• 1 فروری, 2023

خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍دسمبر 2022ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 30؍دسمبر 2022ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

کل رات جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں جبکہ حمزہ تخت پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں (الحدیث)

بعض صحابہ جن کے بارے میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان کی کچھ باتیں یا تفاصیل بعد میں سامنے آئی ہیں … مَیں نے مناسب سمجھا کہ اسے بھی چند خطبات میں بیان کر دوں تا اس ذریعہ سے بھی لوگوں کے علم میں یہ باتیں آ جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ سن سکیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ نام بہت پسند تھا

مَیں نے ابھی دعا ختم بھی نہ کی تھی کہ باطل مجھ سے دُور ہو گیا اور میرا دل یقین سے بھر گیا۔ پھر صبح کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تمام حالت بیان کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ثبات قدم بخشے (حضرت حمزہؓ)

’’اے معشرِ قریش! میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گویا اونٹنیوں کے کجاووں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کواٹھایا ہوا ہے اوریثرب کی سانڈنیوں پر گویا ہلاکتیں سوار ہیں۔‘‘ ایک مشرک کا اعتراف

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے اختتام پرمیں نے بتایا تھا کہ بدری صحابہ کا ذکر تو اَب ختم ہوا لیکن

بعض صحابہ جن کے بارے میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان کی کچھ باتیں یا تفاصیل

بعد میں سامنے آئی ہیں جنہیں یا تو مَیں کسی وقت بیان کروں گا یا جب ان کی اشاعت ہو گی تو اس میں آجائیں گی۔ بعض لوگ لکھ رہے ہیں کہ اس تاریخ کو سن کر ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے۔ خطبات میں بھی یہ حصہ بیان ہو جائے۔ اس لیے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اسے بھی چند خطبات میں بیان کر دوں تا اس ذریعہ سے بھی لوگوں کے علم میں یہ باتیں آ جائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ سن سکیں۔

بہرحال اس ضمن میں

پہلا ذکر حضرت حمزہؓ

کا ہے۔ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے اور آپؐ کے بہت پیارے تھے جس کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مختلف باتوں اور حضرت حمزہؓ کی شہادت سے ہوتا ہے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ردّ عمل تھا۔ ہو سکتا ہے بعض باتیں اجمالاً دوبارہ بھی دہرائی جائیں۔

روایت میں آتا ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ نام بہت پسند تھا۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی کے گھر لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے پوچھا ہم اس کا نام کیا رکھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا نام حمزہ بن عبدالمطلب کے نام پر رکھو جو کہ مجھے سب ناموں سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جزء5 صفحہ1831 کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث نمبر4888 مطبوعہ مکتبہ نزار الباز ریاض)

حضرت حمزہؓ کی ازواج اور اولاد

کے متعلق طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ حضرت حمزہؓ کی ایک شادی مِلَّہ بن مالک جو کہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے ان کی بیٹی سے ہوئی جن سے یعلیٰ اور عامر پیدا ہوئے۔ اپنے بیٹے یعلیٰ کے نام پر ہی حضرت حمزہؓ کی ایک کنیت ابو یعلیٰ تھی۔ حضرت حمزہؓ کی دوسری زوجہ حضرت خولہ بنت قیس انصاریہؓ سے حضرت عُمَارہؓ کی ولادت ہوئی جن کے نام پر حضرت حمزہؓ نے اپنی کنیت ابوعُمَارہ رکھی تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک شادی حضرت اسماء بنت عُمَیسؓ کی بہن حضرت سلمیٰ بنت عمیسؓ سے ہوئی جن کے بطن سے ایک بیٹی حضرت اُمَامہؓ کی پیدائش ہوئی۔ یہ وہی اُمَامہ ہیں جن کے بارے میں حضرت علی، حضرت جعفراور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم میں نزاع ہوا تھا۔ ان میں سے ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ حضرت اُمَامہؓ اس کے پاس رہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ فرمایا تھا کیونکہ حضرت امامہؓ کی خالہ حضرت اسماء بنت عُمَیس رضی اللہ عنہا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت حمزہؓ کے بیٹے یعلیٰ کی اولاد میں عُمارہ، فضل، زبیر، عقیل اور محمد تھے مگر سب فوت ہو گئے اور حضرت حمزہؓ کی نہ ہی اولاد زندہ رہی اور نہ ہی نسل چل سکی۔

(ماخوذ از طبقات الکبریٰ جزء2 صفحہ46 دار الفکر بیروت)

حضرت حمزہؓ کی بیٹی اُمَامہ کے متعلق حضرت علیؓ، حضرت جعفرؓ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جس نزاع کا ابھی ذکر آیا ہے اس کی تفصیل بخاری میں اس طرح آئی ہے: حضرت بَراء بن عازبؓ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہلِ مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپؐ کو مکہ میں داخل ہونے دیں۔ آخر آپؐ نے ان سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ مکہ میں آئندہ سال عمرے کو آئیں گے اور تین دن تک ٹھہریں گے۔ جب صلح نامہ لکھنے لگے تو، جس طرح کہ لکھا ہے کہ یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی، مکہ والے کہنے لگے کہ ہم اس کو نہیں مانتے۔ اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپؐ کو کبھی نہ روکتے بلکہ یہاں تم محمد بن عبداللہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا: مَیں اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔ علی نے کہا ہرگز نہیں مٹانا۔ اللہ کی قسم! میں آپؐ کے خطاب کو کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا ہوا کاغذ لے لیا اور آپؐ اچھی طرح لکھنا نہیں جانتے تھے۔ آپؐ نے یوں لکھا: یہ وہ شرطیں ہیں جو محمد بن عبداللہ نے ٹھہرائیں۔ مکہ میں کوئی ہتھیار نہیں لائیں گے سوائے تلواروں کے جو نیاموں میں ہوں گی اور مکہ والوں میں سے کسی کو بھی ساتھ نہیں لے جائیں گے اگرچہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں روکیں گے اگر وہ مکہ میں ٹھہرنا چاہے۔ خیر جب معاہدے کے مطابق آپ آئندہ سال مکہ میں داخل ہوئے اور مدّت ختم ہو گئی تو قریش حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے ساتھی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں کیونکہ مقررہ مدت گزر چکی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہو گئے۔ حضرت حمزہؓ کی بیٹی آپ کے پیچھے آئی جو پکار رہی تھی کہ اے چچا! اے چچا! حضرت علیؓ نے جا کر اسے لے لیا اس کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ علیہا السلام سے کہا اپنے چچا کی بیٹی کو لے لیں۔ انہوں نے اس کو سوار کر لیا۔ اب علی، زید اور جعفر حمزہ کی لڑکی کی بابت جھگڑنے لگے۔ علی کہنے لگے کہ میں نے اس کو لیا ہے اور میرے چچا کی بیٹی ہے اور جعفر نے کہا میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اور زید نے کہا میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خالہ کے پاس رہے اور فرمایا: خالہ بمنزلہ ماں ہے اور علی سے کہا تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں اور جعفر سے کہا تم صورت اور سیرت میں مجھ سے ملتے جلتے ہو اور زید سے کہا تم ہمارے بھائی ہو اور دوست ہو۔ علی نے کہا کیا آپ حمزہ کی بیٹی سے شادی نہیں کر لیتے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ

وہ میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے۔ میں اس کا چچا ہوں۔

(ماخوذ از صحیح البخاری کتاب المغازی باب عمرۃ القضاء حدیث نمبر 4251)

یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بھی ان واقعات میں حل ہو جاتے ہیں۔ بعض دفعہ قضا میں مقدمے آتے ہیں کہ خالہ کے پاس کیوں جائے؟ نانی کے پاس کیوں جائے؟ تو یہاں یہ فیصلے ہو گئے۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے متعلق

رَوضُ الأُنُف میں لکھا ہے کہ ابنِ اسحاق کے علاوہ بعض نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق ایک بات کا اضافہ کیا ہے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب مجھ پر غصہ غالب آگیا اور مَیں نے کہہ دیا یعنی وہ جو سارا واقعہ ہوا ہے اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ جب اپنی لونڈی کے کہنے پہ (کہہ دیا) کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہوں۔ بعد میں مجھے ندامت ہوئی کہ میں نے اپنے آباؤ اجداد اور قوم کے دین کو چھوڑ دیا ہے اور مَیں نے اس عظیم معاملے کے متعلق شکوک و شبہات میں اس طرح رات گزاری کہ لمحہ بھر سو نہ پایا۔ پھر مَیں خانہ کعبہ کے پاس آیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کی کہ اللہ تعالیٰ میرے سینے کو حق کے لیے کھول دے اور مجھ سے شکوک و شبہات کو دُور کر دے۔

مَیں نے ابھی دعا ختم بھی نہ کی تھی کہ باطل مجھ سے دُور ہو گیا اور میرا دل یقین سے بھر گیا۔ پھر صبح کو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تمام حالت بیان کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مجھے ثبات قدم بخشے۔

(روض الأنف جزء2 صفحہ44 45- مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت عَمّار بن ابو عمارؓ سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ انہیں جبرئیل علیہ السلام ان کی حقیقی شکل میں دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے عرض کی کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو تو اپنی جگہ پر اب بیٹھ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں پھر جبرئیل علیہ السلام خانہ کعبہ کی اس لکڑی پر اتر آئے جس پر مشرکین طواف کے وقت اپنے کپڑے ڈالا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نگاہ اٹھاؤ اور دیکھو۔

جب انہوں نے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان یعنی جبرئیل علیہ السلام کے دونوں پاؤں سبز زَبَرْجَدکی مانند ہیں۔ پھر وہ غشی کی حالت میں گر پڑے۔

زبرجد بھی ایک قیمتی پتھر ہے۔ کہتے ہیں جو زَمُرَّد سے مشابہت رکھتا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جزء3 صفحہ8 دار الکتب العلمیۃ بیروت)(منجد زیرمادہ زبر)

صفر دو ہجری میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے ابواء کی طرف نکلے جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو بھی شرکت کی توفیق ملی۔ اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھایا ہوا تھا جو کہ سفید رنگ کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے حضرت ابو سعد رضی اللہ عنہ یا ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔ اس سفر میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی اور بنو ضَمْرَہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ طے پا گیا۔

یہ پہلا غزوہ تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس شرکت کی۔

اس غزوہ کا دوسرا نام وَدَّان بھی ہے۔

(ماخوذ از سبل الہدیٰ والرشاد جزء4 صفحہ14 باب الثالث فی غزوۃ الابواء مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ ’’جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔ چونکہ قریش کے خونی ارادوں اوران کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کومحفوظ رکھنے کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لئے آپؐ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کانام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔ روانگی سے قبل آپؐ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیسِ خزرج کو امیر مقررفرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پرروانہ ہوگئے اور بالآخر مقامِ وَدَّان تک پہنچے۔ اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضَمْرَۃ کے لوگ آباد تھے۔ یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اور اس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چچا زاد بھائی تھے۔ یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ضمرۃ کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اور باہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا۔ جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنو ضمرۃ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لیے بلائیں گے تو وہ فوراً آجائیں گے۔ دوسری طرف آپؐ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ مسلمان قبیلہ بنو ضمرۃ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقتِ ضرورت ان کی مدد کریں گے۔ یہ معاہدہ باقاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اورپندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ غزوۂ وَدَّان کا دوسرا نام غزوہ اَبْوَا بھی ہے کیونکہ ودّان کے قریب ہی ابواؔ کی بستی بھی ہے اور یہ وہی مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔‘‘ یہ وہ مقام ہے۔ ’’مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواس غزوہ میں بنو ضمرۃ کے ساتھ قریشِ مکہ کابھی خیال تھا۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپؐ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سدِّباب کے لیے تھی۔ اور اس میں اُس زہریلے اور خطرناک اثر کا ازالہ مقصود تھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائلِ عرب میں پیدا کر رہے تھے اورجس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ327-328)

بہرحال

حضرت حمزہؓ نے اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اٹھایا ہوا تھا۔

جمادی الاولیٰ 2؍ہجری میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبرپا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ جن کی تعداد ڈیڑھ سو یا دو سو بیان ہوئی ہے مدینہ سے عُشَیرہ کی طرف نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابوسَلَمہ بن عبدالاسد کو امیر مقرر فرمایا۔

اس غزوہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
سفید رنگ کا جھنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اٹھایا ہوا تھا۔

اس غزوہ میں آپؐ کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحلِ سمندر کے قریب یَنْبُعْ کے پاس مقام عُشَیرہ پہنچے اور گو قریش کامقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپؐ نے قبیلہ بنو مُدْلِجْ کے ساتھ انہی شرائط پر جو بنو ضمرہ کے ساتھ تھیں ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ صفحہ329)
(سبل الہدیٰ والرشاد جزء4 صفحہ17 باب السادس فی بیان غزوۃالعشیرۃمطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

جنگِ بدر میں انفرادی لڑائی

میں جو مبارز طلبی کا ذکر ہے، یہ پہلے مختلف حدیثوں کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس کی تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ’’اب فوجیں بالکل ایک دوسرے کے سامنے تھیں۔ مگر قدرتِ الٰہی کا عجیب تماشہ ہے کہ اس وقت لشکروں کے کھڑے ہونے کی ترتیب ایسی تھی کہ اسلامی لشکر قریش کو اصلی تعداد سے زیادہ بلکہ دوگنا نظر آتا تھا جس کی وجہ سے کفّار مرعوب ہوئے جاتے تھے اور دوسری طرف قریش کالشکر مسلمانوں کو ان کی اصلی تعداد سے کم نظر آتا تھا۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دل بڑھے ہوئے تھے۔ قریش کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح اسلامی لشکر کی تعداد کا صحیح اندازہ پتہ لگ جاوے تاکہ وہ چھوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دے سکیں۔ اس کے لئے رؤساء قریش نے عُمَیر بن وَہْب کو بھیجا کہ اسلامی لشکر کے چاروں طرف گھوڑا دوڑا کر دیکھے کہ اس کی تعداد کتنی ہے اور آیا ان کے پیچھے کوئی کمک تو مخفی نہیں؟ چنانچہ عُمَیر نے گھوڑے پر سوار ہوکر مسلمانوں کاایک چکر کاٹا مگر اسے مسلمانوں کی شکل وصورت سے ایسا جلال اورعزم اور موت سے ایسی بے پروائی نظر آئی کہ وہ سخت مرعوب ہوکر لوٹا اور قریش سے مخاطب ہو کر کہنے لگا … ’’مجھے کوئی مخفی کمک وغیرہ تو نظر نہیں آئی، لیکن

اے معشرِ قریش! میں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں کے لشکر میں گویا اونٹنیوں کے کجاووں نے اپنے اوپر آدمیوں کو نہیں بلکہ موتوں کواٹھایا ہوا ہے اوریثرب کی سانڈنیوں پر گویا ہلاکتیں سوار ہیں۔‘‘

قریش نے جب یہ بات سنی تو اُن میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی۔ سراقہ جوان کا ضامن بن کر آیا تھا کچھ ایسا مرعوب ہوا کہ الٹے پاؤں بھاگ گیا اور جب لوگوں نے اسے روکا تو کہنے لگا … ’’مجھے جو کچھ نظر آرہا ہے وہ تم نہیں دیکھتے۔‘‘ حکیم بن حِزَام نے عُمَیرؔ کی رائے سنی تو گھبرایا ہوا عُتْبہ بن رَبِیعہ کے پاس آیا اورکہنے لگا۔ ’’اے عُتْبہ! تم محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے آخر عمرو حضرمی کا بدلہ ہی چاہتے ہو۔ وہ تمہارا حلیف تھا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم اس کی طرف سے خون بہاادا کردو اور قریش کو لے کر واپس لَوٹ جاؤ۔ اس میں ہمیشہ کے لئے تمہاری نیک نامی رہے گی۔‘‘ عُتْبہ کو جو خود گھبرایا ہوا تھا اَور کیا چاہئے تھا جھٹ بولا ’’ہاں ہاں میں راضی ہوں اور پھر حکیم! دیکھو تو یہ مسلمان اور ہم آخر آپس میں رشتہ دار ہی تو ہیں۔ کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ بھائی بھائی پرتلوار اٹھائے اورباپ بیٹے پر۔ تم ایسا کرو کہ ابھی ابوالحکم (یعنی ابوجہل) کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے یہ تجویز پیش کرو‘‘ اور ادھر عُتْبہ نے خود اونٹ پر سوار ہوکر اپنی طرف سے لوگوں کو سمجھانا شروع کردیا کہ ’’رشتہ داروں میں لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ ہمیں واپس لوٹ جانا چاہئے اور محمدؐ کو اُس کے حال پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ دوسرے قبائل عرب کے ساتھ نپٹتا رہے۔ جو نتیجہ ہوگا دیکھا جائے گا۔ اور پھر تم دیکھو کہ ان مسلمانوں کے ساتھ لڑنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ خواہ تم مجھے بزدل کہو حالانکہ میں بزدل نہیں ہوں … مجھے تو یہ لوگ موت کے خریدار نظر آتے ہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دُور سے عُتْبہ کو دیکھا تو فرمایا۔ ’’اگر لشکرِ کفار میں سے کسی میں شرافت ہے تو اس سرخ اونٹ کے سوار میں ضرور ہے۔ اگر یہ لوگ اس کی بات مان لیں توان کے لیے اچھا ہو۔ لیکن جب حکیم بن حزام ابوجہل کے پاس آیا اور اُس سے یہ تجویز بیان کی تو وہ فرعونِ امت بھلا ایسی باتوں میں کب آنے والا تھا چھٹتے ہی بولا۔ اچھا اچھا اب عُتْبہ کو اپنے سامنے اپنے رشتہ دار نظر آنے لگے ہیں۔ اور پھر اس نے عمروحضرمی کے بھائی عامر حضرمی کو بلا کر کہا تم نے سنا تمہارا حلیف عُتْبہ کیا کہتا ہے اور وہ بھی اس وقت جبکہ تمہارے بھائی کا بدلہ گویا ہاتھ میں آیا ہوا ہے۔ عامر کی آنکھوں میں خون اتر آیا اوراس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اپنے کپڑے پھاڑ کر اور ننگا ہوکر چلّانا شروع کیا … ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے۔ ہائے افسوس! میرا بھائی بغیر انتقام کے رہا جاتا ہے!! اس صحرائی آواز نے لشکرِ قریش کے سینوں میں عداوت کے شعلے بلند کر دیئے اور جنگ کی بھٹی اپنے پورے زورسے دہکنے لگ گئی۔‘‘

’’ابوجہل کے طعنے نے عُتْبہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ اس غصہ میں بھرا ہوا وہ اپنے بھائی شیبہ اور اپنے لڑکے ولید کو ساتھ لے کر لشکرِ کفار سے آگے بڑھا اور عرب کے قدیم دستور کے مطابق انفرادی لڑائی کے لیے مبارز طلبی کی۔ چند انصار ان کے مقابلہ کے لیے آگے بڑھنے لگے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک دیا اور فرمایا۔ حمزہ تم اُٹھو۔ علی تم اُٹھو۔ عبیدہ تم اُٹھو! یہ تینوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی رشتہ دار تھے اور آپؐ چاہتے تھے کہ خطرہ کی جگہ پر سب سے پہلے آپؐ کے عزیزواقارب آگے بڑھیں۔ دوسری طرف عُتْبہ وغیرہ نے بھی انصار کو دیکھ کر آوازدی کہ ان لوگوں کو ہم کیا جانتے ہیں۔ ہماری ٹکر کے ہمارے سامنے آئیں۔ چنانچہ حمزہ اور علی اور عبیدہ آگے بڑھے۔ عرب کے دستور کے مطابق پہلے روشناسی ہوئی۔ پھر عبیدۃ بن مطلب ولید کے مقابل ہوگئے اور حمزہ عُتْبہ کے اورعلی شیبہ کے۔ حمزہ اورعلی نے تو ایک دو واروں میں ہی اپنے حریفوں کو خاک میں ملا دیا لیکن عبیدۃ اورولید میں دو چار اچھی ضربیں ہوئیں اور بالآخر دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ سے کاری زخم کھا کر گرے۔ جس پر حمزہ اورعلی نے جلدی سے آگے بڑھ کر ولید کا تو خاتمہ کر دیا اور عبیدۃ کو اُٹھا کر اپنے کیمپ میں لے آئے۔ مگر عبیدہ اس صدمہ سے جانبر نہ ہوسکے اور بدر سے واپسی پر راستہ میں انتقال کیا۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ صفحہ358 تا 360)

حضرت حمزہؓ نے غزوۂ بدر میں
طُعَیْمَہ بن عَدِی سردارِ قریش کو بھی قتل کیا تھا۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب قصۃ غزوۃ بدر)

غزوۂ بدر کے واقعہ کے وقت کی ایک روایت ہے کہ حضرت حمزہؓ نے نشہ کی حالت میں حضرت علیؓ کی اونٹنیوں کو مار دیا تھا۔ یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اس کی تفصیل بخاری میں یوں بیان ہوئی ہے: مختلف راوی ہیں۔ حضرت علی بن حسینؓ اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی اور ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عنایت فرمائی۔ ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر مَیں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر (وہ ایک گھاس ہے کہ جسے سنار وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیں، خوشبو دار گھاس ہے) رکھ کر بیچنے لے جاؤں گا۔ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا۔ اس طرح خیال یہ تھا کہ اس کی آمدنی سے فاطمہ رضی اللہ عنہا جن سے میں نکاح کرنے والا تھا ان کا ولیمہ کروں گا۔ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسی انصاری کے گھر میں شراب پی رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔ اس نے جب یہ مصرع پڑھا کہ ہاں اے حمزہ! اٹھو فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف بڑھو۔ حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہان چیر دیے۔ ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور ان کی کلیجی نکال لی۔ ابنِ جُرَیْج نے بیان کیا کہ مَیں نے ابنِ شہاب سے پوچھا کہ کیا کوہان کا گوشت بھی کاٹ لیا؟ انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہان بھی کاٹ لیے اور انہیں لے گئے۔ ابنِ شہاب نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میں نے آپؐ کو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپؐ تشریف لائے۔ زید رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب حمزہؓ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفگی کا اظہار فرمایا تو حضرت حمزہؓ نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ نشہ کی حالت میں تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہنے لگے کہ تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا قصہ ہے۔

(صحیح البخاری کتاب المساقاۃ باب بیع الحطب والکلأ حدیث نمبر 2375)

انہوں نے کہا ایسی حالت میں بہتر ہے کہ اس سے بات نہ کی جائے لیکن بعد میں بہرحال دیکھ لیں کہ

جب شراب کی حرمت ہو گئی تو پھر اس کے نزدیک بھی یہ لوگ نہیں گئے۔ صحابہ کا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو ماننے کا یہ معیار تھا کہ فوری طور پر مٹکے توڑ دیے۔

(صحیح مسلم کتاب الاشربۃ باب تحریم الخمر … الخ حدیث نمبر5138)

یہ نہیں کہا کہ ہم نشہ کی عادت آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے جیساکہ آج کل لوگ کہتے ہیں۔ اوّل تو پہلے نشہ میں پڑ جاتے ہیں جو ویسے ہی غلط کام ہے۔ اسلام میں ممنوع ہے اور پھر کہتے ہیں آہستہ آہستہ چھوڑ دیں گے، ہمیں مہلت دی جائے۔ تو بہرحال یہ ایک واقعہ ہے جو اُس وقت ہوا تھا اور پھر اس کے بعد ان کے قربانی کے معیار بھی بڑھتے چلے گئے۔ یقینا ًحضرت حمزہؓ کو اس کے بعد شرمندگی بھی ہوئی ہو گی کہ انہوں نے کیا کہا۔

غزوۂ بدر کے بعد جب بنو قَینُقاع کی مہم درپیش تھی تو اس میں بھی
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے۔

اس غزوہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ہی اٹھایا ہوا تھا۔ یہ جھنڈا سفید رنگ کا تھا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد جزء4 صفحہ180 باب الثانی عشر فی غزوۃ بنی قینقاع مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اس کی تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس طرح لکھی ہے کہ ’’جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ میں تشریف لائے تھے اُس وقت مدینہ میں یہود کے تین قبائل آباد تھے۔ ان کے نام بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں آتے ہی ان قبائل کے ساتھ امن وامان کے معاہدے کرلئے اور آپس میں صلح اور امن کے ساتھ رہنے کی بنیاد ڈالی۔ معاہدہ کی رُو سے فریقین اس بات کے ذمہ دار تھے کہ مدینہ میں امن وامان قائم رکھیں اور اگر کوئی بیرونی دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔ شروع شروع میں تو یہود اس معاہدہ کے پابند رہے اور کم ازکم ظاہری طور پر انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کوئی جھگڑا پیدا نہیں کیا۔ لیکن

جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مدینہ میں زیادہ اقتدار حاصل کرتے جاتے ہیں تو اُن کے تیور بدلنے شروع ہوئے اور انھوں نے مسلمانوں کی اس بڑھتی ہوئی طاقت کوروکنے کا تہیّہ کرلیا اور اس غرض کے لیے انھوں نے ہرقسم کی جائز وناجائز تدابیر اختیار کرنی شروع کیں۔

حتی ٰکہ انہوں نے اس بات کی کوشش سے بھی دریغ نہیں کیا کہ مسلمانوں کے اندر پھوٹ پیدا کرکے خانہ جنگی شروع کرا دیں۔ چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک موقعہ پر قبیلہ اوس اورخزرج کے بہت سے لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے باہم محبت واتفاق سے باتیں کررہے تھے کہ بعض فتنہ پرداز یہود نے اس مجلس میں پہنچ کر جنگِ بُعاث کا تذکرہ شروع کر دیا۔ یہ وہ خطرناک جنگ تھی جوان دو ۲ قبائل کے درمیان ہجرت سے چند سال قبل ہوئی تھی اورجس میں اوسؔ اور خزرج کے بہت سے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ سے مارے گئے تھے۔ اس جنگ کا ذکر آتے ہی بعض جوشیلے لوگوں کے دلوں میں پرانی یاد تازہ ہوگئی اور گذشتہ عداوت کے منظر آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باہم نوک جھونک اورطعن وتشنیع سے گذر کر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسی مجلس میں مسلمانوں کے اندر تلوار کھچ گئی مگر خیر گذری کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بروقت اس کی اطلاع مل گئی اور آپؐ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ فوراً موقعہ پرتشریف لے آئے اورفریقین کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا اور پھر ملامت بھی فرمائی کہ تم میرے ہوتے ہوئے جاہلیت کاطریق اختیار کرتے ہو اور خدا کی اس نعمت کی قدر نہیں کرتے کہ اُس نے اسلام کے ذریعہ تمہیں بھائی بھائی بنادیا ہے۔ انصار پر آپؐ کی اس نصیحت کاایسا اثر ہوا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اوروہ اپنی اس حرکت سے تائب ہو کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو گئے۔

جب جنگِ بدر ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مسلمانوں کو باوجود ان کی قلّت اور بے سروسامانی کے قریش کے ایک بڑے جرّار لشکر پرنمایاں فتح دی اورمکہ کے بڑے بڑے عمائد خاک میں مل گئے تو

مدینہ کے یہودیوں کی آتشِ حسد بھڑک اٹھی اور انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ کھلم کھلا نوک جھونک شروع کردی اور مجلسوں میں برملا طور پر کہنا شروع کیا کہ قریش کے لشکر کوشکست دینا کونسی بڑی بات تھی ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کامقابلہ ہو تو ہم بتادیں کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔

حتی ٰکہ ایک مجلس میں انھوں نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر اسی قسم کے الفاظ کہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جنگِ بدر کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے توآپؐ نے ایک دن یہودیوں کوجمع کر کے ان کو نصیحت فرمائی اوراپنا دعویٰ پیش کرکے اسلام کی طرف دعوت دی۔ آپؐ کی اس پُراَمن اور ہمدردانہ تقریر کا رؤسائے یہود نے ان الفاظ میں جواب دیا کہ ’’اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تم شاید چند قریش کو قتل کر کے مغرور ہوگئے ہو۔ وہ لوگ لڑائی کے فن سے ناواقف تھے۔ اگر ہمارے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو تو تمہیں پتہ لگ جاوے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ یہود نے صرف عام دھمکی پرہی اکتفاء نہیں کی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بھی شروع کر دیئے تھے۔ کیونکہ روایت آتی ہے کہ جب ان دنوں میں طلحہ بن بَراء جوایک مخلص صحابی تھے فوت ہونے لگے توانہوں نے وصیت کی کہ اگر میں رات کو مروں تو نماز جنازہ کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع نہ دی جاوے تاکہ ایسا نہ ہو کہ میری وجہ سے آپؐ پر یہود کی طرف سے کوئی حادثہ گذر جاوے۔ الغرض جنگِ بدر کے بعد یہود نے کھلم کھلا شرارت شروع کردی اور چونکہ مدینہ کے یہود میں بنو قینقاع سب میں زیادہ طاقتور اور بہادر تھے اس لیے سب سے پہلے انہی کی طرف سے عہد شکنی شروع ہوئی۔ چنانچہ مورخین لکھتے ہیں کہ … مدینہ کے یہودیوں میں سے سب سے پہلے بنو قینقاع نے اِس معاہدہ کو توڑا جو اُن کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہوا تھا اوربدرؔ کے بعد انھوں نے بہت سرکشی شروع کر دی اور برملا طور پر بغض وحسد کااظہار کیا اور عہدوپیمان کوتوڑ دیا۔

مگر باوجود اس قسم کی باتوں کے مسلمانوں نے اپنے آقا کی ہدایت کے ماتحت ہر طرح صبر سے کام لیا اور اپنی طرف سے کوئی پیش دستی نہیں ہونے دی۔ بلکہ

حدیث میں آتا ہے کہ اس معاہدہ کے بعد جو یہود کے ساتھ ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاص طورپر یہود کی دلداری کاخیال رکھتے تھے۔

چنانچہ ایک دفعہ ایک مسلمان اورایک یہودی میں کچھ اختلاف ہو گیا۔ یہودی نے حضرت موسیٰؑ کی تمام انبیاء پر فضیلت بیان کی۔ صحابی کواس پر غصہ آیا اور اُس نے اُس یہودی کے ساتھ کچھ سختی کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الرسل بیان کیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپؐ ناراض ہوئے اور اس صحابی کو ملامت فرمائی اور کہا کہ ’’تمہارا یہ کام نہیں کہ تم خدا کے رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت بیان کرتے پھرو‘‘ اور پھر آپؐ نے موسیٰؑ کی ایک جزوی فضیلت بیان کر کے اس یہودی کی دلداری فرمائی۔ مگرباوجود اس دلدارانہ سلوک کے یہودی اپنی شرارت میں ترقی کرتے گئے اور بالآخر خود یہود کی طرف سے ہی جنگ کاباعث پیدا ہوا اور ان کی قلبی عداوت ان کے سینوں میں سما نہ سکی اوریہ اس طرح پر ہوا کہ ایک مسلمان خاتون بازار میں ایک یہودی کی دُکان پرکچھ سودا خریدنے کے لیے گئی۔ بعض شریر یہودیوں نے جو اُس وقت اُس دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اسے نہایت اوباشانہ طریق پر چھیڑا اور خود دوکاندار نے یہ شرارت کی کہ اس عورت کی تہ بندکے نچلے کونے کو اس کی بے خبری کی حالت میں کسی کانٹے وغیرہ سے اس کی پیٹھ کے کپڑے سے ٹانک دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ عورت اُن کے اوباشانہ طریق کو دیکھ کر وہاں سے اٹھ کر لَوٹنے لگی تو وہ ننگی ہو گئی۔ اس پر اس یہودی دوکاندار اور اس کے ساتھیوں نے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور ہنسنے لگ گئے۔

مسلمان خاتون نے شرم کے مارے ایک چیخ ماری اورمدد چاہی۔ اتفاق سے ایک مسلمان اُس وقت قریب موجود تھا۔ وہ لپک کر موقعہ پر پہنچا اور باہم لڑائی میں یہودی دوکاندار مارا گیا۔

جس پر چاروں طرف سے اس مسلمان پر تلواریں برس پڑیں اوروہ غیور مسلمان وہیں ڈھیر ہو گیا۔ مسلمانوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو غیرتِ قومی سے ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اوردوسری طرف یہود جو اس واقعہ کو لڑائی کا بہانہ بنانا چاہتے تھے ہجوم کر کے اکٹھے ہوگئے اور ایک بلوہ کی صورت پیدا ہو گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپؐ نے رؤسائے بنو قینقاع کوجمع کر کے کہا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔ تم ان شرارتوں سے باز آجاؤ اور خدا سے ڈرو۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ اظہارِ افسوس و ندامت کرتے اور معافی کے طالب بنتے، سامنے سے نہایت متمردانہ جواب دیئے اور پھر وہی دھمکی دہرائی کہ بدر کی فتح پرغرور نہ کرو، جب ہم سے مقابلہ ہوگا تو پتہ لگ جائے گا کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں۔ ناچار آپؐ صحابہ کی ایک جمعیت کو ساتھ لے کر بنو قینقاع کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ اب یہ آخری موقعہ تھا کہ وہ اپنے افعال پر پشیمان ہوتے مگر وہ سامنے سے جنگ پرآمادہ تھے۔

الغرض جنگ کا اعلان ہوگیا اور
اسلام اور یہودیت کی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل پرنکل آئیں۔

اس زمانہ کے دستور کے مطابق جنگ کا ایک طریق یہ بھی ہوتا تھا کہ اپنے قلعوں میں محفوظ ہوکر بیٹھ جاتے تھے محاصرہ ہو جاتا تھا اور فریقِ مخالف قلعوں کامحاصرہ کرلیتا تھا اور موقع موقع پر گاہے گاہے ایک دوسرے کے خلاف حملے ہوتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ یاتو محاصرہ کرنے والی فوج قلعہ پر قبضہ کرنے سے مایوس ہوکر محاصرہ اٹھا لیتی تھی اور یہ محصورین کی فتح سمجھی جاتی تھی اور یا محصورین مقابلہ کی تاب نہ لا کر قلعہ کادروازہ کھول کر اپنے آپ کو فاتحین کے سپرد کردیتے تھے۔ اس موقعہ پر بھی بنو قینقاع نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنے قلعوں میں بند ہو کر بیٹھ گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا محاصرہ کیا اور پندرہ دن تک برابر محاصرہ جاری رہا۔

بالآخر جب بنو قینقاع کاسارا زور اور غرور ٹوٹ گیا تو اُنہوں نے اس شرط پر اپنے قلعوں کے دروازے کھول دیے کہ ان کے اموال مسلمانوں کے ہوجائیں گے۔ مگر اُن کی جانوں اوران کے اہل وعیال پر مسلمانوں کا کوئی حق نہیں ہوگا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط کو منظور فرما لیا کیونکہ گوموسوی شریعت کی رُو سے یہ سب لوگ واجب القتل تھے۔ اورمعاہدہ کی رو سے ان لوگوں پر موسوی شریعت کافیصلہ ہی جاری ہونا چاہیے تھا مگر اس قوم کایہ پہلا جرم تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحیم وکریم طبیعت انتہائی سزا کی طرف جو ایک آخری علاج ہوتا ہے ابتدائی قدم پر مائل نہیں ہوسکتی تھی، لیکن دوسری طرف ایسے بدعہد اور معاند قبیلہ کامدینہ میں رہنا بھی ایک مارِآستین کے پالنے سے کم نہ تھا۔ خصوصاً جب کہ اوس اور خزرج کا ایک منافق گروہ پہلے سے مدینہ میں موجود تھا اوربیرونی جانب سے بھی تمام عرب کی مخالفت نے مسلمانوں کاناک میں دَم کر رکھا تھا۔

ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہوسکتا تھا کہ
بنوقینقاع مدینہ سے چلے جائیں۔ یہ سزا اُن کے جرم کے مقابل میں اور
نیز اس زمانہ کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک بہت نرم سزا تھی

اور دراصل اس میں صرف خود حفاظتی کاپہلو ہی مدنظر تھا۔ ورنہ عرب کی خانہ بدوش اقوام کے نزدیک نقل مکان کوئی بڑی بات نہ تھی۔ خصوصاً جب کہ کسی قبیلہ کی جائیدادیں، زمینوں اور باغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں۔ اورپھر سارے کے سارے قبیلہ کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جاکر آباد ہونے کا موقعہ مل جاوے۔ چنانچہ بنو قینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے۔ ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اور نگرانی وغیرہ کا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی عبادۃ بن صامت کے سپرد فرمایا تھا جو اُن کے حلفاء میں سے تھے۔ چنانچہ عبادۃ بن صامت چند منزل تک بنو قینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کرکے واپس لوٹ آئے۔ مالِ غنیمت جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف آلاتِ حرب‘‘ جنگ کے آلات، جنگ کا سامان ’’اور آلاتِ پیشہ زرگری پر مشتمل تھا۔

بنو قینقاع کے متعلق بعض روایتوں میں ذکر آتا ہے کہ جب ان لوگوں نے اپنے قلعوں کے دروازے کھول کر اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا تو اُن کی بدعہدی اور بغاوت اورشرارتوں کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ اُن کے جنگجو مردوں کو قتل کروا دینے کا تھا، مگر عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس منافقین کی سفارش پر آپؐ نے یہ ارادہ ترک کر دیا، لیکن‘‘ (اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے) محقّقین ان روایات کو صحیح نہیں سمجھتے ’’…کیونکہ جب دوسری روایت میں یہ صریحاً مذکور ہے کہ بنو قینقاع نے اس شرط پر دروازے کھولے تھے کہ ان کی اوران کے اہل وعیال کی جان بخشی کی جائے گی تویہ ہرگز نہیں ہوسکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کرلینے کے بعد دوسرا طریق اختیار فرماتے‘‘ اور پھر بھی قتل کرنے کی کوشش فرماتے۔ اس لیے یہ تو بالکل غلط بات ہے۔ ’’البتہ بنوقینقاع کی طرف سے جان بخشی کی شرط کا پیش ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود ہی سمجھتے تھے کہ اُن کی اصل سزا قتل ہی ہے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کے طالب تھے اور یہ وعدہ لینے کے بعد اپنے قلعے کا دروزاہ کھولنا چاہتے تھے کہ ان کو قتل کی سزا نہیں دی جاوے گی لیکن گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رحیم النفسی سے انہیں معاف کر دیا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ لوگ اپنی بداعمالی اورجرائم کی وجہ سے اَب دنیا کے پردے پر زندہ چھوڑے جانے کے قابل نہیں تھے۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ جس جگہ یہ لوگ جلاوطن ہوکر گئے تھے وہاں انہیں ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہ گذرا تھاکہ اُن میں کوئی ایسی بیماری وغیرہ پڑی کہ سارے کا سارا قبیلہ اس کا شکار ہوکر پیوندِ خاک ہو گیا۔‘‘ (سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ صفحہ457-461) ختم ہو گیا۔ غزوۂ بنو قینقاع ذوالحجہ ۲؍ہجری میں ہوا تھا۔ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ صفحہ461) بہرحال حضرت حمزہؓ اس میں عَلم بردار تھے۔

حضرت حمزہؓ کی شہادت کے بارے میں

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ احد میں شہید ہوئے تھے۔ اس کی خبر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ رؤیا دے دی تھی۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیا میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ ایک مینڈھے کا پیچھا کر رہا ہوں اور یہ کہ میری تلوار کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے تو مَیں نے یہ تعبیر کی کہ قوم کے مینڈھے کو قتل کروں گا یعنی ان کے سپہ سالار کو اور تلوار کے کنارے کی تعبیر مَیں نے یہ کی کہ میرے خاندان کا کوئی آدمی ہے۔ پھر حضرت حمزہؓ کو شہید کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ کو قتل کیا جو کہ مشرکین کا عَلمبردار تھا۔

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جزء5 صفحہ1834 کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث نمبر 4896 مطبوعہ مکتبہ نزار الباز ریاض)

حضرت حمزہؓ کا مُثلہ

کیا گیا تھا، شکل بگاڑی گئی تھی۔ ناک کان کاٹے گئے تھے۔ ان کا پیٹ چاک کیا گیا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید رنج ہوا اور فرمایا اگر اللہ نے مجھے قریش پر کامیابی دی تو میں اُن کے تیس آدمیوں کا مُثلہ کروں گا۔ جبکہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا کہ ان کے ستر آدمیوں کا مُثلہ کروں گا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَہُوَ خَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ (النحل: 127) اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تم پر زیادتی کی گئی تھی اور اگر تم صبر کرو تو یقیناً صبر کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر کریں گے اور اپنی قسم کا کفّارہ ادا کر دیا۔

(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب جزء اوّل صفحہ426 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کل رات جب میں جنت میں داخل ہوا، یہ نظارہ آپؐ نے دیکھا، تو میں نے دیکھا کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ پرواز کر رہے ہیں جبکہ حمزہ تخت پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں۔

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جزء5 صفحہ1832 کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث نمبر4890 مطبوعہ مکتبہ نزار الباز ریاض)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دن حضرت حمزہؓ کے پاس سے گزرے۔ ان کا ناک اور کان کاٹے گئے تھے اور مُثلہ کیا گیا تھا۔ اس پر فرمایا اگر مجھے صفیہ کے رنج و غم کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو یونہی چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ ان کو پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے ہی اٹھاتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر میں کفن دیا گیا۔

(مستدرک علی الصحیحین للحاکم جزء5 صفحہ1831 کتاب معرفۃ الصحابہ حدیث 4887 مطبوعہ مکتبہ نزار الباز ریاض)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حمزہؓ کی شہادت اور آپؓ کی لاش کو دیکھ کر جذبات کا اظہار اور نہ صرف خود صبر کا نمونہ دکھانا بلکہ حضرت حمزہؓ کی بہن اور اپنی پھوپھی کو بھی اس کا پابند کرنا

جس کا کچھ ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے۔ پھر نوحہ کرنے والی انصاری عورتوں کو نوحہ کرنے سے روکنے کا واقعہ ہے۔ اس واقعہ کو حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے اپنی خلافت سے پہلے کی جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں بیان فرمایا تھا، وہ میں بیان کر دیتا ہوں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خُلقِ عظیم کا بھی پتہ لگتا ہے۔ بہرحال یہ مناسب ہے کہ اس واقعہ کو یہاں بیان کیا جائے۔ پہلے تو مختصراً حدیثوں کے حوالے سے بیان ہو چکا ہے۔

فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حمزہؓ سے جو پیار تھا اس کا اظہار ان الفاظ سے ہوتا ہے جو اُحد کی شام آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہؓ کی نعش پر کھڑے ہو کر فرمائے۔ آپؐ نے فرمایا اے حمزہ! مجھے آج جو غصہ ہے اور جو تکلیف تیرے مقتل پر کھڑے ہو کر پہنچی ہے اللہ آئندہ کبھی مجھے ایسی تکلیف نہ دکھائے گا۔ اس وقت آپؐ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ، حضرت حمزہؓ کی بہن بھی یہ خبر سن کر وہاں چلی آئیں تو اس خوف سے کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے پہلے تو آپؐ نے انہیں نعش دیکھنے کی اجازت نہ دی لیکن جب انہوں نے صبر کا وعدہ کیا تو اجازت فرما دی۔ بہرحال آپ حضرت حمزہؓ کے مقتل پر حاضر ہوئیں اور شیرِ خدا اور شیرِ رسول اپنے پیارے بھائی کی لاش اس حالت میں سامنے پڑی دیکھی کہ ظالموں نے سینہ پھاڑ کر کلیجہ نکال لیا تھا اور چہرے کے نقوش بھی بُری طرح بگاڑ دیے تھے۔ ہرچند کہ سینہ غم سے بیٹھا جاتا تھا مگر صفیہ اپنے صبر کے وعدے پر قائم رہیں اور ایک کلمہ بے صبری کا منہ سے نکلنے نہ دیا لیکن آنسوؤں پر کسے اختیار تھا۔ اِنَّا لِلّٰہ پڑھا اور روتے روتے وہیں بیٹھ گئیں۔ حالت یہ تھی کہ غمزدہ خاموش آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ آنحضور ؐبھی پاس بیٹھ گئے۔ آپؐ کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ جب حضرت صفیہؓ کے آنسو مدھم پڑتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی مدھم پڑ جاتے۔ جب حضرت صفیہؓ کے آنسو تیز ہوتے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی تیز ہو جاتے۔ چند منٹ اسی حالت میں گزرے۔ پس

آنحضورؐ اور اہلِ بیت کا نوحہ ان چند خاموش آنسوؤں کے سِوا اَور کچھ نہ تھا
اور یہی سنتِ نبویؐ ہے۔

آپؐ مدینہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ تمام مدینہ ماتم کدہ بنا ہوا تھا اور گھر گھر سے شہدائے احد کی یاد میں نوحہ گروں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو بڑے درد سے فرمایا۔ حمزہ کا تو کوئی رونے والا نہیں۔ ہاں حمزہ کو رونے والا ہو بھی کون سکتا ہے کہ اہلِ بیت کو تو صبح و شام صبر کی تلقین ہوا کرتی تھی۔ حضور کے اس درد بھرے فقرے کو جب بعض انصار نے سنا تو تڑپ اٹھے اور گھروں کی طرف دوڑے اور بیبیوں کو حکم دیا کہ ہر دوسرا ماتم چھوڑ دو اور حمزہ پر ماتم کرو۔ دیکھتے دیکھتے ہر طرف سے حمزہ کے لیے آہ و بکا کا ایک شور بلند ہوا اور ہر گھر حمزہ کا ماتم کدہ بن گیا۔ انصار بیبیاں نوحہ کو پڑھتے ہوئے اور آنسو بہاتیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کدہ پر بھی اکٹھی ہو گئیں۔ آنحضورؐ نے شور سن کر باہر دیکھا تو انصار بیبیوں کی ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ حضورؐ نے ان کی ہمدردی پر ان کو دعا دی اور شکریہ ادا کیا لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ مُردوں پر نوحہ کرنا جائز نہیں۔ پس اس دن سے نوحہ کی رسم متروک کر دی گئی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ہماری جانیں نثار ہوں۔ کس شان کا معلمِ اخلاق تھا جو روحانیت کے آسمان سے ہمیں دین سکھانے نازل ہوا۔ کیسا صاحبِ بصیرت اور زیرک تھا یہ نصیحت کرنے والا جس کی نظر انسانی فطرت کے پاتال تک گزر جاتی تھی۔ اگر اس وقت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم انصار بیبیوں کو نوحہ کرنے سے منع فرما دیتے جب وہ اپنے شہیدوں کا نوحہ کر رہی تھیں تو شاید بعض دلوں پر یہ شاق گزرتا اور یہ صبر ان کے لیے صبر آزما ہو جاتا لیکن دیکھو! کیسے حکیمانہ انداز میں آپؐ نے پہلے ان کے ماتم کا رخ اپنے چچا حمزہ کی طرف پھیرا۔ پھر جب نوحہ سے منع فرمایا تو گویا اپنے چچا کے نوحہ سے منع فرمایا۔

اللہ کا انتخاب اللہ کا انتخاب ہے۔ دیکھو! اپنی مخلوق کے لیے کس شان کا نصیحت کرنے والا بھیجا اللہ تعالیٰ نے جو انسانی فطرت کی باریکیوں اور لطافتوں سے خوب آشنا تھا اور اپنے غلاموں کے لطیف جذبات کا کیسا خیال رکھنے والا تھا۔

آنحضورؐ کی ان حسین اداؤں پر جب نظر پڑتی ہے تو دل سینے میں اچھلتا ہے اور فریفتہ ہونے لگتا ہے اور بے اختیار دل سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ ہماری جانیں، ہمارے اموال، ہماری اولادیں تیرے قدموں کے نثار۔ اے اللہ کے رسولؐ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام۔ اے وہ کہ جس کے حسن و احسان کا سمندر بے کنارہ تھا اور لافانی تھا۔ اے اللہ کے رسولؐ! تجھ پر لاکھوں درود اور کروڑوں سلام۔ زمین وآسمان کے واحد اوریگانہ خدا کی قسم! زمین و آسمان میں اس کی تمام مخلوق میں تُو واحد و یگانہ ہے۔ تجھ سا کوئی تھا نہ ہے نہ ہو گا۔

(ماخوذ از خطاباتِ طاہر، تقاریر جلسہ سالانہ قبل از خلافت فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ صفحہ364تا 366 طاہر فاؤنڈیشن 2006ء)

حضرت حمزہؓ کے ذکر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوہ کا بھی ذکر ہو گیا۔ یہی یہاں اختتام ہے۔

اب چند جو دوسرے (صحابہ) ہیں ان کا ذکر ان شاء اللہ مَیں آئندہ کروں گا۔

پرسوں نیا سال بھی ان شاءاللہ شروع ہو رہا ہے۔

دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ نئے سال میں برکات لے کر آئے اور اس کی ساری برکات سے ہمیں نوازے۔ جماعت کے لیے بھی ہر لحاظ سے یہ بابرکت ہو۔ دشمن کے تمام منصوبوں کو اللہ تعالیٰ خاک میں ملا دے اور دنیا میں پھیلی ہوئی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ پہلے سے بڑھ کر اپنے مقصدِ پیدائش کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسی طرح عمومی طور پر دنیا کے لیے دعا کریں کہ

اللہ تعالیٰ ان کو جنگوں سے بچائے۔ حالات خطرناک سے خطرناک ہو تے جا رہے ہیں اور تباہی منہ کھولے کھڑی ہے۔ کچھ پتہ نہیں ہر ایک اپنے مفادات چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی رحم فرمائے۔

اور اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے بھی بہت دعائیں کریں

کہ اللہ تعالیٰ آئندہ سال میں ہر قسم کے ظلم اور تعدّی سے جماعت احمدیہ کو محفوظ رکھے۔

(الفضل انٹرنیشنل 20؍جنوری 2023ء صفحہ 5 تا 10)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍جنوری 2023ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23 جنوری 2023