• 29 مئی, 2020

ایک احمدی مسلمان کی عید

وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّأَسِیْرًا

(الدّھر:9)

ترجمہ:اور اُس (خدا)کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔

کچھ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ رمضان کا بابرکت مہینہ کچھ ہی لمحات میں ہم سے جدا ہو گیا ہے۔رمضان المبار ک نے ہمیں ایک طرف تو عبادات کا اعلیٰ ذوق عطا کیا تو دوسری طرف سارا دن بھوکا پیاسا رہ کہ اپنے غریب بھائیوں کی تکلیف کا اندازہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ مذہب کی بنیاد انہی دو باتوں پر ہوتی ہے ۔یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد۔رمضان کو بھرپور طریق پر منانے کے انعام کے طور پر خدا تعالیٰ نے ہمیں عید الفطر عطا کی ہے اور نماز کی پہلی رکعت میں سات تکبیرات زائد رکھیں اور دوسری میں پانچ تکبیرات زائد رکھیں جو کل 12 تکبیرت بنتی ہیں۔ تا کہ ہمیں عید والے دن یہ پیغام دے سکے کہ جس رمضان کی برکت سے تم یہ عید منا رہے ہو اس رمضان کی برکات اور فیوض 12مہینے جاری رکھنا ۔عید کے مواقع پر آنحضرت ﷺ جو خطاب فرمایا کرتے ان سے بھی اسی طرف تلقین خوب عیاں ہیں۔

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہیں کہ حضور ﷺ عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے خطاب میں تاکیدا فرماتے (تصدقوا ،تصدقوا، تصدقوا) یعنی صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو۔

(صحیح مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت(ﷺ)نے فرمایا:جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی بے چینی اور تکلیف کو دور کیا۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی بے چینیوں اور تکلیفوں کو اُس سے دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگدست کو آرام پہنچایااور اُس کے لئے آسانی مہیا کی اللہ تعالیٰ آخرت میں اُس کے لئے آسانیاں مہیا کرے گا… اللہ تعالیٰ اُس بندے کی مدد پر تیار رہتا ہے جو اپنے بھائی کی مدد کے لئے تیار ہو۔

(مسلم کتاب الذکر باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تھا تُو نے میری عیادت نہیں کی تھی۔وہ کہے گا تُورب العالمین ہے میں تیری عیادت کس طرح کرتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے معلوم نہیں ہوا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے اور تُو نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی اگر تُو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا؟ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا مگر تُو نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ وہ کہے گا اے میرے رب تُو تو رب العالمین ہے تمام جہانوں کو کھانا کھلانے والا ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تجھے علم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا تھا؟ کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تو گویا تُو نے مجھے یہ کھانا کھلایا ہوتا۔پھر فرمایا اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تُو نے مجھے پانی نہ پلایا۔وہ کہے گا اے میرے رب تُو رب العالمین ہے،میں تجھے کیسے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا۔ تُو نے اسے پانی نہیں پلایا تھا۔کیا تجھے یہ سمجھ نہ آئی کہ اگر تُواسے پانی پلاتا تو گویا تُو نے یہ پانی مجھے ہی پلایا ہوتا۔

(صحیح مسلم کتاب البر و الصلہ باب فضل عیادۃ المریض)

رسول اللہ ﷺ کے فیض سے منور ہو کر حضرت مسیح موعود اور خلفاء نے بھی اسی امر کی توجہ دلائی ہیں۔

حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

دراصل خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرنا بہت ہی بڑی بات ہے اور خدا تعالیٰ اس کو بہت پسند کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ وہ اس سے اپنی ہمدردی ظاہر کرتا ہے… پس جو شخص خدا تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے وہ گویا اپنے خدا کو راضی کرتا ہے۔

(ملفوظات جلد4صفحہ215۔216)

نیر فرمایا: نوعِ انسان پر شفقت اور اس سے ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔

(ملفوظات جلد4ص844)

فرمایا:سچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنے قریبوں کو اپنے مال سے مدد کرتے ہیں اور نیز اس مال میں سے یتیموں کے تعہد اور انکی پرورش اور تعلیم وغیرہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اور مسکینوں کو فقر و فاقہ سے بچاتے ہیں۔

(تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد1ص637)

پھر فرماتے ہیں: اگر خدا تعالیٰ اپنا فضل کر ے او ر دولت مند آدمی اپنے مال و دولت پر ناز نہ کرے اور اس کو بندگان خدا کی خدمت میں صَرْف کرنے اور ان کی ہمدردی میں لگانے کے لئے موقع پائے اور اپنا فرض سمجھے تو پھر وہ ایک خیرِکثیر کا وارث ہے۔

(ملفوظات جلد 4صفحہ439)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:
یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلیٰ حُبِّہٖ… کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔عَلیٰ حُبِّہٖ کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلیٰ حُبِّ الطَّعَامِ۔یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلیٰ حُبِّ اِطْعَامِ الطَّعَامِ۔اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عَلیٰ حُبِّ اللّٰہِ۔یعنی اس آیت میں تین درجے بیان کئے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ مومن،مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔عَلیٰ حُبِّ الطَّعَامِ۔باوجود مال کی محبت یا طعام کی محبت کے یعنی باوجود اس کے کہ اُنہیں خود کھانے کی ضرورت ہوتی ہے پھر بھی وہ غرباء و مساکین کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے اور اپنی ضروریات کو پسِ پُشت ڈال کر اُن کو کھانا کھلانا مقدّم سمجھتے ہیں۔دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں عَلیٰ حُبِّ اِطْعَامِ الطَّعَامِ۔ جبکہ اُنہیں کھانا کھلانے سے محبت ہوتی ہے یعنی اُن کی طبیعت میں صدقہ وخیرات دینا اِس قدر گہرے طور پر داخل ہو چکا ہوتا ہے کہ اُنہیں اُس وقت تک چین اور آرام ہی نہیں آتا جب تک وہ دوسروں کو کھانا نہ کھلا لیں۔تیسرے معنی اِس کے یہ ہیں کہ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّ اللّٰہِ۔و ہ محض اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے کھانا کھلاتے ہیں۔اُن کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ لوگ اُن کی تعریف کریں یا جن کو کھانا کھلایا گیا ہے اُن سے کوئی فائدہ حاصل کریں یا اُنہیں کوئی ثواب ملے بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضاء جوئی کو مدنظر رکھتے ہیں۔

(تفسیر کبیر جلد9 صفحہ 468۔469)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں۔
پس عید میں جہاں آپ اپنے خاندان کے ساتھ خوشیاں منائیں گے…اِن خوشیوں کو ضرور قائم رکھیں،اِن روایات کو زندہ رکھیں لیکن جہاں تک ممکن ہو کچھ وقت غرباء کے لئے بھی نکالیں کچھ نعمتیں اُن کے سامنے بھی پیش کریں تا کہ وہ بھی آپ کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

(خطباتِ طاہر جلد9صفحہ215)

حضرت اقدس محمد ﷺ روزوں کے بعد کی عید اس طرح منایا کرتے تھے اور اپنے صحابہ کو یہ توجہ دلایا کرتے تھے کہ پہلے سے بڑھ کر غریبوں کا خیال کرو اور یتیموں کی پرورش کی طرف متوجہ ہو اور بیوگان اور مصیبت زدگان کا خیال کرو۔چنانچہ وہ روایات جو آپ کی عید منانے سے متعلق ملتی ہیں ان میں خوشیوں کے دیگر اظہار کا ذکر تو بہت کم ملتا ہے۔ایسی بھی روایت ملتی ہے کہ کسی بچے کو غمگین کھڑے دیکھا اس سے جاکے پوچھا کہ کیوں اداس ہو؟ عید کا روز ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ میرا باپ غزوہ میں شہید ہو چکا ہے اور کوئی نہیں جو میرے ساتھ مل کر عید منائے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس کو گو دی میں اٹھایا اپنے ساتھ اسکو گھر لے گئے اس کو تیار کیا اور اس کی عید میں خود شریک ہوئے۔

(خطبات طاہر عیدین ص81)

ہمارے پیارے اِمام سیدناحضرت خلیفۃالمسیح الخامس اَیَّدَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ بِنَصْرِہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں۔

“حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام نے شرائط بیعت کی نویں شرط میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی ہمدردی اوران کے حقوق کی ادائیگی کا ذکر فرمایاہے…نویں شرط یہ ہے “یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔”

(خطبات مسرور جلد 1صفحہ308)

فرمایا: نہ صرف اپنے بھائیوں،عزیزوں، رشتہ داروں،اپنے جاننے والوں،ہمسایوں سے حسن سلوک کرو،ان سے ہمدردی کرو اور اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو اُن کی مدد کرو، ان کو جس حد تک فائدہ پہنچا سکتے ہو فائدہ پہنچاؤ بلکہ ایسے لوگ، ایسے ہمسائے جن کو تم نہیں بھی جانتے، تمہاری ان سے کوئی رشتہ داری یا تعلق داری بھی نہیں ہے جن کو تم عارضی طورپر ملے ہو ان کو بھی اگر تمہاری ہمدردی اور تمہاری مدد کی ضرورت ہے، اگر ان کو تمہارے سے کچھ فائدہ پہنچ سکتاہے تو ان کو ضرور فائدہ پہنچاؤ…ہمدرد ئ خلق کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں پسندیدہ بنو اور دونوں جہانوں کی فلاح حاصل کرو۔

(خطبات مسرور جلد1صفحہ309)

اصل نیکی یہ ہے کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔…دوسروں کے غموں،دکھوں اور تکلیفوں کو بھی محسوس کریں۔جب ہم اس طرح کر رہے ہونگے تو نہ صرف یہ ایک دن کی عید منا رہے ہوں گے بلکہ ہمارا ہر دن،روزِ عید ہو گا۔

(خطبہ عید الفطر 04نومبر2005ء)

اللہ تعالیٰ ہمارے لئے یہ عید ہر لحاظ سے مبارک کرے اور رمضان کی برکات ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں۔آمین

(فراز یاسین ربانی۔گھانا)

پچھلا پڑھیں

عید سعید کی برکات اور ایک مومن کی ذمہ داریاں

اگلا پڑھیں

مسنون خطبہ جمعہ و عیدین