• 5 دسمبر, 2021

بلا امتىاز اور بلا تخصىص ہمدردى کا جذبہ اور اىک دوسرے کے لئے دعا

حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز  مزىدفرماتے ہىں:
پس ان دنوں مىں جہاں احمدى اپنى عبادتوں اور ذکرِ الٰہى کے ذرىعے سے خدا تعالىٰ سے تعلق مضبوط کرنے کى کوشش کرے، وہاں ہمدردىٔ خلق اور رنجشوں کو دور کرنے اور اخلاق کے اعلىٰ معىار قائم کرنے کى طرف بھى توجہ کرنى چاہئے۔ خالصۃً خدا تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے اىک دوسرے کے حقوق کى ادائىگى کى طرف توجہ دىنى چاہئے اور ىہ اُس وقت تک نہىں ہو سکتا جب تک دلوں کى کدورتىں اور رنجشىں دور نہ ہوں۔ اصل ہمدردىٔ خلق کا جذبہ تو وہىں ظاہر ہوتا ہے جہاں ہر اىک سے بلا امتىاز اور بلا تخصىص ہمدردى کا جذبہ ہو اور ىہى ہمدردى کا جذبہ پھر اىک دوسرے کے لئے دعاؤں کى طرف بھى توجہ دلاتا ہے۔ اور پھر آپس کى دعاؤں سے تقوىٰ کا قىام عمل مىں آتا ہے۔ دلوں اور روحوں کى پاکىزگى کے سامان ہوتے ہىں اور حقوق العباد کى ادائىگى کے نئے معىار قائم ہوتے ہىں۔ پس جس بات پر حضرت مسىح موعود علىہ السلام نے ہم سے عہدِ بىعت لىا ہے، ىہ کوئى معمولى چىز نہىں ہے۔ ىہ ہمارى حالتوں مىں انقلاب لانے کے لئے بھى بہت ضرورى ہے۔ اللہ تعالىٰ کى رضا کے حصول کے لئے بھى ضرورى ہے اور معاشرے مىں اسلام کى خوبصورت تعلىم پھىلانے اور انقلاب لانے کے لئے بھى ضرورى ہے۔ پس ان دنوں مىں اس جذبے کو بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کى کوشش کرىں۔ اور دعائىں بھى کرىں کہ اللہ تعالىٰ سب کو اس کى توفىق عطا فرمائے۔ اللہ تعالىٰ سب کو حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کى دعاؤں کا وارث بنائے۔ ہم مىں سے ہر اىک جلسہ کى برکات کو سمىٹنے والا ہو۔ ہمارى نسلىں بھى احمدىت کے ساتھ مضبوطى سے جڑى رہىں اور اىک روحانى انقلاب اپنى حالتوں مىں پىدا کرنے والى ہوں۔ اللہ تعالىٰ ان دنوں مىں اور آئندہ بھى ہمىشہ جماعت کو، جماعت کے افراد کو دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔

ہمدردى کے جذبے کے تحت ىہ بھى دعائىں کرىں کہ خدا تعالىٰ اُس تباہى سے دنىا کو بچا لے جس کى طرف ىہ بڑى تىزى سے بڑھ رہى ہے۔ مسلم اُمّۃ کے اور مسلمان حکومتوں کے لئے بھى دعائىں کرىں ىہ بھى آجکل بڑے ابتلا مىں آئى ہوئى ہىں اور اپنے جائزے لىنے کى کوشش نہىں کرتىں کہ کس وجہ سے ىہ ابتلا مىں آئى ہوئى ہىں۔ اللہ تعالىٰ ان کو زمانے کے امام کو ماننے کى توفىق عطا فرمائے۔

 (خطبہ جمعہ ىکم جون 2012ء بحوالہ الاسلام وىب سائٹ)

دعا کرنا مرنا ہوتا ہے

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام دعا کى حقىقت بىان فرماتے ہوئے اىک جگہ فرماتے ہىں کہ:
’’ىہ بھى لازم ہے کہ (اىک انسان) جىسے دنىا کى راہ مىں کوشش کرتا ہے،‘‘ وىسے ہى خد اکى راہ مىں بھى کرے پنجابى مىں اىک مثل ہے ’جومنگے سو مر رہے مرے سو منگن جا‘۔ فرماىا: ’’لوگ کہتے ہىں کہ دعا کرو۔ دعا کرنا مرنا ہوتا ہے۔ اس پنجابى مصرعہ کے ىہى معنىٰ ہىں کہ جس پر نہاىت درجہ کا اضطراب ہوتا ہے وہ دعا کرتا ہے۔ دعا مىں اىک موت ہے اور اس کا بڑا اثر ىہى ہوتا ہے کہ انسان اىک طرح سے مر جاتا ہے۔ مثلاً اىک انسان اىک قطرہ پانى کا پى کر اگر دعوىٰ کرے کہ مىرى پىاس بجھ گئى ہے ىا ىہ کہ اسے بڑى پىاس تھى تو وہ جھوٹا ہے۔ ہاں اگر پىالہ بھر کر پىوے تو اس بات کى تصدىق ہوگى۔ پورى سوزش اور گدازش کے ساتھ جب دعا کى جاتى ہے حتىٰ کہ روح گداز ہو کر آستانہ الٰہى پر گر جاتى ہے اور اسى کا نام دعا ہے اور الٰہى سنّت ىہى ہے کہ جب اىسى دعا ہوتى ہے تو خدا وند تعالىٰ ىا تو اسے قبول کرتا ہے اور ىا اسے جواب دىتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلدنمبر2 صفحہ630 اىڈىشن 2003ء)

ىعنى اس دعا کى قبولىت ہو گى ىا پھر اللہ تعالىٰ بتا دىتا ہے کہ نہىں، ىہ دعا اس رنگ مىں قبول نہىں ہوگى۔

پس ىہ دعا کى حقىقت ہے۔ خوش قسمت ہىں وہ لوگ جو صرف سطحى دعا نہىں کرتے بلکہ اللہ تعالىٰ پر کامل اىمان رکھتے ہوئے، ىہ اىمان رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالىٰ دعائىں قبول کرتا ہے اور پھر اس اىمان کے ساتھ مکمل طور پر ڈوب کر دعا کرتے ہىں۔ اللہ تعالىٰ سے کسى معاملے مىں مدد اور رہنمائى چاہنى ہو، ىا اپنى پرىشانىوں کا حل کروانا ہو، ىا خدا تعالىٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہو تو ىہ سب باتىں اُسى وقت ہوتى ہىں جب اپنى تمام تر طاقتوں اور استعدادوں کے ساتھ خدا تعالىٰ کے آگے جھکا جائے، اُس کے حضور دعائىں کى جائىں۔ آج تک ہمارا ىہى تجربہ ہے کہ پھر  خدا تعالىٰ اىسى دعاؤں کو سنتا ہے، ىا اىسى رہنمائى فرما دىتا ہے جو اگر دعا مانگنے والے کى خواہش کے مطابق نہ بھى ہوتب بھى تسلى اور تسکىن کے سامان پىدا فرما دىتا ہے۔

پھر آدابِ دعا کى وضاحت کرتے ہوئے اىک جگہ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہىں کہ:
’’دعا بڑى عجىب چىز ہے مگر افسوس ىہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب سے واقف ہىں اور نہ اس زمانہ مىں دعا کرنے والے ان طرىقوں سے واقف ہىں جو قبولىت دعا کے ہوتے ہىں‘‘۔ فرماىا ’’بلکہ اصل تو ىہ ہے کہ دعا کى حقىقت ہى سے بالکل اجنبىت ہو گئى ہے۔ بعض اىسے ہىں جو سرے سے دعا کے منکر ہىں اور جو دعا کے منکر تو نہىں مگر ان کى حالت اىسى ہو گئى ہے کہ چونکہ ان کى دعائىں بوجہ آدابِ دعا سے ناواقفىت کے قبول نہىں ہوتى ہىں۔ کىونکہ دعا اپنے اصلى معنوں مىں دعا ہوتى ہى نہىں‘‘۔ (ىعنى دعا کے آداب نہىں آتے اور جب دعا کے آداب نہىں آتے تو دعائىں قبول نہىں ہوتىں، لىکن فرماىا کہ اصل تو ىہ ہے، حقىقت ىہ ہے کہ جو دعا کے اصل معنىٰ ہىں اُس طرح دعا کى نہىں جاتى۔) فرماىا ’’اس لئے وہ منکرىن دعا سے بھى گرى ہوئى حالت مىں ہىں۔ ان کى عملى حالت نے دوسروں کو دہرىت کے قرىب پہنچا دىا ہے۔ دعا کے لئے سب سے اوّل اس امر کى ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھى تھک کر ماىوس نہ ہو جاوے اور اﷲ تعالىٰ پر ىہ سُوء ظن نہ کر بىٹھے کہ اب کچھ بھى نہىں ہوگا‘‘۔ (اللہ تعالىٰ پر بدظنى نہىں ہونى چاہئے کہ بہت لمبا عرصہ مَىں نے دعا کر لى اب کچھ نہىں ہوگا)۔

(ملفوظات جلدنمبر2 صفحہ692-693)

(خطبہ جمعہ 15؍جون 2012ء بحوالہ الاسلام وىب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

سانحہ ارتحال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 نومبر 2021