ ایسی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جبکہ لا ولد کے پس مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور کشت وخون ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کر کے اولاد پیدا کرے بلکہ ایسی صورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں،پس جس قدر غور کرو گے یہ مسئلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔ عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسئلہ پر نکتہ چینی کرے، کیونکہ ان کے مسلمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہوگا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیوں کر ہو سکتے ہیں ؟ عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں ایسی گستاخیاں جائز نہیں رکھتے۔ علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں۔ پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔‘‘

(ملفوظات جلداول جدید ایڈیشن صفحہ258-259)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’انگلستان اور فرانس اور دیگر مما لک یورپ میں یہ الزام بڑی سختی سے اسلام پر لگایا جا تا ہے کہ وہ جبر کے ساتھ پھیلایا گیا ہے، مگر افسوس اور سخت افسوس ہے کہ وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام لَآاِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِِ کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ کیا وہ مذہب جو فتح پا کر بھی گر جے نہ گرانے کا حکم دیتا ہے کیا وہ جبر کر سکتا ہے، مگر اصل بات یہ ہے کہ ان ملانوں نے جو اسلام کے نادان دوست ہیں یہ فساد ڈالاہے۔ انہوں نے خود اسلام کی حقیقت کو سمجھا نہیں اور اپنے خیالی عقائد کی بنا پر دوسروں کو اعتراض کا موقع دیا۔ جو کچھ عقائدان احمقوں نے بنارکھے ہیں۔ ان سے نصاریٰ کو خوب مدد پہنچی ہے۔ اگر یہ لوگ جہاد کی صورت میں دھوکا نہ د یتے یا نہ کھاتے تو کسی کو اعتراض کا موقع ہی نہیں مل سکتا تھا، مگر اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے پاک اور درخشاں چہرہ سے یہ سب گردوغبار دور کرے اور اس کی خوبیوں اور حسن و جمال سے دنیا کو اطلاع بخشے، چنانچہ اسی غرض اور مقصد کے لیے اس وقت جب کہ اسلام دشمن کے نرغہ میں پھنسا ہو بے کس اور یتیم بچے کی طرح ہورہا تھا اس نے اپنا یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور مجھے بھیجا ہے۔ تامیں عملی سچائیوں اور زنده نشانات کے ساتھ اسلام کو غالب کروں۔‘‘

(ملفوظات جلددوم جدید ایڈیشن صفحہ507)

پھر اعتراض کیا گیا کہ تصویر پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تصویرشیخ کی غرض سے بنوائی گئی ہے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’یہ تو دوسرے کی نیت پر حملہ ہے۔ میں نے بہت مرتبہ بیان کیا ہے کہ تصویر سے ہماری غرض کیا تھی۔ بات یہ ہے کہ چونکہ ہم کو بلا د یورپ خصوصاً لنڈن میں تبلیغ کرنی منظورتھی، لیکن چونکہ یہ لوگ کسی دعوت یا تبلیغ کی طرف تو جہ نہیں کرتے جب تک داعی کے حالات سے واقف نہ ہوں اور اس کے لیے ان کے ہاں علم تصویر میں بڑی بھاری ترقی کی گئی ہے۔ وہ کسی شخص کی تصویر اور اس کے خط و خال کو دیکھ کر رائے قائم کر لیتے ہیں کہ اس میں راستبازی، قوت قدسی کہاں تک ہے؟ اور ایسا ہی بہت سے امور کے متعلق انہیں اپنی رائے قائم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ پس اصل غرض اور نیت ہماری اس سے یہ تھی جس کو ان لوگوں نے جو خواہ نخواہ ہر بات میں مخالفت کر نا چا ہتے ہیں۔ اس کو برے برے پیرایوں میں پیش کیا اور دنیا کو بہکایا۔ میں کہتا ہوں کہ ہماری نیت تو تصویر سے صرف اتنی ہی تھی۔ اگر یہ نفس تصویر کو ہی برا سمجھتے ہیں تو پھر کوئی سکہ اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ بہتر ہے کہ آنکھیں بھی نکلوادیں کیونکہ ان میں بھی اشیاء کا ایک انعکاس ہی ہوتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلددوم جدید ایڈیشن صفحہ304)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’اسلامی پردہ پر اعتراض کرنا ان کی جہالت ہے اللہ تعالیٰ نے پردہ کا ایسا حکم دیا ہی نہیں جس پر اعتراض وارد ہو۔ قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غض بصر کر یں۔ جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔ یہ نہیں کہ انجیل کی طرح حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھ۔ افسوس کی بات ہے کہ ا نجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا؟ نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔ اس تعلیم کا جونتیجہ ہوا ہے وہ ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کیے جاتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلداول جدید ایڈیشن صفحہ405)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’لنڈن اور پیرس کے ہوٹلوں اور پارکوں میں جاکر دیکھو کیا ہورہا ہے اور ان لوگوں سے پوچھو جو وہاں سے آتے ہیں۔ آئے دن اخبارات میں ان بچوں کی فہرست جن کی ولادت ناجائز ولادت ہوتی ہے، شائع ہوتی ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلداول جدید ایڈیشن صفحہ164)

حضرت مولانا مولوی حکیم نور الدین صاحب نے پھر ذکر کیا کہ لندن سے ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ لندن آ کر دیکھو کہ جنت عیسائیوں کو حاصل ہے یا مسلمانوں کو۔ میں نے اس کو جواب لکھاکہ سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں تھی اورسچا اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ ؓ میں تھا۔ پس ان دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ اس پر حضرت حجۃ اللہ نے بہ تسلسل کلام سابق پھر ارشاد فرمایا :
’’اِن روحانی امور میں ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ نتیجہ نکال لے۔ یہ لوگ جو لندن جاتے ہیں۔ وہ وہاں جا کر دیکھتے ہیں کہ بڑی آزادی ہے شراب خوری کی اس قدر کثرت ہے کہ ساٹھ میل تک شرابکی دکانیں چلی جاتی ہیں۔ زنا اور غیرز نا میں کوئی فرق ہی نہیں۔ کیا یہ بہشت ہے؟ بہشت سے یہ مراد نہیں ہے۔ دیکھو! انسان کی بھی بیوی ہے اور وہ تعلقات زوجیت رکھتا ہے اور پرندوں اور حیوانات میں بھی یہ تعلقات ہیں،مگر انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک نظافت اور ادراک بخشا ہے۔ انسان جن حواس اور قویٰ کے ساتھ آیا ہے۔ ان کے ساتھ وہ ان تعلقات زوجیت میں زیادہ لطف اور سرور حاصل کرتا ہے بمقابلہ حیوانات کے جوایسے حواس اور ادراک نہیں رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ اپنے جوڑے کی کوئی رعایت نہیں رکھتے جیسے کتے۔

پس اگر انسان ان حواس کے ساتھ سرور حاصل نہیں کر سکتے بلکہ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں پھر ان میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہوا۔ یہ جو فرمایا ہے کہ مومن کے لیے ہی جنت ہے یہ اس لیے فرمایا ہے کہ سچی راحت دنیا کی لذات سے تب پیدا ہوتی ہے جب تقو ی ٰساتھ ہو۔ جوتقو یٰ کو چھوڑ دیتا ہے اور حلال و حرام کی قیداٹھادیتا ہے وہ تو اپنے مقام سے نیچے گر جاتا ہے اور حیوانی درجہ میں آجاتا ہے۔

لندن میں جب ہائڈو پارک میں حیوانوں کی طرح بد کاریاں ہوتی ہیں اور کوئی شرم و حیا ایک دوسرے سے نہیں کیا جاتا۔ تو پھر ایک شخص انسانیت کو ضبط رکھ کر دیکھے تو ایسی بہشت اور راحت سےہزار توبہ کرے گا کہ ایسی دیوث اور بے غیرت جماعت سے خدا بچائے۔ ایسی جماعت کو جوایسی زندگی بسر کرتی ہے بہشت میں سمجھنا حماقت ہے۔ اصل یہی ہے کہ بہشت کی کلید تقویٰ ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ پر بھروسا نہیں اسے سچی راحت کیونکرمل سکتی ہے۔ بعض آدی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ جن کوخدا پر بھروسہ نہیں اور ان کے پاس رو پیہ تھا وہ چوری چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی زبان بند ہوگئی۔ اور ان ( کفار) کو جو بہشت میں کہا جاتا ہے۔ ان کی خودکشیوں کو دیکھو کہ کس قدر کثرت سے ہوتی ہیں۔ تھوڑی تھوڑی باتوں پر خودکشی کر لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسے ضعیف القلب اور پست ہمت ہوتے ہیں کہ غم کی برداشت ان میں نہیں ہے۔ جس کو غم کی برداشت اور مصیبت کے مقابلہ کی طاقت نہیں اس کے پاس راحت کا سامان بھی نہیں ہے۔ خواہ ہم اس کو سمجھا سکیں یا نہ سمجھا سکیں اورکوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے۔ حقیقت الا مر یہی ہے کہ لذائذ کا مزہ صرف تقویٰ ہی سے آتا ہے۔ جومتقی ہوتا ہے اس کے دل میں راحت ہوتی ہے اور ابدی سرور ہوتا ہے۔ دیکھو ایک دوست کے ساتھ تعلق ہو تو کس قدر خوشی اور راحت ہوتی ہے لیکن جس کا خدا سے تعلق ہو اسے کس قدر خوشی ہوگی۔ جس کا تعلق خدا سے نہیں ہے اسے کیا امید ہوسکتی ہے اور امید ہی تو ایک چیز ہے جس سے بہشتی زندگی شروع ہوتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلدسوم جدید ایڈیشن صفحہ130-132)

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’ایک اور ضروری بات ہے جو میں کہنی چاہتا ہوں اور وہ کفارہ کے متعلق ہے۔ کفارہ کی اصل غرض تو یہی بتائی جاتی ہے کہ نجات حاصل ہو اور نجات دوسرے الفاظ میں گناہ کی زندگی اور اس کی موت سے بچ جانے کا نام ہے مگر میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ خدا کے لیے انصاف کر کے بتاؤ کہ گناہ کو کسی کی خودکشی سے فلسفیانہ طور پر کیا تعلق ہے؟ اگرمسیح نے نجات کا مفہوم یہی سمجھا اور گناہوں سے بچانے کا یہی طریق انہیں سوجھا تو پھر نعوذ بالله ہم ایسے آدمی کوتو رسول بھی نہیں مان سکتے کیونکہ اس سے گناہ رک نہیں سکتے۔ آپ کو یورپ کے حالات اور لنڈن اور پیرس کے واقعات اچھی طرح معلوم ہوں گے۔ بتاؤ کون سا پہلو گناہ کا ہے جونہیں ہوتا۔ سب سے بڑھ کر زنا تورات میں بدتر لکھا ہے مگر دیکھو کہ یہ سیلاب کس زور سے ان قوموں میں آیا ہے جن کا یقین ہے کہ مسیح ہمارے لیے مرا۔ اس خودکشی کے طریق سے تو بہتر یہ تھا کہ مسیح دعا کرتا کہ اور لمبی عمر ملے تا کہ وہ نصیحت اور وعظ ہی کے ذریعہ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا۔مگر یہ سوجھی تو کیا سوجھی؟‘‘

(ملفوظات جلددوم جدید ایڈیشن صفحہ442)

(جاری ہے)

(سید عمار احمد)

پچھلا پڑھیں

تمام نوروں کا سبب اور ذریعہ

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 ستمبر 2021