• 5 دسمبر, 2021

حیات کی تین اقسام

minara tul masih qadian

نباتی ، حیوانی اور انسانی تین قسم کی جان مانی گئی ہے۔ بعض حکماء نباتات میں شعور اور حس کے بھی قائل ہیں؛ چنانچہ بہت سے اسی قسم کے درخت اور پودے پائے گئے ہیں جن پر مختلف امور اثر کرتے ہیں۔ مثلاً چھوئی موئی کا درخت۔ جب انسان اسے ہاتھ لگاتا ہے فوراً مرجھا جاتی ہے اور اسی قسم کے بہت سے درخت ایسے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا نے ایک برزخ رکھا ہوا ہے۔ نباتات اور حیوانات کے درمیان وہ نباتات جن میں حس و شعور ہے وہ برزخ ہیں جو بہت بڑا حصہ انسانی عقول کا رکھتے ہیں۔ اسی برزخ کے نہ سمجھنے سے بعض کو یہ دھوکا لگا ہے کہ انسان بندر سے ترقی کر کے انسان بنا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ تمام برزخ جو مخلوقات میں موجود ہیں وہ وحدت خلقی کی دلیل ہونے کی وجہ سے خدا تعالی کی ہستی پر ایک دلیل ہیں اور افسوس ہے کہ ناواقف اور نا اہل اس سے کوئی لطف نہیں اٹھا سکتے ۔۔۔۔۔۔۔

ہاں جو یہ برزخ ہیں یہ وحدت خلقی کی دلیل ہیں۔ اسی طرح پر انسان اور خدا کے درمیان بھی ایک برزخ ہے۔ اور وہ تجلیات ہیں ۔ چنانچہ اس مقام اور مرتبہ کی طرف خدا تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿۹﴾ فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی ۚ﴿۱۰﴾ (النجم) یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوّ مرتبہ کا بیان ہے کیونکہ یہ مرتبہ اس انسان کامل کومل سکتا ہے جو عبود یت اور الو ہیت کی دونوں قوسوں کے درمیان ہو کر ایسا شدید اور قوی تعلق پکڑتا ہے؛ گویا ان دونوں کا عین ہوجاتا ہے۔ اور اپنے نفس کو درمیان سے اٹھا کر ایک مصفا آئینہ کا حکم پیدا کر لیتا ہے۔ اور اس تعلق کی دو جہتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہت سے یعنی اوپر کی طرف سے وہ تمام انواروفیوض الہٰیہ کو جذب کرتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تمام فیوض بنی نوع کوحسب استعداد پہنچاتا ہے۔ پس ایک تعلق اس کا الوہیت سے اور دوسرا بنی نوع سے۔ جیسا کہ اس آیت میں صاف معلوم ہوتا ہے یعنی پھر نزدیک سے (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اترا (یعنی مخلوق کی طرف اترا۔ یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس وہ ان تعلقاتِ قرب کے مراتبِ تام کی وجہ سے دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیا۔ بلکہ قوس الوہیت اور عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا ۔ چونکہ دُنُوّ قرب سے ابلغ تر ہے۔ اس لئے خدا نے اس لفظ کو استعمال فرمایا اور یہی نقطہ جو برزخ بین اللّٰه و بین الخلق ہے، نفسی نقطہ سید نامحمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم کا ہے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا سے لیتے اور بنی نوع کو پہنچاتے ہیں اس لئے آپ کا نام قاسم بھی ہے۔

(ملفوظات جلد2 صفحہ335تا337 ایڈیشن2016ء)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعتہ المبارک مؤرخہ 19؍نومبر 2021ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ