• 5 جون, 2020

کیا ساری دنیا میں ایک ہی دن عید یا رمضان کا آغاز ہو سکتا ہے؟

رمضان یا عید کا چاند

کیا ساری دنیا میں ایک ہی دن عید یا رمضان کا آغاز ہو سکتا ہے؟

چودہ سو سال قبل صحرائے عرب کے نبی امی پر نازل ہونے والی فلکیاتی علوم پر مشتمل صداقتیں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں۔

فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ

شَھِدَ الشَّھْرَ اسے مراد ہے جو رمضان کو طلوع ہوتا دیکھے یعنی رمضان کا چاند جس پر طلوع ہو گا وہ روزے رکھے۔

اب رمضان کا مہینہ اصل میں بیک وقت ہر جگہ اکٹھا طلوع نہیں ہوتا اور یہ بحثیں عام اٹھ رہی ہیں کہ کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ سب مسلمان بیک وقت روزے رکھیں اور یہ جو جھگڑے چل رہے ہیں آج ان کا رمضان شروع ہو گیا کل ان کا رمضان شروع ہو گیا ان جھگڑوں کا قضیہ ہی چکا دیا جائے مگر قرآن تو نہیں چکاتا۔ قرآن کریم نے تو اس مضمون کو کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ ‘‘فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ’’ ہو سکتا ہے کہ ایک ہی ملک میں رہتے ہو اور اس ملک کے افق الگ الگ ہوں اور اگر ایک شخص نے‘‘فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ’’اس کے وقت کو پایا ہو تو اس پر فرض ہے کہ روزے رکھے ۔ ایک وہ جس نے نہیں پایا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ مناسب نہیں ہے کہ رکھے۔ اسے انتظار کرنا ہو گا جب تک اس آیت کا اطلاق اس پر نہ ہو۔

تو رمضان بھی بعینہ ایک ہی تاریخ کو ہر جگہ شروع نہ ہوتا ہے نہ ہو سکتا ہے۔ ممالک بدل جائیں تو پھر تو ویسے ہی ناممکن ہے کیونکہ اگر جب بھی رمضان کا چاند طلوع ہوگا اس وقت کی جگہ گھپ اندھیرا آدھی رات ہو گی کسی جگہ صبح کا سورج طلوع ہو رہا ہو گا۔ کسی جگہ دوپہر ہو گی۔کسی جگہ عصرکی نماز پڑھی جا رہی ہوگی توکیسےممکن ہے کہ خدا نے جو نظام پیدا فرمایا ہے اس کے برعکس احکام جاری فرمائے۔ اس لئے فَمَنْ شَھِدَ کامضمون جو ہے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہرگز خداکامنشا نہیں کہ سب اکٹھے روزے رکھیں، اکٹھے ختم کریں۔ ہرگز یہ منشاء نہیں کہ تمام دنیا میں ایک دن عید منائی جائے یا سارے ملک میں اگر وسیع ملک ہے ایک ہی دن عید منائی جائے۔ چھوٹے ملک میں تو ممکن ہے مگر وسیع ممالك بعض ایسے ہیں جوشمال سے بہت دور تک جنوب کے ایک حصے میںپھیلے ہوئے ہوتے ہیں ان کے افق بدل جاتے ہیں یا شرقا غربا بہت وسیع ہیں۔ اب چلی (Chilli) کو دیکھیں کہ کتنا اوپر سے امریکہ کے وسط سے شروع ہو کر قریباً شروع ہو کر اور جنوب میں وہاں تک چلا جاتا ہے کہ اس سے آگے کوئی اور ملک نہیں ہے جو قطب جنوبی کے قریب تر ہو اس سے۔ اور روس کی چوڑائی اتنی ہے کہ تین گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے روس کے اندر بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ امریکہ کی چوڑائی میں وسعت اتنی بڑی ہے کہ وہاں بھی کم و پیش اتنا ہی فرق پڑ جاتا ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایک ملک میں بھی بیک وقت رمضان شروع ہو سکتا ہے یا بیک وقت ایک ملک میں ایک عید کا دن طلوع ہو سکتا ہے۔

پس قرآن کریم کے جو الفاظ کا انتخاب ہے بہت ہی پرحکمت ہے اور اپنے مضمون کو خود کھول رہا ہے…. فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ جس پر یہ مہینہ طلوع ہو گا اسی کو روزے رکھنے ہیں۔ دیکھا دیکھی سنی سنائی بات پر روزے نہیںرکھنے اور یہاں ‘‘من’’ میں صرف ایک فرد واحد مراد نہیں ہے بلکہ وہ قوم ہے جس کا افق ایک ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کاطریق یہ جاری فرمایا کہ اگر ایک ہی افق کے لوگ کسی موسم کی خرابی کی وجہ سے اکثر نہ دیکھ سکتے ہوں تو ان میں دو قابل اعتماد یا چار قابل اعتماد کچھ قابل اعتماد لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور وہ کہیں،گواہی دیں کہ ہم نے دیکھا ہے تو اگر افق مشترک ہے تو سب کا ہی رمضان شروع ہو جائے گا اور اگر افق مشترک ہے تو سب ہی کی عید ہو جائے گی۔ تومن کا لفظ واحد پر بھی آتا ہے اور جمع پر بھی، یہ مراد نہیں ہے کہ ہر ایک جب تک آنکھ سے دیکھ نہ لے رمضان شروع نہ کرے یہ تو ناممکن ہے۔ جو ہلال ہے خصوصاً پہلے دن کا ہلال وہ تو آنی جانی چیز ہے۔ دیکھتے دیکھتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔ انگلیاں اٹھ رہی ہوتی ہیں اتنے میں وہ مطلع سے غائب ہو چکا ہوتا ہے۔ پس ہلال کا مطلع بھی چھوٹا ہوتا ہے اس لئے “مَنْ شَھِدَ” کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم میں سے جو اپنی آنکھوں سے دیکھے صرف وہی شخص روزے رکھے۔ مراد ہے وہ لوگ جن کا افق ایک ہے جن کے ہمیشہ سے ہی چاند اکٹھے طلوع ہوتے ہیں جب طلوع ہوتے ہیں سب پر ہی طلوع ہوتے ہیں جب غروب ہوتے ہیں تو سب پر ہی غروب ہوتے ہیں۔ پس وہ لوگ جن کا افق مشترک ہو ان میں سے کوئی بھی دیکھے تو سب قوم کے دیکھنے کا حکم ان پر صادق آجائے گا گویا ساری قوم نے دیکھ لیا…

سائنسی ذرائع سے چاند کا معلوم کرنا

اب اس مضمون میں ایک پہلو رہ جاتا ہے جس کی عموماً آپ بحثیں سنتے ہیں۔ اور پڑھتے بھی ہیں وہ یہ ہے کہ کیا مشینی ذرائع سے چاند کا علم پانا۔ مَنْ شَھِدَ مِنْکُم کے تابع ہوگا یا نہیں ہوگا؟ اگر ہو تو پھر دیکھنا متروک ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے۔کہ مشینوں کے ذریعہ چاند دکھائی دے جاتا ہو لیکن نظر سے نہ دکھائی دیتا ہو۔ تو کیا قرآن کریم کا پہلا عمل یعنی پہلے دور کا عمل اس مشینی عمل کے مقابل پر رد ہو جائے گا۔ یا پہلے دور کا عمل جاری رہے گا اور مشینی دور کا عمل متروک سمجھا جائے گا۔یہ بحث ہےجو بہت سے لوگوں کو الجھن میں مبتلا رکھتی ہےحالانکہ اس میں ایک ادنیٰ ذرہ برابر بھی کوئی الجھن نہیں۔ الجھن لوگوں کی نافہمی اور نا سمجھی میں ہے۔ورنہ امر واقعہ یہ ہے کہ نئے دور میںمشینوں کے حوالے سے یا برقیاتی آلوں کے حوالے سے اگر آپ چاند کے طلوع کا علم حاصل کریں تو وہ مَنْ شَھِدَ کے تابع رہتا ہے اور جہاں مَنْ شَھِدَ سے بنتا ہے وہاں اس کاعمل درآمد نہیں ہوگا۔وہاں بے اعتبار ہو جائے گا۔جو لوگ نہیںسمجھتے وہ ٹھوکر کھاتے ہیں اور پھر آپس میںخوب ان کی لڑائیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے میں آپ کو سمجھا رہا ہوں آگے عید بھی آئے گی یہ بحثیں چلیں گی بچوں سے سکول میںگفتگو ہو گی دوسرے بچوں کی۔ کالجوں میں یہ معاملہ زیر بحث آئے گا۔بزنس پر، کاموںپر زیر بحث آئے گا۔ اس لئے سب احمدیوں کو اچھی طرح ہر ملک کے احمدی جو یہ خطبہ سن رہے ہیں ان کو اچھی طرح اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہئے۔

چاند جو طلوع ہوتا ہے وہ جب زمین کے کنارے سے اوپرآتا ہے تو اگرچہ سائنسی لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمین کے افق سے چاند ذرا سا اوپر آچکا ہے لیکن وہ چاند لازم نہیں کہ نظر سے دیکھا جا سکتا ہو۔ اس لئے سائنس دانوں نے بھی ان چیزوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اگر آپ اچھی طرح ان سےجستجو کر کے بات پوچھیں تو وہ آپ کو بالکل صحیح جواب دیں گے کہ دیکھو ہم یہ تو یقینی طور پر معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ چاند کس دن کتنےبجے طلوع ہو گا یعنی سورج غروب ہوتے ہی اوپر ہو چکا ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھو کہ اگر موسم بالکل صاف ہو اور کوئی بھی رستے میں دھند نہ ہو تب بھی تم اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو۔ کیونکہ چاند کو طلوع ہونے کے بیسں منٹ یا کچھ اوپرمزید ہونا چاہئے اور ایک خاص زاویے سے اوپرہونا چاہئے۔اگر وہاں تک پہنچے پھر آنکھ دیکھ سکتی ہے ورنہ نہیں دیکھ سکتی۔اس لئے ہو سکتا ہے جیسا کہ پچھلے سال مولویوں نے یہاں کیا کہ آبرزویٹری (Observator) سےیہ تو پوچھ لیا کہ چاند کب نکلے گا اور انہوں نے وہی سائنسی جواب دے دیا کہ فلاں دن اتنے بجے طلوع ہو جائے گا اور سورج ڈوبنے کے معاً بعد کا وقت تھا۔ تو مولویوں نے فتویٰ دے دیا کہ اس دن شروع ہو جائے گا رمضان یا عید جو بھی تھی۔ اور بعض دوسرے جو ان میں سے سمجھ دار تھے۔ تعلیم یافتہ مسلمان یہاں موجود ہیں احمدی نہیں ہیں مگر وہ ان باتوں پر غور کرتے ہیں انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو ایسی عید نہیں کریںگے یا ایسا رمضان نہیں شروع کریں گے اور وہ سچے تھے۔ کیونکہ اگر مولوی صاحبان ان لیبارٹریز سے یا جو ان کے مراکز ہیں آسمانی سیاروں وغیرہ کو دیکھنے وغیرہ کے ان سے پوچھتے تو صاف بات بتا دیتے کہ نکلے گا تو سہی لیکن تم اس کی شہادت نہیں دے سکتے۔تم اپنی آنکھ سے اس کو کبھی بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ کیونکہ جتنا نکل کے اونچا جاتا ہے اس طلوع سے کوئی آنکھ بھی اس کو اس لئے نہیں دیکھ سکتی کہ وہ زمین کے بہت قریب ہوتا ہے۔ اور زمین کے قریب کی فضا اس کی شعاعوں کو نظروں تک پہنچنے سے پہلے پہلے جذب کر چکی ہوتی ہے۔ اس لئے عین نشانے پر پتہ ہو کہ وہاں چاند طلوع ہو رہا ہے آپ نظر جما کے دیکھیں آپ کو ایک ذرا بھی کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ تو “شهد” کا مضمون اس پر صادق نہیں آئے گا۔

“شهد” کا مطلب ہے جو گواہ بن جائے جو دیکھ لے جو پا لے۔ مگر سائنس دان ہی یہ بھی آپ کو بتاتے ہیں اور قطعیت سے بتاتے ہیں کہ اگر اتنے منٹ سے اوپر چاند ہو چکا ہو یعنی سورج ڈوبنے کے بعد مثلاً پندرہ منٹ کی بجائے بیس منٹ تک رہے تو پہلے پندرہ منٹ میں اگر دکھائی نہیں دے سکتا تو آخری پانچ منٹ میں دکھائی دے سکتا ہے یا اس کا زاویہ اتنا ہو کہ وہ زمین کے افق سے اونچا ہو چکا ہو۔جو چاند اور ہماری راہ میںحائل رہتا ہے۔اس سے جب اونچا ہو گا تو لازماً دیکھ سکتے ہو۔ پھر بادل ہوں تو یہ الگ مسئلہ ہے لیکن اگر بادل نہ ہوں تو ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہو۔ شَھِدَ مِنْکُمْ کا حاکم صادق آ گیا۔ کیونکہ شہد کا ساری قوم کا دیکھنا تو فرض تھا ہی نہیں۔کچھ بھی دیکھ سکتے ہوں لیکن اس طرح دیکھ سکتے ہوں جیسے انسان کی توفیق ہے کہ ننگی آنکھ سے دیکھ سکے۔وہ فتویٰ لازماً ساری قوم پر برابر صادق آئے گا۔اور وہ لوگ جن کا افق ہے وہ سائنسی ذرائع سے معلوم کر کے پہلے فیصلہ کر سکتے ہیں…..

غیر معمولی دنوں والے علاقوں میں روزے

اب ایک بحث ہے کہ رمضان کو سورج سے کیوں نہیں باندها؟ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں مثلاً ہر ملک کا موسم الگ الگ ہے۔ بعض ممالک ایسے ہیں جن میں سردیوں میں دن بالکل چھوٹے رہ جاتے ہیں اور گرمیوں میں بے انتہا لمبے ہو جاتے ہیں۔ بعض ایسے ہیں جہاں شدید گرمی ہے اور دن برابر ہیں۔ بعض ایسے ہیں جہاں شدید گرمی ہے پھر دن برابر نہیں ہیں۔ تو اگر ایک ہی سورج کے حساب سے مہینہ مقرر کر دیا جاتا تووہ مہینہ ہر جگہ ایک ہی طرح ایک ہی موسم میں رہتا کبھی اس میں تبدیلی نہ ہوتی۔ ناروے کے لوگوں کے لئے مثلاً اگر وہ مہینہ سردیوں میں ہوتا تو ناروے کے لوگوں کے لئے ادھر روزہ رکھا اور ادھر کھولنے کا وقت آگیا اور جو جنوبی قطب کے پاس رہتے ہیں ان کا روزہ ختم ہی نہ ہوتا۔جو زیادہ قریب ہیں وہ تو سال بھر روزه چلتا لیکن جو ذرا مناسب فاصلے پر ہیں ان کا بھی ہو سکتا ہے23 گھنٹے کا روزہ ہو۔ ایک گھنٹے کے اندر نمازیں بھی پڑھنی ہیں تہجد بھی پڑھنی ہیں کھانا بھی کھانا ہے اور پھر 23 گھنٹے کے روزے کے لئے تیاری کرنی ہے۔ اول تو جو 23 گھنٹے والا واقعہ ہے وہ احادیث کے مضمون کی روشنی میں حقیقت میں ممکن ہی نہیں ہے یہ بھی میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دوں۔اس لئےقرآن کریم نے جو فرمایا ہے علامتیں جاری فرمائی ہیں دو طرح سے۔ایک علامتیں وہ ہیں جن کا تعلق چاند سے ہے ایک علامتیںوہ ہیں جن کا تعلق سورج سے ہے۔ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں عبادتیں دونوں طرح اکٹھی ہو گئی ہیں۔ کسی اور مہینے میںاس طرح عبادتیں اکٹھی نہیں ہوئیں جس طرح رمضان کے مہینے میں عبادتیں ہر پہلو سے جڑ گئی ہیں یعنی سورج کے سال کا بھی تعلق ہے اور چاند کے سال کا بھی تعلق ہے۔ جہاں تک قرآن کریم کی عبادات کا تعلق ہے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ روزانہ نمازیں بھی تو مغرب کے بعد آتی ہیں۔ آتی تو ہیں مگر وہ سورج کے حوالے سے آتی ہیںچاند کے کے حوالے سے نہیں۔ پانچ نمازیں جو فرض ہیں اور تہجد کے وقت یہ سارے کے سارے سورج کی علامتوں سے تعلق رکھے ہوئے ہیں۔ چاند کے تعلق سے جو عبادت آتی ہے وہ صرف رمضان کی ہے۔ یا پھر حج ہے جو چاند سے تعلق رکھتا ہے مگر اس کے علاوہ تمام عبادتیں سورج سے تعلق رکھتی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورج کے ساتھ نمازوں کو باندھ کر یہ بات نا ممکن بنا دی ہے کہ ایک انسان علامتوں کے مطابق ایسی جگہ پانچ نمازیں ادا کر سکے جو شمالی قطب یا جنوبی قطب کے بہت قریب ہو۔ اور یہ ناممکن بنا کرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع فرما دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے دجال کا زمانہ۔ جب کہ دن دنیا میں بعض جگہ روزمرہ کے24 گھنٹے کے دن ہوں گے اکثر جگہ تویہی ہو گا لیکن بعض جگہیں ایسی بھی ہوں گی جہاں لمبے ہوں۔ کہیںچھ مہینے کا دن ہو گا۔کہیں سال کا دن بھی ہو گا۔یہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع فرمایا کہ آئندہ زمانے کے انسان کے لئے مشکل نہ رہے۔ اس کے ساتھ ہی صحابؓہ میں سے کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہؐ کیا جب ایک سال کا دن آئے گا تو ہم اس ایک سال میں پانچ نمازیں پڑھیں گے۔ آپ نے فرمایا بالکل نہیں اندازہ لگا کر اپنے ویسے ہی دن تقسیم کرنا جیسے روز مرہ کے معمول کے دن ہیں اور جب وہ دن گزرے تو اس کے مطابق اپنی پانچ نمازیں پوری کیا کرنا۔ تو جہاں سورج کی ظاہری علامتیں قاصر رہ جائیں کہ ایک دن کے خدوخال کو نمایاں کر سکیں۔ جہاں سورج کی ظاہری علامتیں عاجز آ جائیں کہ دن 24 گھنٹے کے اندر باندھے رکھیں۔ وہاں نمازوں کے احکامات بدل گئے وہاں اندازے شروع ہو گئے اور اندازوں کی شریعت نے اجازت دی۔ اور اس میں حکمت ظاہر و باہر ہے۔اول تو یہ کہ لمبے روزے میں تو سارے شہید ہو جاتے ایک ہی روزے میں۔ اور چھوٹے روزے کا پتہ نہیں لگتا ہے کہ کیسے رکھیں وہ ایک تماشہ سا بن جاتا۔ مگرجہاں بھی یہ اجنبی دن چڑھتے ہیں۔خواہ وہ ایک دن کے چوبیس گھنٹے کے دائرے میں بھی رہیں تو قرآن کریم کا کمال یہ ہے عبادت کی علامتیں ایسی بتائی ہیں کہ وہاں علامتیں عبادت کو ان دنوں کے اندر ساکت کردیتی ہیں اور اندازه شروع ہو جا تا ہے۔ یعنی غیرمعمولی دن کے لئے ضروری نہیں کہ24 گھنٹے سے لمبا ہو۔24گھنٹے سے قریب دن پہنچا ہوا ہو۔ تب بھی وہ ناممکن دن بن جائے گا اور جہاں وہ ناممکن دن بنے گا وہیں سے اندازه شروع ہو جائے گا۔

بات یہ ہے کہ اگر دن فرض کریں اٹھارہ گھنٹے کا ہو (یعنی سورج نکلنے سے روزے کی بات نہیں کر رہا) دن سورج نکلنےکے سے سورج غروب ہونے تک 18گھنٹے ہوں تو پیچھے 6 گھنٹے کی جو رات رہ جائے گی اس رات میں صبح اور شام کی شفق اتنی پھیل چکی ہوں گی کہ ان کے درمیان سیاہی آئے گی ہی نہیں۔پس جب سیاہی غائب ہو گئی تو نمازوں کی تقسیم ممکن نہ رہی۔مغرب کس وقت پڑھیں گے۔ عشاء کس وقت پڑھیں گے، تہجد کس وقت ہوگی،صبح کس وقت طلوع ہوگی یہ ایک ہی چیز ہو جاتی ہے۔چنانچہ ہم نے خود ایسے دن دیکھے ہیں جب ہم گرمیوں میں ایک دو سال پہلے ناروے گئے تھے شمال کی طرف تو جہاں 24گھنٹے کا دن شروع ہو چکا تھا وہاں تو بالکل ہی معاملہ اور ہے۔ وہاں تو صبح بھی سورج دوپہر کو بھی رات کو بھی آدھی رات کو بھی اور سورج نکلے ہوئے میں تہجد پڑھنی پڑتی تھی مگر اندازے کر کے۔ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اصدق الصادقین ہیں سب سچوں سے بڑھ کر سچے اور یہ ایک بات بھی آپؐ کی سچائی پر سورج سے بڑھ کر زیادہ روشن گواہ بن جاتی ہے۔ اس اندھیرےزمانے میںاتنی روشنی سےچودہ سو سال بعد کے حالات معلوم کئے اور ان پر روشنی ڈالی۔ اتنی دور تک روشنی ڈالنے والا نبی اس شان کا کوئی دکھاؤ تو سہی۔ فرمایا دو دن ہوں گے جب بھی وہ دن عام عادت سے بدل چکے ہوں۔ آپ نے فرمایا ہے روزمرہ کے عادی دنوں کے مطابق اندازے کرنا۔عادی دن وہ ہیںجن میں پانچ نمازیں سورج کی علامتوں کے لحاظ سے ایک دوسرے سے ممتاز کی جا سکتی ہیں۔ جہاں وہ نمازیں ممتاز نہیں ہو سکتیں وہاں اندازہ شروع۔ اور پھر کوئی مشکل باقی نہیںرہتی۔ تو اس لئے یہ قرآن کریم کا کمال ہے کہ رمضان مبارک کو چاند کے ساتھ جو باندھا ہے اب میں اس طرف واپس آ رہا ہوں اس میں حکمت یہ ہے کہ یہ مہینہ جگہ جگہ بدلتا رہتا ہے۔کبھی یہ جنوب والے لوگوں کے لئے آسان ہو جا تا ہے کبھی شمال والوں کے لئے۔ پس ایسے موقع پر اگر یہ سورج والا مہینہ ہوتا تو بعض لوگوں پر ہمیشہ بہت ہی سخت رہتا۔ لمبے سے لمبا دن اور پرآزار دن جس میں گرمی سے لوگوں کی زبانیں سوکھ جاتیں اور تڑپ تڑپ کے بعض جان دے دیتے۔ ہمیشہ مسلسل ایسی ہی تکلیف لے کر ان کے لئے آتا اور بعض جگہ اتنا چھوٹا ہوتا اور موسم بھی ٹھنڈا کہ ان کو پتہ ہی نہ لگتا بلکہ ان کے لئے مصیبت ہوتی کہ کھائیں کیسے۔ ایک روزہ افظار بھی کریں اورسحر بھی کریں۔ بیچ میں تہجد بھی پڑھیں۔ چند گھنٹوں کے اندر یہ ممکن نہیں ہے۔ پس کتنے گھنٹے کے لئے ممکن ہے اس کی علامتیں ساتھ بیان فرما دی گئیں کہ جہاں سورج کی علامتوں سے عبادتیں کھل کے واضح ہوں جہاں رمضان پر یہ بات صادق آئے کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے ممتاز ہو سکے وہ دن معمول کے دن ہیں۔

جہاں ان میں سے کوئی علامت اطلاق نہ پائے وہاں تم نے اندازے کرنے ہیں۔ معمول کے دن قرآن کی تعریف سے بنیں گے کہ جن دنوں میںصبح کی سفیدی اور شام کے درمیان ایک اندھیرا حائل ہو تاکہ قرآن کریم کی یہ بات پوری اتر سکے کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے الگ ہو جائے۔اور اگر دونوں دھاگے ہی سفید ہوں تو پھر الگ کیسے ہوں گئے۔ اس لئے تمام جماعتوں میں علماء کے ایسے بورڈ بنانے چاہئیں ان تمام جماعتوں میں جو یا جنوب کے زیادہ قریب ہیں یا شمال کے زیادہ قریب ہیں۔تاکہ اپنی جماعتوں کی رہنمائی کر سکیں۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں بعض دفعہ ایک رمضان ایک جگہ غیرمعمولی ہو جاتا ہے دوسری جگہ معمولی رہتا ہے اورجتنا شمال کی طرف یا جنوب کی طرف جائیں گے اتنا ہی ایک ملک کےاندر رہتے تفریق کرنی پڑتی ہے۔ پس بجائے اس کے۔ آپ ہر بات مرکز سے لکھ کر ہم سے حساب کروائیں۔ اصول سمجھ لیں اور پھر جو آپ کے ہاں مختلف گورنمنٹ کے محکمے ہیں موسمیات کے ان سے مشورہ کریں۔ آبزرویٹری (observatory) جو بھی ہے جو بھی ان کا رسدگاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے وہ زمین و آسمان کا مطالعہ کرتے ہیں یعنی موسمیات کے دفتر اور ان کے محکمے ان سے مشورہ کر کے مختلف جماعتوں کے لئے رمضان سے پہلے ہی ان کے شیڈول (Schedule) بنانے چاہئے۔ اور بتانا چاہئے کہ فلاں جماعت کا معمول کا رمضان فلاں دن سے فلاںدن تک ہے۔اور فلاں دن سے فلاں دن تک کا جو رمضان کا حصہ ہے وہ معمول سے نکل گیا ہے۔ اس لئے وہاں آپ کو قرآن کریم اختیار دیتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن کا مفہوم سمجھا اور وہی درست ہے وہ آپ کو اختیار دیتا ہے کہ اندازے کے مطابق اپنی نمازوں کو بھی تقسیم کریں اور روزوں کے وقت بھی مقرر کریں۔

اور ایسی صورت میں دو طریق ہیں دونوں میں سے ایک آپ اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ معمول کے دن کے روزوں سے مراد بارہ گھنٹے کا دن بارہ گھنٹے کی رات لے لی جائےجو وسطی ہے۔ لیکن اگر یوں کریں گے تو ان دنوں کا اس ملک کے باقی دنوں سے بہت زیادہ فرق ہو جائے گا۔اور جہاں بھی معمول کے دنوں کا غیرمعمولی دنوںسے جوڑ ہوگا وہاں تفریق بہت بڑی ہو جائے گی۔ اس لئے دوسرا جو طریق ہے جو میرے نزدیک زیادہ مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے سے قریب تر معمول کے دنوں کے مطابق عمل کریں۔ یعنی اگر ساٹھ یا ستر ڈگری شمال پر ایک ملک کا کوئی شہر آباد ہے اور اس ملک کا ایک حصہ پچاس ڈگری یا چالیس ڈگری شمال پر بھی ہے اگر ایک سال میں جو جنوبی حصہ ہے اس کا سارا رمضان معمول کا رمضان ہے یعنی سورج کی علامتیں اور چاند کی علامتیں پوری اس پر صادق آرہی ہیں اور شمالی حصے پر صادق نہیں آرہی ہیں توبجائے اس کے کہ وہ چھلانگ لگا کر خط استواء تک پہنچے اور وہاں کا معمول پکڑے،عقل تقاضا کرتی ہے کہ اپنے ہی ملک میں جو قریب تر جگہ ہے جہاں معمول کے روزے چل رہے ہیں ان کے اندازے کے مطابق اپنے روزوں کے اندازے کر لیا کرے۔ تہجد کا وقت بھی اس کے مطابق کرے اور سحری کا وقت بھی اور افطاری کا وقت بھی اور اس طریق پر انشاءالله تمام جماعت اسلامی کو وقت کے اختلاف کے باوجود بھی ایک وحدت ضرور نصیب ہوگی۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 19جنوری 1996ء بحوالہ الفضل انٹرنیشنل)
(خطبات طاہر جلد15 ص 41تا54)

پچھلا پڑھیں

عید سعید کی برکات اور ایک مومن کی ذمہ داریاں

اگلا پڑھیں

مسنون خطبہ جمعہ و عیدین