• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

معجزات کا اصل منبع دعا ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں
’’سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کرخداتعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اورکامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتاہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتاہے پھر آگے کیا دیکھتاہے کہ بارگاہ ِالوہیت ہے اور اُس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ تب اُس کی روح اُس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت ِجذب جو اُس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خداتعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جلّ شانہٗ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتاہے اور اس دعا کا ا ثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتاہے جن سے ایسے اسباب پیداہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔مثلاً اگر بارش کے لیے دعا ہے توبعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبیعہ جو بارش کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کیے جاتے ہیں اور اگر قحط کے لیے بددعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے۔ اِسی وجہ سے یہ بات اربابِ کشف اور کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل کی دعا میں ایک قوتِ تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی باذنہٖ تعالیٰ وہ دعا عالم سفلی اور علوی میں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام فلکی اور انسانوں کے دلوں کو اُس طرف لے آتی ہے جو طرف مؤید مطلوب ہے۔خداتعالیٰ کی پاک کتابوں میں اس کی نظیریں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی دراصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے ہیں یا جو کچھ کہ اولیاء ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے اُس کا ا صل اورمنبع یہی دعا ہے۔ اوراکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشا دکھلا رہے ہیں۔ وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میںزندہ ہوگئے اورپُشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اورآنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہواکہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کا ن نے سنا ۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّمۡ وَ بَارِکۡ عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ بِعَدَدِ ھَمِّہٖ وَ غَمِّہٖ وَ حُزۡنہٖ لِھٰذِہٖ الۡاُمَّۃِ وَ اَنۡزِلۡ عَلَیۡہِ اَنۡوَارَ رَحۡمَتِکَ اِلَی الۡاَبَدِ۔ اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے بلکہ اسباب طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیرنہیں جیسی کہ دُعا ہے۔‘‘

(برکات الدعا،روحانی خزائن جلد 6۔صفحہ 9تا 10)

پچھلا پڑھیں

اعلانات و اطلاعت

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جنوری 2020