• 29 مئی, 2020

حقیقی عید

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

’’ہماری عید عام لوگوں سے ہٹ کر روحانی رزق کی فراوانی کا نام ہے۔حقیقی عید تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ ہو۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت ہو جس کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے انعامات ملتے ہیں ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حقیقی عید تو احمدیوں کو ہی نصیب ہے جو بڑے بڑے انعامات کے وارث بنائے گئے ہیں ۔

رمضان کی عبادات کو اپنی زندگیوں میں باقاعدگی سے جاری رکھنا یہی امر تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت اور قرب کا ذریعہ بنائے گا اور یہی حقیقی عید ہے اور ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔حقیقی عید کو دنیا کی مشکلیں دور نہیں کر سکتیں اللہ کی طرف سے ملنے والی خوشخبریاں نظر آ رہی ہوتی ہیں۔ خدا اپنے بندوں کے اجر کو بعض اوقات دس گنا بڑھا کر دیتا ہے۔ جیسے تیس روزے رمضان کے اور پھر 6شوال کے اس کے مطابق گویا پورے سال کے روزوں کا ثواب ہے۔ اس دن خدا کہتا ہے خوشی مناؤ میر اشکر ادا کرو عید کی نماز سے اس دن کو شکرانے سے شروع فرمایا ہے۔

خدا تعالیٰ ہر مشکل کے بعد آسانی اور پھر انعامات سے بھی نوازتا ہے۔ پس وہ عید جو ہمیں رمضان کی قربانیوں کے بعد ملی ہے یہ خدا تعالیٰ کی خاطر قربانیوں کا ایک اظہار ہے۔

مشکل اور کٹھن حالات میں اور اس قربانیوں کے دور سے رمضان کی طرح ہم نے صبر اور راضی برضائے الہٰی رہتے ہوئے گزرنا ہے اور پھر رمضان کی عبادتوں کی طرح ہم نے عام دنوں میں بھی خدا کے قرب اور اس کی عبادتوں کے معیار بلند کرنے ہیں۔‘‘

(خطبہ عید الفطر2،اکتوبر2008ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22مئی 2020

اگلا پڑھیں

نعت بحضورﷺ